Loading...

Loading...
کتب
۱۱۷ احادیث
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے بیان کیا، ان سے عیاض نے اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو نماز اور روزے نہیں چھوڑ دیتی؟ یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔
حدثنا ابن ابي مريم، حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثني زيد، عن عياض، عن ابي سعيد رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اليس اذا حاضت لم تصل، ولم تصم فذلك نقصان دينها
ہم سے محمد بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن موسیٰ ابن اعین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے عمرو بن حارث نے، ان سے عبیداللہ بن ابی جعفر نے، ان سے محمد بن جعفر نے کہا، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے ذمہ روزے واجب ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھ دے، موسیٰ کے ساتھ اس حدیث کو ابن وہب نے بھی عمرو سے روایت کیا اور یحییٰ بن ایوب سختیانی نے بھی ابن ابی جعفر سے۔
حدثنا محمد بن خالد، حدثنا محمد بن موسى بن اعين، حدثنا ابي، عن عمرو بن الحارث، عن عبيد الله بن ابي جعفر، ان محمد بن جعفر، حدثه عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من مات وعليه صيام صام عنه وليه ". تابعه ابن وهب عن عمرو. ورواه يحيى بن ايوب عن ابن ابي جعفر
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم بطین نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ! میری ماں کا انتقال ہو گیا اور ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے باقی رہ گئے ہیں۔ کیا میں ان کی طرف سے قضاء رکھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ضرور، اللہ تعالیٰ کا قرض اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اسے ادا کر دیا جائے۔ سلیمان اعمش نے بیان کیا کہ حکم اور سلمہ نے کہا جب مسلم بطین نے یہ حدیث بیان کیا تو ہم سب وہیں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان دونوں حضرات نے فرمایا کہ ہم نے مجاہد سے بھی سنا تھا کہ وہ یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے۔ ابوخالد سے روایت ہے کہ اعمش نے بیان کیا ان سے حکم، مسلم بطین اور سلمہ بن کہیل نے، ان سے سعید بن جبیر، عطاء اور مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری ”بہن“ کا انتقال ہو گیا ہے پھر یہی قصہ بیان کیا، یحییٰ اور سعید اور ابومعاویہ نے کہا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے مسلم نے، ان سے سعید نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے زید ابن ابی انیسہ نے، ان سے حکم نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور ان پر نذر کا ایک روزہ واجب تھا اور ابوحریز عبداللہ بن حسین نے بیان کیا، کہا ہم سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور ان پر پندرہ دن کے روزے واجب تھے۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زايدة، عن الاعمش، عن مسلم البطين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ان امي ماتت، وعليها صوم شهر، افاقضيه عنها قال " نعم قال فدين الله احق ان يقضى ". قال سليمان فقال الحكم وسلمة، ونحن جميعا جلوس حين حدث مسلم بهذا الحديث قالا سمعنا مجاهدا يذكر هذا عن ابن عباس. ويذكر عن ابي خالد، حدثنا الاعمش، عن الحكم، ومسلم البطين، وسلمة بن كهيل، عن سعيد بن جبير، وعطاء، ومجاهد، عن ابن عباس، قالت امراة للنبي صلى الله عليه وسلم ان اختي ماتت. وقال يحيى وابو معاوية حدثنا الاعمش عن مسلم عن سعيد عن ابن عباس قالت امراة للنبي صلى الله عليه وسلم ان امي ماتت. وقال عبيد الله عن زيد بن ابي انيسة عن الحكم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قالت امراة للنبي صلى الله عليه وسلم ان امي ماتت وعليها صوم نذر. وقال ابو حريز حدثنا عكرمة عن ابن عباس قالت امراة للنبي صلى الله عليه وسلم ماتت امي وعليها صوم خمسة عشر يوما
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا هشام بن عروة، قال سمعت ابي يقول، سمعت عاصم بن عمر بن الخطاب، عن ابيه رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اقبل الليل من ها هنا، وادبر النهار من ها هنا، وغربت الشمس، فقد افطر الصايم
حدثنا اسحاق الواسطي، حدثنا خالد، عن الشيباني، عن عبد الله بن ابي اوفى رضى الله عنه قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر، وهو صايم، فلما غربت الشمس قال لبعض القوم " يا فلان قم، فاجدح لنا ". فقال يا رسول الله، لو امسيت. قال " انزل، فاجدح لنا ". قال يا رسول الله فلو امسيت. قال " انزل، فاجدح لنا ". قال ان عليك نهارا. قال " انزل، فاجدح لنا ". فنزل فجدح لهم، فشرب النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال " اذا رايتم الليل قد اقبل من ها هنا، فقد افطر الصايم
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں جا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، جب سورج غروب ہوا تو آپ نے ایک شخص سے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول، انہوں نے کہا یا رسول اللہ! تھوڑی دیر اور ٹھہرئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول انہوں نے پھر یہی کہا کہ یا رسول اللہ! ابھی تو دن باقی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتر کر ستو ہمارے لیے گھول، چنانچہ انہوں نے اتر کر ستو گھولا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات کی تاریکی ادھر سے آ گئی تو روزہ دار کو روزہ افطار کر لینا چاہئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد، حدثنا الشيباني، قال سمعت عبد الله بن ابي اوفى رضى الله عنه قال سرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو صايم، فلما غربت الشمس قال " انزل، فاجدح لنا ". قال يا رسول الله، لو امسيت. قال " انزل، فاجدح لنا ". قال يا رسول الله، ان عليك نهارا. قال " انزل، فاجدح لنا ". فنزل، فجدح، ثم قال " اذا رايتم الليل اقبل من ها هنا فقد افطر الصايم ". واشار باصبعه قبل المشرق
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوحازم سلمہ بن دینار نے، انہیں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میری امت کے لوگوں میں اس وقت تک خیر باقی رہے گی، جب تک وہ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے سلیمان شیبانی نے اور ان سے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، جب شام ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا کہ ( اونٹ سے ) اتر کر میرے لیے ستو گھول، اس نے کہا: یا رسول اللہ! اگر شام ہونے کا کچھ اور انتظار فرمائیں تو بہتر ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اتر کر میرے لیے ستو گھول ( وقت ہو گیا ہے ) جب تم یہ دیکھ لو کہ رات ادھر مشرق سے آ گئی تو روزہ دار کے روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابو بكر، عن سليمان، عن ابن ابي اوفى رضى الله عنه قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر، فصام حتى امسى، قال لرجل " انزل، فاجدح لي ". قال لو انتظرت حتى تمسي. قال " انزل، فاجدح لي، اذا رايت الليل قد اقبل من ها هنا فقد افطر الصايم
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ نے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بادل تھا۔ ہم نے جب افطار کر لیا تو سورج نکل آیا۔ اس پر ہشام ( راوی حدیث ) سے کہا گیا کہ پھر انہیں اس روزے کی قضاء کا حکم ہوا تھا؟ تو انہوں نے بتلایا کہ قضاء کے سوا اور چارہ کار ہی کیا تھا؟ اور معمر نے کہا کہ میں نے ہشام سے یوں سنا ”مجھے معلوم نہیں کہ ان لوگوں نے قضاء کی تھی یا نہیں۔“
حدثني عبد الله بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن عروة، عن فاطمة، عن اسماء بنت ابي بكر رضى الله عنهما قالت افطرنا على عهد النبي صلى الله عليه وسلم يوم غيم، ثم طلعت الشمس. قيل لهشام فامروا بالقضاء قال بد من قضاء. وقال معمر سمعت هشاما لا ادري اقضوا ام لا
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے خالد بن ذکوان نے بیان کیا، ان سے ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ عاشورہ کی صبح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے محلوں میں کہلا بھیجا کہ صبح جس نے کھا پی لیا ہو وہ دن کا باقی حصہ ( روزہ دار کی طرح ) پورے کرے اور جس نے کچھ کھایا پیا نہ ہو وہ روزے سے رہے۔ ربیع نے کہا کہ پھر بعد میں بھی ( رمضان کے روزے کی فرضیت کے بعد ) ہم اس دن روزہ رکھتے اور اپنے بچوں سے بھی رکھواتے تھے۔ انہیں ہم اون کا ایک کھلونا دے کر بہلائے رکھتے۔ جب کوئی کھانے کے لیے روتا تو وہی دے دیتے، یہاں تک کہ افطار کا وقت آ جاتا۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا خالد بن ذكوان، عن الربيع بنت معوذ، قالت ارسل النبي صلى الله عليه وسلم غداة عاشوراء الى قرى الانصار " من اصبح مفطرا فليتم بقية يومه، ومن اصبح صايما فليصم ". قالت فكنا نصومه بعد، ونصوم صبياننا، ونجعل لهم اللعبة من العهن، فاذا بكى احدهم على الطعام اعطيناه ذاك، حتى يكون عند الافطار
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، کہا کہ مجھ سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( بلا سحر و افطار ) پے در پے روزے نہ رکھا کرو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ مجھے ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) کھلایا اور پلایا جاتا ہے یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) میں اس طرح رات گزارتا ہوں کہ مجھے کھلایا اور پلایا جاتا رہتا ہے۔
حدثنا مسدد، قال حدثني يحيى، عن شعبة، قال حدثني قتادة، عن انس رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تواصلوا ". قالوا انك تواصل. قال " لست كاحد منكم، اني اطعم واسقى، او اني ابيت اطعم واسقى
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الوصال. قالوا انك تواصل. قال " اني لست مثلكم، اني اطعم واسقى
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ہاد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن خباب نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلسل ( بلاسحری و افطاری ) روزے نہ رکھو، ہاں اگر کوئی ایسا کرنا ہی چاہے تو وہ سحری کے وقت تک ایسا کر سکتا ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ! آپ تو ایسا کرتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ میں تو رات اس طرح گزارتا ہوں کہ ایک کھلانے والا مجھے کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا مجھے پلاتا ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، حدثني ابن الهاد، عن عبد الله بن خباب، عن ابي سعيد رضى الله عنه انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا تواصلوا، فايكم اذا اراد ان يواصل فليواصل حتى السحر ". قالوا فانك تواصل يا رسول الله. قال " اني لست كهييتكم، اني ابيت لي مطعم يطعمني وساق يسقين
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پے در پے روزہ سے منع کیا تھا۔ امت پر رحمت و شفقت کے خیال سے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔ عثمان نے ( اپنی روایت میں ) ”امت پر رحمت و شفقت کے خیال سے“ کے الفاظ ذکر نہیں کئے ہیں۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، ومحمد، قالا اخبرنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الوصال، رحمة لهم فقالوا انك تواصل. قال " اني لست كهييتكم، اني يطعمني ربي ويسقين ". قال ابو عبد الله لم يذكر عثمان رحمة لهم
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل ( کئی دن تک سحری و افطاری کے بغیر ) روزہ رکھنے سے منع فرمایا تھا۔ اس پر ایک آدمی نے مسلمانوں میں سے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری طرح تم میں سے کون ہے؟ مجھے تو رات میں میرا رب کھلاتا ہے، اور وہی مجھے سیراب کرتا ہے۔ لوگ اس پر بھی جب صوم وصال رکھنے سے نہ رکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو دن تک وصال کیا۔ پھر عید کا چاند نکل آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاند نہ دکھائی دیتا تو میں اور کئی دن وصال کرتا، گویا جب صوم و صال سے وہ لوگ نہ رکے تو آپ نے ان کو سزا دینے کے لیے یہ کہا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الوصال في الصوم فقال له رجل من المسلمين انك تواصل يا رسول الله قال " وايكم مثلي اني ابيت يطعمني ربي ويسقين ". فلما ابوا ان ينتهوا عن الوصال واصل بهم يوما ثم يوما، ثم راوا الهلال، فقال " لو تاخر لزدتكم ". كالتنكيل لهم، حين ابوا ان ينتهوا
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبار فرمایا، تم لوگ وصال سے بچو! عرض کیا گیا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں، اس پر آپ نے فرمایا کہ رات میں مجھے میرا رب کھلاتا اور وہی مجھے سیراب کرتا ہے۔ پس تم اتنی ہی مشقت اٹھاؤ جتنی تم طاقت رکھتے ہو۔
حدثنا يحيى، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن همام، انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اياكم والوصال ". مرتين قيل انك تواصل. قال " اني ابيت يطعمني ربي ويسقين، فاكلفوا من العمل ما تطيقون
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز ابن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے یزید بن ہاد نے، ان سے عبداللہ بن خباب نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے، صوم وصال نہ رکھو۔ اور اگر کسی کا ارادہ ہی وصال کا ہو تو سحری کے وقت تک وصال کر لے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی، یا رسول اللہ! آپ تو وصال کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ رات کے وقت ایک کھلانے والا مجھے کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا مجھے پلاتا ہے۔
حدثنا ابراهيم بن حمزة، حدثني ابن ابي حازم، عن يزيد، عن عبد الله بن خباب، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تواصلوا، فايكم اراد ان يواصل فليواصل حتى السحر ". قالوا فانك تواصل، يا رسول الله. قال " لست كهييتكم، اني ابيت لي مطعم يطعمني وساق يسقين
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جعفر بن عون نے بیان کیا، ان سے ابوالعمیس عتبہ بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عون بن ابی حجیفہ نے اور ان سے ان کے والد (وہب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ میں ( ہجرت کے بعد ) بھائی چارہ کرایا تھا۔ ایک مرتبہ سلمان رضی اللہ عنہ، ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لیے گئے۔ تو ( ان کی عورت ) ام الدرداء رضی اللہ عنہا کو بہت پراگندہ حال میں دیکھا۔ ان سے پوچھا کہ یہ حالت کیوں بنا رکھی ہے؟ ام الدرداء رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ تمہارے بھائی ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ہیں جن کو دنیا کی کوئی حاجت ہی نہیں ہے پھر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور ان کے سامنے کھانا حاضر کیا اور کہا کہ کھانا کھاؤ، انہوں نے کہا کہ میں تو روزے سے ہوں، اس پر سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھاؤں گا جب تک تم خود بھی شریک نہ ہو گے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر وہ کھانے میں شریک ہو گئے ( اور روزہ توڑ دیا ) رات ہوئی تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ عبادت کے لیے اٹھے اور اس مرتبہ بھی سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابھی سو جاؤ۔ پھر جب رات کا آخری حصہ ہوا تو سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اچھا اب اٹھ جاؤ۔ چنانچہ دونوں نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے۔ جان کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، اس لیے ہر حق والے کے حق کو ادا کرنا چاہئے، پھر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلمان نے سچ کہا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا جعفر بن عون، حدثنا ابو العميس، عن عون بن ابي جحيفة، عن ابيه، قال اخى النبي صلى الله عليه وسلم بين سلمان، وابي الدرداء، فزار سلمان ابا الدرداء، فراى ام الدرداء متبذلة. فقال لها ما شانك قالت اخوك ابو الدرداء ليس له حاجة في الدنيا. فجاء ابو الدرداء، فصنع له طعاما. فقال كل. قال فاني صايم. قال ما انا باكل حتى تاكل. قال فاكل. فلما كان الليل ذهب ابو الدرداء يقوم. قال نم. فنام، ثم ذهب يقوم. فقال نم. فلما كان من اخر الليل قال سلمان قم الان. فصليا، فقال له سلمان ان لربك عليك حقا، ولنفسك عليك حقا، ولاهلك عليك حقا، فاعط كل ذي حق حقه. فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " صدق سلمان
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبری دی، انہیں ابوالنضر نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل روزہ رکھنے لگتے تو ہم ( آپس میں ) کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھنا چھوڑیں گے ہی نہیں۔ اور جب روزہ چھوڑ دیتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ میں نے رمضان کو چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی پورے مہینے کا نفلی روزہ رکھتے نہیں دیکھتا اور جتنے روزے آپ شعبان میں رکھتے میں نے کسی مہینہ میں اس سے زیادہ روزے رکھتے آپ کو نہیں دیکھا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابي النضر، عن ابي سلمة، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم حتى نقول لا يفطر، ويفطر حتى نقول لا يصوم. فما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم استكمل صيام شهر الا رمضان، وما رايته اكثر صياما منه في شعبان
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان سے زیادہ اور کسی مہینہ میں روزے نہیں رکھتے تھے، شعبان کے پورے دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے رہتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ عمل وہی اختیار کرو جس کی تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ( ثواب دینے سے ) نہیں تھکتا۔ تم خود ہی اکتا جاؤ گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کو سب سے زیادہ پسند فرماتے جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے خواہ کم ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز شروع کرتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔
حدثنا معاذ بن فضالة، حدثنا هشام، عن يحيى، عن ابي سلمة، ان عايشة رضى الله عنها حدثته قالت، لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم يصوم شهرا اكثر من شعبان، فانه كان يصوم شعبان كله، وكان يقول " خذوا من العمل ما تطيقون، فان الله لا يمل حتى تملوا، واحب الصلاة الى النبي صلى الله عليه وسلم ما دووم عليه، وان قلت " وكان اذا صلى صلاة داوم عليها