Loading...

Loading...
کتب
۱۱۷ احادیث
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن سمى، مولى ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام بن المغيرة انه سمع ابا بكر بن عبد الرحمن، كنت انا وابي،، فذهبت معه، حتى دخلنا على عايشة رضى الله عنها قالت اشهد على رسول الله صلى الله عليه وسلم ان كان ليصبح جنبا من جماع غير احتلام، ثم يصومه. ثم دخلنا على ام سلمة، فقالت مثل ذلك
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن سمى، مولى ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام بن المغيرة انه سمع ابا بكر بن عبد الرحمن، كنت انا وابي،، فذهبت معه، حتى دخلنا على عايشة رضى الله عنها قالت اشهد على رسول الله صلى الله عليه وسلم ان كان ليصبح جنبا من جماع غير احتلام، ثم يصومه. ثم دخلنا على ام سلمة، فقالت مثل ذلك
ہم سے عبدان نے بیان کیا کہ ہمیں یزید بن زریع نے خبر دی، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ابن سیرین نے بیان کیا، کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی بھول گیا اور کچھ کھا پی لیا تو اسے چاہئے کہ اپنا روزہ پورا کرے۔ کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا۔
حدثنا عبدان، اخبرنا يزيد بن زريع، حدثنا هشام، حدثنا ابن سيرين، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا نسي فاكل وشرب فليتم صومه، فانما اطعمه الله وسقاه
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، ان سے عطاء بن زید نے، ان سے حمران نے انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، آپ نے ( پہلے ) اپنے دونوں ہاتھوں پر تین مرتبہ پانی ڈالا پھر کلی کی اور ناک صاف کی، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ کہنی تک دھویا، پھر بایاں ہاتھ کہنی تک دھویا تین تین مرتبہ، اس کے بعد اپنے سر کا مسح کیا اور تین مرتبہ داہنا پاؤں دھویا، پھر تین مرتبہ بایاں پاؤں دھویا، آخر میں کہا کہ جس طرح میں نے وضو کیا ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے، پھر آپ نے فرمایا تھا کہ جس نے میری طرح وضو کیا پھر دو رکعت نماز ( تحیۃ الوضو ) اس طرح پڑھی کہ اس نے دل میں کسی قسم کے خیالات و وساوس گزرنے نہیں دیئے تو اس کے اگلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، قال حدثني الزهري، عن عطاء بن يزيد، عن حمران، رايت عثمان رضى الله عنه توضا، فافرغ على يديه ثلاثا، ثم تمضمض واستنثر، ثم غسل وجهه ثلاثا، ثم غسل يده اليمنى الى المرفق ثلاثا، ثم غسل يده اليسرى الى المرفق ثلاثا، ثم مسح براسه، ثم غسل رجله اليمنى ثلاثا، ثم اليسرى ثلاثا، ثم قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا نحو وضويي هذا، ثم قال " من توضا وضويي هذا، ثم يصلي ركعتين، لا يحدث نفسه فيهما بشىء، الا غفر له ما تقدم من ذنبه
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے یزید بن ہارون سے سنا، ان سے یحییٰ نے (جو سعید کے صاحبزادے ہیں) کہا، انہیں عبدالرحمٰن بن قاسم نے خبر دی، انہیں محمد بن جعفر بن زبیر بن عوام بن خویلد نے اور انہیں عباد بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ نے کہا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں دوزخ میں جل چکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہوئی؟ اس نے کہا کہ رمضان میں میں نے ( روزے کی حالت میں ) اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی، تھوڑی دیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( کھجور کا ) ایک تھیلہ جس کا نام عرق تھا، پیش کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوزخ میں جلنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ حاضر ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے تو اسے خیرات کر دے۔
حدثنا عبد الله بن منير، سمع يزيد بن هارون، حدثنا يحيى هو ابن سعيد ان عبد الرحمن بن القاسم، اخبره عن محمد بن جعفر بن الزبير بن العوام بن خويلد، عن عباد بن عبد الله بن الزبير، اخبره انه، سمع عايشة رضى الله عنها تقول ان رجلا اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال انه احترق. قال " مالك ". قال اصبت اهلي في رمضان. فاتي النبي صلى الله عليه وسلم بمكتل، يدعى العرق فقال " اين المحترق ". قال انا. قال " تصدق بهذا
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھے کہ ایک شخص نے حاضر ہو کر کہا کہ یا رسول اللہ! میں تو تباہ ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا بات ہوئی؟ اس نے کہا کہ میں نے روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے تم آزاد کر سکو؟ اس نے کہا نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا پے در پے دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے عرض کی نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم کو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی طاقت ہے؟ اس نے اس کا جواب بھی انکار میں دیا، راوی نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر گئے، ہم بھی اپنی اسی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بڑا تھیلا ( عرق نامی ) پیش کیا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ عرق تھیلے کو کہتے ہیں ( جسے کھجور کی چھال سے بناتے ہیں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ سائل کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے اسے لے لو اور صدقہ کر دو، اس شخص نے کہا یا رسول اللہ! کیا میں اپنے سے زیادہ محتاج پر صدقہ کر دوں، بخدا ان دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کوئی بھی گھرانہ میرے گھر سے زیادہ محتاج نہیں ہے، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ہنس پڑے کہ آپ کے آگے کے دانت دیکھے جا سکے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اچھا جا اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني حميد بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال بينما نحن جلوس عند النبي صلى الله عليه وسلم اذ جاءه رجل، فقال يا رسول الله هلكت. قال " ما لك ". قال وقعت على امراتي وانا صايم. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل تجد رقبة تعتقها ". قال لا. قال " فهل تستطيع ان تصوم شهرين متتابعين ". قال لا. فقال " فهل تجد اطعام ستين مسكينا ". قال لا. قال فمكث النبي صلى الله عليه وسلم، فبينا نحن على ذلك اتي النبي صلى الله عليه وسلم بعرق فيها تمر والعرق المكتل قال " اين السايل ". فقال انا. قال " خذها فتصدق به ". فقال الرجل اعلى افقر مني يا رسول الله فوالله ما بين لابتيها يريد الحرتين اهل بيت افقر من اهل بيتي، فضحك النبي صلى الله عليه وسلم حتى بدت انيابه ثم قال " اطعمه اهلك
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے زہری نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یہ بدنصیب رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ ایک غلام آزاد کر سکو؟ اس نے کہا کہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دریافت فرمایا کیا تم پے در پے دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے اندر اتنی طاقت ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکو؟ اب بھی اس کا جواب نفی میں تھا۔ راوی نے بیان کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک تھیلا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں «عرق» زنبیل کو کہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے جا اور اپنی طرف سے ( محتاجوں کو ) کھلا دے، اس شخص نے کہا میں اپنے سے بھی زیادہ محتاج کو حالانکہ دو میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ محتاج نہیں آپ نے فرمایا کہ پھر جا اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة رضى الله عنه جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ان الاخر وقع على امراته في رمضان. فقال " اتجد ما تحرر رقبة ". قال لا. قال " فتستطيع ان تصوم شهرين متتابعين ". قال لا. قال " افتجد ما تطعم به ستين مسكينا ". قال لا. قال فاتي النبي صلى الله عليه وسلم بعرق فيه تمر وهو الزبيل قال " اطعم هذا عنك ". قال على احوج منا ما بين لابتيها اهل بيت احوج منا. قال " فاطعمه اهلك
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، ان سے وہیب نے، وہ ایوب سے، وہ عکرمہ سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام میں اور روزے کی حالت میں پچھنا لگوایا۔
حدثنا معلى بن اسد، حدثنا وهيب، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم احتجم، وهو محرم واحتجم وهو صايم
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی حالت میں پچھنا لگوایا۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال احتجم النبي صلى الله عليه وسلم وهو صايم
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ثابت بنانی سے سنا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا کہ کیا آپ لوگ روزہ کی حالت میں پچھنا لگوانے کو مکروہ سمجھا کرتے تھے؟ آپ نے جواب دیا کہ نہیں البتہ کمزوری کے خیال سے ( روزہ میں نہیں لگواتے تھے ) شبابہ نے یہ زیادتی کی ہے کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ ( ایسا ہم ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ( کرتے تھے ) ۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا شعبة، قال سمعت ثابتا البناني، يسال انس بن مالك رضى الله عنه اكنتم تكرهون الحجامة للصايم قال لا. الا من اجل الضعف. وزاد شبابة حدثنا شعبة على عهد النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق شیبانی نے، انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ( روزہ کی حالت میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب ( بلال رضی اللہ عنہ ) سے فرمایا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول لے، انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ! ابھی تو سورج باقی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اتر کر ستو گھول لے، اب کی مرتبہ بھی انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ! ابھی سورج باقی ہے لیکن آپ کا حکم اب بھی یہی تھا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول لے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف اشارہ کر کے فرمایا جب تم دیکھو کہ رات یہاں سے شروع ہو چکی ہے تو روزہ دار کو افطار کر لینا چاہئے۔ اس کی متابعت جریر اور ابوبکر بن عیاش نے شیبانی کے واسطہ سے کی ہے اور ان سے ابواوفی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق الشيباني، سمع ابن ابي اوفى رضى الله عنه قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فقال لرجل " انزل فاجدح لي ". قال يا رسول الله الشمس. قال " انزل فاجدح لي ". قال يا رسول الله الشمس. قال " انزل فاجدح لي ". فنزل، فجدح له، فشرب، ثم رمى بيده ها هنا، ثم قال " اذا رايتم الليل اقبل من ها هنا فقد افطر الصايم ". تابعه جرير وابو بكر بن عياش عن الشيباني عن ابن ابي اوفى قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ عروہ نے بیان کیا، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ! میں سفر میں لگاتار روزہ رکھتا ہوں۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن هشام، قال حدثني ابي، عن عايشة، ان حمزة بن عمرو الاسلمي، قال يا رسول الله اني اسرد الصوم
(دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) اور ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی میں سفر میں روزہ رکھوں؟ وہ روزے بکثرت رکھا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر جی چاہے تو روزہ رکھ اور جی چاہے افطار کر۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان حمزة بن عمرو الاسلمي قال للنبي صلى الله عليه وسلم ااصوم في السفر وكان كثير الصيام. فقال " ان شيت فصم، وان شيت فافطر
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( فتح مکہ کے موقع پر ) مکہ کی طرف رمضان میں چلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے تھے لیکن جب کدید پہنچے تو روزہ رکھنا چھوڑ دیا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ عسفان اور قدید کے درمیان کدید ایک تالاب ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج الى مكة في رمضان فصام حتى بلغ الكديد افطر، فافطر الناس. قال ابو عبد الله والكديد ماء بين عسفان وقديد
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، ان سے ابوعبدالرحمٰن بن یزید بن جابر نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن عبیداللہ نے بیان کیا، اور ان سے ام الدرداء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کر رہے تھے۔ دن انتہائی گرم تھا۔ گرمی کا یہ عالم تھا کہ گرمی کی سختی سے لوگ اپنے سروں کو پکڑ لیتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی شخص روزہ سے نہیں تھا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا يحيى بن حمزة، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، ان اسماعيل بن عبيد الله، حدثه عن ام الدرداء، عن ابي الدرداء رضى الله عنه قال خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في بعض اسفاره في يوم حار حتى يضع الرجل يده على راسه من شدة الحر، وما فينا صايم الا ما كان من النبي صلى الله عليه وسلم وابن رواحة
ہم سے آدم بن ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن انصاری نے بیان کیا، کہا کہ میں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر ( غزوہ فتح ) میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص پر لوگوں نے سایہ کر رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ایک روزہ دار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سفر میں رو زہ رکھنا اچھا کام نہیں ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا محمد بن عبد الرحمن الانصاري، قال سمعت محمد بن عمرو بن الحسن بن علي، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهم قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر، فراى زحاما، ورجلا قد ظلل عليه، فقال " ما هذا ". فقالوا صايم. فقال " ليس من البر الصوم في السفر
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( رمضان میں ) سفر کیا کرتے تھے۔ ( سفر میں بہت سے روزے سے ہوتے اور بہت سے بے روزہ ہوتے ) لیکن روزے دار بے روزہ دار پر اور بے روزہ دار روزے دار پر کسی قسم کی عیب جوئی نہیں کیا کرتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن حميد الطويل، عن انس بن مالك، قال كنا نسافر مع النبي صلى الله عليه وسلم فلم يعب الصايم على المفطر، ولا المفطر على الصايم
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے منصور نے، ان سے مجاہد نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( غزوہ فتح میں ) مدینہ سے مکہ کے لیے سفر شروع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے تھے، جب آپ عسفان پہنچے تو پانی منگوایا اور اسے اپنے ہاتھ سے ( منہ تک ) اٹھایا تاکہ لوگ دیکھ لیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ چھوڑ دیا یہاں تک کہ مکہ پہنچے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سفر میں ) روزہ رکھا بھی اور نہیں بھی رکھا اس لیے جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، عن منصور، عن مجاهد، عن طاوس، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم من المدينة الى مكة، فصام حتى بلغ عسفان، ثم دعا بماء فرفعه الى يديه ليريه الناس فافطر، حتى قدم مكة، وذلك في رمضان فكان ابن عباس يقول قد صام رسول الله صلى الله عليه وسلم وافطر، فمن شاء صام، ومن شاء افطر
ہم سے عیاش نے بیان کیا، ان سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ( آیت مذکور بالا ) «فديه طعام مسكين» پڑھی اور فرمایا یہ منسوخ ہے۔
حدثنا عياش، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قرا فدية طعام مساكين. قال هي منسوخة
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ فرماتیں کہ رمضان کا روزہ مجھ سے چھوٹ جاتا۔ شعبان سے پہلے اس کی قضاء کی توفیق نہ ہوتی۔ یحییٰ نے کہا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغول رہنے کی وجہ سے تھا۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا يحيى، عن ابي سلمة، قال سمعت عايشة رضى الله عنها تقول كان يكون على الصوم من رمضان، فما استطيع ان اقضي الا في شعبان. قال يحيى الشغل من النبي او بالنبي صلى الله عليه وسلم