Loading...

Loading...
کتب
۱۱۷ احادیث
ہم سے عبدالعزیزبن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے جدا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالاخانہ میں انتیس دن قیام کیا تھا، پھر وہاں سے اترے۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا۔ جواب میں آپ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا سليمان بن بلال، عن حميد، عن انس رضى الله عنه قال الى رسول الله صلى الله عليه وسلم من نسايه، وكانت انفكت رجله، فاقام في مشربة تسعا وعشرين ليلة، ثم نزل فقالوا يا رسول الله اليت شهرا. فقال " ان الشهر يكون تسعا وعشرين
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اسحاق سے سنا، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھے مسدد نے خبر دی، ان سے معتمر نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے بیان کیا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دونوں مہینے ناقص نہیں رہتے۔ مراد رمضان اور ذی الحجہ کے دونوں مہینے ہیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا معتمر، قال سمعت اسحاق، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم. وحدثني مسدد، حدثنا معتمر، عن خالد الحذاء، قال اخبرني عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " شهران لا ينقصان شهرا عيد رمضان وذو الحجة
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے بیان کیا، ان سے سعید بن عمرو نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہم ایک بے پڑھی لکھی قوم ہیں نہ لکھنا جانتے ہیں نہ حساب کرنا۔ مہینہ یوں ہے اور یوں ہے۔ آپ کی مراد ایک مرتبہ انتیس ( دنوں سے ) تھی اور ایک مرتبہ تیس سے۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسوں انگلیوں سے تین بار بتلایا ) ۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا الاسود بن قيس، حدثنا سعيد بن عمرو، انه سمع ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " انا امة امية، لا نكتب ولا نحسب الشهر هكذا وهكذا ". يعني مرة تسعة وعشرين، ومرة ثلاثين
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص رمضان سے پہلے ( شعبان کی آخری تاریخوں میں ) ایک یا دو دن کے روزے نہ رکھے البتہ اگر کسی کو ان میں روزے رکھنے کی عادت ہو تو وہ اس دن بھی روزہ رکھ لے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، حدثنا يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يتقدمن احدكم رمضان بصوم يوم او يومين، الا ان يكون رجل كان يصوم صومه فليصم ذلك اليوم
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( شروع اسلام میں ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم جب روزہ سے ہوتے اور افطار کا وقت آتا تو کوئی روزہ دار اگر افطار سے پہلے بھی سو جاتا تو پھر اس رات میں بھی اور آنے والے دن میں بھی انہیں کھانے پینے کی اجازت نہیں تھی تاآنکہ پھر شام ہو جاتی، پھر ایسا ہوا کہ قیس بن صرمہ انصاری رضی اللہ عنہ بھی روزے سے تھے جب افطار کا وقت ہوا تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ انہوں نے کہا ( اس وقت کچھ ) نہیں ہے لیکن میں جاتی ہوں کہیں سے لاؤں گی، دن بھر انہوں نے کام کیا تھا اس لیے آنکھ لگ گئی جب بیوی واپس ہوئیں اور انہیں ( سوتے ہوئے ) دیکھا تو فرمایا افسوس تم محروم ہی رہے، لیکن دوسرے دن وہ دوپہر کو بیہوش ہو گئے جب اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی ”حلال کر دیا گیا تمہارے لیے رمضان کی راتوں میں اپنی بیویوں سے صحبت کرنا“ اس پر صحابہ رضی اللہ عنہم بہت خوش ہوئے اور یہ آیت نازل ہوئی ”کھاؤ پیو یہاں تک کہ ممتاز ہو جائے تمہارے لیے صبح کی سفید دھاری ( صبح صادق ) سیاہ دھاری ( صبح کاذب ) سے۔“
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء رضى الله عنه قال كان اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم اذا كان الرجل صايما، فحضر الافطار، فنام قبل ان يفطر لم ياكل ليلته ولا يومه، حتى يمسي، وان قيس بن صرمة الانصاري كان صايما، فلما حضر الافطار اتى امراته، فقال لها اعندك طعام قالت لا ولكن انطلق، فاطلب لك. وكان يومه يعمل، فغلبته عيناه، فجاءته امراته، فلما راته قالت خيبة لك. فلما انتصف النهار غشي عليه، فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فنزلت هذه الاية {احل لكم ليلة الصيام الرفث الى نسايكم} ففرحوا بها فرحا شديدا، ونزلت {وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الابيض من الخيط الاسود}
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھے حصین بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، اور ان سے شعبی نے، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ”تاآنکہ کھل جائے تمہارے لیے سفید دھاری سیاہ دھاری سے۔“ تو میں نے ایک سیاہ دھاگہ لیا اور ایک سفید اور دنوں کو تکیہ کے نیچے رکھ لیا اور رات میں دیکھتا رہا مجھ پر ان کے رنگ نہ کھلے، جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے تو رات کی تاریکی ( صبح کاذب ) اور دن کی سفیدی ( صبح صادق ) مراد ہے۔
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا هشيم، قال اخبرني حصين بن عبد الرحمن، عن الشعبي، عن عدي بن حاتم رضى الله عنه قال لما نزلت {حتى يتبين لكم الخيط الابيض من الخيط الاسود} عمدت الى عقال اسود والى عقال ابيض، فجعلتهما تحت وسادتي، فجعلت انظر في الليل، فلا يستبين لي، فغدوت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت له ذلك فقال " انما ذلك سواد الليل وبياض النهار
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے سہل بن سعد نے (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور مجھ سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، ان سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آیت نازل ہوئی ”کھاؤ پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے سفید دھاری، سیاہ دھاری سے کھل جائے“ لیکن «من الفجر» ( صبح کی ) کے الفاظ نازل نہیں ہوئے تھے۔ اس پر کچھ لوگوں نے یہ کہا کہ جب روزے کا ارادہ ہوتا تو سیاہ اور سفید دھاگہ لے کر پاؤں میں باندھ لیتے اور جب تک دونوں دھاگے پوری طرح دکھائی نہ دینے لگتے، کھانا پینا بند نہ کرتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے «من الفجر» کے الفاظ نازل فرمائے پھر لوگوں کو معلوم ہوا کہ اس سے مراد رات اور دن ہیں۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا ابن ابي حازم، عن ابيه، عن سهل بن سعد، ح. حدثني سعيد بن ابي مريم، حدثنا ابو غسان، محمد بن مطرف قال حدثني ابو حازم، عن سهل بن سعد، قال انزلت {وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الابيض من الخيط الاسود} ولم ينزل من الفجر، فكان رجال اذا ارادوا الصوم ربط احدهم في رجله الخيط الابيض والخيط الاسود، ولم يزل ياكل حتى يتبين له رويتهما، فانزل الله بعد {من الفجر} فعلموا انه انما يعني الليل والنهار
حدثنا عبيد بن اسماعيل، عن ابي اسامة، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر.والقاسم بن محمد عن عايشة رضى الله عنها ان بلالا، كان يوذن بليل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كلوا واشربوا حتى يوذن ابن ام مكتوم، فانه لا يوذن حتى يطلع الفجر ". قال القاسم ولم يكن بين اذانهما الا ان يرقى ذا وينزل ذا
حدثنا عبيد بن اسماعيل، عن ابي اسامة، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر.والقاسم بن محمد عن عايشة رضى الله عنها ان بلالا، كان يوذن بليل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كلوا واشربوا حتى يوذن ابن ام مكتوم، فانه لا يوذن حتى يطلع الفجر ". قال القاسم ولم يكن بين اذانهما الا ان يرقى ذا وينزل ذا
ہم سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں سحری اپنے گھر کھاتا پھر جلدی کرتا تاکہ نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل جائے۔
حدثنا محمد بن عبيد الله، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد رضى الله عنه قال كنت اتسحر في اهلي، ثم تكون سرعتي ان ادرك السجود مع رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے سحری کھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ میں نے پوچھا کہ سحری اور اذان میں کتنا فاصلہ ہوتا تھا تو انہوں نے کہا کہ پچاس آیتیں ( پڑھنے ) کے موافق فاصلہ ہوتا تھا۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، حدثنا قتادة، عن انس، عن زيد بن ثابت رضى الله عنه قال تسحرنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ثم قام الى الصلاة. قلت كم كان بين الاذان والسحور قال قدر خمسين اية
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”صوم وصال“ رکھا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی رکھا لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے دشواری ہو گئی۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس پر عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صوم وصال رکھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ میں تو برابر کھلایا اور پلایا جاتا ہوں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جويرية، عن نافع، عن عبد الله رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم واصل فواصل الناس فشق عليهم، فنهاهم. قالوا انك تواصل. قال " لست كهييتكم، اني اظل اطعم واسقى
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سحری کھاؤ کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا شعبة، حدثنا عبد العزيز بن صهيب، قال سمعت انس بن مالك رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " تسحروا فان في السحور بركة
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن اکوع نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن ایک شخص کو یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ جس نے کھانا کھا لیا وہ اب ( دن ڈوبنے تک روزہ کی حالت میں ) پورا کرے یا ( یہ فرمایا کہ ) روزہ رکھے اور جس نے نہ کھایا ہو ( تو وہ روزہ رکھے ) کھانا نہ کھائے۔
حدثنا ابو عاصم، عن يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة بن الاكوع رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث رجلا ينادي في الناس، يوم عاشوراء " ان من اكل فليتم او فليصم، ومن لم ياكل فلا ياكل
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن سمى، مولى ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام بن المغيرة انه سمع ابا بكر بن عبد الرحمن، قال كنت انا وابي، حين دخلنا على عايشة وام سلمة ح. حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، ان اباه عبد الرحمن، اخبر مروان، ان عايشة، وام سلمة اخبرتاه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدركه الفجر وهو جنب من اهله، ثم يغتسل ويصوم. وقال مروان لعبد الرحمن بن الحارث اقسم بالله لتقرعن بها ابا هريرة. ومروان يوميذ على المدينة. فقال ابو بكر فكره ذلك عبد الرحمن، ثم قدر لنا ان نجتمع بذي الحليفة، وكانت لابي هريرة هنالك ارض، فقال عبد الرحمن لابي هريرة اني ذاكر لك امرا، ولولا مروان اقسم على فيه لم اذكره لك. فذكر قول عايشة وام سلمة. فقال كذلك حدثني الفضل بن عباس، وهن اعلم، وقال همام وابن عبد الله بن عمر عن ابي هريرة كان النبي صلى الله عليه وسلم يامر بالفطر. والاول اسند
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن سمى، مولى ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام بن المغيرة انه سمع ابا بكر بن عبد الرحمن، قال كنت انا وابي، حين دخلنا على عايشة وام سلمة ح. حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، ان اباه عبد الرحمن، اخبر مروان، ان عايشة، وام سلمة اخبرتاه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدركه الفجر وهو جنب من اهله، ثم يغتسل ويصوم. وقال مروان لعبد الرحمن بن الحارث اقسم بالله لتقرعن بها ابا هريرة. ومروان يوميذ على المدينة. فقال ابو بكر فكره ذلك عبد الرحمن، ثم قدر لنا ان نجتمع بذي الحليفة، وكانت لابي هريرة هنالك ارض، فقال عبد الرحمن لابي هريرة اني ذاكر لك امرا، ولولا مروان اقسم على فيه لم اذكره لك. فذكر قول عايشة وام سلمة. فقال كذلك حدثني الفضل بن عباس، وهن اعلم، وقال همام وابن عبد الله بن عمر عن ابي هريرة كان النبي صلى الله عليه وسلم يامر بالفطر. والاول اسند
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے حکم نے، ان سے ابراہیم نے ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہوتے لیکن ( اپنی ازواج کے ساتھ ) «يقبل» ( بوسہ لینا ) و مباشرت ( اپنے جسم سے لگا لینا ) بھی کر لیتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے، بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ( سورۃ طہٰ میں جو «مآرب» کا لفظ ہے وہ ) حاجت و ضرورت کے معنی میں ہے، طاؤس نے کہا کہ لفظ «أولي الإربة» ( جو سورۃ النور میں ہے ) اس احمق کو کہیں گے جسے عورتوں کی کوئی ضرورت نہ ہو۔
حدثنا سليمان بن حرب، قال عن شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يقبل ويباشر، وهو صايم، وكان املككم لاربه. وقال قال ابن عباس {مارب} حاجة. قال طاوس {اولي الاربة} الاحمق لا حاجة له في النساء
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا کہ مجھے میرے والد عروہ نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) اور ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض ازواج کا روزہ دار ہونے کے باوجود بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ پھر آپ ہنسیں۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، عن هشام، قال اخبرني ابي، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم ح وحدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت ان كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليقبل بعض ازواجه وهو صايم. ثم ضحكت
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعیدقطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن ابی عبداللہ نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی زینب نے اور ان سے ان کی والدہ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک چادر میں ( لیٹی ہوئی ) تھی کہ مجھے حیض آ گیا۔ اس لیے میں چپکے سے نکل آئی اور اپنا حیض کا کپڑا پہن لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہوئی؟ کیا حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا ہاں، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی چادر میں چلی گئی اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل ( جنابت ) کیا کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہونے کے باوجود ان کا بوسہ لیتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن هشام بن ابي عبد الله، حدثنا يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن زينب ابنة ام سلمة، عن امها رضى الله عنهما قالت بينما انا مع، رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخميلة اذ حضت فانسللت، فاخذت ثياب حيضتي فقال " ما لك انفست ". قلت نعم. فدخلت معه في الخميلة، وكانت هي ورسول الله صلى الله عليه وسلم يغتسلان من اناء واحد، وكان يقبلها وهو صايم
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ اور ابوبکر نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا رمضان میں فجر کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احتلام سے نہیں ( بلکہ اپنی ازواج کے ساتھ صحبت کرنے کی وجہ سے ) غسل کرتے اور روزہ رکھتے تھے۔ ( معلوم ہوا کہ غسل جنابت روزہ دار فجر کے بعد کر سکتا ہے ) ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، حدثنا يونس، عن ابن شهاب، عن عروة، وابي، بكر قالت عايشة رضى الله عنها كان النبي صلى الله عليه وسلم يدركه الفجر {جنبا} في رمضان، من غير حلم فيغتسل ويصوم