Loading...

Loading...
کتب
۴۶ احادیث
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی، انہوں نے جابر بن زید سے سنا، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں خطبہ دیتے سنا تھا کہ جس کے پاس احرام میں جوتے نہ ہوں وہ موزے پہن لے اور جس کے پاس تہبند نہ ہو وہ پاجامہ پہن لے۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، قال اخبرني عمرو بن دينار، سمعت جابر بن زيد، سمعت ابن عباس رضى الله عنهما قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يخطب بعرفات " من لم يجد النعلين فليلبس الخفين، ومن لم يجد ازارا فليلبس سراويل ". للمحرم
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم کون سے کپڑے پہن سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قمیص، عمامہ، پاجامہ اور برنس ( کن ٹوپ یا باران کوٹ ) نہ پہنے اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنے جس میں زعفران یا ورس لگی ہو اور اگر جوتیاں نہ ہوں تو موزے پہن لے، البتہ اس طرح کاٹ لے کہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابراهيم بن سعد، حدثنا ابن شهاب، عن سالم، عن عبد الله رضى الله عنه سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم ما يلبس المحرم من الثياب فقال " لا يلبس القميص، ولا العمايم، ولا السراويلات، ولا البرنس، ولا ثوبا مسه زعفران ولا ورس، وان لم يجد نعلين فليلبس الخفين، وليقطعهما حتى يكونا اسفل من الكعبين
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے جابر بن زید نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو میدان عرفات میں وعظ سنایا، اس میں آپ نے فرمایا کہ اگر کسی کو احرام کے لیے تہبند نہ ملے تو وہ پاجامہ پہن لے اور اگر کسی کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے پہن لے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا عمرو بن دينار، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال خطبنا النبي صلى الله عليه وسلم بعرفات فقال " من لم يجد الازار فليلبس السراويل، ومن لم يجد النعلين فليلبس الخفين
ہم سے عبیداللہ بن موصلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسرائیل نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قعدہ میں عمرہ کیا تو مکہ والوں نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا، پھر ان سے اس شرط پر صلح ہوئی کہ ہتھیار نیام میں ڈال کر مکہ میں داخل ہوں گے۔
حدثنا عبيد الله، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء رضى الله عنه اعتمر النبي صلى الله عليه وسلم في ذي القعدة، فابى اهل مكة ان يدعوه يدخل مكة، حتى قاضاهم لا يدخل مكة سلاحا الا في القراب
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذو الحلیفہ کو میقات بنایا، نجد والوں کے لیے قرن المنازل کو اور یمن والوں کے لیے یلملم کو۔ یہ میقات ان ملکوں کے باشندوں کے لیے ہے اور دوسرے ان تمام لوگوں کے لیے بھی جو ان ملکوں سے ہو کر مکہ آئیں اور حج اور عمرہ کا بھی ارادہ رکھتے ہوں، لیکن جو لوگ ان حدود کے اندر ہوں تو ان کی میقات وہی جگہ ہے جہاں سے وہ اپنا سفر شروع کریں یہاں تک کہ مکہ والوں کی میقات مکہ ہی ہے۔
حدثنا مسلم، حدثنا وهيب، حدثنا ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم وقت لاهل المدينة ذا الحليفة، ولاهل نجد قرن المنازل، ولاهل اليمن يلملم، هن لهن ولكل ات اتى عليهن من غيرهم ممن اراد الحج والعمرة، فمن كان دون ذلك فمن حيث انشا، حتى اهل مكة من مكة
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب زہری نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے آ کر خبر دی کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا۔ جس وقت آپ نے اتارا تو ایک شخص نے خبر دی کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لٹک رہا ہے آپ نے فرمایا کہ اسے قتل کر دو۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عام الفتح، وعلى راسه المغفر، فلما نزعه جاء رجل، فقال ان ابن خطل متعلق باستار الكعبة. فقال " اقتلوه
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ہم سے عطاء نے بیان کیا، کہا مجھ سے صفوان بن یعلیٰ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص جو جبہ پہنے ہوئے تھا حاضر ہوا اور اس پر زردی یا اسی طرح کی کسی خوشبو کا نشان تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے کہا کرتے تھے کیا تم چاہتے ہو کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگے تو تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکو؟ اس وقت آپ پر وحی نازل ہوئی پھر وہ حالت جاتی رہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح اپنے حج میں کرتے ہو اسی طرح عمرہ میں بھی کرو۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا همام، حدثنا عطاء، قال حدثني صفوان بن يعلى، عن ابيه، قال كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتاه رجل عليه جبة فيه اثر صفرة او نحوه، وكان عمر يقول لي تحب اذا نزل عليه الوحى ان تراه فنزل عليه ثم سري عنه فقال " اصنع في عمرتك ما تصنع في حجك
ایک شخص نے دوسرے شخص کے ہاتھ میں دانت سے کاٹا تھا، دوسرے نے جو اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا دانت اکھڑ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی بدلہ نہیں دلوایا۔
وعض رجل يد رجل يعني فانتزع ثنيته فابطله النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میدان عرفات میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹھہرا ہوا تھا کہ اپنی اونٹنی سے گر پڑا اور اس اونٹنی نے اس کی گردن توڑ ڈالی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی اور بیری کے پتوں سے اسے غسل دو اور احرام ہی کے دو کپڑوں کا کفن دو لیکن خوشبو نہ لگانا نہ اس کا سر چھپانا کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت میں اسے لبیک کہتے ہوئے اٹھائے گا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو بن دينار، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال بينا رجل واقف مع النبي صلى الله عليه وسلم بعرفة اذ وقع عن راحلته، فوقصته او قال فاقعصته فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اغسلوه بماء وسدر، وكفنوه في ثوبين او قال ثوبيه ولا تحنطوه، ولا تخمروا راسه، فان الله يبعثه يوم القيامة يلبي
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں ٹھہرا ہوا تھا کہ اپنی اونٹنی سے گر پڑا اور اس نے اس کی گردن توڑ دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری سے غسل دے کر دو کپڑوں ( احرام والوں ہی میں ) کفنا دو لیکن خوشبو نہ لگانا، نہ سر چھپانا اور نہ حنوط لگانا کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت میں اسے لبیک پکارتے ہوئے اٹھائے گا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن ايوب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال بينا رجل واقف مع النبي صلى الله عليه وسلم بعرفة اذ وقع عن راحلته فوقصته او قال فاوقصته فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اغسلوه بماء وسدر، وكفنوه في ثوبين، ولا تمسوه طيبا، ولا تخمروا راسه، ولا تحنطوه، فان الله يبعثه يوم القيامة ملبيا
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ابوبشر نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں سعید بن جبیر نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان عرفات میں تھا کہ اس کے اونٹ نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی۔ وہ شخص محرم تھا اور مر گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت دی کہ اسے پانی اور بیری کا غسل اور ( احرام کے ) دو کپڑوں کا کفن دیا جائے البتہ اس کو خوشبو نہ لگاؤ نہ اس کا سر چھپاؤ کیونکہ قیامت کے دن وہ لبیک کہتا ہوا اٹھے گا۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا هشيم، اخبرنا ابو بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان رجلا، كان مع النبي صلى الله عليه وسلم فوقصته ناقته، وهو محرم، فمات، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اغسلوه بماء وسدر، وكفنوه في ثوبيه، ولا تمسوه بطيب، ولا تخمروا راسه، فانه يبعث يوم القيامة ملبيا
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ وضاح شکری نے بیان کیا، ان سے ابوبشر جعفر بن ایاس نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ میری والدہ نے حج کی منت مانی تھی لیکن وہ حج نہ کر سکیں اور ان کا انتقال ہو گیا تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ان کی طرف سے تو حج کر۔ کیا تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا نہ کرتیں؟ اللہ تعالیٰ کا قرضہ تو اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اسے پورا کیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کرنا بہت ضروری ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان امراة، من جهينة جاءت الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت ان امي نذرت ان تحج، فلم تحج حتى ماتت افاحج عنها قال " نعم. حجي عنها، ارايت لو كان على امك دين اكنت قاضية اقضوا الله، فالله احق بالوفاء
ہم سے ابوعاصم نے ابن جریج سے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے ابن شہاب نے، ان سے سلیمان بن یسار نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے فضل بن عیاض رضی اللہ عنہم نے کہ ایک خاتون۔۔۔ ( حدیث نمبر 1854 دیکھیں)
حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن ابن شهاب، عن سليمان بن يسار، عن ابن عباس، عن الفضل بن عباس رضى الله عنهم ان امراة، ح
(دوسری سند سے امام بخاری رحمہ اللہ نے) کہا ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن یسار نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خشعم کی ایک عورت آئی اور عرض کی یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ کی طرف سے فریضہ حج جو اس کے بندوں پر ہے اس نے میرے بوڑھے باپ کو پا لیا ہے لیکن ان میں اتنی سکت نہیں کہ وہ سواری پر بھی بیٹھ سکیں تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو ان کا حج ادا ہو جائے گا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة، حدثنا ابن شهاب، عن سليمان بن يسار، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال جاءت امراة من خثعم، عام حجة الوداع، قالت يا رسول الله ان فريضة الله على عباده في الحج ادركت ابي شيخا كبيرا، لا يستطيع ان يستوي على الراحلة فهل يقضي عنه ان احج عنه قال " نعم
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابن شہاب زہری نے، ان سے سلیمان بن یسار نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں قبیلہ خشعم کی ایک عورت آئی۔ فضل رضی اللہ عنہ اس کو دیکھنے لگے اور وہ فضل رضی اللہ عنہ کو دیکھنے لگی۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیرنے لگے، اس عورت نے کہا کہ اللہ کا فریضہ ( حج ) نے میرے بوڑھے والد کو اس حالت میں پا لیا ہے کہ وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں، آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سليمان بن يسار، عن عبد الله بن عباس رضى الله عنهما قال كان الفضل رديف النبي صلى الله عليه وسلم فجاءت امراة من خثعم، فجعل الفضل ينظر اليها، وتنظر اليه فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يصرف وجه الفضل الى الشق الاخر، فقالت ان فريضة الله ادركت ابي شيخا كبيرا، لا يثبت على الراحلة، افاحج عنه قال " نعم ". وذلك في حجة الوداع
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابی یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے مزدلفہ کی رات منیٰ میں سامان کے ساتھ آگے بھیج دیا تھا ۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن عبيد الله بن ابي يزيد، قال سمعت ابن عباس رضى الله عنهما يقول بعثني او قدمني النبي صلى الله عليه وسلم في الثقل من جمع بليل
ہم سے اسحٰق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، ان سے ان کے بھتیجے ابن شہاب زہری نے بیان کیا، ان سے ان کے چچا نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے، خبر دی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا میں اپنی ایک گدھی پر سوار ہو کر ( منیٰ میں آیا ) اس وقت میں جوانی کے قریب تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں کھڑے نماز پڑھا رہے تھے۔ میں پہلی صف کے ایک حصہ کے آگے سے ہو کر گزرا پھر سواری سے نیچے اتر آیا اور اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لوگوں کے ساتھ صف میں شریک ہو گیا، یونس نے ابن شہاب کے واسطہ سے بیان کیا کہ یہ حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ کا واقعہ ہے۔
حدثنا اسحاق، اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابن اخي ابن شهاب، عن عمه، اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، ان عبد الله بن عباس رضى الله عنهما قال اقبلت وقد ناهزت الحلم، اسير على اتان لي، ورسول الله صلى الله عليه وسلم قايم يصلي بمنى، حتى سرت بين يدى بعض الصف الاول، ثم نزلت عنها فرتعت، فصففت مع الناس وراء رسول الله صلى الله عليه وسلم. وقال يونس عن ابن شهاب بمنى في حجة الوداع
ہم سے عبدالرحمٰن بن یونس نے بیان کیا، ان سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے محمد بن یوسف نے اور ان سے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرایا گیا تھا۔ میں اس وقت سات سال کا تھا۔
حدثنا عبد الرحمن بن يونس، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن محمد بن يوسف، عن السايب بن يزيد، قال حج بي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا ابن سبع سنين
ہم سے عمرو بن ذرارہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں قاسم بن مالک نے خبر دی، انہیں جعید بن عبدالرحمٰن نے، انہوں نے کہا کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے سنا، وہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے سائب رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کے ساتھ ( یعنی بال بچوں میں ) حج کرایا گیا تھا۔
حدثنا عمرو بن زرارة، اخبرنا القاسم بن مالك، عن الجعيد بن عبد الرحمن، قال سمعت عمر بن عبد العزيز، يقول للسايب بن يزيد، وكان قد حج به في ثقل النبي صلى الله عليه وسلم
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے احمد بن محمد نے کہا کہ ان سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ان کے داد (ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ) نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری حج کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو حج کی اجازت دی تھی اور ان کے ساتھ عثمان بن عفان اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو بھیجا تھا۔
وقال لي احمد بن محمد حدثنا ابراهيم، عن ابيه، عن جده، اذن عمر رضى الله عنه لازواج النبي صلى الله عليه وسلم في اخر حجة حجها، فبعث معهن عثمان بن عفان وعبد الرحمن بن عوف