Loading...

Loading...
کتب
۴۶ احادیث
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے حبیب بن عمرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے عائشہ بنت طلحہ نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم بھی کیوں نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد اور غزووں میں جایا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں کے لیے سب سے عمدہ اور سب سے مناسب جہاد حج ہے، وہ حج جو مقبول ہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن لیا ہے حج کو میں کبھی چھوڑنے والی نہیں ہوں۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد، حدثنا حبيب بن ابي عمرة، قال حدثتنا عايشة بنت طلحة، عن عايشة ام المومنين رضى الله عنها قالت قلت يا رسول الله الا نغزوا ونجاهد معكم فقال " لكن احسن الجهاد واجمله الحج، حج مبرور ". فقالت عايشة فلا ادع الحج بعد اذ سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابومعبد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت اپنے محرم رشتہ دار کے بغیر سفر نہ کرے اور کوئی شخص کسی عورت کے پاس اس وقت تک نہ جائے جب تک وہاں ذی محرم موجود نہ ہو۔ ایک شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میں فلاں لشکر میں جہاد کے لیے نکلنا چاہتا ہوں، لیکن میری بیوی کا ارادہ حج کا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اپنی بیوی کے ساتھ حج کو جا۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو، عن ابي معبد، مولى ابن عباس عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تسافر المراة الا مع ذي محرم، ولا يدخل عليها رجل الا ومعها محرم ". فقال رجل يا رسول الله اني اريد ان اخرج في جيش كذا وكذا، وامراتي تريد الحج. فقال " اخرج معها
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی، کہا ہم کو حبیب معلم نے خبر دی، انہیں عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سنان انصاریہ عورت رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ تو حج کرنے نہیں گئی؟ انہوں نے عرض کی کہ فلاں کے باپ یعنی میرے خاوند کے پاس دو اونٹ پانی پلانے کے تھے ایک پر تو خود حج کو چلے گئے اور دوسرا ہماری زمین سیراب کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے، اس روایت کو ابن جریج نے عطاء سے سنا، کہا انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اور عبیداللہ نے عبدالکریم سے روایت کیا، ان سے عطاء نے ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
حدثنا عبدان، اخبرنا يزيد بن زريع، اخبرنا حبيب المعلم، عن عطاء، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال لما رجع النبي صلى الله عليه وسلم من حجته قال لام سنان الانصارية " ما منعك من الحج ". قالت ابو فلان تعني زوجها كان له ناضحان، حج على احدهما، والاخر يسقي ارضا لنا. قال " فان عمرة في رمضان تقضي حجة معي ". رواه ابن جريج عن عطاء سمعت ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے، ان سے عبدالملک بن عمر نے، ان سے زیاد کے غلام قزعہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ جہاد کئے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ میں نے چار باتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھیں یا یہ کہ وہ یہ چار باتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے اور کہتے تھے کہ یہ باتیں مجھے انتہائی پسند ہیں یہ کہ کوئی عورت دو دن کا سفر اس وقت تک نہ کرے جب تک اس کے ساتھ اس کا شوہر یا کوئی ذو رحم محرم نہ ہو، نہ عیدالفطر اور عید الاضحی کے روزے رکھے جائیں نہ عصر کی نماز کے بعد غروب ہونے کے پہلے اور نہ صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے سے پہلے کوئی نماز پڑھی جائے اور نہ تین مساجد کے سوا کسی کے لیے کجاوے باندھے جائیں مسجد الحرام، میری مسجد اور مسجد الاقصیٰ۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن عبد الملك بن عمير، عن قزعة، مولى زياد قال سمعت ابا سعيد وقد غزا مع النبي صلى الله عليه وسلم ثنتى عشرة غزوة قال اربع سمعتهن من رسول الله صلى الله عليه وسلم او قال يحدثهن عن النبي صلى الله عليه وسلم فاعجبنني وانقنني " ان لا تسافر امراة مسيرة يومين ليس معها زوجها او ذو محرم، ولا صوم يومين الفطر والاضحى، ولا صلاة بعد صلاتين بعد العصر حتى تغرب الشمس، وبعد الصبح حتى تطلع الشمس، ولا تشد الرحال الا الى ثلاثة مساجد مسجد الحرام، ومسجدي، ومسجد الاقصى
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہمیں مروان فزاری نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے ثابت نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو اپنے دو بیٹوں کا سہارا لیے چل رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ان صاحب کا کیا حال ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے کعبہ کو پیدل چلنے کی منت مانی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس سے بےنیاز ہے کہ یہ اپنے کو تکلیف میں ڈالیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سوار ہونے کا حکم دیا۔
حدثنا ابن سلام، اخبرنا الفزاري، عن حميد الطويل، قال حدثني ثابت، عن انس رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم راى شيخا يهادى بين ابنيه قال " ما بال هذا ". قالوا نذر ان يمشي. قال " ان الله عن تعذيب هذا نفسه لغني ". وامره ان يركب
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی کہ ابن جریج نے انہیں خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے سعید بن ابی ایوب نے خبر دی، انہیں یزید بن حبیب نے خبر دی، انہیں ابوالخیر نے خبر دی، کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا میری بہن نے منت مانی تھی کہ بیت اللہ تک وہ پیدل جائیں گی، پھر انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی پوچھ لو چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ پیدل چلیں اور سوار بھی ہو جائیں۔ یزید نے کہا کہ ابوالخیر ہمیشہ عقبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہتے تھے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام بن يوسف، ان ابن جريج، اخبرهم قال اخبرني سعيد بن ابي ايوب، ان يزيد بن ابي حبيب، اخبره ان ابا الخير حدثه عن عقبة بن عامر، قال نذرت اختي ان تمشي، الى بيت الله، وامرتني ان استفتي لها النبي صلى الله عليه وسلم فاستفتيته، فقال عليه السلام " لتمش ولتركب ". قال وكان ابو الخير لا يفارق عقبة. قال ابو عبد الله حدثنا ابو عاصم عن ابن جريج عن يحيى بن ايوب عن يزيد عن ابي الخير عن عقبة فذكر الحديث