احادیث
#1852
صحیح بخاری - Penalty of Hunting while on Pilgrimage
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ وضاح شکری نے بیان کیا، ان سے ابوبشر جعفر بن ایاس نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ میری والدہ نے حج کی منت مانی تھی لیکن وہ حج نہ کر سکیں اور ان کا انتقال ہو گیا تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ان کی طرف سے تو حج کر۔ کیا تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا نہ کرتیں؟ اللہ تعالیٰ کا قرضہ تو اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اسے پورا کیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کرنا بہت ضروری ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان امراة، من جهينة جاءت الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت ان امي نذرت ان تحج، فلم تحج حتى ماتت افاحج عنها قال " نعم. حجي عنها، ارايت لو كان على امك دين اكنت قاضية اقضوا الله، فالله احق بالوفاء
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- Penalty of Hunting while on Pilgrimage
- Hadith Index
- #1852
- Book Index
- 32
Grades
- -
