Loading...

Loading...
کتب
۲۶۰ احادیث
ہم سے آدم بن ابی العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم سے آدم بن ابی العلاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر ؓ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ مزدلفہ میں نبی کریم ﷺ نے مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھیں تھیں ہر نماز الگ الگ تکبیر کے ساتھ نہ ان دونوں کے درمیان کوئی نفل و سنت پڑھی تھی اور نہ ان کے بعد ۔
حدثنا ادم، حدثنا ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن سالم بن عبد الله، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال جمع النبي صلى الله عليه وسلم بين المغرب والعشاء بجمع، كل واحدة منهما باقامة، ولم يسبح بينهما ولا على اثر كل واحدة منهما
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن ابی سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن یزید خطمی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں آ کر مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ملا کر پڑھا تھا۔
حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا سليمان بن بلال، حدثنا يحيى بن سعيد، قال اخبرني عدي بن ثابت، قال حدثني عبد الله بن يزيد الخطمي، قال حدثني ابو ايوب الانصاري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جمع في حجة الوداع المغرب والعشاء بالمزدلفة
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسحٰق عمرو بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے سنا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حج کیا، آپ کے ساتھ تقریباً عشاء کی اذان کے وقت ہم مزدلفہ میں بھی آئے، آپ نے ایک شخص کو حکم دیا اس نے اذان اور تکبیر کہی اور آپ نے مغرب کی نماز پڑھی، پھر دو رکعت ( سنت ) اور پڑھی اور شام کا کھانا منگوا کر کھایا۔ میرا خیال ہے ( راوی حدیث زہیر کا ) کہ پھر آپ نے حکم دیا اور اس شخص نے اذان دی اور تکبیر کہی عمرو ( راوی حدیث ) نے کہا میں یہی سمجھتا ہوں کہ شک زہیر ( عمرو کے شیخ ) کو تھا، اس کے بعد عشاء کی نماز دو رکعت پڑھی۔ جب صبح صادق ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز ( فجر ) کو اس مقام اور اس دن کے سوا اور کبھی اس وقت ( طلوع فجر ہوتے ہی ) نہیں پڑھتے تھے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ صرف دو نمازیں ( آج کے دن ) اپنے معمولی وقت سے ہٹا دی جاتی ہیں۔ جب لوگ مزدلفہ آتے ہیں تو مغرب کی نماز ( عشاء کے ساتھ ملا کر ) پڑھی جاتی ہے اور فجر کی نماز طلوع فجر کے ساتھ ہی۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا تھا۔
حدثنا عمرو بن خالد، حدثنا زهير، حدثنا ابو اسحاق، قال سمعت عبد الرحمن بن يزيد، يقول حج عبد الله رضى الله عنه فاتينا المزدلفة حين الاذان بالعتمة، او قريبا من ذلك، فامر رجلا فاذن واقام، ثم صلى المغرب، وصلى بعدها ركعتين، ثم دعا بعشايه فتعشى، ثم امر ارى رجلا فاذن واقام قال عمرو لا اعلم الشك الا من زهير ثم صلى العشاء ركعتين، فلما طلع الفجر قال ان النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يصلي هذه الساعة الا هذه الصلاة، في هذا المكان، من هذا اليوم. قال عبد الله هما صلاتان تحولان عن وقتهما صلاة المغرب بعد ما ياتي الناس المزدلفة، والفجر حين يبزغ الفجر. قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يفعله
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن یونس نے بیان کیا، اور ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ سالم نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے گھر کے کمزوروں کو پہلے ہی بھیج دیا کرتے تھے اور وہ رات ہی میں مزدلفہ میں مشعر حرام کے پاس آ کر ٹھہرتے اور اپنی طاقت کے مطابق اللہ کا ذکر کرتے تھے، پھر امام کے ٹھہرنے اور لوٹنے سے پہلے ہی ( منیٰ ) آ جاتے تھے، بعض تو منیٰ فجر کی نماز کے وقت پہنچتے اور بعض اس کے بعد، جب منیٰ پہنچتے تو کنکریاں مارتے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب لوگوں کے لیے یہ اجازت دی ہے۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، قال سالم وكان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما يقدم ضعفة اهله، فيقفون عند المشعر الحرام بالمزدلفة بليل، فيذكرون الله ما بدا لهم، ثم يرجعون قبل ان يقف الامام، وقبل ان يدفع، فمنهم من يقدم منى لصلاة الفجر، ومنهم من يقدم بعد ذلك، فاذا قدموا رموا الجمرة، وكان ابن عمر رضى الله عنهما يقول ارخص في اوليك رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مزدلفہ سے رات ہی میں منیٰ روانہ کر دیا تھا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم من جمع بليل
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن ابی یزید نے خبر دی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا کہ میں ان لوگوں میں تھا جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے کمزور لوگوں کے ساتھ مزدلفہ کی رات ہی میں منیٰ بھیج دیا تھا۔
حدثنا علي، حدثنا سفيان، قال اخبرني عبيد الله بن ابي يزيد، سمع ابن عباس رضى الله عنهما يقول انا ممن، قدم النبي صلى الله عليه وسلم ليلة المزدلفة في ضعفة اهله
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید بن قطان نے، ان سے ابن جریج نے بیان کیا کہ ان سے اسماء کے غلام عبداللہ نے بیان کیا کہ ان سے اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما نے کہ وہ رات ہی میں مزدلفہ پہنچ گئیں اور کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگیں، کچھ دیر تک نماز پڑھنے کے بعد پوچھا بیٹے! کیا چاند ڈوب گیا؟ میں نے کہا کہ نہیں، اس لیے وہ دوبارہ نماز پڑھنے لگیں کچھ دیر بعد پھر پوچھا کیا چاند ڈوب گیا؟ میں نے کہا ہاں، انہوں نے کہا کہ اب آگے چلو ( منی کو ) چنانچہ ہم ان کے ساتھ آگے چلے، وہ ( منی میں ) رمی جمرہ کرنے کے بعد پھر واپس آ گئیں اور صبح کی نماز اپنے ڈیرے پر پڑھی میں نے کہا جناب! یہ کیا بات ہوئی کہ ہم نے اندھیرے ہی میں نماز پڑھ لی۔ انہوں نے کہا بیٹے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اس کی اجازت دی ہے۔
حدثنا مسدد، عن يحيى، عن ابن جريج، قال حدثني عبد الله، مولى اسماء عن اسماء، انها نزلت ليلة جمع عند المزدلفة، فقامت تصلي، فصلت ساعة، ثم قالت يا بنى هل غاب القمر قلت لا. فصلت ساعة، ثم قالت هل غاب القمر قلت نعم. قالت فارتحلوا. فارتحلنا، ومضينا حتى رمت الجمرة، ثم رجعت فصلت الصبح في منزلها. فقلت لها يا هنتاه ما ارانا الا قد غلسنا. قالت يا بنى، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذن للظعن
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مزدلفہ کی رات عام لوگوں سے پہلے روانہ ہونے کی اجازت چاہی آپ رضی اللہ عنہا بھاری بھر کم بدن کی عورت تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، حدثنا عبد الرحمن هو ابن القاسم عن القاسم، عن عايشة رضى الله عنها قالت استاذنت سودة النبي صلى الله عليه وسلم ليلة جمع وكانت ثقيلة ثبطة فاذن لها
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے افلح بن حمید نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جب ہم نے مزدلفہ میں قیام کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سودہ رضی اللہ عنہا کو لوگوں کے اژدہام سے پہلے روانہ ہونے کی اجازت دے دی تھیں، وہ بھاری بھر کم بدن کی خاتون تھیں، اس لیے آپ نے اجازت دے دی چنانچہ وہ اژدہام سے پہلے روانہ ہو گئیں۔ لیکن ہم وہیں ٹھہرے رہے اور صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے اگر میں بھی سودہ رضی اللہ عنہا کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیتی تو مجھ کو تمام خوشی کی چیزوں میں یہ بہت ہی پسند ہوتا۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا افلح بن حميد، عن القاسم بن محمد، عن عايشة رضى الله عنها قالت نزلنا المزدلفة فاستاذنت النبي صلى الله عليه وسلم سودة ان تدفع قبل حطمة الناس، وكانت امراة بطيية، فاذن لها، فدفعت قبل حطمة الناس، واقمنا حتى اصبحنا نحن، ثم دفعنا بدفعه، فلان اكون استاذنت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما استاذنت سودة احب الى من مفروح به
ہم سے عمرو بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمارہ نے عبدالرحمٰن بن یزید سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ دو نمازوں کے سوا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور کوئی نماز بغیر وقت نہیں پڑھتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھیں اور فجر کی نماز بھی اس دن ( مزدلفہ میں ) معمول کے وقت سے پہلے ادا کی۔
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، قال حدثني عمارة، عن عبد الرحمن، عن عبد الله رضى الله عنه قال ما رايت النبي صلى الله عليه وسلم صلى صلاة بغير ميقاتها الا صلاتين جمع بين المغرب والعشاء، وصلى الفجر قبل ميقاتها
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے ( حج شروع کیا ) پھر جب ہم مزدلفہ آئے تو آپ نے دو نمازیں ( اس طرح ایک ساتھ ) پڑھیں کہ ہر نماز ایک الگ اذان اور ایک الگ اقامت کے ساتھ تھی اور رات کا کھانا دونوں کے درمیان میں کھایا، پھر طلوع صبح کے ساتھ ہی آپ نے نماز فجر پڑھی، کوئی کہتا تھا کہ ابھی صبح صادق نہیں ہوئی اور کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ ہو گئی۔ اس کے بعد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا یہ دونوں نمازیں اس مقام سے ہٹا دی گئیں ہیں، یعنی مغرب اور عشاء، مزدلفہ میں اس وقت داخل ہوں کہ اندھیرا ہو جائے اور فجر کی نماز اس وقت۔ پھر عبداللہ اجالے تک وہیں مزدلفہ میں ٹھہرے رہے اور کہا کہ اگر امیرالمؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ اس وقت چلیں تو یہ سنت کے مطابق ہو گا۔ ( حدیث کے راوی عبدالرحمٰن بن یزید نے کہا ) میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ الفاظ ان کی زبان سے پہلے نکلے یا عثمان رضی اللہ عنہ کی روانگی پہلے شروع ہوئی، آپ دسویں تاریخ تک جمرہ عقبہ کی رمی تک برابر لبیک پکارتے رہے۔
حدثنا عبد الله بن رجاء، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن عبد الرحمن بن يزيد، قال خرجنا مع عبد الله رضى الله عنه الى مكة، ثم قدمنا جمعا، فصلى الصلاتين، كل صلاة وحدها باذان واقامة، والعشاء بينهما، ثم صلى الفجر حين طلع الفجر، قايل يقول طلع الفجر. وقايل يقول لم يطلع الفجر. ثم قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان هاتين الصلاتين حولتا عن وقتهما في هذا المكان المغرب والعشاء، فلا يقدم الناس جمعا حتى يعتموا، وصلاة الفجر هذه الساعة ". ثم وقف حتى اسفر، ثم قال لو ان امير المومنين افاض الان اصاب السنة. فما ادري اقوله كان اسرع ام دفع عثمان رضى الله عنه فلم يزل يلبي حتى رمى جمرة العقبة يوم النحر
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، انہوں نے عمرو بن میمون کو یہ کہتے سنا کہ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مزدلفہ میں فجر کی نماز پڑھی تو میں بھی موجود تھا، نماز کے بعد آپ ٹھہرے اور فرمایا کہ مشرکین ( جاہلیت میں یہاں سے ) سورج نکلنے سے پہلے نہیں جاتے تھے کہتے تھے اے ثبیر! تو چمک جا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے وہاں سے روانہ ہو گئے۔
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، سمعت عمرو بن ميمون، يقول شهدت عمر رضى الله عنه صلى بجمع الصبح، ثم وقف فقال ان المشركين كانوا لا يفيضون حتى تطلع الشمس، ويقولون اشرق ثبير. وان النبي صلى الله عليه وسلم خالفهم، ثم افاض قبل ان تطلع الشمس
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں عطاء نے، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مزدلفہ سے لوٹتے وقت ) فضل ( بن عباس رضی اللہ عنہما ) کو اپنے پیچھے سوار کرایا تھا۔ فضل رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمی جمرہ تک برابر لبیک پکارتے رہے۔
حدثنا ابو عاصم الضحاك بن مخلد، اخبرنا ابن جريج، عن عطاء، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم اردف الفضل، فاخبر الفضل انه لم يزل يلبي حتى رمى الجمرة
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي، عن يونس الايلي، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان اسامة بن زيد رضى الله عنهما كان ردف النبي صلى الله عليه وسلم من عرفة الى المزدلفة، ثم اردف الفضل من المزدلفة الى منى قال فكلاهما قالا لم يزل النبي صلى الله عليه وسلم يلبي حتى رمى جمرة العقبة
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي، عن يونس الايلي، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان اسامة بن زيد رضى الله عنهما كان ردف النبي صلى الله عليه وسلم من عرفة الى المزدلفة، ثم اردف الفضل من المزدلفة الى منى قال فكلاهما قالا لم يزل النبي صلى الله عليه وسلم يلبي حتى رمى جمرة العقبة
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہیں نضر بن شمیل نے خبر دی، انہیں شعبہ نے خبر دی، ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تمتع کے بارے میں پوچھا تو آپ نے مجھے اس کے کرنے کا حکم دیا، پھر میں نے قربانی کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ تمتع میں ایک اونٹ، یا ایک گائے یا ایک بکری ( کی قربانی واجب ہے ) یا کسی قربانی ( اونٹ، یا گائے بھینس کی ) میں شریک ہو جائے، ابوجمرہ نے کہا کہ بعض لوگ تمتع کو ناپسندیدہ قرار دیتے تھے۔ پھر میں سویا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص پکار رہا ہے یہ حج مبرور ہے اور یہ مقبول تمتع ہے۔ اب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے خواب کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ اکبر! یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ کہا کہ وہب بن جریر اور غندر نے شعبہ کے حوالہ سے یوں نقل کیا ہے «عمرة متقبلة، وحج مبرور» ( اس میں عمرہ کا ذکر پہلے ہے یعنی یہ عمرہ مقبول اور حج مبرور ہے ) ۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا النضر، اخبرنا شعبة، حدثنا ابو جمرة، قال سالت ابن عباس رضى الله عنهما عن المتعة، فامرني بها، وسالته عن الهدى، فقال فيها جزور او بقرة او شاة او شرك في دم قال وكان ناسا كرهوها، فنمت فرايت في المنام كان انسانا ينادي حج مبرور، ومتعة متقبلة. فاتيت ابن عباس رضى الله عنهما فحدثته فقال الله اكبر سنة ابي القاسم صلى الله عليه وسلم قال وقال ادم ووهب بن جرير وغندر عن شعبة عمرة متقبلة، وحج مبرور
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے، انہیں اعرج اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو قربانی کا جانور لے جاتے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جا۔ اس شخص نے کہا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جانا۔ اس نے کہا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا افسوس! سوار بھی ہو جاؤ ( «ويلك» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) دوسری یا تیسری مرتبہ فرمایا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى رجلا يسوق بدنة فقال " اركبها ". فقال انها بدنة. فقال " اركبها ". قال انها بدنة. قال " اركبها، ويلك ". في الثالثة او في الثانية
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام اور شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کا جانور لیے جا رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جا اس نے کہا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوا ر ہو جا اس نے پھر عرض کیا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ پھر فرمایا کہ سوار ہو جا۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، وشعبة، قالا حدثنا قتادة، عن انس رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم راى رجلا يسوق بدنة، فقال " اركبها ". قال انها بدنة. قال " اركبها ". قال انها بدنة. قال " اركبها ". ثلاثا
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں تمتع کیا یعنی عمرہ کر کے پھر حج کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذی الحلیفہ سے اپنے ساتھ قربانی لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے عمرہ کے لیے احرام باندھا، پھر حج کے لیے لبیک پکارا۔ لوگوں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمتع کیا یعنی عمرہ کر کے حج کیا، لیکن بہت سے لوگ اپنے ساتھ قربانی کا جانور لے گئے تھے اور بہت سے نہیں لے گئے تھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو لوگوں سے کہا کہ جو شخص قربانی ساتھ لایا ہو اس کے لیے حج پورا ہونے تک کوئی بھی ایسی چیز حلال نہیں ہو سکتی جسے اس نے اپنے اوپر ( احرام کی وجہ سے ) حرام کر لیا ہے لیکن جن کے ساتھ قربانی نہیں ہے تو وہ بیت اللہ کا طواف کر لیں اور صفا اور مروہ کی سعی کر کے بال ترشوا لیں اور حلال ہو جائیں، پھر حج کے لیے ( از سر نو آٹھویں ذی الحجہ کو احرام باندھیں ) ایسا شخص اگر قربانی نہ پائے تو تین دن کے روزے حج ہی کے دنوں میں اور سات دن کے روزے گھر واپس آ کر رکھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کیا پھر حجر اسود کو بوسہ دیا، تین چکروں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا اور باقی چار میں معمولی رفتار سے چلے، پھر بیت اللہ کا طواف پورا کر کے مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی سلام پھیر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی کی طرف آئے اور صفا اور مروہ کی سعی بھی سات چکروں میں پوری کی۔ جن چیزوں کو ( احرام کی وجہ سے اپنے پر ) حرام کر لیا تھا ان سے اس وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم حلال نہیں ہوئے جب تک حج بھی پورا نہ کر لیا اور یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) میں قربانی کا جانور بھی ذبح نہ کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ واپس ) آئے اور بیت اللہ کا جب طواف افاضہ کر لیا تو ہر وہ چیز آپ کے لیے حلال ہو گئی جو احرام کی وجہ سے حرام تھی جو لوگ اپنے ساتھ ہدی لے کر گئے تھے انہوں نے بھی اسی طرح کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، ان ابن عمر رضى الله عنهما قال تمتع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع بالعمرة الى الحج، واهدى فساق معه الهدى من ذي الحليفة، وبدا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاهل بالعمرة، ثم اهل بالحج، فتمتع الناس مع النبي صلى الله عليه وسلم بالعمرة الى الحج، فكان من الناس من اهدى فساق الهدى، ومنهم من لم يهد، فلما قدم النبي صلى الله عليه وسلم مكة، قال للناس " من كان منكم اهدى فانه لا يحل لشىء حرم منه حتى يقضي حجه، ومن لم يكن منكم اهدى فليطف بالبيت، وبالصفا والمروة، وليقصر، وليحلل، ثم ليهل بالحج، فمن لم يجد هديا فليصم ثلاثة ايام في الحج وسبعة اذا رجع الى اهله ". فطاف حين قدم مكة، واستلم الركن اول شىء، ثم خب ثلاثة اطواف، ومشى اربعا، فركع حين قضى طوافه بالبيت عند المقام ركعتين، ثم سلم، فانصرف فاتى الصفا فطاف بالصفا والمروة سبعة اطواف، ثم لم يحلل من شىء حرم منه حتى قضى حجه ونحر هديه يوم النحر، وافاض فطاف بالبيت، ثم حل من كل شىء حرم منه، وفعل مثل ما فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم من اهدى وساق الهدى من الناس
عروہ سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج اور عمرہ ایک ساتھ کرنے کی خبر دی کہ اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ حج اور عمرہ ایک ساتھ کیا تھا، بالکل اسی طرح جیسے مجھے سالم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی تھی۔
وعن عروة، ان عايشة رضى الله عنها اخبرته عن النبي صلى الله عليه وسلم في تمتعه بالعمرة الى الحج فتمتع الناس معه بمثل الذي اخبرني سالم عن ابن عمر رضى الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم