Loading...

Loading...
کتب
۲۶۰ احادیث
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسحاق ازرق نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عبدالعزیز بن رفیع کے واسطے سے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی نماز آٹھویں ذی الحجہ میں کہاں پڑھی تھی؟ اگر آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد ہے تو مجھے بتائیے۔ انہوں نے جواب دیا کہ منیٰ میں۔ میں نے پوچھا کہ بارہویں تاریخ کو عصر کہاں پڑھی تھی؟ فرمایا کہ محصب میں۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ جس طرح تمہارے حکام کرتے ہیں اسی طرح تم بھی کرو۔
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا اسحاق الازرق، حدثنا سفيان، عن عبد العزيز بن رفيع، قال سالت انس بن مالك رضى الله عنه قلت اخبرني بشىء، عقلته عن النبي صلى الله عليه وسلم اين صلى الظهر والعصر يوم التروية قال بمنى. قلت فاين صلى العصر يوم النفر قال بالابطح. ثم قال افعل كما يفعل امراوك
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے ابوبکر بن عیاش سے سنا کہ ہم سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا، کہا کہ میں انس رضی اللہ عنہ سے ملا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے اسماعیل بن ابان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز نے کہا کہ میں آٹھویں تاریخ کو منیٰ گیا تو وہاں انس رضی اللہ عنہ سے ملا۔ وہ گدھی پر سوار ہو کر جا رہے تھے۔ میں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے فرمایا دیکھو جہاں تمہارے حاکم لوگ نماز پڑھیں وہیں تم بھی پڑھو۔
حدثنا علي، سمع ابا بكر بن عياش، حدثنا عبد العزيز، لقيت انسا. وحدثني اسماعيل بن ابان، حدثنا ابو بكر، عن عبد العزيز، قال خرجت الى منى يوم التروية فلقيت انسا رضى الله عنه ذاهبا على حمار فقلت اين صلى النبي صلى الله عليه وسلم هذا اليوم الظهر فقال انظر حيث يصلي امراوك فصل
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے باپ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دو رکعات پڑھیں اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کرتے رہے اور عثمان رضی اللہ عنہ بھی خلافت کے شروع ایام میں ( دو ) ہی رکعت پڑھتے تھے۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنى ركعتين، وابو بكر وعمر وعثمان صدرا من خلافته
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے ابواسحاق ہمدانی سے بیان کیا اور ان سے حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں ہمیں دو رکعات پڑھائیں، ہمارا شمار اس وقت سب سے زیادہ تھا اور ہم اتنے بے ڈر کسی وقت میں نہ تھے۔ ( اس کے باوجود ہم کو نماز قصر پڑھائی ) ۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق الهمداني، عن حارثة بن وهب الخزاعي رضى الله عنه قال صلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم ونحن اكثر ما كنا قط وامنه بمنى ركعتين
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو ہی رکعت پڑھی اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو ہی رکعت، لیکن پھر ان کے بعد تم میں اختلاف ہو گیا تو کاش ان چار رکعتوں کے بدلے مجھ کو دو رکعات ہی نصیب ہوتیں جو ( اللہ کے ہاں ) قبول ہو جائیں۔
حدثنا قبيصة بن عقبة، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله رضى الله عنه قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم ركعتين، ومع ابي بكر رضى الله عنه ركعتين ومع عمر رضى الله عنه ركعتين، ثم تفرقت بكم الطرق، فيا ليت حظي من اربع ركعتان متقبلتان
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری سے بیان کیا اور ان سے سالم ابوالنصر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ام فضل کے غلام عمیر سے سنا، انہوں نے ام فضل رضی اللہ عنہا سے کہ عرفہ کے دن لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق شک ہوا، اس لیے میں نے آپ کو پینے کے لیے کچھ بھیجا جسے آپ نے پی لیا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن الزهري، حدثنا سالم، قال سمعت عميرا، مولى ام الفضل عن ام الفضل، شك الناس يوم عرفة في صوم النبي صلى الله عليه وسلم فبعثت الى النبي صلى الله عليه وسلم بشراب فشربه
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے محمد بن ابی بکر ثقفی سے خبر دی کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا۔ جب کہ وہ دونوں صبح کو منیٰ سے عرفات جا رہے تھے۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ لوگ آج کے دن کس طرح کرتے تھے؟ انس رضی اللہ عنہ نے بتلایا: کوئی ہم میں سے لبیک پکارتا ہوتا، اس پر کوئی اعتراض نہ کرتا اور کوئی تکبیر کہتا، اس پر کوئی انکار نہ کرتا ( اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاجی کو اختیار ہے لبیک پکارتا رہے یا تکبیر کہتا رہے ) ۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن محمد بن ابي بكر الثقفي، انه سال انس بن مالك وهما غاديان من منى الى عرفة كيف كنتم تصنعون في هذا اليوم مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال كان يهل منا المهل فلا ينكر عليه، ويكبر منا المكبر فلا ينكر عليه
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے اور ان سے سالم نے بیان کیا کہ عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو لکھا کہ حج کے احکام میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے خلاف نہ کرے۔ سالم نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عرفہ کے دن سورج ڈھلتے ہی تشریف لائے میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ آپ نے حجاج کے خیمہ کے پاس بلند آواز سے پکارا۔ حجاج باہر نکلا اس کے بدن میں ایک کسم میں رنگی ہوئی چادر تھی۔ اس نے پوچھا ابوعبدالرحمٰن! کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا اگر سنت کے مطابق عمل چاہتے ہو تو جلدی اٹھ کر چل کھڑے ہو جاؤ۔ اس نے کہا کیا اسی وقت؟ عبداللہ نے فرمایا کہ ہاں اسی وقت۔ حجاج نے کہا کہ پھر تھوڑی سی مہلت دیجئیے کہ میں اپنے سر پر پانی ڈال لوں یعنی غسل کر لوں پھر نکلتا ہوں۔ اس کے بعد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ( سواری سے ) اتر گئے اور جب حجاج باہر آیا تو میرے اور والد ( ابن عمر ) کے درمیان چلنے لگا تو میں نے کہا کہ اگر سنت پر عمل کا ارادہ ہے تو خطبہ میں اختصار اور وقوف ( عرفات ) میں جلدی کرنا۔ اس بات پر وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھنے لگا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ سچ کہتا ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن سالم، قال كتب عبد الملك الى الحجاج ان لا يخالف ابن عمر في الحج، فجاء ابن عمر رضى الله عنه وانا معه يوم عرفة حين زالت الشمس، فصاح عند سرادق الحجاج، فخرج وعليه ملحفة معصفرة فقال ما لك يا ابا عبد الرحمن فقال الرواح ان كنت تريد السنة. قال هذه الساعة قال نعم. قال فانظرني حتى افيض على راسي ثم اخرج. فنزل حتى خرج الحجاج، فسار بيني وبين ابي، فقلت ان كنت تريد السنة فاقصر الخطبة وعجل الوقوف. فجعل ينظر الى عبد الله، فلما راى ذلك عبد الله قال صدق
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے ابوالنضر نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر نے، ان سے ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ان کے یہاں لوگوں کا عرفات کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے سے متعلق کچھ اختلاف ہو گیا، بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( عرفہ کے دن ) روزے سے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ نہیں، اس لیے انہوں نے آپ کے پاس دودھ کا ایک پیالہ بھیجا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اونٹ پر سوا ہو کر عرفات میں وقوف فرما رہے تھے، آپ نے وہ دودھ پی لیا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي النضر، عن عمير، مولى عبد الله بن العباس عن ام الفضل بنت الحارث، ان ناسا، اختلفوا عندها يوم عرفة في صوم النبي صلى الله عليه وسلم فقال بعضهم هو صايم. وقال بعضهم ليس بصايم. فارسلت اليه بقدح لبن وهو واقف على بعيره فشربه
لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے عقیل نے ابن شہاب سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی کہ حجاج بن یوسف جس سال عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑنے کے لیے مکہ میں اترا تو اس موقع پر اس نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ عرفہ کے دن وقوف میں آپ کیا کرتے تھے؟ اس پر سالم رحمہ اللہ بولے کہ اگر تو سنت پر چلنا چاہتا ہے تو عرفہ کے دن نماز دوپہر ڈھلتے ہی پڑھ لینا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سالم نے سچ کہا، صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ظہر اور عصر ایک ہی ساتھ پڑھتے تھے۔ میں نے سالم سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا؟ سالم نے فرمایا اور کس کی سنت پر اس مسئلہ میں چلتے ہو۔
وقال الليث حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني سالم، ان الحجاج بن يوسف، عام نزل بابن الزبير رضى الله عنهما سال عبد الله رضى الله عنه كيف تصنع في الموقف يوم عرفة فقال سالم ان كنت تريد السنة فهجر بالصلاة يوم عرفة. فقال عبد الله بن عمر صدق. انهم كانوا يجمعون بين الظهر والعصر في السنة. فقلت لسالم افعل ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال سالم وهل تتبعون في ذلك الا سنته
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سالم بن عبداللہ نے کہ عبدالملک بن مروان (خلیفہ) نے حجاج کو لکھا کہ حج کے کاموں میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اقتداء کرے۔ جب عرفہ کا دن آیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آئے میں بھی آپ کے ساتھ تھا، سورج ڈھل چکا تھا، آپ نے حجاج کے ڈیرے کے پاس آ کر بلند آواز سے کہا حجاج کہاں ہے؟ حجاج باہر نکلا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا چل جلدی کر وقت ہو گیا۔ حجاج نے کہا ابھی سے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہاں۔ حجاج بولا کہ پھر تھوڑی مہلت دے دیجئیے، میں ابھی غسل کر کے آتا ہوں۔ پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ( اپنی سواری سے ) اتر گئے۔ حجاج باہر نکلا اور میرے اور میرے والد ( ابن عمر ) کے بیچ میں چلنے لگا، میں نے اس سے کہا کہ آج اگر سنت پر عمل کی خواہش ہے تو خطبہ مختصر پڑھ اور وقوف میں جلدی کر۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سالم سچ کہتا ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، ان عبد الملك بن مروان، كتب الى الحجاج ان ياتم، بعبد الله بن عمر في الحج، فلما كان يوم عرفة جاء ابن عمر رضى الله عنهما وانا معه حين زاغت الشمس او زالت، فصاح عند فسطاطه اين هذا فخرح اليه فقال ابن عمر الرواح. فقال الان قال نعم. قال انظرني افيض على ماء. فنزل ابن عمر رضى الله عنهما حتى خرج، فسار بيني وبين ابي. فقلت ان كنت تريد ان تصيب السنة اليوم فاقصر الخطبة وعجل الوقوف. فقال ابن عمر صدق
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جبیر بن مطعم نے، ان سے ان کے باپ نے کہ میں اپنا ایک اونٹ تلاش کر رہا تھا (دوسری سند) اور ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمر بن دینار نے، انہوں نے محمد بن جبیر سے سنا کہ ان کے والد جبیر بن مطعم نے بیان کیا کہ میرا ایک اونٹ کھو گیا تھا تو میں عرفات میں اس کو تلاش کرنے گیا، یہ دن عرفات کا تھا، میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات کے میدان میں کھڑے ہیں۔ میری زبان سے نکلا قسم اللہ کی! یہ تو قریش ہیں پھر یہ یہاں کیوں ہیں۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو، حدثنا محمد بن جبير بن مطعم، عن ابيه، كنت اطلب بعيرا لي. وحدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن عمرو، سمع محمد بن جبير، عن ابيه، جبير بن مطعم قال اضللت بعيرا لي، فذهبت اطلبه يوم عرفة، فرايت النبي صلى الله عليه وسلم واقفا بعرفة، فقلت هذا والله من الحمس فما شانه ها هنا
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حمس کے سوا بقیہ سب لوگ جاہلیت میں ننگے ہو کر طواف کرتے تھے، حمس قریش اور اس کی آل اولاد کو کہتے تھے، ( اور بنی کنانہ وغیرہ، جیسے خزاعہ ) لوگوں کو ( اللہ کے واسطے ) کپڑے دیا کرتے تھے۔ ( قریش ) کے مرد دوسرے مردوں کو تاکہ انہیں پہن کر طواف کر سکیں اور ( قریش کی ) عورتیں دوسری عورتوں کو تاکہ وہ انہیں پہن کر طواف کر سکیں، اور جن کو قریش کپڑا نہیں دیتے وہ بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرتے۔ دوسرے سب لوگ تو عرفات سے واپس ہوتے لیکن قریش مزدلفہ ہی سے ( جو حرم میں تھا ) واپس ہو جاتے۔ ہشام بن عروہ نے کہا کہ میرے باپ عروہ بن زبیر نے مجھے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ یہ آیت قریش کے بارے میں نازل ہوئی کہ ”پھر تم بھی ( قریش ) وہیں سے واپس آؤ جہاں سے اور لوگ واپس آتے ہیں“ ( یعنی عرفات سے، سورۃ البقرہ ) انہوں نے بیان کیا کہ قریش مزدلفہ ہی سے لوٹ آتے تھے اس لیے انہیں بھی عرفات سے لوٹنے کا حکم ہوا۔
حدثنا فروة بن ابي المغراء، حدثنا علي بن مسهر، عن هشام بن عروة، قال عروة كان الناس يطوفون في الجاهلية عراة الا الحمس، والحمس قريش وما ولدت، وكانت الحمس يحتسبون على الناس يعطي الرجل الرجل الثياب يطوف فيها، وتعطي المراة المراة الثياب تطوف فيها، فمن لم يعطه الحمس طاف بالبيت عريانا، وكان يفيض جماعة الناس من عرفات، ويفيض الحمس من جمع. قال واخبرني ابي عن عايشة رضى الله عنها ان هذه الاية نزلت في الحمس {ثم افيضوا من حيث افاض الناس} قال كانوا يفيضون من جمع فدفعوا الى عرفات
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے ہشام بن عروہ سے خبر دی، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے ہشام بن عروہ سے خبر دی، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، انه قال سيل اسامة وانا جالس، كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسير في حجة الوداع حين دفع قال كان يسير العنق، فاذا وجد فجوة نص. قال هشام والنص فوق العنق. قال ابو عبد الله فجوة متسع، والجميع فجوات وفجاء، وكذلك ركوة وركاء. مناص ليس حين فرار
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب نے اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( راہ میں ) ایک گھاٹی کی طرف مڑے اور وہاں قضائے حاجت کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی ) نماز پڑھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز آگے چل کر پڑھی جائے گی۔ ( یعنی عرفات سے مزدلفہ آتے ہوئے قضائے حاجت وغیرہ کے لیے راستہ میں رکنے میں کوئی حرج نہیں ہے ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن يحيى بن سعيد، عن موسى بن عقبة، عن كريب، مولى ابن عباس عن اسامة بن زيد رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم حيث افاض من عرفة مال الى الشعب فقضى حاجته فتوضا فقلت يا رسول الله اتصلي فقال " الصلاة امامك
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جویریہ نے نافع سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مزدلفہ میں آ کر نماز مغرب اور عشاء ملا کر ایک ساتھ پڑھتے، البتہ آپ اس گھاٹی میں بھی مڑتے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مڑے تھے۔ وہاں آپ قضائے حاجت کرتے پھر وضو کرتے لیکن نماز نہ پڑھتے، نماز آپ مزدلفہ میں آ کر پڑھتے تھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جويرية، عن نافع، قال كان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما يجمع بين المغرب والعشاء بجمع، غير انه يمر بالشعب الذي اخذه رسول الله صلى الله عليه وسلم فيدخل فينتفض ويتوضا، ولا يصلي حتى يصلي بجمع
حدثنا قتيبة، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن محمد بن ابي حرملة، عن كريب، مولى ابن عباس عن اسامة بن زيد رضى الله عنهما انه قال ردفت رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفات فلما بلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم الشعب الايسر الذي دون المزدلفة اناخ، فبال ثم جاء فصببت عليه الوضوء، فتوضا وضوءا خفيفا. فقلت الصلاة يا رسول الله. قال " الصلاة امامك ". فركب رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اتى المزدلفة، فصلى ثم ردف الفضل رسول الله صلى الله عليه وسلم غداة جمع. قال كريب فاخبرني عبد الله بن عباس رضى الله عنهما عن الفضل، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يزل يلبي حتى بلغ الجمرة
حدثنا قتيبة، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن محمد بن ابي حرملة، عن كريب، مولى ابن عباس عن اسامة بن زيد رضى الله عنهما انه قال ردفت رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفات فلما بلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم الشعب الايسر الذي دون المزدلفة اناخ، فبال ثم جاء فصببت عليه الوضوء، فتوضا وضوءا خفيفا. فقلت الصلاة يا رسول الله. قال " الصلاة امامك ". فركب رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اتى المزدلفة، فصلى ثم ردف الفضل رسول الله صلى الله عليه وسلم غداة جمع. قال كريب فاخبرني عبد الله بن عباس رضى الله عنهما عن الفضل، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يزل يلبي حتى بلغ الجمرة
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سوید نے بیان کیا، کہا مجھ سے مطلب کے غلام عمرو بن ابی عمرو نے بیان کیا، انہیں والیہ کوفی کے غلام سعید بن جبیر نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنما نے بیان کیا کہ عرفہ کے دن ( میدان عرفات سے ) وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سخت شور ( اونٹ ہانکنے کا ) اور اونٹوں کی مار دھاڑ کی آواز سنی تو آپ نے ان کی طرف اپنے کوڑے سے اشارہ کیا اور فرمایا کہ لوگو! آہستگی و وقار اپنے اوپر لازم کر لو، ( اونٹوں کو ) تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ( سورۃ البقرہ میں ) «أوضعوا» کے معنی ریشہ دوانیاں کریں، «خلالكم» کا معنی تمہارے بیچ میں، اسی سے ( سورۃ الکہف ) میں آیا ہے «وفجرنا خلالهما» یعنی ان کے بیچ میں۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا ابراهيم بن سويد، حدثني عمرو بن ابي عمرو، مولى المطلب اخبرني سعيد بن جبير، مولى والبة الكوفي حدثني ابن عباس رضى الله عنهما انه دفع مع النبي صلى الله عليه وسلم يوم عرفة فسمع النبي صلى الله عليه وسلم وراءه زجرا شديدا وضربا وصوتا للابل فاشار بسوطه اليهم وقال " ايها الناس عليكم بالسكينة، فان البر ليس بالايضاع ". اوضعوا اسرعوا. خلالكم من التخلل بينكم، وفجرنا خلالهما. بينهما
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے کہا، انہیں موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، انہیں کریب نے، انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا کہ میدان عرفات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو کر گھاٹی میں اترے ( جو مزدلفہ کے قریب ہے ) وہاں پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور پورا وضو نہیں کیا ( خوب پانی نہیں بہایا ہلکا وضو کیا ) میں نے نماز کے متعلق عرض کی تو فرمایا کہ نماز آگے ہے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے وہاں پھر وضو کیا اور پوری طرح کیا پھر نماز کی تکبیر کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھی پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ ڈیروں پر بٹھا دیئے پھر دوبارہ نماز عشاء کے لیے تکبیر کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی ( سنت یا نفل ) نماز نہیں پڑھی تھی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن موسى بن عقبة، عن كريب، عن اسامة بن زيد رضى الله عنهما انه سمعه يقول دفع رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفة، فنزل الشعب، فبال ثم توضا، ولم يسبغ الوضوء. فقلت له الصلاة. فقال " الصلاة امامك ". فجاء المزدلفة، فتوضا، فاسبغ، ثم اقيمت الصلاة، فصلى المغرب، ثم اناخ كل انسان بعيره في منزله، ثم اقيمت الصلاة فصلى، ولم يصل بينهما