Loading...

Loading...
کتب
۲۶۰ احادیث
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، ان سے عروہ نے بیان کیا، ان سے زینب بنت ام سلمہ نے، ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہو گئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کر لے۔ چنانچہ میں نے جب طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں ( نماز کے اندر ) «والطور وكتاب مسطور» کی قرآت کر رہے تھے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا مالك، عن محمد بن عبد الرحمن بن نوفل، عن عروة، عن زينب ابنة ام سلمة، عن ام سلمة رضى الله عنها قالت شكوت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم اني اشتكي. فقال " طوفي من وراء الناس وانت راكبة ". فطفت ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي الى جنب البيت، وهو يقرا بالطور وكتاب مسطور
ہم سے عبداللہ بن محمد بن ابی الاسود نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے پانی ( زمزم کا حاجیوں کو ) پلانے کے لیے منیٰ کے دنوں میں مکہ ٹھہرنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔
حدثنا عبد الله بن ابي الاسود، حدثنا ابو ضمرة، حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال استاذن العباس بن عبد المطلب رضى الله عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يبيت بمكة ليالي منى من اجل سقايته، فاذن له
ہم سے اسحاق بن شاہین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد طحان نے خالد حذاء سے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پلانے کی جگہ ( زمزم کے پاس ) تشریف لائے اور پانی مانگا ( حج کے موقع پر ) عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ فضل! اپنی ماں کے یہاں جا اور ان کے یہاں سے کھجور کا شربت لا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ( یہی ) پانی پلاؤ۔ عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہر شخص اپنا ہاتھ اس میں ڈال دیتا ہے۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہی کہتے رہے کہ مجھے ( یہی ) پانی پلاؤ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا پھر زمزم کے قریب آئے۔ لوگ کنویں سے پانی کھینچ رہے تھے اور کام کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انہیں دیکھ کر ) فرمایا کام کرتے جاؤ کہ ایک اچھے کام پر لگے ہوئے ہو۔ پھر فرمایا ( اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ آئندہ لوگ ) تمہیں پریشان کر دیں گے تو میں بھی اترتا اور رسی اپنے اس پر رکھ لیتا۔ مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانہ سے تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا۔
حدثنا اسحاق، حدثنا خالد، عن خالد الحذاء، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء الى السقاية، فاستسقى، فقال العباس يا فضل اذهب الى امك، فات رسول الله صلى الله عليه وسلم بشراب من عندها. فقال " اسقني ". قال يا رسول الله انهم يجعلون ايديهم فيه. قال " اسقني ". فشرب منه، ثم اتى زمزم، وهم يسقون ويعملون فيها، فقال " اعملوا، فانكم على عمل صالح ثم قال لولا ان تغلبوا لنزلت حتى اضع الحبل على هذه ". يعني عاتقه واشار الى عاتقه
اور عبدان نے کہا کہ مجھ کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب میں مکہ میں تھا تو میری ( گھر کی ) چھت کھلی اور جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے۔ انہوں نے میرا سینہ چاک کیا اور اسے زمزم کے پانی سے دھویا۔ اس کے بعد ایک سونے کا طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا۔ اسے انہوں نے میرے سینے میں ڈال دیا اور پھر سینہ بند کر دیا۔ اب وہ مجھے ہاتھ سے پکڑ کر آسمان دنیا کی طرف لے چلے۔ آسمان دنیا کے داروغہ سے جبرائیل علیہ السلام نے کہا دروازہ کھولو۔ انہوں نے دریافت کیا کون صاحب ہیں؟ کہا جبرائیل!۔
وقال عبدان اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، قال انس بن مالك كان ابو ذر رضى الله عنه يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " فرج سقفي وانا بمكة، فنزل جبريل عليه السلام ففرج صدري، ثم غسله بماء زمزم، ثم جاء بطست من ذهب ممتلي حكمة وايمانا، فافرغها في صدري، ثم اطبقه، ثم اخذ بيدي فعرج الى السماء الدنيا. قال جبريل لخازن السماء الدنيا افتح. قال من هذا قال جبريل
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں مروان بن معاویہ فزاری نے خبر دی، انہیں عاصم نے اور انہیں شعبی نے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا، کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم کا پانی پلایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کھڑے ہو کر پیا تھا۔ عاصم نے بیان کیا کہ عکرمہ نے قسم کھا کر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن اونٹ پر سوار تھے۔
حدثنا محمد هو ابن سلام اخبرنا الفزاري، عن عاصم، عن الشعبي، ان ابن عباس رضى الله عنهما حدثه قال سقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم من زمزم فشرب وهو قايم. قال عاصم فحلف عكرمة ما كان يوميذ الا على بعير
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے خبر دی، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ حجتہ الوداع میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مدینہ سے ) نکلے اور ہم نے عمرہ کا احرام باندھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی کا جانور ہو وہ حج اور عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھے۔ ایسے لوگ دونوں کے احرام سے ایک ساتھ حلال ہوں گے۔ میں بھی مکہ آئی تھی لیکن مجھے حیض آ گیا تھا۔ اس لیے جب ہم نے حج کے کام پورے کر لیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمٰن کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا۔ میں نے وہاں سے عمرہ کا احرام باندھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے اس عمرہ کے بدلہ میں ہے ( جسے تم نے حیض کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا ) جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا انہوں نے سعی کے بعد احرام کھول دیا اور دوسرا طواف منٰی سے واپسی پر کیا لیکن جن لوگوں نے حج اور عمرہ کا احرام ایک ساتھ باندھا تھا انہوں نے صرف ایک طواف کیا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع، فاهللنا بعمرة، ثم قال " من كان معه هدى فليهل بالحج والعمرة ثم لا يحل حتى يحل منهما ". فقدمت مكة، وانا حايض، فلما قضينا حجنا ارسلني مع عبد الرحمن الى التنعيم، فاعتمرت، فقال صلى الله عليه وسلم " هذه مكان عمرتك ". فطاف الذين اهلوا بالعمرة، ثم حلوا، ثم طافوا طوافا اخر، بعد ان رجعوا من منى، واما الذين جمعوا بين الحج والعمرة طافوا طوافا واحدا
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے لڑکے عبداللہ بن عبداللہ ان کے یہاں گئے۔ حج کے لیے سواری گھر میں کھڑی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خطرہ ہے کہ اس سال مسلمانوں میں آپس میں لڑائی ہو جائے گی اور آپ کو وہ بیت اللہ سے روک دیں گے۔ اس لیے اگر آپ نہ جاتے تو بہتر ہوتا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے گئے تھے ( عمرہ کرنے صلح حدیبیہ کے موقع پر ) اور کفار قریش نے آپ کو بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا تھا۔ اس لیے اگر مجھے بھی روک دیا گیا تو میں بھی وہی کام کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج ( اپنے اوپر ) واجب کر لیا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ مکہ آئے اور دونوں عمرہ اور حج کے لیے ایک ہی طواف کیا
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابن علية، عن ايوب، عن نافع، ان ابن عمر رضى الله عنهما دخل ابنه عبد الله بن عبد الله، وظهره في الدار، فقال اني لا امن ان يكون العام بين الناس قتال، فيصدوك عن البيت، فلو اقمت. فقال قد خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فحال كفار قريش بينه وبين البيت، فان حيل بيني وبينه افعل كما فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم {لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة} ثم قال اشهدكم اني قد اوجبت مع عمرتي حجا. قال ثم قدم فطاف لهما طوافا واحدا
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے نافع سے بیان کیا کہ جس سال حجاج عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے مقابلے میں لڑنے آیا تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جب اس سال حج کا ارادہ کیا تو آپ سے کہا گیا کہ مسلمانوں میں باہم جنگ ہونے والی ہے اور یہ بھی خطرہ ہے کہ آپ کو حج سے روک دیا جائے۔ آپ نے فرمایا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ ایسے وقت میں میں بھی وہی کام کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کر لیا ہے۔ پھر آپ چلے اور جب بیداء کے میدان میں پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ حج اور عمرہ تو ایک ہی طرح کے ہیں۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی واجب کر لیا ہے۔ آپ نے ایک قربانی بھی ساتھ لے لی جو مقام قدید سے خریدی تھی۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں کیا۔ دسویں تاریخ سے پہلے نہ آپ نے قربانی کی نہ کسی ایسی چیز کو اپنے لیے جائز کیا جس سے ( احرام کی وجہ سے ) آپ رک گئے تھے۔ نہ سر منڈوایا نہ بال ترشوائے دسویں تاریخ میں آپ نے قربانی کی اور بال منڈوائے۔ آپ کا یہی خیال تھا کہ آپ نے ایک طواف سے حج اور عمرہ دونوں کا طواف ادا کر لیا ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن نافع، ان ابن عمر رضى الله عنهما اراد الحج عام نزل الحجاج بابن الزبير. فقيل له ان الناس كاين بينهم قتال، وانا نخاف ان يصدوك. فقال {لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة} اذا اصنع كما صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم، اني اشهدكم اني قد اوجبت عمرة. ثم خرج حتى اذا كان بظاهر البيداء قال ما شان الحج والعمرة الا واحد، اشهدكم اني قد اوجبت حجا مع عمرتي. واهدى هديا اشتراه بقديد ولم يزد على ذلك، فلم ينحر، ولم يحل من شىء حرم منه، ولم يحلق ولم يقصر حتى كان يوم النحر، فنحر وحلق، وراى ان قد قضى طواف الحج، والعمرة بطوافه الاول. وقال ابن عمر رضى الله عنهما كذلك فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے احمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، انہیں محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل قرشی نے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے پوچھا تھا، عروہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا کہ معلوم ہے حج کیا تھا۔ مجھے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس کے متعلق خبر دی کہ جب آپ مکہ معظمہ آئے تو سب سے پہلا کام یہ کیا کہ آپ نے وضو کیا، پھر کعبہ کا طواف کیا۔ یہ آپ کا عمرہ نہیں تھا۔ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حج کیا اور آپ نے بھی سب سے پہلے کعبہ کا طواف کیا جب کہ یہ آپ کا بھی عمرہ نہیں تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کیا۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کیا میں نے دیکھا کہ سب سے پہلے آپ نے بھی کعبہ کا طواف کیا۔ آپ کا بھی یہ عمرہ نہیں تھا۔ پھر معاویہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کا زمانہ آیا۔ پھر میں نے اپنے والد زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی حج کیا۔ یہ ( سارے اکابر ) پہلے کعبہ ہی کے طواف سے شروع کرتے تھے جب کہ یہ عمرہ نہیں ہوتا تھا۔ اس کے بعد مہاجرین و انصار کو بھی میں نے دیکھا کہ وہ بھی اسی طرح کرتے رہے اور ان کا بھی یہ عمرہ نہیں ہوتا تھا۔ آخری ذات جسے میں نے اس طرح کرتے دیکھا، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی تھی۔ انہوں نے بھی عمرہ نہیں کیا تھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما ابھی موجود ہیں لیکن ان سے لوگ اس کے متعلق پوچھتے نہیں۔ اسی طرح جو حضرات گزر گئے، ان کا بھی مکہ میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلا قدم طواف کے لے اٹھتا تھا۔ پھر یہ بھی احرام نہیں کھولتے تھے۔ میں نے اپنی والدہ ( اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما ) اور خالہ ( عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ) کو بھی دیکھا کہ جب وہ آتیں تو سب سے پہلے طواف کرتیں اور یہ اس کے بعد احرام نہیں کھولتی تھیں۔
حدثنا احمد بن عيسى، حدثنا ابن وهب، قال اخبرني عمرو بن الحارث، عن محمد بن عبد الرحمن بن نوفل القرشي، انه سال عروة بن الزبير فقال قد حج النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرتني عايشة رضى الله عنها انه اول شىء بدا به حين قدم انه توضا ثم طاف بالبيت ثم لم تكن عمرة، ثم حج ابو بكر رضى الله عنه فكان اول شىء بدا به الطواف بالبيت ثم لم تكن عمرة. ثم عمر رضى الله عنه مثل ذلك. ثم حج عثمان رضى الله عنه فرايته اول شىء بدا به الطواف بالبيت ثم لم تكن عمرة، ثم معاوية وعبد الله بن عمر، ثم حججت مع ابي الزبير بن العوام، فكان اول شىء بدا به الطواف بالبيت، ثم لم تكن عمرة، ثم رايت المهاجرين والانصار يفعلون ذلك، ثم لم تكن عمرة، ثم اخر من رايت فعل ذلك ابن عمر ثم لم ينقضها عمرة، وهذا ابن عمر عندهم فلا يسالونه، ولا احد ممن مضى، ما كانوا يبدءون بشىء حتى يضعوا اقدامهم من الطواف بالبيت، ثم لا يحلون، وقد رايت امي وخالتي، حين تقدمان لا تبتديان بشىء اول من البيت، تطوفان به، ثم لا تحلان. وقد اخبرتني امي، انها اهلت هي واختها والزبير وفلان وفلان بعمرة، فلما مسحوا الركن حلوا
ہم سے احمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، انہیں محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل قرشی نے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے پوچھا تھا، عروہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا کہ معلوم ہے حج کیا تھا۔ مجھے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس کے متعلق خبر دی کہ جب آپ مکہ معظمہ آئے تو سب سے پہلا کام یہ کیا کہ آپ نے وضو کیا، پھر کعبہ کا طواف کیا۔ یہ آپ کا عمرہ نہیں تھا۔ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حج کیا اور آپ نے بھی سب سے پہلے کعبہ کا طواف کیا جب کہ یہ آپ کا بھی عمرہ نہیں تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کیا۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کیا میں نے دیکھا کہ سب سے پہلے آپ نے بھی کعبہ کا طواف کیا۔ آپ کا بھی یہ عمرہ نہیں تھا۔ پھر معاویہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کا زمانہ آیا۔ پھر میں نے اپنے والد زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی حج کیا۔ یہ ( سارے اکابر ) پہلے کعبہ ہی کے طواف سے شروع کرتے تھے جب کہ یہ عمرہ نہیں ہوتا تھا۔ اس کے بعد مہاجرین و انصار کو بھی میں نے دیکھا کہ وہ بھی اسی طرح کرتے رہے اور ان کا بھی یہ عمرہ نہیں ہوتا تھا۔ آخری ذات جسے میں نے اس طرح کرتے دیکھا، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی تھی۔ انہوں نے بھی عمرہ نہیں کیا تھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما ابھی موجود ہیں لیکن ان سے لوگ اس کے متعلق پوچھتے نہیں۔ اسی طرح جو حضرات گزر گئے، ان کا بھی مکہ میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلا قدم طواف کے لے اٹھتا تھا۔ پھر یہ بھی احرام نہیں کھولتے تھے۔ میں نے اپنی والدہ ( اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما ) اور خالہ ( عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ) کو بھی دیکھا کہ جب وہ آتیں تو سب سے پہلے طواف کرتیں اور یہ اس کے بعد احرام نہیں کھولتی تھیں۔
حدثنا احمد بن عيسى، حدثنا ابن وهب، قال اخبرني عمرو بن الحارث، عن محمد بن عبد الرحمن بن نوفل القرشي، انه سال عروة بن الزبير فقال قد حج النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرتني عايشة رضى الله عنها انه اول شىء بدا به حين قدم انه توضا ثم طاف بالبيت ثم لم تكن عمرة، ثم حج ابو بكر رضى الله عنه فكان اول شىء بدا به الطواف بالبيت ثم لم تكن عمرة. ثم عمر رضى الله عنه مثل ذلك. ثم حج عثمان رضى الله عنه فرايته اول شىء بدا به الطواف بالبيت ثم لم تكن عمرة، ثم معاوية وعبد الله بن عمر، ثم حججت مع ابي الزبير بن العوام، فكان اول شىء بدا به الطواف بالبيت، ثم لم تكن عمرة، ثم رايت المهاجرين والانصار يفعلون ذلك، ثم لم تكن عمرة، ثم اخر من رايت فعل ذلك ابن عمر ثم لم ينقضها عمرة، وهذا ابن عمر عندهم فلا يسالونه، ولا احد ممن مضى، ما كانوا يبدءون بشىء حتى يضعوا اقدامهم من الطواف بالبيت، ثم لا يحلون، وقد رايت امي وخالتي، حين تقدمان لا تبتديان بشىء اول من البيت، تطوفان به، ثم لا تحلان. وقد اخبرتني امي، انها اهلت هي واختها والزبير وفلان وفلان بعمرة، فلما مسحوا الركن حلوا
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی کہ عروہ نے بیان کیا کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ( جو سورۃ البقرہ میں ہے کہ ) ”صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اس لے جو بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں“۔ قسم اللہ کی پھر تو کوئی حرج نہ ہونا چاہئیے اگر کوئی صفا اور مروہ کی سعی نہ کرنی چاہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بھتیجے! تم نے یہ بری بات کہی۔ اللہ کا مطلب یہ ہوتا تو قرآن میں یوں اترتا“ ان کے طواف نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں“ بات یہ ہے کہ یہ آیت تو انصار کے لیے اتری تھی جو اسلام سے پہلے منات بت کے نام پر جو مشلل میں رکھا ہوا تھا اور جس کی یہ پوجا کیا کرتے تھے۔، احرام باندھتے تھے۔ یہ لوگ جب ( زمانہ جاہلیت میں ) احرام باندھتے تو صفا مروہ کی سعی کو اچھا نہیں خیال کرتے تھے۔ اب جب اسلام لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا اور کہا کہ یا رسول اللہ! ہم صفا اور مروہ کی سعی اچھی نہیں سمجھتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ صفا اور مروہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں آخر آیت تک۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو پہاڑوں کے درمیان سعی کی سنت جاری کی ہے۔ اس لیے کسی کے لیے مناسب نہیں ہے کہ اسے ترک کر دے۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں نے اس کا ذکر ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے تو یہ علمی بات اب تک نہیں سنی تھی، بلکہ میں نے بہت سے اصحاب علم سے تو یہ سنا ہے کہ وہ یوں کہتے تھے کہ عرب کے لوگ ان لوگوں کے سوا جن کا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ذکر کیا جو مناۃ کے لیے احرام باندھتے تھے سب صفا مروہ کا پھیرا کیا کرتے تھے۔ اور جب اللہ نے قرآن شریف میں بیت اللہ کے طواف کا ذکر فرمایا اور صفا مروہ کا ذکر نہیں کیا تو وہ لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ! ہم تو جاہلیت کے زمانہ میں صفا اور مروہ کا پھیرا کیا کرتے تھے اور اب اللہ نے بیت اللہ کے طواف کا ذکر تو فرمایا لیکن صفا مروہ کا ذکر نہیں کیا تو کیا صفا مروہ کی سعی کرنے میں ہم پر کچھ گناہ ہو گا؟ تب اللہ نے یہ آیت اتاری۔ ”صفا مروہ اللہ کی نشانیاں ہیں آخر آیت تک۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا میں سنتا ہوں کہ یہ آیت دونوں فرقوں کے باب میں اتری ہے یعنی اس فرقے کے باب میں جو جاہلیت کے زمانے میں صفا مروہ کا طواف برا جانتا تھا اور اس کے باب میں جو جاہلیت کے زمانے میں صفا مروہ کا طواف کیا کرتے تھے۔ پھر مسلمان ہونے کے بعد اس کا کرنا اس وجہ سے کہ اللہ نے بیت اللہ کے طواف کا ذکر کیا اور صفا و مروہ کا نہیں کیا، برا سمجھے۔ یہاں تک کہ اللہ نے بیت اللہ کے طواف کے بعد ان کے طواف کا بھی ذکر فرما دیا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال عروة سالت عايشة رضى الله عنها فقلت لها ارايت قول الله تعالى {ان الصفا والمروة من شعاير الله فمن حج البيت او اعتمر فلا جناح عليه ان يطوف بهما} فوالله ما على احد جناح ان لا يطوف بالصفا والمروة. قالت بيس ما قلت يا ابن اختي ان هذه لو كانت كما اولتها عليه كانت لا جناح عليه ان لا يتطوف بهما، ولكنها انزلت في الانصار، كانوا قبل ان يسلموا يهلون لمناة الطاغية التي كانوا يعبدونها عند المشلل، فكان من اهل يتحرج ان يطوف بالصفا والمروة، فلما اسلموا سالوا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك قالوا يا رسول الله، انا كنا نتحرج ان نطوف بين الصفا والمروة، فانزل الله تعالى {ان الصفا والمروة من شعاير الله} الاية. قالت عايشة رضى الله عنها وقد سن رسول الله صلى الله عليه وسلم الطواف بينهما، فليس لاحد ان يترك الطواف بينهما. ثم اخبرت ابا بكر بن عبد الرحمن، فقال ان هذا لعلم ما كنت سمعته، ولقد سمعت رجالا من اهل العلم، يذكرون ان الناس الا من ذكرت عايشة ممن كان يهل بمناة، كانوا يطوفون كلهم بالصفا والمروة، فلما ذكر الله تعالى الطواف بالبيت، ولم يذكر الصفا والمروة في القران قالوا يا رسول الله كنا نطوف بالصفا والمروة، وان الله انزل الطواف بالبيت، فلم يذكر الصفا فهل علينا من حرج ان نطوف بالصفا والمروة فانزل الله تعالى {ان الصفا والمروة من شعاير الله} الاية. قال ابو بكر فاسمع هذه الاية نزلت في الفريقين كليهما في الذين كانوا يتحرجون ان يطوفوا بالجاهلية بالصفا والمروة، والذين يطوفون ثم تحرجوا ان يطوفوا بهما في الاسلام من اجل ان الله تعالى امر بالطواف بالبيت، ولم يذكر الصفا حتى ذكر ذلك بعد ما ذكر الطواف بالبيت
ہم نے محمد بن عبید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عمر نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلا طواف کرتے تو اس کے تین چکروں میں رمل کرتے اور بقیہ چار میں معمول کے مطابق چلتے اور جب صفا اور مروہ کی سعی کرتے تو آپ نالے کے نشیب میں دوڑا کرتے تھے۔ عبیداللہ نے کہا میں نے نافع سے پوچھا، ابن عمر رضی اللہ عنہما جب رکن یمانی کے پاس پہنچتے تو کیا حسب معمول چلنے لگتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ البتہ اگر رکن یمانی پر ہجوم ہوتا تو حجر اسود کے پاس آ کر آپ آہستہ چلنے لگتے کیونکہ وہ بغیر چومے اس کو نہیں چھوڑتے تھے۔
حدثنا محمد بن عبيد بن ميمون، حدثنا عيسى بن يونس، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا طاف الطواف الاول خب ثلاثا ومشى اربعا، وكان يسعى بطن المسيل اذا طاف بين الصفا والمروة. فقلت لنافع اكان عبد الله يمشي اذا بلغ الركن اليماني قال لا. الا ان يزاحم على الركن فانه كان لا يدعه حتى يستلمه
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے بیان کہ ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے شخص کے متعلق پوچھا جو عمرہ میں بیت اللہ کا طواف تو کر لے لیکن صفا اور مروہ کی سعی نہیں کرتا، کیا وہ اپنی بیوی سے صحبت کر سکتا ہے۔ انہوں نے جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ ) تشریف لائے تو آپ نے بیت اللہ کا سات چکروں کے ساتھ طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر صفا اور مروہ کی سات مرتبہ سعی کی اور تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، قال سالنا ابن عمر رضى الله عنه عن رجل، طاف بالبيت في عمرة، ولم يطف بين الصفا والمروة اياتي امراته فقال قدم النبي صلى الله عليه وسلم فطاف بالبيت سبعا، وصلى خلف المقام ركعتين، فطاف بين الصفا والمروة سبعا {لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة}. وسالنا جابر بن عبد الله رضى الله عنهما فقال لا يقربنها حتى يطوف بين الصفا والمروة
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے بیان کہ ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے شخص کے متعلق پوچھا جو عمرہ میں بیت اللہ کا طواف تو کر لے لیکن صفا اور مروہ کی سعی نہیں کرتا، کیا وہ اپنی بیوی سے صحبت کر سکتا ہے۔ انہوں نے جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ ) تشریف لائے تو آپ نے بیت اللہ کا سات چکروں کے ساتھ طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر صفا اور مروہ کی سات مرتبہ سعی کی اور تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، قال سالنا ابن عمر رضى الله عنه عن رجل، طاف بالبيت في عمرة، ولم يطف بين الصفا والمروة اياتي امراته فقال قدم النبي صلى الله عليه وسلم فطاف بالبيت سبعا، وصلى خلف المقام ركعتين، فطاف بين الصفا والمروة سبعا {لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة}. وسالنا جابر بن عبد الله رضى الله عنهما فقال لا يقربنها حتى يطوف بين الصفا والمروة
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی، کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے تو آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور دو رکعت نماز پڑھی پھر صفا اور مروہ کی سعی کی۔ اس کے بعد عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی «لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة» ”تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔“
حدثنا المكي بن ابراهيم، عن ابن جريج، قال اخبرني عمرو بن دينار، قال سمعت ابن عمر رضى الله عنهما قال قدم النبي صلى الله عليه وسلم مكة، فطاف بالبيت، ثم صلى ركعتين، ثم سعى بين الصفا والمروة، ثم تلا {لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة}
ہم سے احمد بن محمد مروزی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں عاصم احول نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ صفا اور مروہ کی سعی کو برا سمجھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا، ہاں! کیونکہ یہ عہد جاہلیت کا شعار تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی ”صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ پس جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر ان کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔“
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا عاصم، قال قلت لانس بن مالك رضى الله عنه اكنتم تكرهون السعى بين الصفا والمروة قال نعم. لانها كانت من شعاير الجاهلية، حتى انزل الله {ان الصفا والمروة من شعاير الله فمن حج البيت او اعتمر فلا جناح عليه ان يطوف بهما}
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی اس طرح کی کہ مشرکین کو آپ اپنی قوت دکھلا سکیں۔ حمیدی نے یہ اضافہ کیا ہے کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عطاء سے سنا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث سنی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن عطاء، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال انما سعى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالبيت وبين الصفا والمروة ليري المشركين قوته. زاد الحميدي حدثنا سفيان، حدثنا عمرو، سمعت عطاء، عن ابن عباس، مثله
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن قاسم نے، انہیں ان کے باپ نے اور انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے انہوں نے فرمایا کہ میں مکہ آئی تو اس وقت میں حائضہ تھی۔ اس لیے بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی اور نہ صفا مروہ کی سعی۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ نے فرمایا کہ جس طرح دوسرے حاجی کرتے ہیں تم بھی اسی طرح ( ارکان حج ) ادا کر لو ہاں بیت اللہ کا طواف پاک ہونے سے پہلے نہ کرنا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها انها قالت قدمت مكة وانا حايض، ولم اطف بالبيت، ولا بين الصفا والمروة، قالت فشكوت ذلك الى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " افعلي كما يفعل الحاج غير ان لا تطوفي بالبيت حتى تطهري
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا۔ (دوسری سند) اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا کہ ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حبیب معلم نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے حج کا احرام باندھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ کے سوا اور کسی کے ساتھ قربانی نہیں تھی، علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے اور ان کے ساتھ بھی قربانی تھی۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ( سب لوگ اپنے حج کے احرام کو ) عمرہ کا کر لیں۔ پھر طواف اور سعی کے بعد بال ترشوا لیں اور احرام کھول ڈالیں لیکن وہ لوگ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جن کے ساتھ قربانی ہو۔ اس پر صحابہ نے کہا کہ ہم منیٰ میں اس طرح جائیں گے کہ ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہو۔ یہ بات جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا، اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور جب قربانی کا جانور ساتھ نہ ہوتا تو میں بھی ( عمرہ اور حج کے درمیان ) احرام کھول ڈالتا اور عائشہ رضی اللہ عنہا ( اس حج میں ) حائضہ ہو گئی تھیں۔ اس لیے انہوں نے بیت اللہ کہ طواف کے سوا اور دوسرے ارکان حج ادا کئے۔ پھر پاک ہو لیں تو طواف بھی کیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ آپ سب لوگ تو حج اور عمرہ دونوں کر کے جا رہے ہیں لیکن میں نے صرف حج ہی کیا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو حکم دیا کہ انہیں تنعیم لیے جائیں ( اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھیں ) اس طرح عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کے بعد عمرہ کیا۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب،. قال وقال لي خليفة حدثنا عبد الوهاب، حدثنا حبيب المعلم، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال اهل النبي صلى الله عليه وسلم هو واصحابه بالحج، وليس مع احد منهم هدى، غير النبي صلى الله عليه وسلم وطلحة، وقدم علي من اليمن، ومعه هدى فقال اهللت بما اهل به النبي صلى الله عليه وسلم. فامر النبي صلى الله عليه وسلم اصحابه ان يجعلوها عمرة، ويطوفوا، ثم يقصروا ويحلوا، الا من كان معه الهدى، فقالوا ننطلق الى منى، وذكر احدنا يقطر، فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم فقال " لو استقبلت من امري ما استدبرت ما اهديت، ولولا ان معي الهدى لاحللت ". وحاضت عايشة رضى الله عنها فنسكت المناسك كلها، غير انها لم تطف بالبيت، فلما طهرت طافت بالبيت. قالت يا رسول الله تنطلقون بحجة وعمرة، وانطلق بحج فامر عبد الرحمن بن ابي بكر ان يخرج معها الى التنعيم، فاعتمرت بعد الحج
ہم سے مومل بن ہشام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے اور ان سے حفصہ بنت سیرین نے بیان کیا کہ ہم اپنی کنواری لڑکیوں کو باہر نکلنے سے روکتے تھے۔ پھر ایک خاتون آئیں اور بنی خلف کے محل میں ( جو بصرے میں تھا ) ٹھہریں۔ انہوں نے بیان کیا کہ ان کی بہن ( ام عطیہ رضی اللہ عنہا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے گھر میں تھیں۔ ان کے شوہر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ جہاد کئے تھے اور میری بہن چھ جہادوں میں ان کے ساتھ رہی تھیں۔ وہ بیان کرتی تھیں کہ ہم ( میدان جنگ میں ) زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور مریضوں کی تیمارداری کرتی تھی۔ میری بہن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر ہمارے پاس چادر نہ ہو تو کیا کوئی حرج ہے اگر ہم عیدگاہ جانے کے لیے باہر نہ نکلیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس کی سہیلی کو اپنی چادر اسے اڑھا دینی چاہئے اور پھر مسلمانوں کی دعا اور نیک کاموں میں شرکت کرنا چاہئے۔ پھر جب امام عطیہ رضی اللہ عنہا خود بصرہ آئیں تو میں نے ان سے بھی یہی پوچھا یا یہ کہا کہ ہم نے ان سے پوچھا انہوں نے بیان کیا ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو کہتیں میرے باپ آپ پر فدا ہوں۔ ہاں تو میں نے ان سے پوچھا، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں میرے باپ آپ پر فدا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری لڑکیاں اور پردہ والیاں بھی باہر نکلیں یا یہ فرمایا کہ پردہ والی دوشیزائیں اور حائضہ عورتیں سب باہر نکلیں اور مسلمانوں کی دعا اور خیر کے کاموں میں شرکت کریں۔ لیکن حائضہ عورتیں نماز کی جگہ سے الگ رہیں۔ میں نے کہا اور حائضہ بھی نکلیں؟ انہوں نے فرمایا کہ کیا حائضہ عورت عرفات اور فلاں فلاں جگہ نہیں جاتی ہیں؟ ( پھر عیدگاہ ہی جانے میں کیا حرج ہے ) ۔
حدثنا مومل بن هشام، حدثنا اسماعيل، عن ايوب، عن حفصة، قالت كنا نمنع عواتقنا ان يخرجن، فقدمت امراة فنزلت قصر بني خلف، فحدثت ان اختها كانت تحت رجل من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قد غزا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثنتى عشرة غزوة، وكانت اختي معه في ست غزوات، قالت كنا نداوي الكلمى ونقوم على المرضى. فسالت اختي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت هل على احدانا باس ان لم يكن لها جلباب ان لا تخرج قال " لتلبسها صاحبتها من جلبابها، ولتشهد الخير، ودعوة المومنين ". فلما قدمت ام عطية رضى الله عنها سالنها او قالت سالناها فقالت وكانت لا تذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الا قالت بابي. فقلنا اسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول كذا وكذا قالت نعم بابي. فقال " لتخرج العواتق ذوات الخدور او العواتق وذوات الخدور والحيض، فيشهدن الخير، ودعوة المسلمين، ويعتزل الحيض المصلى ". فقلت الحايض. فقالت او ليس تشهد عرفة، وتشهد كذا وتشهد كذا