Loading...

Loading...
کتب
۲۶۰ احادیث
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف ایک اونٹنی پر سوار رہ کر کیا۔ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے سامنے پہنچتے تو کسی چیز سے اس کی طرف اشارہ کرتے اور تکبیر کہتے۔ خالد طحان کے ساتھ اس حدیث کو ابراہیم بن طہمان نے بھی خالد حذاء سے روایت کیا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا خالد بن عبد الله، حدثنا خالد الحذاء، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال طاف النبي صلى الله عليه وسلم بالبيت على بعير، كلما اتى الركن اشار اليه بشىء كان عنده وكبر. تابعه ابراهيم بن طهمان عن خالد الحذاء
حدثنا اصبغ، عن ابن وهب، اخبرني عمرو، عن محمد بن عبد الرحمن،، ذكرت لعروة، قال فاخبرتني عايشة رضى الله عنها ان اول، شىء بدا به حين قدم النبي صلى الله عليه وسلم انه توضا، ثم طاف، ثم لم تكن عمرة، ثم حج ابو بكر وعمر رضى الله عنهما مثله، ثم حججت مع ابي الزبير رضى الله عنه فاول شىء بدا به الطواف، ثم رايت المهاجرين والانصار يفعلونه، وقد اخبرتني امي انها اهلت هي واختها والزبير وفلان وفلان بعمرة، فلما مسحوا الركن حلوا
حدثنا اصبغ، عن ابن وهب، اخبرني عمرو، عن محمد بن عبد الرحمن،، ذكرت لعروة، قال فاخبرتني عايشة رضى الله عنها ان اول، شىء بدا به حين قدم النبي صلى الله عليه وسلم انه توضا، ثم طاف، ثم لم تكن عمرة، ثم حج ابو بكر وعمر رضى الله عنهما مثله، ثم حججت مع ابي الزبير رضى الله عنه فاول شىء بدا به الطواف، ثم رايت المهاجرين والانصار يفعلونه، وقد اخبرتني امي انها اهلت هي واختها والزبير وفلان وفلان بعمرة، فلما مسحوا الركن حلوا
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوضمرہ انس بن عیاض نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، انہوں نے نافع سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مکہ ) آنے کے بعد سب سے پہلے حج اور عمرہ کا طواف کیا تھا۔ اس کے تین چکروں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی ( رمل ) کی اور باقی چار میں حسب معمول چلے۔ پھر طواف کی دو رکعت نماز پڑھی اور صفا مروہ کی سعی کی۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا ابو ضمرة، انس حدثنا موسى بن عقبة، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا طاف في الحج او العمرة اول ما يقدم سعى ثلاثة اطواف، ومشى اربعة، ثم سجد سجدتين، ثم يطوف بين الصفا والمروة
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کا پہلا طواف ( یعنی طواف قدوم ) کرتے تو اس کے تین چکروں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوڑ کر چلتے اور چار میں معمول کے موافق چلتے پھر جب صفا اور مروہ کی سعی کرتے تو ”بطن مسیل“ ( وادی ) میں دوڑ کر چلتے۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا انس بن عياض، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا طاف بالبيت الطواف الاول يخب ثلاثة اطواف، ويمشي اربعة، وانه كان يسعى بطن المسيل اذا طاف بين الصفا والمروة
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا اور انہیں عطاء نے خبر دی کہ جب ابن ہشام ( جب وہ ہشام بن عبدالملک کی طرف سے مکہ کا حاکم تھا ) نے عورتوں کو مردوں کے ساتھ طواف کرنے سے منع کر دیا تو اس سے انہوں نے کہا کہ تم کس دلیل پر عورتوں کو اس سے منع کر رہے ہو؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بیویوں نے مردوں کے ساتھ طواف کیا تھا۔ ابن جریج نے پوچھا یہ پردہ ( کی آیت نازل ہونے ) کے بعد کا واقعہ ہے یا اس سے پہلے کا؟ انہوں نے کہا میری عمر کی قسم! میں نے انہیں پردہ ( کی آیت نازل ہونے ) کے بعد دیکھا۔ اس پر ابن جریج نے پوچھا کہ پھر مرد عورت مل جل جاتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ اختلاط نہیں ہوتا تھا، عائشہ رضی اللہ عنہا مردوں سے الگ رہ کر ایک الگ کونے میں طواف کرتی تھیں، ان کے ساتھ مل کر نہیں کرتی تھیں۔ ایک عورت ( وقرہ نامی ) نے ان سے کہا ام المؤمنین! چلئے ( حجر اسود کو ) بوسہ دیں۔ تو آپ نے انکار کر دیا اور کہا تو جا چوم، میں نہیں چومتی اور ازواج مطہرات رات میں پردہ کر کے نکلتی تھیں کہ پہچانی نہ جاتیں اور مردوں کے ساتھ طواف کرتی تھیں۔ البتہ عورتیں جب کعبہ کے اندر جانا چاہتیں تو اندر جانے سے پہلے باہر کھڑی ہو جاتیں اور مرد باہر آ جاتے ( تو وہ اندر جاتیں ) میں اور عبید بن عمیر عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جب آپ ثبیر ( پہاڑ ) پر ٹھہری ہوئی تھیں، ( جو مزدلفہ میں ہے ) ابن جریج نے کہا کہ میں نے عطاء سے پوچھا کہ اس وقت پردہ کس چیز سے تھا؟ عطاء نے بتایا کہ ایک ترکی قبہ میں ٹھہری ہوئی تھیں۔ اس پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ ہمارے اور ان کے درمیان اس کے سوا اور کوئی چیز حائل نہ تھی۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ ان کے بدن پر ایک گلابی رنگ کا کرتہ تھا۔
وقال لي عمرو بن علي حدثنا ابو عاصم، قال ابن جريج اخبرنا قال اخبرني عطاء، اذ منع ابن هشام النساء الطواف مع الرجال قال كيف يمنعهن، وقد طاف نساء النبي صلى الله عليه وسلم مع الرجال قلت ابعد الحجاب او قبل قال اي لعمري لقد ادركته بعد الحجاب. قلت كيف يخالطن الرجال قال لم يكن يخالطن كانت عايشة رضى الله عنها تطوف حجرة من الرجال لا تخالطهم، فقالت امراة انطلقي نستلم يا ام المومنين. قالت {انطلقي} عنك. وابت. {وكن} يخرجن متنكرات بالليل، فيطفن مع الرجال، ولكنهن كن اذا دخلن البيت قمن حتى يدخلن واخرج الرجال، وكنت اتي عايشة انا وعبيد بن عمير وهي مجاورة في جوف ثبير. قلت وما حجابها قال هي في قبة تركية لها غشاء، وما بيننا وبينها غير ذلك، ورايت عليها درعا موردا
ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بیمار ہونے کی شکایت کی ( کہ میں پیدل طواف نہیں کر سکتی ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سواری پر چڑھ کر اور لوگوں سے علیحدہ رہ کر طواف کر لے۔ چنانچہ میں نے عام لوگوں سے الگ رہ کر طواف کیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم «والطور * وكتاب مسطور» قرآت کر رہے تھے۔
حدثنا اسماعيل، حدثنا مالك، عن محمد بن عبد الرحمن بن نوفل، عن عروة بن الزبير، عن زينب بنت ابي سلمة، عن ام سلمة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت شكوت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم اني اشتكي. فقال " طوفي من وراء الناس، وانت راكبة ". فطفت ورسول الله صلى الله عليه وسلم حينيذ يصلي الى جنب البيت، وهو يقرا {والطور * وكتاب مسطور}
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا کہ ابن جریج نے انہیں خبر دی، کہا کہ مجھے سلیمان احول نے خبر دی، انہیں طاؤس نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جس نے اپنا ہاتھ ایک دوسرے شخص کے ہاتھ سے تسمہ یا رسی یا کسی اور چیز سے باندھ رکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے کاٹ دیا اور پھر فرمایا کہ ”اگر ساتھ ہی چلنا ہے تو ہاتھ پکڑ کے چلو۔“
حدثنا ابراهيم بن موسى، حدثنا هشام، ان ابن جريج، اخبرهم قال اخبرني سليمان الاحول، ان طاوسا، اخبره عن ابن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم مر وهو يطوف بالكعبة بانسان ربط يده الى انسان بسير، او بخيط، او بشىء غير ذلك، فقطعه النبي صلى الله عليه وسلم بيده، ثم قال " قده بيده
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے سلیمان احول نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص کعبہ کا طواف رسی یا کسی اور چیز کے ذریعہ کر رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کاٹ دیا۔
حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن سليمان الاحول، عن طاوس، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم راى رجلا يطوف بالكعبة بزمام او غيره فقطعه
ہم سے يحيىٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھ سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس حج کے موقع پر جس کا امیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنایا تھا۔ انہیں دسویں تاریخ کو ایک مجمع کے سامنے یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج بیت اللہ نہیں کر سکتا اور نہ کوئی شخص ننگا رہ کر طواف کر سکتا ہے۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، قال يونس قال ابن شهاب حدثني حميد بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، اخبره ان ابا بكر الصديق رضى الله عنه بعثه في الحجة التي امره عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل حجة الوداع يوم النحر في رهط يوذن في الناس " الا لا يحج بعد العام مشرك، ولا يطوف بالبيت عريان
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن عمرو، سالنا ابن عمر رضى الله عنهما ايقع الرجل على امراته في العمرة قبل ان يطوف بين الصفا والمروة قال قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فطاف بالبيت سبعا، ثم صلى خلف المقام ركعتين، وطاف بين الصفا والمروة، وقال {لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة}. قال وسالت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما فقال لا يقرب امراته حتى يطوف بين الصفا والمروة
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن عمرو، سالنا ابن عمر رضى الله عنهما ايقع الرجل على امراته في العمرة قبل ان يطوف بين الصفا والمروة قال قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فطاف بالبيت سبعا، ثم صلى خلف المقام ركعتين، وطاف بين الصفا والمروة، وقال {لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة}. قال وسالت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما فقال لا يقرب امراته حتى يطوف بين الصفا والمروة
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے فضیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے کریب نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے اور سات ( چکروں کے ساتھ ) طواف کیا۔ پھر صفا مروہ کی سعی کی۔ اس سعی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ اس وقت تک نہیں گئے جب تک عرفات سے واپس نہ لوٹے۔
حدثنا محمد بن ابي بكر، حدثنا فضيل، حدثنا موسى بن عقبة، اخبرني كريب، عن عبد الله بن عباس رضى الله عنهما قال قدم النبي صلى الله عليه وسلم مكة، فطاف وسعى بين الصفا والمروة، ولم يقرب الكعبة بعد طوافه بها حتى رجع من عرفة
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں محمد بن عبدالرحمٰن نے، انہیں عروہ نے، انہیں زینب نے اور انہیں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے محمد بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابومروان یحییٰ ابن ابی زکریا غسانی نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے عروہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے اور وہاں سے چلنے کا ارادہ ہوا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کعبہ کا طواف نہیں کیا اور وہ بھی روانگی کا ارادہ رکھتی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب صبح کی نماز کھڑی ہو اور لوگ نماز پڑھنے میں مشغول ہو جائیں تو تم اپنی اونٹنی پر طواف کر لینا۔ چنانچہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا اور انہوں نے باہر نکلنے تک طواف کی نماز نہیں پڑھی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن محمد بن عبد الرحمن، عن عروة، عن زينب، عن ام سلمة رضى الله عنها شكوت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم. وحدثني محمد بن حرب حدثنا ابو مروان يحيى بن ابي زكرياء الغساني عن هشام عن عروة عن ام سلمة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال وهو بمكة، واراد الخروج، ولم تكن ام سلمة طافت بالبيت وارادت الخروج، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اقيمت صلاة الصبح فطوفي على بعيرك، والناس يصلون ". ففعلت ذلك، فلم تصل حتى خرجت
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا انہوں کہا کہ عم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ میں ) تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کا سات چکروں سے طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی پھر صفا کی طرف ( سعی کرنے ) گئے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا عمرو بن دينار، قال سمعت ابن عمر رضى الله عنهما يقول قدم النبي صلى الله عليه وسلم فطاف بالبيت سبعا وصلى خلف المقام ركعتين، ثم خرج الى الصفا، وقد قال الله تعالى {لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة}
ہم سے حسن بن عمر بصریٰ رحمہ اللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے حبیب نے، ان سے عطاء نے، ان سے عروہ نے، ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ کچھ لوگوں نے صبح کی نماز کے بعد کعبہ کا طواف کیا۔ پھر ایک وعظ کرنے والے کے پاس بیٹھ گئے اور جب سورج نکلنے لگا تو وہ لوگ نماز ( طواف کی دو رکعت ) پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے ( ناگواری کے ساتھ ) فرمایا جب سے تو یہ لوگ بیٹھے تھے اور جب وہ وقت آیا کہ جس میں نماز مکروہ ہے تو نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔
حدثنا الحسن بن عمر البصري، حدثنا يزيد بن زريع، عن حبيب، عن عطاء، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها ان ناسا، طافوا بالبيت بعد صلاة الصبح، ثم قعدوا الى المذكر، حتى اذا طلعت الشمس قاموا يصلون فقالت عايشة رضى الله عنها قعدوا حتى اذا كانت الساعة التي تكره فيها الصلاة قاموا يصلون
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورج طلوع ہوتے اور غروب ہوتے وقت نماز پڑھنے سے روکتے تھے۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا ابو ضمرة، حدثنا موسى بن عقبة، عن نافع، ان عبد الله رضى الله عنه قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم ينهى عن الصلاة عند طلوع الشمس وعند غروبها
حدثني الحسن بن محمد هو الزعفراني حدثنا عبيدة بن حميد، حدثني عبد العزيز بن رفيع، قال رايت عبد الله بن الزبير رضى الله عنهما يطوف بعد الفجر، ويصلي ركعتين. قال عبد العزيز ورايت عبد الله بن الزبير يصلي ركعتين بعد العصر، ويخبر ان عايشة رضى الله عنها حدثته ان النبي صلى الله عليه وسلم لم يدخل بيتها الا صلاهما
حدثني الحسن بن محمد هو الزعفراني حدثنا عبيدة بن حميد، حدثني عبد العزيز بن رفيع، قال رايت عبد الله بن الزبير رضى الله عنهما يطوف بعد الفجر، ويصلي ركعتين. قال عبد العزيز ورايت عبد الله بن الزبير يصلي ركعتين بعد العصر، ويخبر ان عايشة رضى الله عنها حدثته ان النبي صلى الله عليه وسلم لم يدخل بيتها الا صلاهما
ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد طحان نے خالد حذاء سے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اونٹ پر سوار ہو کر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ( طواف کرتے ہوئے ) حجر اسود کے نزدیک آتے تو اپنے ہاتھ کو ایک چیز ( چھڑی ) سے اشارہ کرتے اور تکبیر کہتے۔
حدثني اسحاق الواسطي، حدثنا خالد، عن خالد الحذاء، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم طاف بالبيت، وهو على بعير، كلما اتى على الركن اشار اليه بشىء في يده وكبر