Loading...

Loading...
کتب
۲۶۰ احادیث
ہم سے احمد بن حفص نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے حجاج بن حجاج اسلمی نے، ان سے قتادہ نے، ان سے عبداللہ بن ابی عتبہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیت اللہ کا حج اور عمرہ یاجوج اور ماجوج کے نکلنے کے بعد بھی ہوتا رہے گا۔ عبداللہ بن ابی عتبہ کے ساتھ اس حدیث کو ابان اور عمران نے قتادہ سے روایت کیا اور عبدالرحمٰن نے شعبہ کے واسطہ سے یوں بیان کیا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک بیت اللہ کا حج بند نہ ہو جائے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ پہلی روایت زیادہ راویوں نے کی ہے اور قتادہ نے عبداللہ بن عتبہ سے سنا اور عبداللہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا۔
حدثنا احمد، حدثنا ابي، حدثنا ابراهيم، عن الحجاج بن حجاج، عن قتادة، عن عبد الله بن ابي عتبة، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليحجن البيت وليعتمرن بعد خروج ياجوج وماجوج ". تابعه ابان وعمران عن قتادة. وقال عبد الرحمن عن شعبة قال " لا تقوم الساعة حتى لا يحج البيت ". والاول اكثر، سمع قتادة عبد الله وعبد الله ابا سعيد
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے واصل احدب نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ میں شیبہ کی خدمت میں حاضر ہوا (دوسری سند) اور ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے واصل سے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ میں شیبہ کے ساتھ کعبہ میں کرسی پر بیٹھا ہوا تھا تو شیبہ نے فرمایا کہ اسی جگہ بیٹھ کر عمر رضی اللہ عنہ نے ( ایک مرتبہ ) فرمایا کہ میرا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ کعبہ کے اندر جتنا سونا چاندی ہے اسے نہ چھوڑوں ( جسے زمانہ جاہلیت میں کفار نے جمع کیا تھا ) بلکہ سب کو نکال کر ( مسلمانوں میں ) تقسیم کر دوں۔ میں نے عرض کی کہ آپ کے ساتھیوں ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے تو ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں بھی انہیں کی پیروی کر رہا ہوں ( اسی لیے میں اس کے ہاتھ نہیں لگاتا ) ۔
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا سفيان، حدثنا واصل الاحدب، عن ابي وايل، قال جيت الى شيبة. وحدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن واصل، عن ابي وايل، قال جلست مع شيبة على الكرسي في الكعبة فقال لقد جلس هذا المجلس عمر رضى الله عنه فقال لقد هممت ان لا ادع فيها صفراء ولا بيضاء الا قسمته. قلت ان صاحبيك لم يفعلا. قال هما المران اقتدي بهما
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ بن اخنس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گویا میری نظروں کے سامنے وہ پتلی ٹانگوں والا سیاہ آدمی ہے جو خانہ کعبہ کے ایک ایک پتھر کو اکھاڑ پھینکے گا۔“
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا عبيد الله بن الاخنس، حدثني ابن ابي مليكة، عن ابن عباس رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كاني به اسود افحج، يقلعها حجرا حجرا
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کعبہ کو دو پتلی پنڈلیوں والا حبشی خراب کرے گا۔“
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يخرب الكعبة ذو السويقتين من الحبشة
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں عابس بن ربیعہ نے کہ عمر رضی اللہ عنہ حجر اسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دیا اور فرمایا ”میں خوب جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے، نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے میں نہ دیکھتا تو میں بھی کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔“
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن عابس بن ربيعة، عن عمر رضى الله عنه انه جاء الى الحجر الاسود فقبله، فقال اني اعلم انك حجر لا تضر ولا تنفع، ولولا اني رايت النبي صلى الله عليه وسلم يقبلك ما قبلتك
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسامہ بن زید اور بلال و عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہم چاروں خانہ کعبہ کے اندر گئے اور اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ پھر جب دروازہ کھولا تو میں پہلا شخص تھا جو اندر گیا۔ میری ملاقات بلال رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اندر ) نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ ”ہاں! دونوں یمنی ستونوں کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے۔“
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، انه قال دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم البيت هو واسامة بن زيد، وبلال، وعثمان بن طلحة، فاغلقوا عليهم فلما فتحوا، كنت اول من ولج، فلقيت بلالا فسالته هل صلى فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم، بين العمودين اليمانيين
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، انہیں نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کعبہ کے اندر داخل ہوتے تو سامنے کی طرف چلتے اور دروازہ پیٹھ کی طرف چھوڑ دیتے۔ آپ اسی طرح چلتے رہتے اور جب سامنے کی دیوار تقریباً تین ہاتھ رہ جاتی تو نماز پڑھتے تھے۔ اس طرح آپ اس جگہ نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے تھے جس کے متعلق بلال رضی اللہ عنہ سے معلوم ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز پڑھی تھی۔ لیکن اس میں کوئی حرج نہیں کعبہ میں جس جگہ بھی کوئی چاہے نماز پڑھ لے۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما انه كان اذا دخل الكعبة مشى قبل الوجه حين يدخل، ويجعل الباب قبل الظهر، يمشي حتى يكون بينه وبين الجدار الذي قبل وجهه قريبا من ثلاث اذرع، فيصلي يتوخى المكان الذي اخبره بلال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى فيه، وليس على احد باس ان يصلي في اى نواحي البيت شاء
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی، انہیں عبداللہ ابن ابی اوفی نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کا طواف کر کے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ لوگ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور لوگوں کے درمیان آڑ بنے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک صاحب نے ابن ابی اوفی سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے تو انہوں نے بتایا کہ ”نہیں۔“
حدثنا مسدد، حدثنا خالد بن عبد الله، حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، عن عبد الله بن ابي اوفى، قال اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم فطاف بالبيت وصلى خلف المقام ركعتين، ومعه من يستره من الناس فقال له رجل ادخل رسول الله صلى الله عليه وسلم الكعبة قال لا
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ( فتح مکہ کے دن ) تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر جانے سے اس لیے انکار فرمایا کہ اس میں بت رکھے ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ نکالے گئے، لوگوں نے ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے بت بھی نکالے۔ ان کے ہاتھوں میں فال نکالنے کے تیر دے رکھے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان مشرکوں کو غارت کرے، اللہ کی قسم انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ ان بزرگوں نے تیر سے فال کبھی نہیں نکالی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور چاروں طرف تکبیر کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر نماز نہیں پڑھی۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا ايوب، حدثنا عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما قدم ابى ان يدخل البيت وفيه الالهة فامر بها فاخرجت فاخرجوا صورة ابراهيم واسماعيل في ايديهما الازلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قاتلهم الله اما والله قد علموا انهما لم يستقسما بها قط ". فدخل البيت، فكبر في نواحيه، ولم يصل فيه
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( عمرۃ القضاء 7 ھ میں ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ ) تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آئے ہیں، ان کے ساتھ ایسے لوگ آئے ہیں جنہیں یثرب ( مدینہ منورہ ) کے بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل ( تیز چلنا جس سے اظہار قوت ہو ) کریں اور دونوں یمانی رکنوں کے درمیان حسب معمول چلیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم نہیں دیا کہ سب پھیروں میں رمل کریں اس لیے کہ ان پر آسانی ہو۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد هو ابن زيد عن ايوب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه فقال المشركون انه يقدم عليكم، وقد وهنهم حمى يثرب. فامرهم النبي صلى الله عليه وسلم ان يرملوا الاشواط الثلاثة، وان يمشوا ما بين الركنين، ولم يمنعه ان يامرهم ان يرملوا الاشواط كلها الا الابقاء عليهم
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لاتے تو پہلے طواف شروع کرتے وقت حجر اسود کو بوسہ دیتے اور سات چکروں میں سے پہلے تین چکروں میں رمل کرتے تھے۔
حدثنا اصبغ بن الفرج، اخبرني ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه رضى الله عنه قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم حين يقدم مكة، اذا استلم الركن الاسود اول ما يطوف يخب ثلاثة اطواف من السبع
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سریج بن نعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تین چکروں میں رمل کیا اور بقیہ چار چکروں میں حسب معمول چلے، حج اور عمرہ دونوں میں۔ سریج کے ساتھ اس حدیث کو لیث نے روایت کیا ہے۔ کہا کہ مجھ سے کثیر بن فرقد نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے۔
حدثني محمد، حدثنا سريج بن النعمان، حدثنا فليح، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال سعى النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثة اشواط ومشى اربعة في الحج والعمرة. تابعه الليث قال حدثني كثير بن فرقد، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا کہ مجھے زید بن اسلم نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو خطاب کر کے فرمایا ”بخدا مجھے خوب معلوم ہے کہ تو صرف ایک پتھر ہے جو نہ کوئی نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی بوسہ نہ دیتا۔“ اس کے بعد آپ نے بوسہ دیا۔ پھر فرمایا ”اور اب ہمیں رمل کی بھی کیا ضرورت ہے۔ ہم نے اس کے ذریعہ مشرکوں کو اپنی قوت دکھائی تھی تو اللہ نے ان کو تباہ کر دیا۔“ پھر فرمایا ”جو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اسے اب چھوڑنا بھی ہم پسند نہیں کرتے۔“
حدثنا سعيد بن ابي مريم، اخبرنا محمد بن جعفر، قال اخبرني زيد بن اسلم، عن ابيه، ان عمر بن الخطاب رضى الله عنه قال للركن اما والله اني لاعلم انك حجر لا تضر ولا تنفع، ولولا اني رايت النبي صلى الله عليه وسلم استلمك ما استلمتك. فاستلمه، ثم قال فما لنا وللرمل انما كنا راءينا به المشركين، وقد اهلكهم الله. ثم قال شىء صنعه النبي صلى الله عليه وسلم فلا نحب ان نتركه
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا۔ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں رکن یمانی کو چومتے ہوئے دیکھا میں نے بھی اس کے چومنے کو خواہ سخت حالات ہوں یا نرم نہیں چھوڑا۔ میں نے نافع سے پوچھا کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما ان دونوں یمنی رکنوں کے درمیان معمول کے مطابق چلتے تھے؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپ معمول کے مطابق اس لیے چلتے تھے تاکہ حجر اسود کو چھونے میں آسانی رہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال ما تركت استلام هذين الركنين في شدة ولا رخاء، منذ رايت النبي صلى الله عليه وسلم يستلمهما. قلت لنافع اكان ابن عمر يمشي بين الركنين قال انما كان يمشي ليكون ايسر لاستلامه
ہم سے احمد بن صالح اور یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر اپنی اونٹنی پر طواف کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کا استلام ایک چھڑی کے ذریعہ کر رہے تھے اور اس چھڑی کو چومتے تھے۔ اور یونس کے ساتھ اس حدیث کو دراوردی نے زہری کے بھتیجے سے روایت کیا اور انہوں نے اپنے چچا ( زہری ) سے۔
حدثنا احمد بن صالح، ويحيى بن سليمان، قالا حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال طاف النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع على بعير، يستلم الركن بمحجن. تابعه الدراوردي عن ابن اخي الزهري عن عمه
اور محمد بن بکر نے کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھ کو عمرو بن دینار نے خبر دی کہ ابوالشعثاء نے کہا بیت اللہ کے کسی بھی حصہ سے بھلا کون پرہیز کر سکتا ہے۔ اور معاویہ رضی اللہ عنہ چاروں رکنوں کا استلام کرتے تھے، اس پر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا کہ ہم ان دو ارکان شامی اور عراقی کا استلام نہیں کرتے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بیت اللہ کا کوئی جزء ایسا نہیں جسے چھوڑ دیا جائے اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی تمام ارکان کا استلام کرتے تھے۔
وقال محمد بن بكر اخبرنا ابن جريج، اخبرني عمرو بن دينار، عن ابي الشعثاء، انه قال ومن يتقي شييا من البيت، وكان معاوية يستلم الاركان، فقال له ابن عباس رضى الله عنهما انه لا يستلم هذان الركنان. فقال ليس شىء من البيت مهجورا، وكان ابن الزبير رضى الله عنهما يستلمهن كلهن
ہم سے ابوالولید طیالسی نے بیان کیا، ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے، ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف دونوں یمانی ارکان کا استلام کرتے دیکھا۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا ليث، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه رضى الله عنهما قال لم ار النبي صلى الله عليه وسلم يستلم من البيت الا الركنين اليمانيين
ہم سے احمد بن سنان نے بیان کیا، ان سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہیں ورقاء نے خبر دی، انہیں زید بن اسلم نے خبر دی، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور پھر فرمایا کہ ”اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھتا تو میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔“
حدثنا احمد بن سنان، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا ورقاء، اخبرنا زيد بن اسلم، عن ابيه، قال رايت عمر بن الخطاب رضى الله عنه قبل الحجر وقال لولا اني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم قبلك ما قبلتك
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے زبیر بن عربی نے بیان کیا کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حجر اسود کے بوسہ دینے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کو بوسہ دیتے دیکھا ہے۔“ اس پر اس شخص نے کہا اگر ہجوم ہو جائے اور میں عاجز ہو جاؤں تو کیا کروں؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ”اس اگر وگر کو یمن میں جا کر رکھو میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس کو بوسہ دیتے تھے۔“
حدثنا مسدد، حدثنا حماد، عن الزبير بن عربي، قال سال رجل ابن عمر رضى الله عنهما عن استلام الحجر،. فقال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يستلمه ويقبله. قال قلت ارايت ان زحمت ارايت ان غلبت قال اجعل ارايت باليمن، رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يستلمه ويقبله
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے عکرمہ سے بیان کیا، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹنی پر ( سوار ہو کر کعبہ کا ) طواف کر رہے تھے اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے سامنے پہنچتے تو کسی چیز سے اس کی طرف اشارہ کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال طاف النبي صلى الله عليه وسلم بالبيت على بعير، كلما اتى على الركن اشار اليه