Loading...

Loading...
کتب
۲۶۰ احادیث
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے بیان کیا کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سے کہا (جب وہ حج کے لیے نکل رہے تھے) کہ آپ نہ جائیے کیوں کہ میرا خیال ہے کہ ( بدامنی کی وجہ سے ) آپ کو بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا جائے گا۔ انہوں نے فرمایا کہ پھر میں بھی وہی کام کروں گا جو ( ایسے موقعہ پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے“ میں اب تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کر لیا ہے، چنانچہ آپ نے عمرہ کا احرام باندھا، انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ نکلے اور جب بیداء پہنچے تو حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ لیا اور فرمایا کہ حج اور عمرہ دونوں تو ایک ہی ہیں اس کے بعد قدید پہنچ کر ہدی خریدی پھر مکہ آ کر دونوں کے لیے طواف کیا اور درمیان میں نہیں بلکہ دونوں سے ایک ہی ساتھ حلال ہوئے۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد، عن ايوب، عن نافع، قال قال عبد الله بن عبد الله بن عمر رضى الله عنهم لابيه اقم، فاني لا امنها ان ستصد عن البيت. قال اذا افعل كما فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد قال الله {لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة} فانا اشهدكم اني قد اوجبت على نفسي العمرة. فاهل بالعمرة، قال ثم خرج حتى اذا كان بالبيداء اهل بالحج والعمرة، وقال ما شان الحج والعمرة الا واحد. ثم اشترى الهدى من قديد، ثم قدم فطاف لهما طوافا واحدا، فلم يحل حتى حل منهما جميعا
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عروة بن الزبير، عن المسور بن مخرمة، ومروان، قالا خرج النبي صلى الله عليه وسلم من المدينة زمن الحديبية في بضع عشرة ماية من اصحابه، حتى اذا كانوا بذي الحليفة قلد النبي صلى الله عليه وسلم الهدى واشعر واحرم بالعمرة
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عروة بن الزبير، عن المسور بن مخرمة، ومروان، قالا خرج النبي صلى الله عليه وسلم من المدينة زمن الحديبية في بضع عشرة ماية من اصحابه، حتى اذا كانوا بذي الحليفة قلد النبي صلى الله عليه وسلم الهدى واشعر واحرم بالعمرة
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے افلح نے بیان کیا، ان سے قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے ہار میں نے اپنے ہاتھ سے خود بٹے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہار پہنایا، اشعار کیا، ان کو مکہ کی طرف روانہ کیا پھر بھی آپ کے لیے جو چیزیں حلال تھیں وہ ( احرام سے پہلے صرف ہدی سے ) حرام نہیں ہوئیں۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا افلح، عن القاسم، عن عايشة رضى الله عنها قالت فتلت قلايد بدن النبي صلى الله عليه وسلم بيدى، ثم قلدها واشعرها واهداها، فما حرم عليه شىء كان احل له
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے کہ مجھے نافع نے خبر دی انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہا میں نے کہا: یا رسول اللہ! اور لوگ تو حلال ہو گئے لیکن آپ حلال نہیں ہوئے، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بالوں کو جما لیا ہے اور اپنی ہدی کو قلادہ پہنا دیا ہے، اس لیے جب تک حج سے بھی حلال نہ ہو جاؤں میں ( درمیان میں ) حلال نہیں ہو سکتا، ( گوند لگا کر سر کے بالوں کا جما لینا اس کو تلبید کہتے ہیں ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال اخبرني نافع، عن ابن عمر، عن حفصة، رضى الله عنهم قالت قلت يا رسول الله ما شان الناس حلوا ولم تحلل انت قال " اني لبدت راسي، وقلدت هديي، فلا احل حتى احل من الحج
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی ساتھ لے کر چلتے تھے اور میں ان کے قلادے بٹا کرتی تھی پھر بھی آپ ( احرام باندھنے سے پہلے ) ان چیزوں سے پرہیز نہیں کرتے تھے جن سے ایک محرم پرہیز کرتا ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، حدثنا ابن شهاب، عن عروة، وعن عمرة بنت عبد الرحمن، ان عايشة رضى الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يهدي من المدينة، فافتل قلايد هديه، ثم لا يجتنب شييا مما يجتنبه المحرم
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے افلح بن حمید نے بیان کیا، ان سے قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے قلادے خود بٹے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشعار کیا اور ہار پہنایا، یا میں نے ہار پہنایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے لیے انہیں بھیج دیا اور خود مدینہ میں ٹھہر گئے لیکن کوئی بھی ایسی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حرام نہیں ہوئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال تھی۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا افلح بن حميد، عن القاسم، عن عايشة رضى الله عنها قالت فتلت قلايد هدى النبي صلى الله عليه وسلم ثم اشعرها وقلدها او قلدتها ثم بعث بها الى البيت، واقام بالمدينة، فما حرم عليه شىء كان له حل
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم نے خبر دی، انہیں عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ زیاد بن ابی سفیان نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو لکھا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ جس نے ہدی بھیج دی اس پر وہ تمام چیزیں حرام ہو جاتی ہیں جو ایک حاجی پر حرام ہوتی ہیں تاآنکہ اس کی ہدی کی قربانی کر دی جائے، عمرہ نے کہا کہ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جو کچھ کہا مسئلہ اس طرح نہیں ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادے اپنے ہاتھوں سے خود بٹے ہیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے ان جانوروں کو قلادہ پہنایا اور میرے والد محترم ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ انہیں بھیج دیا لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی ایسی چیز کو اپنے اوپر حرام نہیں کیا جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال کی تھی، اور ہدی کی قربانی بھی کر دی گئی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن عبد الله بن ابي بكر بن عمرو بن حزم، عن عمرة بنت عبد الرحمن، انها اخبرته ان زياد بن ابي سفيان كتب الى عايشة رضى الله عنها ان عبد الله بن عباس رضى الله عنهما قال من اهدى هديا حرم عليه ما يحرم على الحاج حتى ينحر هديه. قالت عمرة فقالت عايشة رضى الله عنها ليس كما قال ابن عباس، انا فتلت قلايد هدى رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدى، ثم قلدها رسول الله صلى الله عليه وسلم بيديه، ثم بعث بها مع ابي فلم يحرم على رسول الله صلى الله عليه وسلم شىء احله الله حتى نحر الهدى
ہم سے نعیم نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے لیے ( بیت اللہ ) بکریاں بھیجی تھیں۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها قالت اهدى النبي صلى الله عليه وسلم مرة غنما
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادہ خود بٹا کرتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کو بھی قلادہ پہنایا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے گھر اس حال میں مقیم تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حلال تھے۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا عبد الواحد، حدثنا الاعمش، حدثنا ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها قالت كنت افتل القلايد للنبي صلى الله عليه وسلم فيقلد الغنم، ويقيم في اهله حلالا
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے حماد نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے (دوسری سند) اور ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہیں سفیان نے خبر دی، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بکریوں کے قلادے خود بٹا کرتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ( بیت اللہ کے لیے ) بھیج دیتے اور خود حلال ہی ہونے کی حالت میں اپنے گھر ٹھہر رہتے۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد، حدثنا منصور بن المعتمر،. وحدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها قالت كنت افتل قلايد الغنم للنبي صلى الله عليه وسلم فيبعث بها، ثم يمكث حلالا
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زکریا نے بیان کیا، ان سے عامر نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے لیے خود قلادے بٹے ہیں۔ ان کی مراد احرام سے پہلے کے قلادوں سے تھی۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا زكرياء، عن عامر، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها قالت فتلت لهدى النبي صلى الله عليه وسلم تعني القلايد قبل ان يحرم
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے معاذ بن معاذ نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے قاسم نے بیان کیا، ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے پاس جو اون تھی ان کے ہار میں نے قربانی کے جانوروں کے لیے خود بٹے تھے۔
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا معاذ بن معاذ، حدثنا ابن عون، عن القاسم، عن ام المومنين رضى الله عنها قالت فتلت قلايدها من عهن كان عندي
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالاعلیٰ نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں عکرمہ نے، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ قربانی کا اونٹ لیے جا رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جا، اس نے کہا کہ یہ تو قربانی کا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ سوار ہو جا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں نے دیکھا کہ وہ اس پر سوار ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا ہے اور جوتے ( کا ہار ) اس اونٹ کے گردن میں ہے۔ اس روایت کی متابعت محمد بن بشار نے کی ہے۔ ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، ہم کو علی بن مبارک نے خبر دی، انہیں یحییٰ نے انہیں عکرمہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مثل سابق حدیث کے ) ۔
حدثنا محمد، اخبرنا عبد الاعلى بن عبد الاعلى، عن معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن عكرمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان نبي الله صلى الله عليه وسلم راى رجلا يسوق بدنة، قال " اركبها ". قال انها بدنة. قال " اركبها ". قال فلقد رايته راكبها يساير النبي صلى الله عليه وسلم والنعل في عنقها. تابعه محمد بن بشار حدثنا عثمان بن عمر، اخبرنا علي بن المبارك، عن يحيى، عن عكرمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے، ان سے مجاہد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قربانی کے جانوروں کے جھول اور ان کے چمڑے کو صدقہ کرنے کا حکم دیا تھا جن کی قربانی میں نے کر دی تھی۔
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن علي رضى الله عنه قال امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اتصدق بجلال البدن التي نحرت وبجلودها
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے عہد خلافت میں حجۃ الحروریہ کے سال حج کا ارادہ کیا تو ان سے کہا گیا کہ لوگوں میں باہم قتل و خون ہونے والا ہے اور ہم کو خطرہ اس کا ہے کہ آپ کو ( مفسد لوگ حج سے ) روک دیں، آپ نے جواب میں یہ آیت سنائی کہ ”تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔“ اس وقت میں بھی وہی کام کروں گا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کر لیا ہے، پھر جب آپ بیداء کے بالائی حصہ تک پہنچے تو فرمایا کہ حج اور عمرہ تو ایک ہی ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ عمرہ کے ساتھ میں نے حج کو بھی جمع کر لیا ہے، پھر آپ نے ایک ہدی بھی ساتھ لے لی جسے ہار پہنایا گیا تھا۔ آپ نے اسے خرید لیا یہاں تک کہ آپ مکہ آئے تو بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کی، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کیا جو چیزیں ( احرام کی وجہ سے ان پر ) حرام تھیں ان میں سے کسی سے قربانی کے دن تک وہ حلال نہیں ہوئے، پھر سر منڈوایا اور قربانی کی وجہ یہ سمجھتے تھے کہ اپنا پہلا طواف کر کے انہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا طواف پورا کر لیا ہے پھر آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا ابو ضمرة، حدثنا موسى بن عقبة، عن نافع، قال اراد ابن عمر رضى الله عنهما الحج عام حجة الحرورية في عهد ابن الزبير رضى الله عنهما فقيل له ان الناس كاين بينهم قتال، ونخاف ان يصدوك. فقال {لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة} اذا اصنع كما صنع، اشهدكم اني اوجبت عمرة. حتى كان بظاهر البيداء قال ما شان الحج والعمرة الا واحد، اشهدكم اني جمعت حجة مع عمرة. واهدى هديا مقلدا اشتراه حتى قدم، فطاف بالبيت وبالصفا، ولم يزد على ذلك، ولم يحلل من شىء حرم منه حتى يوم النحر، فحلق ونحر وراى ان قد قضى طوافه الحج والعمرة بطوافه الاول، ثم قال كذلك صنع النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید نے، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے بتلایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے لیے ) نکلے تو ذی قعدہ میں سے پانچ دن باقی رہے تھے ہم صرف حج کا ارادہ لے کر نکلے تھے، جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جن لوگوں کے ساتھ قربانی نہ ہو وہ جب طواف کر لیں اور صفا و مروہ کی سعی بھی کر لیں تو حلال ہو جائیں گے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ قربانی کے دن ہمارے گھر گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ ( لانے والے نے بتلایا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے یہ قربانی کی ہے، یحییٰ نے کہا کہ میں نے عمرہ کی یہ حدیث قاسم سے بیان کی انہوں نے کہا عمرہ نے یہ حدیث ٹھیک ٹھیک بیان کیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة بنت عبد الرحمن، قالت سمعت عايشة رضى الله عنها تقول خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لخمس بقين من ذي القعدة، لا نرى الا الحج، فلما دنونا من مكة امر رسول الله صلى الله عليه وسلم من لم يكن معه هدى، اذا طاف وسعى بين الصفا والمروة ان يحل، قالت فدخل علينا يوم النحر بلحم بقر. فقلت ما هذا قال نحر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ازواجه. قال يحيى فذكرته للقاسم، فقال اتتك بالحديث على وجهه
ہم سے اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بیان کیا، انہوں نے خالد بن حارث سے سنا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نحر کرنے کی جگہ نحر کرتے تھے، عبیداللہ بن بتایا کہ مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نحر کرنے کی جگہ سے تھی۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، سمع خالد بن الحارث، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، ان عبد الله رضى الله عنه كان ينحر في المنحر. قال عبيد الله منحر رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی قربانی کے جانوروں کو مزدلفہ سے آخر رات میں منیٰ بھجوا دیتے، یہ قربانیاں جن میں حاجی لوگ نیز غلام اور آزاد دونوں طرح کے لوگ ہوتے، اس مقام میں لے جاتے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نحر کیا کرتے تھے۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا انس بن عياض، حدثنا موسى بن عقبة، عن نافع، ان ابن عمر رضى الله عنهما كان يبعث بهديه من جمع من اخر الليل، حتى يدخل به منحر النبي صلى الله عليه وسلم مع حجاج فيهم الحر والمملوك
ہم سے سہل بن بکار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور انہوں نے مختصر حدیث بیان کی اور یہ بھی بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات اونٹ کھڑے کر کے اپنے ہاتھ سے نحر کئے اور مدینہ میں دو چتکبرے سینگ دار مینڈھوں کی قربانی کی۔
حدثنا سهل بن بكار، حدثنا وهيب، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس وذكر الحديث قال ونحر النبي صلى الله عليه وسلم بيده سبع بدن قياما، وضحى بالمدينة كبشين املحين اقرنين. مختصرا