Loading...

Loading...
کتب
۲۶۰ احادیث
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے زیاد بن جبیر نے کہ میں نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک شخص کے پاس آئے جو اپنا اونٹ بٹھا کر نحر کر رہا تھا، عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسے کھڑا کر اور باندھ دے، پھر نحر کر کہ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ شعبہ نے یونس سے بیان کیا کہ مجھے زیادہ نے خبر دی۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا يزيد بن زريع، عن يونس، عن زياد بن جبير، قال رايت ابن عمر رضى الله عنهما اتى على رجل، قد اناخ بدنته ينحرها، قال ابعثها قياما مقيدة، سنة محمد صلى الله عليه وسلم. وقال شعبة عن يونس اخبرني زياد
ہم سے سہل بن بکار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز مدینہ میں چار رکعت پڑھی اور عصر کی ذو الحلیفہ میں دو رکعات۔ رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں گزاری، پھر جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر تہلیل و تسبیح کرنے لگے۔ جب بیداء پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ( حج و عمرہ ) کے لیے ایک ساتھ تلبیہ کہا، جب مکہ پہنچے ( اور عمرہ ادا کر لیا ) تو صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ حلال ہو جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے سات اونٹ کھڑے کر کے نحر کئے اور مدینہ میں دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے ذبح کئے۔
حدثنا سهل بن بكار، حدثنا وهيب، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس رضى الله عنه قال صلى النبي صلى الله عليه وسلم الظهر بالمدينة اربعا، والعصر بذي الحليفة ركعتين، فبات بها، فلما اصبح ركب راحلته، فجعل يهلل ويسبح، فلما علا على البيداء لبى بهما جميعا، فلما دخل مكة امرهم ان يحلوا. ونحر النبي صلى الله عليه وسلم بيده سبع بدن قياما، وضحى بالمدينة كبشين املحين اقرنين
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز مدینہ میں چار رکعت اور عصر کی ذو الحلیفہ میں دو رکعات پڑھی تھیں۔ ایوب نے ایک شخص کے واسطہ سے بروایت انس رضی اللہ عنہ کہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں رات گزاری۔ صبح ہوئی تو فجر کی نماز پڑھی اور اپنی اونٹنی پر سوار ہو گئے، پھر جب مقام بیداء پہنچے تو عمرہ اور حج دونوں کا نام لے کر لبیک پکارا۔
حدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال صلى النبي صلى الله عليه وسلم الظهر بالمدينة اربعا، والعصر بذي الحليفة ركعتين. وعن ايوب عن رجل عن انس رضى الله عنه ثم بات حتى اصبح، فصلى الصبح، ثم ركب راحلته حتى اذا استوت به البيداء اهل بعمرة وحجة
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، کہا مجھ کو ابن ابی نجیح نے خبر دی، انہیں مجاہد نے، انہیں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( قربانی کے اونٹوں کی دیکھ بھال کے لیے ) بھیجا۔ اس لیے میں نے ان کی دیکھ بھال کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے ان کے گوشت تقسیم کئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے ان کے جھول اور چمڑے بھی تقسیم کر دئیے۔ سفیان نے کہا کہ مجھ سے عبدالکریم نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ میں قربانی کے اونٹوں کی دیکھ بھال کروں اور ان میں سے کوئی چیز قصائی کی مزدوری میں نہ دوں۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، قال اخبرني ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن علي رضى الله عنه قال بعثني النبي صلى الله عليه وسلم فقمت على البدن، فامرني فقسمت لحومها، ثم امرني فقسمت جلالها وجلودها. قال سفيان وحدثني عبد الكريم، عن مجاهد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن علي رضى الله عنه قال امرني النبي صلى الله عليه وسلم ان اقوم على البدن، ولا اعطي عليها شييا في جزارتها
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا کہ، ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے حسن بن مسلم اور عبدالکریم جزری نے خبر دی کہ مجاہد نے ان دونوں کو خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے خبر دی، انہیں علی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کریں اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کی ہر چیز گوشت چمڑے اور جھول خیرات کر دیں اور قصائی کی مزدوری اس میں سے نہ دیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن جريج، قال اخبرني الحسن بن مسلم، وعبد الكريم الجزري، ان مجاهدا، اخبرهما ان عبد الرحمن بن ابي ليلى اخبره ان عليا رضى الله عنه اخبره ان النبي صلى الله عليه وسلم امره ان يقوم على بدنه، وان يقسم بدنه كلها، لحومها وجلودها وجلالها، ولا يعطي في جزارتها شييا
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ان سے سیف بن ابی سلیمان نے بیان کیا، کہا میں نے مجاہد سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن ابی لیلیٰ نے بیان کیا اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) سو اونٹ قربان کئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ان کے گوشت بانٹ دئیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جھول بھی تقسیم کرنے کا حکم دیا اور میں نے انہیں بھی تقسیم کیا، پھر چمڑے کے لیے حکم دیا اور میں نے انہیں بھی بانٹ دیا۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سيف بن ابي سليمان، قال سمعت مجاهدا، يقول حدثني ابن ابي ليلى، ان عليا رضى الله عنه حدثه قال اهدى النبي صلى الله عليه وسلم ماية بدنة، فامرني بلحومها فقسمتها، ثم امرني بجلالها فقسمتها، ثم بجلودها فقسمتها
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعیدقطان نے، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء نے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ ہم اپنی قربانی کا گوشت منیٰ کے بعد تین دن سے زیادہ نہیں کھاتے تھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اجازت دے دی اور فرمایا کہ کھاؤ بھی اور توشہ کے طور پر ساتھ بھی لے جاؤ، چنانچہ ہم نے کھایا اور ساتھ بھی لائے۔ ابن جریج نے کہا کہ میں نے عطاء سے پوچھا کیا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا کہ یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچ گئے، انہوں نے کہا نہیں ایسا نہیں فرمایا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن جريج، حدثنا عطاء، سمع جابر بن عبد الله رضى الله عنهما يقول كنا لا ناكل من لحوم بدننا فوق ثلاث منى، فرخص لنا النبي صلى الله عليه وسلم فقال " كلوا وتزودوا ". فاكلنا وتزودنا. قلت لعطاء اقال حتى جينا المدينة قال لا
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن ہلال نے بیان کیا، کہا مجھ سے عمرہ نے بیان کیا، کہا میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ ہم مدینہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ذی قعدہ کے پانچ دن باقی رہ گئے تھے، ہمارا ارادہ صرف حج ہی کا تھا، پھر جب مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ بیت اللہ کا طواف کر کے حلال ہو جائیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ پھر ہمارے پاس بقر عید کے دن گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس وقت معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کی ہے۔ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میں نے اس حدیث کا قاسم بن محمد سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ عمرہ نے تم سے ٹھیک ٹھیک حدیث بیان کر دی ہے۔ ( ہر دو احادیث سے مقصد باب ظاہر ہے ) کہ قربانی کا گوشت کھانے اور بطور توشہ رکھنے کی عام اجازت ہے، خود قرآن مجید میں «فكلوا منها» کا صیغہ موجود ہے کہ اسے غرباء مساکین کو بھی تقسیم کرو اور خود بھی کھاؤ۔
حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا سليمان، قال حدثني يحيى، قال حدثتني عمرة، قالت سمعت عايشة رضى الله عنها تقول خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لخمس بقين من ذي القعدة، ولا نرى الا الحج، حتى اذا دنونا من مكة امر رسول الله صلى الله عليه وسلم من لم يكن معه هدى اذا طاف بالبيت ثم يحل. قالت عايشة رضى الله عنها فدخل علينا يوم النحر بلحم بقر فقلت ما هذا فقيل ذبح النبي صلى الله عليه وسلم عن ازواجه. قال يحيى فذكرت هذا الحديث للقاسم. فقال اتتك بالحديث على وجهه
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، ان سے ہشیم بن بشیر نے بیان کیا، انہیں منصور بن ذاذان نے خبر دی، انہیں عطا بن ابی رباح نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو قربانی کا جانور ذبح کرنے سے پہلے ہی سر منڈوا لے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی قباحت نہیں، کوئی قباحت نہیں۔ ( ترجمہ اور باب میں موافقت ظاہر ہے ) ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن حوشب، حدثنا هشيم، اخبرنا منصور، عن عطاء، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال سيل النبي صلى الله عليه وسلم عمن حلق قبل ان يذبح ونحوه. فقال " لا حرج، لا حرج
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبکر بن عیاش نے خبر دی، انہیں عبدالعزیز بن رفیع نے، انہیں عطا بن ابی رباح نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! رمی سے پہلے میں نے طواف زیارت کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، پھر اس نے کہا اور یا رسول اللہ! قربانی کرنے سے پہلے میں نے سر منڈوا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں، پھر اس نے کہا اور قربانی کو رمی سے بھی پہلے کر لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔ اور عبدالرحیم رازی نے ابن خشیم سے بیان کیا، کہا کہ عطاء نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور قاسم بن یحییٰ نے کہا کہ مجھ سے ابن خشیم نے بیان کیا، ان سے عطاء نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ عفان بن مسلم صغار نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہیب بن خالد سے روایت ہے کہ ابن خثیم نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور حماد نے قیس بن سعد اور عباد بن منصور سے بیان کیا، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔
حدثنا احمد بن يونس، اخبرنا ابو بكر، عن عبد العزيز بن رفيع، عن عطاء، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال رجل للنبي صلى الله عليه وسلم زرت قبل ان ارمي. قال " لا حرج ". قال حلقت قبل ان اذبح. قال " لا حرج ". قال ذبحت قبل ان ارمي. قال " لا حرج ". وقال عبد الرحيم الرازي عن ابن خثيم اخبرني عطاء عن ابن عباس رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم. وقال القاسم بن يحيى حدثني ابن خثيم عن عطاء عن ابن عباس رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم. وقال عفان اراه عن وهيب، حدثنا ابن خثيم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم. وقال حماد عن قيس بن سعد وعباد بن منصور عن عطاء عن جابر رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے مسئلہ پوچھا کہ شام ہونے کے بعد میں نے رمی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔ سائل نے کہا کہ قربانی کرنے سے پہلے میں نے سر منڈا لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال سيل النبي صلى الله عليه وسلم فقال رميت بعد ما امسيت. فقال " لا حرج ". قال حلقت قبل ان انحر. قال " لا حرج
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے باپ عثمان نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں قیس بن مسلم نے، انہیں طارق بن شہاب نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بطحاء میں تھے۔ ( جو مکہ کے قریب ایک جگہ ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تو نے حج کی نیت کی ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تو نے احرام کس چیز کا باندھا ہے میں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی طرح باندھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے اچھا کیا اب جا۔ چنانچہ ( مکہ پہنچ کر ) میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی، پھر میں بنو قیس کی ایک خاتون کے پاس آیا اور انہوں نے میرے سر کی جوئیں نکالی۔ اس کے بعد میں نے حج کی لبیک پکاری۔ اس کے بعد میں عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت تک اسی کا فتویٰ دیتا رہا پھر جب میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمیں کتاب اللہ پر بھی عمل کرنا چاہئے اور اس میں پورا کرنے کا حکم ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر بھی عمل کرنا چاہئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی سے پہلے حلال نہیں ہوئے تھے۔
حدثنا عبدان، قال اخبرني ابي، عن شعبة، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، عن ابي موسى رضى الله عنه قال قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بالبطحاء. فقال " احججت ". قلت نعم. قال " بما اهللت ". قلت لبيك باهلال كاهلال النبي صلى الله عليه وسلم. قال " احسنت، انطلق فطف بالبيت وبالصفا والمروة ". ثم اتيت امراة من نساء بني قيس، ففلت راسي، ثم اهللت بالحج، فكنت افتي به الناس، حتى خلافة عمر رضى الله عنه فذكرته له. فقال ان ناخذ بكتاب الله فانه يامرنا بالتمام، وان ناخذ بسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم فان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يحل حتى بلغ الهدى محله
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا وجہ ہوئی کہ اور لوگ تو عمرہ کر کے حلال ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کر لیا اور حلال نہ ہوئے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بال جما لیے تھے اور قربانی کے گلے میں قلادہ پہنا کر میں ( اپنے ساتھ ) لایا ہوں، اس لیے جب تک میں نحر نہ کر لوں گا میں احرام نہیں کھولوں گا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر، عن حفصة رضى الله عنهم انها قالت يا رسول الله، ما شان الناس حلوا بعمرة ولم تحلل انت من عمرتك قال " اني لبدت راسي، وقلدت هديي، فلا احل حتى انحر
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی، ان سے نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنا سر منڈایا تھا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب بن ابي حمزة، قال نافع كان ابن عمر رضى الله عنهما يقول حلق رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجته
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما! صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی اور کتروانے والوں پر؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اب بھی دعا کی اے اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم فرما! صحابہ رضی اللہ عنہم نے پھر عرض کی اور کتروانے والوں پر؟ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور کتروانے والوں پر بھی، لیث نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ نے سر منڈوانے والوں پر رحم کیا ایک یا دو مرتبہ، انہوں نے بیان کیا کہ عبیداللہ نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا کہ چوتھی مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کتروانے والوں پر بھی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اللهم ارحم المحلقين ". قالوا والمقصرين يا رسول الله قال " اللهم ارحم المحلقين ". قالوا والمقصرين يا رسول الله قال " والمقصرين ". وقال الليث حدثني نافع " رحم الله المحلقين " مرة او مرتين. قال وقال عبيد الله حدثني نافع وقال في الرابعة " والمقصرين
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع نے بیان کیا، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اے اللہ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت فرما! صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اور کتروانے والوں کے لیے بھی ( یہی دعا فرمائیے ) لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا اے اللہ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت کر۔ پھر صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اور کتروانے والوں کی بھی! تیسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور کتروانے والوں کی بھی مغفرت فرما۔
حدثنا عياش بن الوليد، حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم اغفر للمحلقين ". قالوا وللمقصرين. قال " اللهم اغفر للمحلقين ". قالوا وللمقصرين. قالها ثلاثا. قال " وللمقصرين
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے، ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے اصحاب نے سر منڈوایا تھا لیکن بعض نے کتروایا بھی تھا۔
حدثنا عبد الله بن محمد بن اسماء، حدثنا جويرية بن اسماء، عن نافع، ان عبد الله، قال حلق النبي صلى الله عليه وسلم وطايفة من اصحابه، وقصر بعضهم
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے حسن بن مسلم نے بیان کیا، ان سے طاؤس نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ان سے معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال قینچی سے کاٹے تھے۔
حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن الحسن بن مسلم، عن طاوس، عن ابن عباس، عن معاوية رضى الله عنهم قال قصرت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بمشقص
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، ان سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، انہیں کریب نے خبر دی، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو یہ حکم دیا کہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرنے کے بعد احرام کھول دیں پھر سر منڈوا لیں یا بال کتروا لیں۔
حدثنا محمد بن ابي بكر، حدثنا فضيل بن سليمان، حدثنا موسى بن عقبة، اخبرني كريب، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم مكة امر اصحابه ان يطوفوا بالبيت، وبالصفا والمروة، ثم يحلوا، ويحلقوا او يقصروا
اور ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے صرف ایک طواف الزیارۃ کیا پھر سویرے سے منیٰ کو آئے، ان کی مراد دسویں تاریخ سے تھی، عبدالرزاق نے اس حدیث کا رفع ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ) بھی کیا ہے۔ انہیں عبیداللہ نے خبر دی۔
وقال لنا ابو نعيم حدثنا سفيان، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما انه طاف طوافا واحدا، ثم يقيل ثم ياتي منى يعني يوم النحر . ورفعه عبد الرزاق اخبرنا عبيد الله