Loading...

Loading...
کتب
۲۶۰ احادیث
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، ان سے اعرج نے انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ہم نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کیا لیکن صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وہی چاہا جو شوہر اپنی بیوی سے چاہتا ہے، تو میں نے کہا یا رسول اللہ! وہ حائضہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اس نے تو ہمیں روک دیا پھر جب لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! انہوں نے دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کر لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر چلے چلو۔ قاسم، عروہ اور اسود سے بواسطہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت ہے کہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا نے دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کیا تھا۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن جعفر بن ربيعة، عن الاعرج، قال حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان عايشة رضى الله عنها قالت حججنا مع النبي صلى الله عليه وسلم فافضنا يوم النحر، فحاضت صفية، فاراد النبي صلى الله عليه وسلم منها ما يريد الرجل من اهله. فقلت يا رسول الله انها حايض. قال " حابستنا هي ". قالوا يا رسول الله، افاضت يوم النحر. قال " اخرجوا ". ويذكر عن القاسم وعروة والاسود عن عايشة رضى الله عنها افاضت صفية يوم النحر
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ابن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قربانی کرنے، سر منڈانے، رمی جمار کرنے اور ان سے آگے پیچھے کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم قيل له في الذبح والحلق والرمى والتقديم والتاخير فقال " لا حرج
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم نحر میں منیٰ میں مسائل پوچھے جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جاتے کہ کوئی حرج نہیں ، ایک شخص نے پوچھا تھا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے تو آپ نے اس کے جواب میں بھی یہی فرمایا کہ جاؤ قربانی کر لو کوئی حرج نہیں اور اس نے یہ بھی پوچھا کہ میں نے کنکریاں شام ہونے کے بعد ہی مار لی ہیں ، تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يسال يوم النحر بمنى، فيقول " لا حرج ". فساله رجل، فقال حلقت قبل ان اذبح. قال " اذبح، ولا حرج ". وقال رميت بعد ما امسيت. فقال " لا حرج
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عیسیٰ بن طلحہ نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر ( اپنی سواری ) پر بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسائل معلوم کئے جا رہے تھے۔ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! مجھ کو معلوم نہ تھا اور میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب قربانی کر لو کوئی حرج نہیں، دوسرا شخص آیا اور بولا: یا رسول اللہ! مجھے خیال نہ رہا اور رمی جمار سے پہلے ہی میں نے قربانی کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب رمی کر لو کوئی حرج نہیں، اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کے آگے پیچھے کرنے کے متعلق سوال ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اب کر لو کوئی حرج نہیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عيسى بن طلحة، عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم وقف في حجة الوداع، فجعلوا يسالونه، فقال رجل لم اشعر فحلقت قبل ان اذبح. قال " اذبح ولا حرج ". فجاء اخر فقال لم اشعر فنحرت قبل ان ارمي. قال " ارم ولا حرج ". فما سيل يوميذ عن شىء قدم ولا اخر الا قال افعل ولا حرج
ہم سے سعید بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عیسیٰ بن طلحہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں تاریخ کو منیٰ میں خطبہ دے رہے تھے تو وہ وہاں موجود تھے۔ ایک شخص نے اس وقت کھڑے ہو کر پوچھا کہ میں اس خیال میں تھا کہ فلاں کام فلاں سے پہلے ہے پھر دوسرا کھڑا ہوا اور کہا کہ میرا خیال تھا کہ فلاں کام فلاں سے پہلے ہے، چنانچہ میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا، رمی جمار سے پہلے قربانی کر لی، اور مجھے اس میں شک ہوا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اب کر لو۔ ان سب میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح کے دوسرے سوالات بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے جواب میں یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں اب کر لو۔
حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد، حدثنا ابي، حدثنا ابن جريج، حدثني الزهري، عن عيسى بن طلحة، عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضى الله عنه حدثه انه، شهد النبي صلى الله عليه وسلم يخطب يوم النحر، فقام اليه رجل، فقال كنت احسب ان كذا قبل كذا. ثم قام اخر فقال كنت احسب ان كذا قبل كذا حلقت قبل ان انحر، نحرت قبل ان ارمي. واشباه ذلك. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " افعل ولا حرج ". لهن كلهن، فما سيل يوميذ عن شىء الا قال افعل ولا حرج
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، ان سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے عیسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا انہوں نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سواری پر سوا رہو کر ٹھہرے رہے پھر پوری حدیث بیان کی۔ اس کی متابعت معمر نے زہری سے روایت کر کے کی ہے۔
حدثنا اسحاق، قال اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، حدثني عيسى بن طلحة بن عبيد الله، انه سمع عبد الله بن عمرو بن العاص رضى الله عنهما قال وقف رسول الله صلى الله عليه وسلم على ناقته. فذكر الحديث. تابعه معمر عن الزهري
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے فضل بن غزوان نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ دسویں تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں خطبہ دیا، خطبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا لوگو! آج کون سا دن ہے؟ لوگ بولے یہ حرمت کا دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا اور یہ شہر کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حرمت کا شہر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ مہینہ کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حرمت کا مہینہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس تمہارا خون تمہارے مال اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جیسے اس دن کی حرمت، اس شہر اور اس مہینہ کی حرمت ہے، اس کلمہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار دہرایا اور پھر آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہا اے اللہ! کیا میں نے ( تیرا پیغام ) پہنچا دیا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتلایا کہ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ وصیت اپنی تمام امت کے لیے ہے، لہٰذا حاضر ( اور جاننے والے ) غائب ( اور ناواقف لوگوں کو اللہ کا پیغام ) پہنچا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا دیکھو میرے بعد ایک دوسرے کی گردن مار کر کافر نہ بن جانا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثني يحيى بن سعيد، حدثنا فضيل بن غزوان، حدثنا عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب الناس يوم النحر فقال " يا ايها الناس. اى يوم هذا ". قالوا يوم حرام. قال " فاى بلد هذا ". قالوا بلد حرام. قال " فاى شهر هذا ". قالوا شهر حرام. قال " فان دماءكم واموالكم واعراضكم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في بلدكم هذا في شهركم هذا ". فاعادها مرارا، ثم رفع راسه فقال " اللهم هل بلغت اللهم هل بلغت ". قال ابن عباس رضى الله عنهما فوالذي نفسي بيده انها لوصيته الى امته " فليبلغ الشاهد الغايب، لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو نے خبر دی، کہا کہ میں نے جابر بن زید سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ رضی اللہ عنہما نے بتلایا کہ میدان عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ میں نے خود سنا تھا۔ اس کی متابعت ابن عیینہ نے عمرو سے کی ہے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، قال اخبرني عمرو، قال سمعت جابر بن زيد، قال سمعت ابن عباس رضى الله عنهما قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يخطب بعرفات. تابعه ابن عيينة عن عمرو
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، ان سے قرہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ایک اور شخص نے جو میرے نزدیک عبدالرحمٰن سے بھی افضل ہے یعنی حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں تاریخ کو منیٰ میں خطبہ سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا لوگو! معلوم ہے آج یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں۔ ہم بولے ہاں ضرور ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ مہینہ کون سا ہے؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے لیے۔ آپ اس مرتبہ بھی خاموش ہو گئے اور ہمیں خیال ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینہ کا نام کوئی اور نام رکھیں گے، لیکن آپ نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟ ہم بولے کیوں نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ شہر کون سا ہے؟ ہم نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح خاموش ہو گئے کہ ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا شہر نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی کیوں نہیں ضرور ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بس تمہارا خون اور تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینہ اور اس شہر میں ہے، تاآنکہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ کہو کیا میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! تو گواہ رہنا اور ہاں! یہاں موجود غائب کو پہنچا دیں کیونکہ بہت سے لوگ جن تک یہ پیغام پہنچے گا سننے والوں سے زیادہ ( پیغام کو ) یاد رکھنے والے ثابت ہوں گے اور میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی ( ناحق ) گردنیں مارنے لگو۔
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا ابو عامر، حدثنا قرة، عن محمد بن سيرين، قال اخبرني عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابي بكرة،، ورجل، افضل في نفسي من عبد الرحمن حميد بن عبد الرحمن عن ابي بكرة رضى الله عنه قال خطبنا النبي صلى الله عليه وسلم يوم النحر، قال " اتدرون اى يوم هذا ". قلنا الله ورسوله اعلم. فسكت حتى ظننا انه سيسميه بغير اسمه. قال " اليس يوم النحر ". قلنا بلى. قال " اى شهر هذا ". قلنا الله ورسوله اعلم. فسكت حتى ظننا انه سيسميه بغير اسمه. فقال " اليس ذو الحجة ". قلنا بلى. قال " اى بلد هذا ". قلنا الله ورسوله اعلم. فسكت حتى ظننا انه سيسميه بغير اسمه. قال " اليست بالبلدة الحرام ". قلنا بلى. قال " فان دماءكم واموالكم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا، الى يوم تلقون ربكم. الا هل بلغت ". قالوا نعم. قال " اللهم اشهد، فليبلغ الشاهد الغايب، فرب مبلغ اوعى من سامع، فلا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم کو عاصم بن محمد بن زید نے خبر دی، انہیں ان کے باپ نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں فرمایا کہ تم کو معلوم ہے! آج کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا دن ہے اور یہ بھی تم کو معلوم ہے کہ یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا شہر ہے اور تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ کون سا مہینہ ہے، لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا مہینہ ہے پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا خون! تمہارا مال اور عزت ایک دوسرے پر ( ناحق ) اس طرح حرام کر دی ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینہ اور اس شہر میں ہے۔ ہشام بن غاز نے کہا کہ مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں دسویں تاریخ کو جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ دیکھو! یہ ( «يوم النحر» ) حج اکبر کا دن ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمانے لگے کہ اے اللہ! گواہ رہنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر چونکہ لوگوں کو رخصت کیا تھا۔ ( آپ سمجھ گئے کہ وفات کا زمانہ آن پہنچا ) جب سے لوگ اس حج کو حجۃ الوداع کہنے لگے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا عاصم بن محمد بن زيد، عن ابيه، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم بمنى " اتدرون اى يوم هذا ". قالوا الله ورسوله اعلم. فقال " فان هذا يوم حرام، افتدرون اى بلد هذا ". قالوا الله ورسوله اعلم. قال " بلد حرام، افتدرون اى شهر هذا ". قالوا الله ورسوله اعلم. قال " شهر حرام قال فان الله حرم عليكم دماءكم واموالكم واعراضكم، كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا ". وقال هشام بن الغاز اخبرني نافع عن ابن عمر رضى الله عنهما وقف النبي صلى الله عليه وسلم يوم النحر بين الجمرات في الحجة التي حج بهذا، وقال " هذا يوم الحج الاكبر "، فطفق النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم اشهد ". وودع الناس. فقالوا هذه حجة الوداع
ہم سے محمد بن عبید بن میمون نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عیسیٰ بن یونس نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی۔
حدثنا محمد بن عبيد بن ميمون، حدثنا عيسى بن يونس، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما رخص النبي صلى الله عليه وسلم
(دوسری سند) اور ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں عبیداللہ نے، انہیں نافع نے اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا محمد بن بكر، اخبرنا ابن جريج، اخبرني عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم اذن
اور ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ کی راتوں میں ( حاجیوں ) کو پانی پلانے کے لیے مکہ میں رہنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔ اس روایت کی متابعت محمد بن عبداللہ کے ساتھ ابواسامہ عقبہ بن خالد اور ابوضمرہ نے کی ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي، حدثنا عبيد الله، قال حدثني نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان العباس رضى الله عنه استاذن النبي صلى الله عليه وسلم ليبيت بمكة ليالي منى، من اجل سقايته، فاذن له. تابعه ابو اسامة وعقبة بن خالد وابو ضمرة
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے وبرہ نے کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں کنکریاں کس وقت ماروں؟ تو آپ نے فرمایا کہ جب تمہارا امام مارے تو تم بھی مارو، لیکن دوبارہ میں نے ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم انتظار کرتے رہتے اور جب سورج ڈھل جاتا تو کنکریاں مارتے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا مسعر، عن وبرة، قال سالت ابن عمر رضى الله عنهما متى ارمي الجمار قال اذا رمى امامك فارمه. فاعدت عليه المسالة، قال كنا نتحين، فاذا زالت الشمس رمينا
محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابراہیم نے اور ان سے عبدالرحمٰن بن زید نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وادی کے نشیب ( بطن وادی ) میں کھڑے ہو کر کنکری ماری تو میں نے کہا، اے ابوعبدالرحمٰن! کچھ لوگ تو وادی کے بالائی علاقہ سے کنکریاں مارتے ہیں، اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہی ( بطن وادی ) ان کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے ( رمی کرتے وقت ) جن پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی تھی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ عبداللہ بن ولید نے بیان کیا کہ ان سے سفیان ثوری نے اور ان سے اعمش نے یہی حدیث بیان کی۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، قال رمى عبد الله من بطن الوادي، فقلت يا ابا عبد الرحمن، ان ناسا يرمونها من فوقها، فقال والذي لا اله غيره هذا مقام الذي انزلت عليه سورة البقرة صلى الله عليه وسلم. وقال عبد الله بن الوليد حدثنا سفيان حدثنا الاعمش بهذا
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نحعی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمرہ کبریٰ کے پاس پہنچے تو کعبہ کو اپنے بائیں طرف کیا اور منیٰ کو دائیں طرف، پھر سات کنکریوں سے رمی کی اور فرمایا کہ جن پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی تھی صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے بھی اسی طرح رمی کی تھی۔ ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن ع��د الله رضى الله عنه انه انتهى الى الجمرة الكبرى جعل البيت عن يساره، ومنى عن يمينه، ورمى بسبع، وقال هكذا رمى الذي انزلت عليه سورة البقرة صلى الله عليه وسلم
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم بن عتبہ نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے کہ انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا انہوں نے دیکھا جمرہ عقبہ کی سات کنکریوں کے ساتھ رمی کے وقت آپ نے بیت اللہ کو تو اپنی بائیں طرف اور منی کو دائیں طرف کر لیا پھر فرمایا کہ یہی ان کا بھی مقام تھا جن پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی تھی یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا الحكم، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، انه حج مع ابن مسعود رضى الله عنه فراه يرمي الجمرة الكبرى بسبع حصيات، فجعل البيت عن يساره، ومنى عن يمينه، ثم قال هذا مقام الذي انزلت عليه سورة البقرة
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد مصری نے بیان کیا، ان سے سلیمان اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے حجاج سے سنا، وہ منبر پر سورتوں کا یوں نام لے رہا تھا وہ سورۃ جس میں بقرہ ( گائے ) کا ذکر آیا ہے، وہ سورۃ جس میں آل عمران کا ذکر آیا ہے، وہ سورۃ جس میں نساء ( عورتوں ) کا ذکر آیا ہے، اعمش نے کہا میں نے اس کا ذکر ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن یزید نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی تو وہ ان کے ساتھ تھے، اس وقت وہ وادی کے نشیب میں اتر گئے اور جب درخت کے ( جو اس وقت وہاں پر تھا ) برابر نیچے اس کے سامنے ہو کر سات کنکریوں سے رمی کی ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے جاتے تھے۔ پھر فرمایا قسم ہے اس کی کہ جس ذات کے سوا کوئی معبود نہیں یہیں وہ ذات بھی کھڑی ہوئی تھی جس پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی۔
حدثنا مسدد، عن عبد الواحد، حدثنا الاعمش، قال سمعت الحجاج، يقول على المنبر السورة التي يذكر فيها البقرة، والسورة التي يذكر فيها ال عمران، والسورة التي يذكر فيها النساء. قال فذكرت ذلك لابراهيم، فقال حدثني عبد الرحمن بن يزيد انه كان مع ابن مسعود رضى الله عنه حين رمى جمرة العقبة، فاستبطن الوادي، حتى اذا حاذى بالشجرة اعترضها، فرمى بسبع حصيات، يكبر مع كل حصاة، ثم قال من ها هنا والذي لا اله غيره قام الذي انزلت عليه سورة البقرة صلى الله عليه وسلم
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے طلحہ بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے یونس نے زہری سے بیان کیا، ان سے سالم نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پہلے جمرہ کی رمی سات کنکریوں کے ساتھ کرتے اور ہر کنکری پر «الله اكبر» کہتے تھے، پھر آگے بڑھتے اور ایک نرم ہموار زمین پر پہنچ کر قبلہ رخ کھڑے ہو جاتے اسی طرح دیر تک کھڑے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے، پھر جمرہ وسطیٰ کی رمی کرتے، پھر بائیں طرف بڑھتے اور ایک ہموار زمین پر قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو جاتے، یہاں بھی دیر تک کھڑے کھڑے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرتے رہتے، اس کے بعد والے نشیب سے جمرہ عقبہ کی رمی کرتے اس کے بعد آپ کھڑے نہ ہوتے بلکہ واپس چلے آتے اور فرماتے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا تھا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا طلحة بن يحيى، حدثنا يونس، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر رضى الله عنهما انه كان يرمي الجمرة الدنيا بسبع حصيات، يكبر على اثر كل حصاة، ثم يتقدم حتى يسهل فيقوم مستقبل القبلة فيقوم طويلا، ويدعو ويرفع يديه، ثم يرمي الوسطى، ثم ياخذ ذات الشمال فيستهل ويقوم مستقبل القبلة فيقوم طويلا ويدعو ويرفع يديه، ويقوم طويلا، ثم يرمي جمرة ذات العقبة من بطن الوادي، ولا يقف عندها ثم ينصرف فيقول هكذا رايت النبي صلى الله عليه وسلم يفعله
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے بھائی (عبدالحمید) نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پہلے جمرہ کی رمی سات کنکریوں کے ساتھ کرتے اور ہر کنکری پر «الله اكبر» کہتے تھے، اس کے بعد آگے بڑھتے اور ایک نرم ہموار زمین پر قبلہ رخ کھڑے ہو جاتے، دعائیں کرتے رہتے اور دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے پھر جمرہ وسطی کی رمی میں بھی اسی طرح کرتے اور بائیں طرف آگے بڑھ کر ایک نرم زمین پر قبلہ رخ کھڑے ہو جاتے، بہت دیر تک اسی طرح کھڑے ہو کر دعائیں کرتے رہتے، پھر جمرہ عقبہ کی رمی بطن وادی سے کرتے لیکن وہاں ٹھہرتے نہیں تھے، آپ فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، قال حدثني اخي، عن سليمان، عن يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما كان يرمي الجمرة الدنيا بسبع حصيات، ثم يكبر على اثر كل حصاة، ثم يتقدم فيسهل، فيقوم مستقبل القبلة قياما طويلا، فيدعو ويرفع يديه، ثم يرمي الجمرة الوسطى كذلك، فياخذ ذات الشمال فيسهل، ويقوم مستقبل القبلة قياما طويلا، فيدعو ويرفع يديه، ثم يرمي الجمرة ذات العقبة من بطن الوادي، ولا يقف عندها، ويقول هكذا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعل