Loading...

Loading...
کتب
۲۶۰ احادیث
اور محمد بن بشار نے کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہیں یونس نے خبر دی اور انہیں زہری نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس جمرہ کی رمی کرتے جو منی کی مسجد کے نزدیک ہے تو سات کنکریوں سے رمی کرتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر «الله اكبر» کہتے، پھر آگے بڑھتے اور قبلہ رخ کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرتے تھے، یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت دیر تک کھڑے رہتے تھے پھر جمرہ ثانیہ ( وسطی ) کے پاس آتے یہاں بھی سات کنکریوں سے رمی کرتے اور ہر کنکری کے ساتھ «الله اكبر» کہتے، پھر بائیں طرف نالے کے قریب اتر جاتے اور وہاں بھی قبلہ رخ کھڑے ہوتے اور ہاتھوں کو اٹھا کر دعا کرتے رہتے، پھر جمرہ عقبہ کے پاس آتے اور یہاں بھی سات کنکریوں سے رمی کرتے اور ہر کنکری کے ساتھ «الله اكبر» کہتے، اس کے بعد واپس ہو جاتے یہاں آپ دعا کے لیے ٹھہرتے نہیں تھے۔ زہری نے کہا کہ میں نے سالم سے سنا وہ بھی اسی طرح اپنے والد ( ابن عمر رضی اللہ عنہما ) سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے تھے اور یہ کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خود بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
وقال محمد حدثنا عثمان بن عمر، اخبرنا يونس، عن الزهري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا رمى الجمرة التي تلي مسجد منى يرميها بسبع حصيات، يكبر كلما رمى بحصاة، ثم تقدم امامها فوقف مستقبل القبلة رافعا يديه يدعو، وكان يطيل الوقوف، ثم ياتي الجمرة الثانية، فيرميها بسبع حصيات، يكبر كلما رمى بحصاة، ثم ينحدر ذات اليسار مما يلي الوادي، فيقف مستقبل القبلة رافعا يديه يدعو، ثم ياتي الجمرة التي عند العقبة فيرميها بسبع حصيات، يكبر عند كل حصاة، ثم ينصرف ولا يقف عندها. قال الزهري سمعت سالم بن عبد الله يحدث مثل هذا عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم وكان ابن عمر يفعله
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ فرماتی تھیں کہ میں نے خود اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے، جب آپ نے احرام باندھنا چاہا، خوشبو لگائی تھی اس طرح کھولتے وقت بھی جب آپ نے طواف الزیارۃ سے پہلے احرام کھولنا چاہا تھا ( آپ نے ہاتھ پھیلا کر خوشبو لگانے کی کیفیت بتائی ) ۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا عبد الرحمن بن القاسم، انه سمع اباه وكان افضل اهل زمانه يقول سمعت عايشة رضى الله عنها تقول طيبت رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدى هاتين حين احرم، ولحله حين احل، قبل ان يطوف. وبسطت يديها
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابن طاؤس نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ لوگوں کو اس کا حکم تھا کہ ان کا آخری وقت بیت اللہ کے ساتھ ہو ( یعنی طواف وداع کریں ) البتہ حائضہ سے یہ معاف ہو گیا تھا۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال امر الناس ان يكون اخر عهدهم بالبيت، الا انه خفف عن الحايض
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابن وہب نے خبر دی، انہیں عمرو بن حارث نے، انہیں قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء پڑھی، پھر تھوڑی دیر محصب میں سو رہے، اس کے بعد سوار ہو کر بیت اللہ تشریف لے گئے اور وہاں طواف زیارۃ عمرو بن حارث کے ساتھ کیا، اس روایت کی متابعت لیث نے کی ہے، ان سے خالد نے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔
حدثنا اصبغ بن الفرج، اخبرنا ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن قتادة، ان انس بن مالك رضى الله عنه حدثه ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى الظهر والعصر، والمغرب والعشاء، ثم رقد رقدة بالمحصب، ثم ركب الى البيت فطاف به. تابعه الليث حدثني خالد، عن سعيد، عن قتادة، ان انس بن مالك رضى الله عنه حدثه عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن قاسم نے، انہیں ان کے والد نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) حائضہ ہو گئیں تو میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تو یہ ہمیں روکیں گی، لوگوں نے کہا کہ انہوں نے طواف افاضہ کر لیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کوئی فکر نہیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها ان صفية بنت حيى، زوج النبي صلى الله عليه وسلم حاضت، فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " احابستنا هي ". قالوا انها قد افاضت. قال " فلا اذا
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد، عن ايوب، عن عكرمة، ان اهل المدينة، سالوا ابن عباس رضى الله عنهما عن امراة، طافت ثم حاضت، قال لهم تنفر. قالوا لا ناخذ بقولك وندع قول زيد. قال اذا قدمتم المدينة فسلوا. فقدموا المدينة فسالوا، فكان فيمن سالوا ام سليم، فذكرت حديث صفية. رواه خالد وقتادة عن عكرمة
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد، عن ايوب، عن عكرمة، ان اهل المدينة، سالوا ابن عباس رضى الله عنهما عن امراة، طافت ثم حاضت، قال لهم تنفر. قالوا لا ناخذ بقولك وندع قول زيد. قال اذا قدمتم المدينة فسلوا. فقدموا المدينة فسالوا، فكان فيمن سالوا ام سليم، فذكرت حديث صفية. رواه خالد وقتادة عن عكرمة
حدثنا مسلم، حدثنا وهيب، حدثنا ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال رخص للحايض ان تنفر اذا افاضت. قال وسمعت ابن عمر، يقول انها لا تنفر. ثم سمعته يقول بعد ان النبي صلى الله عليه وسلم رخص لهن
حدثنا مسلم، حدثنا وهيب، حدثنا ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال رخص للحايض ان تنفر اذا افاضت. قال وسمعت ابن عمر، يقول انها لا تنفر. ثم سمعته يقول بعد ان النبي صلى الله عليه وسلم رخص لهن
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہماری نیت حج کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ ) پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا اور مروہ کی سعی کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام نہیں کھولا کیونکہ آپ کے ساتھ قربانی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے اور دیگر اصحاب نے بھی طواف کیا اور جن کے ساتھ قربانی نہیں تھیں انہوں نے ( اس طواف و سعی کے بعد ) احرام کھول دیا لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئی تھیں، سب نے اپنے حج کے تمام مناسک ادا کر لیے تھے، پھر جب لیلۃ حصبہ یعنی روانگی کی رات آئی تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام ساتھی حج اور عمرہ دونوں کر کے جا رہے ہیں صرف میں عمرہ سے محروم ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے اچھا جب ہم آئے تھے تو تم ( حیض کی وجہ سے ) بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکی تھیں؟ میں نے کہا کہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم چلی جا اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ ( اور عمرہ کر ) ہم تمہارا فلاں جگہ انتظار کریں گے، چنانچہ میں اپنے بھائی ( عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ تنعیم گئی اور وہاں سے احرام باندھا۔ اسی طرح صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا بھی حائضہ ہو گئی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ازراہ محبت ) فرمایا «عقرى حلقى»، تو، تو ہمیں روک لے گی، کیا تو نے قربانی کے دن طواف زیارت نہیں کیا تھا؟ وہ بولیں کہ کیا تھا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کوئی حرج نہیں، چلی چلو۔ میں جب آپ تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے بالائی علاقہ پر چڑھ رہے تھے اور میں اتر رہی تھی یا یہ کہا کہ میں چڑھ رہی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتر رہے تھے۔ مسدد کی روایت میں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر ) ہاں کے بجائے نہیں ہے، اس کی متابعت جریر نے منصور کے واسطہ سے ”نہیں“ کے ذکر میں کی ہے۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا ابو عوانة، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها قالت خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ولا نرى الا الحج، فقدم النبي صلى الله عليه وسلم فطاف بالبيت وبين الصفا والمروة، ولم يحل وكان معه الهدى، فطاف من كان معه من نسايه واصحابه، وحل منهم من لم يكن معه الهدى، فحاضت هي، فنسكنا مناسكنا من حجنا، فلما كان ليلة الحصبة ليلة النفر، قالت يا رسول الله كل اصحابك يرجع بحج وعمرة غيري. قال " ما كنت تطوفي بالبيت ليالي قدمنا ". قلت لا. قال " فاخرجي مع اخيك الى التنعيم فاهلي بعمرة، وموعدك مكان كذا وكذا ". فخرجت مع عبد الرحمن الى التنعيم، فاهللت بعمرة، وحاضت صفية بنت حيى، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " عقرى حلقى، انك لحابستنا، اما كنت طفت يوم النحر ". قالت بلى. قال " فلا باس. انفري ". فلقيته مصعدا على اهل مكة، وانا منهبطة، او انا مصعدة، وهو منهبط. وقال مسدد قلت لا. تابعه جرير عن منصور في قوله لا
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحٰق بن یوسف نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا، مجھے وہ حدیث بتائے جو آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد ہو کہ انہوں نے آٹھویں ذی الحجہ کے دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی، انہوں نے کہا منیٰ میں، میں نے پوچھا اور روانگی کے دن عصر کہاں پڑھی تھی انہوں نے فرمایا کہ ابطح میں اور تم اسی طرح کرو جس طرح تمہارے حاکم لوگ کرتے ہوں۔ ( تاکہ فتنہ واقع نہ ہو ) ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا اسحاق بن يوسف، حدثنا سفيان الثوري، عن عبد العزيز بن رفيع، قال سالت انس بن مالك اخبرني بشىء، عقلته عن النبي صلى الله عليه وسلم اين صلى الظهر يوم التروية قال بمنى. قلت فاين صلى العصر يوم النفر قال بالابطح. افعل كما يفعل امراوك
ہم سے عبدالمتعال بن طالب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ظہر، عصر، مغرب، عشاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی اور تھوڑی دیر کے لیے محصب میں سو رہے، پھر بیت اللہ کی طرف سوار ہو کر گئے اور طواف کیا۔ ( یہاں طواف الزیارۃ مراد ہے ) ۔
حدثنا عبد المتعال بن طالب، حدثنا ابن وهب، قال اخبرني عمرو بن الحارث، ان قتادة، حدثه عن انس بن مالك رضى الله عنه حدثه عن النبي صلى الله عليه وسلم انه صلى الظهر والعصر، والمغرب والعشاء، ورقد رقدة بالمحصب، ثم ركب الى البيت فطاف به
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ سے کوچ کر کے یہاں محصب میں اس لیے اترے تھے تاکہ آسانی کے ساتھ مدینہ کو نکل سکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ابطح میں اترنے سے تھی۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت انما كان منزل ينزله النبي صلى الله عليه وسلم ليكون اسمح لخروجه. يعني بالابطح
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ محصب میں اترنا حج کی کوئی عبادت نہیں ہے، یہ تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کی جگہ تھی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال عمرو عن عطاء، عن ابن عباس رضى الله عنهما ليس التحصيب بشىء، انما هو منزل نزله رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوضمرہ انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مکہ جاتے وقت ذی طویٰ کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان رات گزارتے تھے اور پھر اس پہاڑی سے ہو کر گزرتے جو مکہ کے اوپر کی طرف ہے اور جب مکہ میں حج یا عمرہ کا احرام باندھنے آتے تو اپنی اونٹنی مسجد کے دروازہ پر لا کر بٹھاتے پھر حجر اسود کے پاس آتے اور یہیں سے طواف شروع کرتے، طواف سات چکروں میں ختم ہوتا جس کے شروع میں رمل کرتے اور چار میں معمول کے مطابق چلتے، طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے پھر ڈیرہ پر واپس ہونے سے پہلے صفا اور مروہ کی دوڑ کرتے۔ جب حج یا عمرہ کر کے مدینہ واپس ہوتے تو ذو الحلیفہ کے میدان میں سواری بٹھاتے، جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ( مکہ سے مدینہ واپس ہوتے ہوئے ) اپنی سواری بٹھایا کرتے تھے۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا ابو ضمرة، حدثنا موسى بن عقبة، عن نافع، ان ابن عمر رضى الله عنهما كان يبيت بذي طوى بين الثنيتين، ثم يدخل من الثنية التي باعلى مكة، وكان اذا قدم مكة حاجا او معتمرا لم ينخ ناقته الا عند باب المسجد، ثم يدخل فياتي الركن الاسود فيبدا به، ثم يطوف سبعا ثلاثا سعيا، واربعا مشيا، ثم ينصرف فيصلي سجدتين، ثم ينطلق قبل ان يرجع الى منزله، فيطوف بين الصفا والمروة، وكان اذا صدر عن الحج او العمرة اناخ بالبطحاء التي بذي الحليفة التي كان النبي صلى الله عليه وسلم ينيخ بها
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ عبیداللہ سے محصب کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے نافع سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم نے محصب میں قیام فرمایا تھا۔ نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما محصب میں ظہر اور عصر پڑھتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے مغرب ( پڑھنے کا بھی ) ذکر کیا، خالد نے بیان کیا کہ عشاء میں مجھے کوئی شک نہیں۔ اس کے پڑھنے کا ذکر ضرور کیا پھر تھوڑی دیر کے لیے وہاں سو رہتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ایسا ہی مذکور ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا خالد بن الحارث، قال سيل عبيد الله عن المحصب، فحدثنا عبيد الله، عن نافع،، قال نزل بها رسول الله صلى الله عليه وسلم وعمر وابن عمر. وعن نافع ان ابن عمر رضى الله عنهما كان يصلي بها يعني المحصب الظهر والعصر احسبه قال والمغرب. قال خالد لا اشك في العشاء، ويهجع هجعة، ويذكر ذلك عن النبي صلى الله عليه وسلم
اور محمد بن عیسیٰ نے کہا کہ ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب مدینہ سے مکہ آتے تو ذی طویٰ میں رات گزارتے اور جب صبح صادق ہوتی تو مکہ میں داخل ہوتے۔ اسی طرح مکہ سے واپسی میں بھی ذی طویٰ سے گزرتے اور وہیں رات گزارتے اور فرماتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔
وقال محمد بن عيسى حدثنا حماد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما انه كان اذا اقبل بات بذي طوى، حتى اذا اصبح دخل، واذا نفر مر بذي طوى وبات بها حتى يصبح، وكان يذكر ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يفعل ذلك
ہم سے عثمان بن ہیثم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابن جریج نے خبر دی، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ذوالمجاز اور عکاظ عہد جاہلیت کے بازار تھے جب اسلام آیا تو گویا لوگوں نے ( جاہلیت کے ان بازاروں میں ) خرید و فروخت کو برا خیال کیا اس پر ( سورۃ البقرہ کی ) یہ آیت نازل ہوئی ”تمہارے لیے کوئی حرج نہیں اگر تم اپنے رب کے فضل کی تلاش کرو، یہ حج کے زمانہ کے لیے تھا۔
حدثنا عثمان بن الهيثم، اخبرنا ابن جريج، قال عمرو بن دينار قال ابن عباس رضى الله عنهما كان ذو المجاز وعكاظ متجر الناس في الجاهلية، فلما جاء الاسلام كانهم كرهوا ذلك حتى نزلت {ليس عليكم جناح ان تبتغوا فضلا من ربكم} في مواسم الحج
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثني ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها قالت حاضت صفية ليلة النفر، فقالت ما اراني الا حابستكم. قال النبي صلى الله عليه وسلم " عقرى حلقى اطافت يوم النحر ". قيل نعم. قال " فانفري ". قال ابو عبد الله وزادني محمد حدثنا محاضر، حدثنا الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لا نذكر الا الحج، فلما قدمنا امرنا ان نحل، فلما كانت ليلة النفر حاضت صفية بنت حيى، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " حلقى عقرى، ما اراها الا حابستكم ". ثم قال " كنت طفت يوم النحر ". قالت نعم. قال " فانفري ". قلت يا رسول الله. اني لم اكن حللت. قال " فاعتمري من التنعيم ". فخرج معها اخوها، فلقيناه مدلجا. فقال " موعدك مكان كذا وكذا
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثني ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها قالت حاضت صفية ليلة النفر، فقالت ما اراني الا حابستكم. قال النبي صلى الله عليه وسلم " عقرى حلقى اطافت يوم النحر ". قيل نعم. قال " فانفري ". قال ابو عبد الله وزادني محمد حدثنا محاضر، حدثنا الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لا نذكر الا الحج، فلما قدمنا امرنا ان نحل، فلما كانت ليلة النفر حاضت صفية بنت حيى، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " حلقى عقرى، ما اراها الا حابستكم ". ثم قال " كنت طفت يوم النحر ". قالت نعم. قال " فانفري ". قلت يا رسول الله. اني لم اكن حللت. قال " فاعتمري من التنعيم ". فخرج معها اخوها، فلقيناه مدلجا. فقال " موعدك مكان كذا وكذا