Loading...

Loading...
کتب
۶۸ احادیث
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عراک بن مالک نے، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی پھر رات کو اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہجد کی آٹھ رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتیں صبح کی اذان و اقامت کے درمیان پڑھیں جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی نہیں چھوڑتے تھے ( فجر کی سنتوں پر مداومت ثابت ہوئی ) ۔
حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثنا سعيد هو ابن ابي ايوب قال حدثني جعفر بن ربيعة، عن عراك بن مالك، عن ابي سلمة، عن عايشة رضى الله عنها قالت صلى النبي صلى الله عليه وسلم العشاء ثم صلى ثمان ركعات وركعتين جالسا وركعتين بين النداءين، ولم يكن يدعهما ابدا
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوالاسود محمد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اور ان سے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو سنت رکعتیں پڑھنے کے بعد دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے۔
حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثنا سعيد بن ابي ايوب، قال حدثني ابو الاسود، عن عروة بن الزبير، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا صلى ركعتى الفجر اضطجع على شقه الايمن
ہم سے بشر بن حکم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سالم ابوالنضر نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی سنتیں پڑھ چکتے تو اگر میں جاگتی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے باتیں کرتے ورنہ لیٹ جاتے جب تک نماز کی اذان ہوتی۔
حدثنا بشر بن الحكم، حدثنا سفيان، قال حدثني سالم ابو النضر، عن ابي سلمة، عن عايشة رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا صلى {سنة الفجر} فان كنت مستيقظة حدثني والا اضطجع حتى يوذن بالصلاة
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابوالنضر سالم نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ ابوامیہ نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعت ( فجر کی سنت ) پڑھ چکتے تو اس وقت اگر میں جاگتی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے باتیں کرتے ورنہ لیٹ جاتے۔ میں نے سفیان سے کہا کہ بعض راوی فجر کی دو رکعتیں اسے بتاتے ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں یہ وہی ہیں۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال ابو النضر عن ابي سلمة، عن عايشة رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي ركعتين فان كنت مستيقظة حدثني والا اضطجع. قلت لسفيان فان بعضهم يرويه ركعتى الفجر. قال سفيان هو ذاك
ہم سے بیان بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے عطاء نے بیان کیا، ان سے عبید بن عمیر نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی نفل نماز کی فجر کی دو رکعتوں سے زیادہ پابندی نہیں کرتے تھے۔
حدثنا بيان بن عمرو، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ابن جريج، عن عطاء، عن عبيد بن عمير، عن عايشة رضى الله عنها قالت لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم على شىء من النوافل اشد منه تعاهدا على ركعتى الفجر
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بالليل ثلاث عشرة ركعة، ثم يصلي اذا سمع النداء بالصبح ركعتين خفيفتين
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ان کی پھوپھی عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( دوسری سند ) اور ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن نے، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی ( فرض ) نماز سے پہلے کی دو ( سنت ) رکعتوں کو بہت مختصر رکھتے تھے۔ آپ نے ان میں سورۃ فاتحہ بھی پڑھی یا نہیں میں یہ بھی نہیں کہہ سکتی۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن محمد بن عبد الرحمن، عن عمته، عمرة عن عايشة رضى الله عنها قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم ح وحدثنا احمد بن يونس حدثنا زهير حدثنا يحيى هو ابن سعيد عن محمد بن عبد الرحمن عن عمرة عن عايشة رضى الله عنها قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يخفف الركعتين اللتين قبل صلاة الصبح حتى اني لاقول هل قرا بام الكتاب
حدثنا قتيبة، قال حدثنا عبد الرحمن بن ابي الموالي، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الامور كما يعلمنا السورة من القران يقول " اذا هم احدكم بالامر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل اللهم اني استخيرك بعلمك واستقدرك بقدرتك، واسالك من فضلك العظيم، فانك تقدر ولا اقدر وتعلم ولا اعلم وانت علام الغيوب، اللهم ان كنت تعلم ان هذا الامر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة امري او قال عاجل امري واجله فاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فيه، وان كنت تعلم ان هذا الامر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة امري او قال في عاجل امري واجله فاصرفه عني واصرفني عنه، واقدر لي الخير حيث كان ثم ارضني به قال ويسمي حاجته
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن سعید نے، ان سے عامر بن عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا، انہوں نے عمرو بن سلیم زرقی سے، انہوں نے ابوقتادہ بن ربعی انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی تم میں سے مسجد میں آئے تو نہ بیٹھے جب تک دو رکعت ( تحیۃ المسجد کی ) نہ پڑھ لے۔
حدثنا المكي بن ابراهيم، عن عبد الله بن سعيد، عن عامر بن عبد الله بن الزبير، عن عمرو بن سليم الزرقي، سمع ابا قتادة بن ربعي الانصاري رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا دخل احدكم المسجد فلا يجلس حتى يصلي ركعتين
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہمارے گھر میں جب دعوت میں آئے تھے ) دو رکعت نماز پڑھائی اور پھر واپس تشریف لے گئے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتين ثم انصرف
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے عقیل سے بیان کیا، عقیل سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، آپ نے بتلایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھی اور ظہر کے بعد دو رکعت اور جمعہ کے بعد دو رکعت اور مغرب کے بعد دو رکعت اور عشاء کے بعد بھی دو رکعت ( نماز سنت ) پڑھی ہے۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني سالم، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتين قبل الظهر، وركعتين بعد الظهر، وركعتين بعد الجمعة، وركعتين بعد المغرب، وركعتين بعد العشاء
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی، انہیں عمرو بن دینار نے خبر دی، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص بھی ( مسجد میں ) آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو یا خطبہ کے لیے نکل چکا ہو تو وہ دو رکعت نماز ( تحیۃ المسجد کی ) پڑھ لے۔
حدثنا ادم، قال اخبرنا شعبة، اخبرنا عمرو بن دينار، قال سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يخطب " اذا جاء احدكم والامام يخطب او قد خرج فليصل ركعتين
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سیف بن سلیمان نے بیان کیا کہ میں نے مجاہد سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ( مکہ شریف میں ) اپنے گھر آئے۔ کسی نے کہا بیٹھے کیا ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ آ گئے بلکہ کعبہ کے اندر بھی تشریف لے جا چکے ہیں۔ عبداللہ نے کہا یہ سن کر میں آیا۔ دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ سے باہر نکل چکے ہیں اور بلال رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اے بلال! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا کہ ہاں پڑھی تھی۔ میں نے پوچھا کہ کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ یہاں ان دو ستونوں کے درمیان۔ پھر آپ باہر تشریف لائے اور دو رکعتیں کعبہ کے دروازے کے سامنے پڑھیں اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی دو رکعتوں کی وصیت کی تھی اور عتبان نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما صبح دن چڑھے میرے گھر تشریف لائے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنا لی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا سيف بن سليمان المكي، سمعت مجاهدا، يقول اتي ابن عمر رضى الله عنهما في منزله فقيل له هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم قد دخل الكعبة قال فاقبلت فاجد رسول الله صلى الله عليه وسلم قد خرج، واجد بلالا عند الباب قايما فقلت يا بلال، صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في الكعبة قال نعم. قلت فاين قال بين هاتين الاسطوانتين. ثم خرج فصلى ركعتين في وجه الكعبة. قال ابو عبد الله قال ابو هريرة رضى الله عنه اوصاني النبي صلى الله عليه وسلم بركعتى الضحى. وقال عتبان غدا على رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر رضى الله عنه بعد ما امتد النهار وصففنا وراءه فركع ركعتين
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبيد الله، قال اخبرنا نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم سجدتين قبل الظهر، وسجدتين بعد الظهر، وسجدتين بعد المغرب، وسجدتين بعد العشاء، وسجدتين بعد الجمعة، فاما المغرب والعشاء ففي بيته. قال ابن ابي الزناد عن موسى بن عقبة عن نافع بعد العشاء في اهله. تابعه كثير بن فرقد وايوب عن نافع. وحدثتني اختي، حفصة ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي سجدتين خفيفتين بعد ما يطلع الفجر، وكانت ساعة لا ادخل على النبي صلى الله عليه وسلم فيها. تابعه كثير بن فرقد وايوب عن نافع. وقال ابن ابي الزناد عن موسى بن عقبة عن نافع بعد العشاء في اهله
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبيد الله، قال اخبرنا نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم سجدتين قبل الظهر، وسجدتين بعد الظهر، وسجدتين بعد المغرب، وسجدتين بعد العشاء، وسجدتين بعد الجمعة، فاما المغرب والعشاء ففي بيته. قال ابن ابي الزناد عن موسى بن عقبة عن نافع بعد العشاء في اهله. تابعه كثير بن فرقد وايوب عن نافع. وحدثتني اختي، حفصة ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي سجدتين خفيفتين بعد ما يطلع الفجر، وكانت ساعة لا ادخل على النبي صلى الله عليه وسلم فيها. تابعه كثير بن فرقد وايوب عن نافع. وقال ابن ابي الزناد عن موسى بن عقبة عن نافع بعد العشاء في اهله
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوالشعثاء جابر بن عبداللہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعت ایک ساتھ ( ظہر اور عصر ) اور سات رکعت ایک ساتھ ( مغرب اور عشاء ملا کر ) پڑھیں۔ ( بیچ میں سنت وغیرہ کچھ نہیں ) ابوالشعثاء سے میں نے کہا میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر آخر وقت میں اور عصر اول وقت میں پڑھی ہو گی۔ اسی طرح مغرب آخر وقت میں پڑھی ہو گی اور عشاء اول وقت میں۔ ابوالشعثاء نے کہا کہ میرا بھی یہی خیال ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا سفيان، عن عمرو، قال سمعت ابا الشعثاء، جابرا قال سمعت ابن عباس رضى الله عنه قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثمانيا جميعا وسبعا جميعا. قلت يا ابا الشعثاء اظنه اخر الظهر وعجل العصر وعجل العشاء واخر المغرب. قال وانا اظنه
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے توبہ بن کیسان نے، ان سے مورق بن مشمرج نے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا اور عمر پڑھتے تھے؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ؟ فرمایا نہیں۔ میں نے پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فرمایا نہیں۔ میرا خیال یہی ہے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن شعبة، عن توبة، عن مورق، قال قلت لابن عمر رضى الله عنهما اتصلي الضحى قال لا. قلت فعمر. قال لا. قلت فابو بكر. قال لا. قلت فالنبي صلى الله عليه وسلم قال لا اخاله
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلی سے سنا، وہ کہتے تھے کہ مجھ سے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے سوا کسی ( صحابی ) نے یہ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ صرف ام ہانی رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور پھر آٹھ رکعت ( چاشت کی ) نماز پڑھی۔ تو میں نے ایسی ہلکی پھلکی نماز کبھی نہیں دیکھی۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ پوری طرح ادا کرتے تھے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا عمرو بن مرة، قال سمعت عبد الرحمن بن ابي ليلى، يقول ما حدثنا احد، انه راى النبي صلى الله عليه وسلم يصلي الضحى غير ام هاني فانها قالت ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل بيتها يوم فتح مكة فاغتسل وصلى ثماني ركعات فلم ار صلاة قط اخف منها، غير انه يتم الركوع والسجود
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے، ان سے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا مگر میں خود پڑھتی ہوں۔
حدثنا ادم، قال حدثنا ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم سبح سبحة الضحى، واني لاسبحها
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں شعبہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے عباس جریری نے جو فروخ کے بیٹے تھے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے میرے جانی دوست ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے کہ موت سے پہلے ان کو نہ چھوڑوں۔ ہر مہینہ میں تین دن روزے۔ چاشت کی نماز اور وتر پڑھ کر سونا۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، اخبرنا شعبة، حدثنا عباس الجريري هو ابن فروخ عن ابي عثمان النهدي، عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال اوصاني خليلي بثلاث لا ادعهن حتى اموت صوم ثلاثة ايام من كل شهر، وصلاة الضحى، ونوم على وتر