Loading...

Loading...
کتب
۶۸ احادیث
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں اسرائیل نے خبر دی، انہیں ابوحصین عثمان بن عاصم نے، انہیں یحییٰ بن وثاب نے، انہیں مسروق بن اجدع نے، آپ نے کہا کہ میں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سات، نو اور گیارہ تک رکعتیں پڑھتے تھے۔ فجر کی سنت اس کے سوا ہوتی۔
حدثنا اسحاق، قال حدثنا عبيد الله، قال اخبرنا اسراييل، عن ابي حصين، عن يحيى بن وثاب، عن مسروق، قال سالت عايشة رضى الله عنها عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم بالليل. فقالت سبع وتسع واحدى عشرة سوى ركعتى الفجر
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں حنظلہ بن ابی سفیان نے خبر دی، انہیں قاسم بن محمد نے اور انہیں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے، آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ وتر اور فجر کی دو سنت رکعتیں اسی میں ہوتیں۔
حدثنا عبيد الله بن موسى، قال اخبرنا حنظلة، عن القاسم بن محمد، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة منها الوتر وركعتا الفجر
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینہ میں روزہ نہ رکھتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینہ میں روزہ ہی نہیں رکھیں گے اور اگر کسی مہینہ میں روزہ رکھنا شروع کرتے تو خیال ہوتا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس مہینہ کا ایک دن بھی بغیر روزہ کے نہیں رہ جائے گا اور رات کو نماز تو ایسی پڑھتے تھے کہ تم جب چاہتے آپ کو نماز پڑھتے دیکھ لیتے اور جب چاہتے سوتا دیکھ لیتے۔ محمد بن جعفر کے ساتھ اس حدیث کو سلیمان اور ابوخالد نے بھی حمید سے روایت کیا ہے۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني محمد بن جعفر، عن حميد، انه سمع انسا رضى الله عنه يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفطر من الشهر حتى نظن ان لا يصوم منه، ويصوم حتى نظن ان لا يفطر منه شييا، وكان لا تشاء ان تراه من الليل مصليا الا رايته ولا نايما الا رايته. تابعه سليمان وابو خالد الاحمر عن حميد
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے، انہیں اعرج نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ افسوں پھونک دیتا ہے کہ سو جا ابھی رات بہت باقی ہے پھر اگر کوئی بیدار ہو کر اللہ کی یاد کرنے لگا تو ایک گرہ کھل جاتی ہے پھر جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر اگر نماز ( فرض یا نفل ) پڑھے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ اس طرح صبح کے وقت آدمی چاق و چوبند خوش مزاج رہتا ہے۔ ورنہ سست اور بدباطن رہتا ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يعقد الشيطان على قافية راس احدكم اذا هو نام ثلاث عقد، يضرب كل عقدة عليك ليل طويل فارقد، فان استيقظ فذكر الله انحلت عقدة، فان توضا انحلت عقدة، فان صلى انحلت عقدة فاصبح نشيطا طيب النفس، والا اصبح خبيث النفس كسلان
ہم سے مؤمل بن ہشام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عوف اعرابی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابورجاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا وہ قرآن کا حافظ تھا مگر وہ قرآن سے غافل ہو گیا اور فرض نماز پڑھے بغیر سو جایا کرتا تھا۔
حدثنا مومل بن هشام، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثنا عوف، قال حدثنا ابو رجاء، قال حدثنا سمرة بن جندب رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم في الرويا قال " اما الذي يثلغ راسه بالحجر فانه ياخذ القران فيرفضه وينام عن الصلاة المكتوبة
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوالاحوص سلام بن سلیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے منصور بن معتمر نے ابووائل سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر آیا کہ وہ صبح تک پڑا سوتا رہا اور فرض نماز کے لیے بھی نہیں اٹھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کر دیا ہے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا ابو الاحوص، قال حدثنا منصور، عن ابي وايل، عن عبد الله رضى الله عنه قال ذكر عند النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقيل ما زال نايما حتى اصبح ما قام الى الصلاة. فقال " بال الشيطان في اذنه
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان نے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ عبدالرحمٰن اور ابوعبداللہ اغر نے اور ان دونوں حضرات سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، وابي عبد الله الاغر، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ينزل ربنا تبارك وتعالى كل ليلة الى السماء الدنيا حين يبقى ثلث الليل الاخر يقول من يدعوني فاستجيب له من يسالني فاعطيه من يستغفرني فاغفر له
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، (دوسری سند) اور مجھ سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق عمرو بن عبداللہ نے، ان سے اسود بن یزید نے، انہوں نے بتلایا کہ میں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز کیونکر پڑھتے تھے؟ آپ نے بتلایا کہ شروع رات میں سو رہتے اور آخر رات میں بیدار ہو کر تہجد کی نماز پڑھتے۔ اس کے بعد بستر پر آ جاتے اور جب مؤذن اذان دیتا تو جلدی سے اٹھ بیٹھتے۔ اگر غسل کی ضرورت ہوتی تو غسل کرتے ورنہ وضو کر کے باہر تشریف لے جاتے۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة،. وحدثني سليمان، قال حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن الاسود، قال سالت عايشة رضى الله عنها كيف صلاة النبي صلى الله عليه وسلم بالليل قالت كان ينام اوله ويقوم اخره، فيصلي ثم يرجع الى فراشه، فاذا اذن الموذن وثب، فان كان به حاجة اغتسل، والا توضا وخرج
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں سعید بن ابوسعید مقبری نے خبر دی، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں ( رات کو ) کتنی رکعتیں پڑھتے تھے۔ آپ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( رات میں ) گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ خواہ رمضان کا مہینہ ہوتا یا کوئی اور۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت پڑھتے۔ ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت اور پڑھتے ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے ہی سو جاتے ہیں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، انه اخبره انه، سال عايشة رضى الله عنها كيف كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان فقالت ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزيد في رمضان ولا في غيره على احدى عشرة ركعة، يصلي اربعا فلا تسل عن حسنهن وطولهن، ثم يصلي اربعا فلا تسل عن حسنهن وطولهن، ثم يصلي ثلاثا، قالت عايشة فقلت يا رسول الله اتنام قبل ان توتر. فقال " يا عايشة، ان عينى تنامان ولا ينام قلبي
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا کہ مجھے میرے باپ عروہ نے خبر دی کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی کسی نماز میں بیٹھ کر قرآن پڑھتے نہیں دیکھا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے تو بیٹھ کر قرآن پڑھتے تھے لیکن جب تیس چالیس آیتیں رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے پھر اس کو پڑھ کر رکوع کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى بن سعيد، عن هشام، قال اخبرني ابي، عن عايشة رضى الله عنها قالت ما رايت النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في شىء من صلاة الليل جالسا، حتى اذا كبر قرا جالسا، فاذا بقي عليه من السورة ثلاثون او اربعون اية قام فقراهن ثم ركع
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ حماد بن اسابہ نے بیان کیا، ان سے ابوحیان یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابوزرعہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فجر کے وقت پوچھا کہ اے بلال! مجھے اپنا سب سے زیادہ امید والا نیک کام بتاؤ جسے تم نے اسلام لانے کے بعد کیا ہے کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے جوتوں کی چاپ سنی ہے۔ بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نے تو اپنے نزدیک اس سے زیادہ امید کا کوئی کام نہیں کیا کہ جب میں نے رات یا دن میں کسی وقت بھی وضو کیا تو میں اس وضو سے نفل نماز پڑھتا رہتا جتنی میری تقدیر لکھی گئی تھی۔
حدثنا اسحاق بن نصر، حدثنا ابو اسامة، عن ابي حيان، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لبلال عند صلاة الفجر " يا بلال حدثني بارجى عمل عملته في الاسلام، فاني سمعت دف نعليك بين يدى في الجنة ". قال ما عملت عملا ارجى عندي اني لم اتطهر طهورا في ساعة ليل او نهار الا صليت بذلك الطهور ما كتب لي ان اصلي. قال ابو عبد الله دف نعليك يعني تحريك
ہم سے ابو معمرعبداللہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک رسی پر پڑی جو دو ستونوں کے درمیان تنی ہوئی تھی۔ دریافت فرمایا کہ یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے عرض کی کہ یہ زینب رضی اللہ عنہا نے باندھی ہے جب وہ ( نماز میں کھڑی کھڑی ) تھک جاتی ہیں تو اس سے لٹکی رہتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں یہ رسی نہیں ہونی چاہیے اسے کھول ڈالو، تم میں ہر شخص کو چاہیے جب تک دل لگے نماز پڑھے، تھک جائے تو بیٹھ جائے۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال دخل النبي صلى الله عليه وسلم فاذا حبل ممدود بين الساريتين فقال " ما هذا الحبل ". قالوا هذا حبل لزينب فاذا فترت تعلقت. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا، حلوه، ليصل احدكم نشاطه، فاذا فتر فليقعد
اور امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے مالک رحمہ اللہ نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میرے پاس بنو اسد کی ایک عورت بیٹھی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان کے متعلق پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ میں نے کہا کہ یہ فلاں خاتون ہیں جو رات بھر نہیں سوتیں۔ ان کی نماز کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا گیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بس تمہیں صرف اتنا ہی عمل کرنا چاہیے جتنے کی تم میں طاقت ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ( ثواب دینے سے ) تھکتا ہی نہیں تم ہی عمل کرتے کرتے تھک جاؤ گے۔
قال وقال عبد الله بن مسلمة عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت كانت عندي امراة من بني اسد فدخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " من هذه ". قلت فلانة لا تنام بالليل. فذكر من صلاتها فقال " مه عليكم ما تطيقون من الاعمال، فان الله لا يمل حتى تملوا
ہم سے عباس بن حسین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مبشر بن اسماعیل حلبی نے، اوزاعی سے بیان کیا (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں امام اوزاعی نے خبر دی کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبداللہ! فلاں کی طرح نہ ہو جانا وہ رات میں عبادت کیا کرتا تھا پھر چھوڑ دی۔ اور ہشام بن عمار نے کہا کہ ہم سے عبدالحمید بن ابوالعشرین نے بیان کیا، ان سے امام اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن حکم بن ثوبان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے، اسی طرح پھر یہی حدیث بیان کی، ابن ابی العشرین کی طرح عمرو بن ابی سلمہ نے بھی اس کو امام اوزاعی سے روایت کیا۔
حدثنا عباس بن الحسين، حدثنا مبشر، عن الاوزاعي،. وحدثني محمد بن مقاتل ابو الحسن، قال اخبرنا عبد الله، اخبرنا الاوزاعي، قال حدثني يحيى بن ابي كثير، قال حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، قال حدثني عبد الله بن عمرو بن العاص رضى الله عنهما قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا عبد الله، لا تكن مثل فلان، كان يقوم الليل فترك قيام الليل ". وقال هشام حدثنا ابن ابي العشرين، حدثنا الاوزاعي، قال حدثني يحيى، عن عمر بن الحكم بن ثوبان، قال حدثني ابو سلمة، مثله. وتابعه عمرو بن ابي سلمة عن الاوزاعي،
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابو العباس سائب بن فروخ نے کہا میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تم رات بھر عبادت کرتے ہو اور پھر دن میں روزے رکھتے ہو؟ میں نے کہا کہ جی ہاں، یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لیکن اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری آنکھیں ( بیداری کی وجہ سے ) بیٹھ جائیں گی اور تیری جان ناتواں ہو جائے گی۔ یہ جان لو کہ تم پر تمہارے نفس کا بھی حق ہے اور بیوی بچوں کا بھی۔ اس لیے کبھی روزہ بھی رکھو اور کبھی بلا روزے کے بھی رہو، عبادت بھی کرو اور سوؤ بھی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن ابي العباس، قال سمعت عبد الله بن عمرو رضى الله عنهما قال لي النبي صلى الله عليه وسلم " الم اخبر انك تقوم الليل وتصوم النهار " قلت اني افعل ذلك. قال " فانك اذا فعلت ذلك هجمت عينك ونفهت نفسك، وان لنفسك حق، ولاهلك حق، فصم وافطر، وقم ونم
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ولید بن مسلم نے امام اوزاعی سے خبر دی، کہا کہ مجھ کو عمیر بن ہانی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبادہ بن صامت نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو بیدار ہو کر یہ دعا پڑھے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير. الحمد لله، وسبحان الله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله» ( ترجمہ ) ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ملک اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کی ذات پاک ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی کو گناہوں سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی ہمت“ پھر یہ پڑھے «اللهم اغفر لي» ( ترجمہ ) اے اللہ! میری مغفرت فرما“۔ یا ( یہ کہا کہ ) کوئی دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ پھر اگر اس نے وضو کیا ( اور نماز پڑھی ) تو نماز بھی مقبول ہوتی ہے۔
حدثنا صدقة بن الفضل، اخبرنا الوليد، عن الاوزاعي، قال حدثني عمير بن هاني، قال حدثني جنادة بن ابي امية، حدثني عبادة بن الصامت، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من تعار من الليل فقال لا اله الا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير. الحمد لله، وسبحان الله، ولا اله الا الله، والله اكبر، ولا حول ولا قوة الا بالله. ثم قال اللهم اغفر لي. او دعا استجيب، فان توضا وصلى قبلت صلاته
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ مجھ کو ہیثم بن ابی سنان نے خبر دی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ اپنے وعظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کر رہے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارے بھائی نے ( اپنے نعتیہ اشعار میں ) یہ کوئی غلط بات نہیں کہی۔ آپ کی مراد عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اشعار سے تھی جن کا ترجمہ یہ ہے: ”ہم میں اللہ کے رسول موجود ہیں، جو اس کی کتاب اس وقت ہمیں سناتے ہیں جب فجر طلوع ہوتی ہے۔ ہم تو اندھے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گمراہی سے نکال کر صحیح راستہ دکھایا۔ ان کی باتیں اسی قدر یقینی ہیں جو ہمارے دلوں کے اندر جا کر بیٹھ جاتی ہیں اور جو کچھ آپ نے فرمایا وہ ضرور واقع ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات بستر سے اپنے کو الگ کر کے گزارتے ہیں جبکہ مشرکوں سے ان کے بستر بوجھل ہو رہے ہوتے ہیں“۔ یونس کی طرح اس حدیث کو عقیل نے بھی زہری سے روایت کیا اور زبیدی نے یوں کہا سعید بن مسیب اور اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، اخبرني الهيثم بن ابي سنان، انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه وهو يقصص في قصصه وهو يذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اخا لكم لا يقول الرفث. يعني بذلك عبد الله بن رواحة وفينا رسول الله يتلو كتابه اذا انشق معروف من الفجر ساطع ارانا الهدى بعد العمى فقلوبنا به موقنات ان ما قال واقع يبيت يجافي جنبه عن فراشه اذا استثقلت بالمشركين المضاجع تابعه عقيل. وقال الزبيدي اخبرني الزهري عن سعيد والاعرج عن ابي هريرة رضى الله عنه
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، رضى الله عنهما قال رايت على عهد النبي صلى الله عليه وسلم كان بيدي قطعة استبرق، فكاني لا اريد مكانا من الجنة الا طارت اليه، ورايت كان اثنين اتياني ارادا ان يذهبا بي الى النار فتلقاهما ملك فقال لم ترع خليا عنه. فقصت حفصة على النبي صلى الله عليه وسلم احدى روياى فقال النبي صلى الله عليه وسلم " نعم الرجل عبد الله لو كان يصلي من الليل ". فكان عبد الله رضى الله عنه يصلي من الليل. وكانوا لا يزالون يقصون على النبي صلى الله عليه وسلم الرويا انها في الليلة السابعة من العشر الاواخر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ارى روياكم قد تواطت في العشر الاواخر، فمن كان متحريها فليتحرها من العشر الاواخر
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، رضى الله عنهما قال رايت على عهد النبي صلى الله عليه وسلم كان بيدي قطعة استبرق، فكاني لا اريد مكانا من الجنة الا طارت اليه، ورايت كان اثنين اتياني ارادا ان يذهبا بي الى النار فتلقاهما ملك فقال لم ترع خليا عنه. فقصت حفصة على النبي صلى الله عليه وسلم احدى روياى فقال النبي صلى الله عليه وسلم " نعم الرجل عبد الله لو كان يصلي من الليل ". فكان عبد الله رضى الله عنه يصلي من الليل. وكانوا لا يزالون يقصون على النبي صلى الله عليه وسلم الرويا انها في الليلة السابعة من العشر الاواخر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ارى روياكم قد تواطت في العشر الاواخر، فمن كان متحريها فليتحرها من العشر الاواخر
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، رضى الله عنهما قال رايت على عهد النبي صلى الله عليه وسلم كان بيدي قطعة استبرق، فكاني لا اريد مكانا من الجنة الا طارت اليه، ورايت كان اثنين اتياني ارادا ان يذهبا بي الى النار فتلقاهما ملك فقال لم ترع خليا عنه. فقصت حفصة على النبي صلى الله عليه وسلم احدى روياى فقال النبي صلى الله عليه وسلم " نعم الرجل عبد الله لو كان يصلي من الليل ". فكان عبد الله رضى الله عنه يصلي من الليل. وكانوا لا يزالون يقصون على النبي صلى الله عليه وسلم الرويا انها في الليلة السابعة من العشر الاواخر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ارى روياكم قد تواطت في العشر الاواخر، فمن كان متحريها فليتحرها من العشر الاواخر