Loading...

Loading...
کتب
۶۸ احادیث
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سلیمان بن ابی مسلم نے بیان کیا، ان سے طاؤس نے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے۔ «اللهم لك الحمد أنت قيم السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد، لك ملك السموات والأرض ومن فيهن، ولك الحمد أنت نور السموات والأرض، ولك الحمد أنت الحق، ووعدك الحق، ولقاؤك حق، وقولك حق، والجنة حق، والنار حق، والنبيون حق، ومحمد صلى الله عليه وسلم حق، والساعة حق، اللهم لك أسلمت، وبك آمنت وعليك توكلت، وإليك أنبت، وبك خاصمت، وإليك حاكمت، فاغفر لي ما قدمت وما أخرت، وما أسررت وما أعلنت، أنت المقدم وأنت المؤخر، لا إله إلا أنت، لا إله غيرك» ( ترجمہ ) ”اے میرے اللہ! ہر طرح کی تعریف تیرے ہی لیے زیبا ہے، تو آسمان اور زمین اور ان میں رہنے والی تمام مخلوق کا سنبھالنے والا ہے اور حمد تمام کی تمام بس تیرے ہی لیے مناسب ہے آسمان اور زمین اور ان کی تمام مخلوقات پر حکومت صرف تیرے ہی لیے ہے اور تعریف تیرے ہی لیے ہے، تو آسمان اور زمین کا نور ہے اور تعریف تیرے ہی لیے زیبا ہے، تو سچا ہے، تیرا وعدہ سچا، تیری ملاقات سچی، تیرا فرمان سچا ہے، جنت سچ ہے، دوزخ سچ ہے، انبیاء سچے ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں اور قیامت کا ہونا سچ ہے۔ اے میرے اللہ! میں تیرا ہی فرماں بردار ہوں اور تجھی پر ایمان رکھتا ہوں، تجھی پر بھروسہ ہے، تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں، تیرے ہی عطا کئے ہوئے دلائل کے ذریعہ بحث کرتا ہوں اور تجھی کو حکم بناتا ہوں۔ پس جو خطائیں مجھ سے پہلے ہوئیں اور جو بعد میں ہوں گی ان سب کی مغفرت فرما، خواہ وہ ظاہر ہوئی ہوں یا پوشیدہ۔ آگے کرنے والا اور پیچھے رکھنے والا تو ہی ہے۔ معبود صرف تو ہی ہے۔ یا ( یہ کہا کہ ) تیرے سوا کوئی معبود نہیں“۔ ابوسفیان نے بیان کیا کہ عبدالکریم ابوامیہ نے اس دعا میں یہ زیادتی کی ہے ( «لا حول ولا قوة إلا بالله» ) سفیان نے بیان کیا کہ سلیمان بن مسلم نے طاؤس سے یہ حدیث سنی تھی، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا سليمان بن ابي مسلم، عن طاوس، سمع ابن عباس رضى الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا قام من الليل يتهجد قال " اللهم لك الحمد انت قيم السموات والارض ومن فيهن ولك الحمد، لك ملك السموات والارض ومن فيهن، ولك الحمد انت نور السموات والارض، ولك الحمد انت الحق، ووعدك الحق، ولقاوك حق، وقولك حق، والجنة حق، والنار حق، والنبيون حق، ومحمد صلى الله عليه وسلم حق، والساعة حق، اللهم لك اسلمت، وبك امنت وعليك توكلت، واليك انبت، وبك خاصمت، واليك حاكمت، فاغفر لي ما قدمت وما اخرت، وما اسررت وما اعلنت، انت المقدم وانت الموخر، لا اله الا انت او لا اله غيرك ". قال سفيان وزاد عبد الكريم ابو امية " ولا حول ولا قوة الا بالله ". قال سفيان قال سليمان بن ابي مسلم سمعه من طاوس عن ابن عباس رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم
حدثنا عبد الله بن محمد، قال حدثنا هشام، قال اخبرنا معمر،. وحدثني محمود، قال حدثنا عبد الرزاق، قال اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه رضى الله عنه قال كان الرجل في حياة النبي صلى الله عليه وسلم اذا راى رويا قصها على رسول الله صلى الله عليه وسلم فتمنيت ان ارى رويا فاقصها على رسول الله صلى الله عليه وسلم وكنت غلاما شابا، وكنت انام في المسجد على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فرايت في النوم كان ملكين اخذاني فذهبا بي الى النار فاذا هي مطوية كطى البير، واذا لها قرنان، واذا فيها اناس قد عرفتهم فجعلت اقول اعوذ بالله من النار قال فلقينا ملك اخر فقال لي لم ترع. فقصصتها على حفصة فقصتها حفصة على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " نعم الرجل عبد الله، لو كان يصلي من الليل ". فكان بعد لا ينام من الليل الا قليلا
حدثنا عبد الله بن محمد، قال حدثنا هشام، قال اخبرنا معمر،. وحدثني محمود، قال حدثنا عبد الرزاق، قال اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه رضى الله عنه قال كان الرجل في حياة النبي صلى الله عليه وسلم اذا راى رويا قصها على رسول الله صلى الله عليه وسلم فتمنيت ان ارى رويا فاقصها على رسول الله صلى الله عليه وسلم وكنت غلاما شابا، وكنت انام في المسجد على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فرايت في النوم كان ملكين اخذاني فذهبا بي الى النار فاذا هي مطوية كطى البير، واذا لها قرنان، واذا فيها اناس قد عرفتهم فجعلت اقول اعوذ بالله من النار قال فلقينا ملك اخر فقال لي لم ترع. فقصصتها على حفصة فقصتها حفصة على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " نعم الرجل عبد الله، لو كان يصلي من الليل ". فكان بعد لا ينام من الليل الا قليلا
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی اور انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( رات میں ) گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی نماز تھی۔ لیکن اس کے سجدے اتنے لمبے ہوا کرتے کہ تم میں سے کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اٹھانے سے قبل پچاس آیتیں پڑھ سکتا تھا ( اور طلوع فجر ہونے پر ) فجر کی نماز سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت سنت پڑھتے۔ اس کے بعد دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔ آخر مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے بلانے آتا۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عروة، ان عايشة رضى الله عنها اخبرته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي احدى عشرة ركعة، كانت تلك صلاته، يسجد السجدة من ذلك قدر ما يقرا احدكم خمسين اية قبل ان يرفع راسه، ويركع ركعتين قبل صلاة الفجر، ثم يضطجع على شقه الايمن حتى ياتيه المنادي للصلاة
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے اسود بن قیس سے بیان کیا، کہا کہ میں نے جندب رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ایک یا دو رات تک ( نماز کے لیے ) نہ اٹھ سکے۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا سفيان، عن الاسود، قال سمعت جندبا، يقول اشتكى النبي صلى الله عليه وسلم فلم يقم ليلة او ليلتين
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں سفیان ثوری نے اسود بن قیس سے خبر دی، ان سے جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام ( ایک مرتبہ چند دنوں تک ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( وحی لے کر ) نہیں آئے تو قریش کی ایک عورت ( ام جمیل ابولہب کی بیوی ) نے کہا کہ اب اس کے شیطان نے اس کے پاس آنے سے دیر لگائی۔ اس پر یہ سورت اتری «والضحى * والليل إذا سجى * ما ودعك ربك وما قلى» ۔
حدثنا محمد بن كثير، قال اخبرنا سفيان، عن الاسود بن قيس، عن جندب بن عبد الله رضى الله عنه قال احتبس جبريل صلى الله عليه وسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فقالت امراة من قريش ابطا عليه شيطانه. فنزلت {والضحى * والليل اذا سجى * ما ودعك ربك وما قلى}
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ہند بنت حارث نے اور انہیں ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات جاگے تو فرمایا سبحان اللہ! آج رات کیا کیا بلائیں اتری ہیں اور ساتھ ہی ( رحمت اور عنایت کے ) کیسے خزانے نازل ہوئے ہیں۔ ان حجرے والیوں ( ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہن ) کو کوئی جگانے والا ہے افسوس! کہ دنیا میں بہت سی کپڑے پہننے والی عورتیں آخرت میں ننگی ہوں گی۔
حدثنا ابن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن هند بنت الحارث، عن ام سلمة رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم استيقظ ليلة فقال " سبحان الله ماذا انزل الليلة من الفتنة، ماذا انزل من الخزاين من يوقظ صواحب الحجرات، يا رب كاسية في الدنيا عارية في الاخرة
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، کہا کہ مجھے زین العابدین علی بن حسین نے خبر دی، اور انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم لوگ ( تہجد کی ) نماز نہیں پڑھو گے؟ میں عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہماری روحیں اللہ کے قبضہ میں ہیں، جب وہ چاہے گا ہمیں اٹھا دے گا۔ ہماری اس عرض پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن واپس جاتے ہوئے میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ران پر ہاتھ مار کر ( سورۃ الکہف کی یہ آیت پڑھ رہے تھے ) آدمی سب سے زیادہ جھگڑالو ہے «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا» ۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني علي بن حسين، ان حسين بن علي، اخبره ان علي بن ابي طالب اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم طرقه وفاطمة بنت النبي عليه السلام ليلة فقال " الا تصليان ". فقلت يا رسول الله، انفسنا بيد الله، فاذا شاء ان يبعثنا بعثنا. فانصرف حين قلنا ذلك ولم يرجع الى شييا. ثم سمعته وهو مول يضرب فخذه وهو يقول "وكان الانسان اكثر شىء جدلا
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک نے ابن شہاب زہری سے بیان کیا، ان سے عروہ نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کام کو چھوڑ دیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا کرنا پسند ہوتا۔ اس خیال سے ترک کر دیتے کہ دوسرے صحابہ بھی اس پر ( آپ کو دیکھ کر ) عمل شروع کر دیں اور اس طرح وہ کام ان پر فرض ہو جائے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی لیکن میں پڑھتی ہوں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت ان كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليدع العمل وهو يحب ان يعمل به خشية ان يعمل به الناس فيفرض عليهم، وما سبح رسول الله صلى الله عليه وسلم سبحة الضحى قط، واني لاسبحها
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے، انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی۔ صحابہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ نماز پڑھی۔ دوسری رات بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز پڑھی تو نمازیوں کی تعداد بہت بڑھ گئی تیسری یا چوتھی رات تو پورا اجتماع ہی ہو گیا تھا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس رات نماز پڑھانے تشریف نہیں لائے۔ صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ جتنی بڑی تعداد میں جمع ہو گئے تھے۔ میں نے اسے دیکھا لیکن مجھے باہر آنے سے یہ خیال مانع رہا کہ کہیں تم پر یہ نماز فرض نہ ہو جائے۔ یہ رمضان کا واقعہ تھا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عايشة ام المومنين رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى ذات ليلة في المسجد فصلى بصلاته ناس، ثم صلى من القابلة فكثر الناس، ثم اجتمعوا من الليلة الثالثة او الرابعة، فلم يخرج اليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما اصبح قال " قد رايت الذي صنعتم ولم يمنعني من الخروج اليكم الا اني خشيت ان تفرض عليكم "، وذلك في رمضان
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے زیاد بن علاقہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم یا ( یہ کہا کہ ) پنڈلیوں پر ورم آ جاتا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ عرض کیا جاتا تو فرماتے ”کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں“۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا مسعر، عن زياد، قال سمعت المغيرة رضى الله عنه يقول ان كان النبي صلى الله عليه وسلم ليقوم ليصلي حتى ترم قدماه او ساقاه، فيقال له فيقول " افلا اكون عبدا شكورا
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ عمرو بن اوس نے انہیں خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ سب نمازوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ نماز داؤد علیہ السلام کی نماز ہے اور روزوں میں بھی داؤد علیہ السلام ہی کا روزہ۔ آپ آدھی رات تک سوتے، اس کے بعد تہائی رات نماز پڑھنے میں گزارتے۔ پھر رات کے چھٹے حصے میں بھی سو جاتے۔ اسی طرح آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا عمرو بن دينار، ان عمرو بن اوس، اخبره ان عبد الله بن عمرو بن العاص رضى الله عنهما اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له " احب الصلاة الى الله صلاة داود عليه السلام واحب الصيام الى الله صيام داود، وكان ينام نصف الليل ويقوم ثلثه وينام سدسه، ويصوم يوما ويفطر يوما
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے باپ عثمان بن جبلہ نے شعبہ سے خبر دی، انہیں اشعث نے۔ اشعث نے کہا کہ میں نے اپنے باپ (سلیم بن اسود) سے سنا اور میرے باپ نے مسروق سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا عمل زیادہ پسند تھا؟ آپ نے جواب دیا کہ جس پر ہمیشگی کی جائے ( خواہ وہ کوئی بھی نیک کام ہو ) میں نے دریافت کیا کہ آپ ( رات میں نماز کے لیے ) کب کھڑے ہوتے تھے؟ آپ نے فرمایا کہ جب مرغ کی آواز سنتے۔ ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابوالاحوص سلام بن سلیم نے خبر دی، ان سے اشعث نے بیان کیا کہ مرغ کی آواز سنتے ہی آپ کھڑے ہو جاتے اور نماز پڑھتے۔
حدثني عبدان، قال اخبرني ابي، عن شعبة، عن اشعث، سمعت ابي قال، سمعت مسروقا، قال سالت عايشة رضى الله عنها اى العمل كان احب الى النبي صلى الله عليه وسلم قالت الدايم. قلت متى كان يقوم قالت يقوم اذا سمع الصارخ
حدثنا محمد بن سلام قال اخبرنا ابو الاحوص عن الاشعث قال اذا سمع الصارخ قام فصلى
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ میرے باپ سعد بن ابراہیم نے اپنے چچا ابوسلمہ سے بیان کیا کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ انہوں نے اپنے یہاں سحر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ لیٹے ہوئے پایا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا ابراهيم بن سعد، قال ذكر ابي عن ابي سلمة، عن عايشة رضى الله عنها قالت ما الفاه السحر عندي الا نايما. تعني النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دونوں نے مل کر سحری کھائی، سحری سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور دونوں نے نماز پڑھی۔ ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سحری سے فراغت اور نماز شروع کرنے کے درمیان کتنا فاصلہ رہا ہو گا؟ آپ نے جواب دیا کہ اتنی دیر میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ سکتا ہے۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا روح، قال حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان نبي الله صلى الله عليه وسلم وزيد بن ثابت رضى الله عنه تسحرا، فلما فرغا من سحورهما قام نبي الله صلى الله عليه وسلم الى الصلاة فصلى. قلنا لانس كم كان بين فراغهما من سحورهما ودخولهما في الصلاة قال كقدر ما يقرا الرجل خمسين اية
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے اعمش سے بیان کیا، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ رات کو نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میرے دل میں ایک غلط خیال پیدا ہو گیا۔ ہم نے پوچھا کہ وہ غلط خیال کیا تھا تو آپ نے بتایا کہ میں نے سوچا کہ بیٹھ جاؤں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دوں۔
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا شعبة، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن عبد الله رضى الله عنه قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم ليلة، فلم يزل قايما حتى هممت بامر سوء. قلنا وما هممت قال هممت ان اقعد واذر النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ان سے ابووائل نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو پہلے اپنا منہ مسواک سے خوب صاف کرتے۔
حدثنا حفص بن عمر، قال حدثنا خالد بن عبد الله، عن حصين، عن ابي وايل، عن حذيفة رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا قام للتهجد من الليل يشوص فاه بالسواك
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا ایک شخص نے دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو، دو رکعت اور جب طلوع صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ کر اپنی ساری نماز کو طاق بنا لے۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سالم بن عبد الله، ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال ان رجلا قال يا رسول الله، كيف صلاة الليل قال " مثنى مثنى، فاذا خفت الصبح فاوتر بواحدة
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے کہا کہ مجھ سے ابوحمزہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز تیرہ رکعت ہوتی تھی۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن شعبة، قال حدثني ابو جمرة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كان صلاة النبي صلى الله عليه وسلم ثلاث عشرة ركعة. يعني بالليل