Loading...

Loading...
کتب
۴۰ احادیث
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے بیان کیا، ان سے عاصم احول اور حصین سلمی نے، ان سے عکرمہ نے، اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ میں فتح مکہ کے موقع پر ) انیس دن ٹھہرے اور برابر قصر کرتے رہے۔ اس لیے انیس دن کے سفر میں ہم بھی قصر کرتے رہتے ہیں اور اس سے اگر زیادہ ہو جائے تو پوری نماز پڑھتے ہیں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا ابو عوانة، عن عاصم، وحصين، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال اقام النبي صلى الله عليه وسلم تسعة عشر يقصر، فنحن اذا سافرنا تسعة عشر قصرنا، وان زدنا اتممنا
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے بیان کیا انہوں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہم مکہ کے ارادہ سے مدینہ سے نکلے تو برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو، دو رکعت پڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آئے۔ میں نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں کچھ دن قیام بھی رہا تھا؟ تو اس کا جواب انس رضی اللہ عنہ نے یہ دیا کہ دس دن تک ہم وہاں ٹھہرے تھے۔
حدثنا ابو معمر، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا يحيى بن ابي اسحاق، قال سمعت انسا، يقول خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم من المدينة الى مكة، فكان يصلي ركعتين ركعتين حتى رجعنا الى المدينة. قلت اقمتم بمكة شييا قال اقمنا بها عشرا
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے عبیداللہ عمری سے بیان کیا، کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے، کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت ( یعنی چار رکعت والی نمازوں میں ) قصر پڑھی۔ عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ان کے دور خلافت کے شروع میں دو ہی رکعت پڑھی تھیں۔ لیکن بعد میں آپ رضی اللہ عنہ نے پوری پڑھی تھیں۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال اخبرني نافع، عن عبد الله رضى الله عنه قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم بمنى ركعتين، وابي بكر وعمر، ومع عثمان صدرا من امارته ثم اتمها
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابواسحاق نے خبر دی، انہوں نے حارثہ سے سنا اور انہوں نے وہب رضی اللہ عنہ سے کہ آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں امن کی حالت میں ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی تھی۔
حدثنا ابو الوليد، قال حدثنا شعبة، انبانا ابو اسحاق، قال سمعت حارثة بن وهب، قال صلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم امن ما كان بمنى ركعتين
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم نخعی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ہمیں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعت نماز پڑھائی تھی لیکن جب اس کا ذکر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ «انا لله و انا اليه راجعون» ۔ پھر کہنے لگے میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منی ٰ میں دو رکعت نماز پڑھی ہے اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی میں نے دو رکعت ہی پڑھی ہیں اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعت ہی پڑھی تھی کاش میرے حصہ میں ان چار رکعتوں کے بجائے دو مقبول رکعتیں ہوتیں۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا عبد الواحد، عن الاعمش، قال حدثنا ابراهيم، قال سمعت عبد الرحمن بن يزيد، يقول صلى بنا عثمان بن عفان رضى الله عنه بمنى اربع ركعات، فقيل ذلك لعبد الله بن مسعود رضى الله عنه فاسترجع ثم قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنى ركعتين، وصليت مع ابي بكر رضى الله عنه بمنى ركعتين، وصليت مع عمر بن الخطاب رضى الله عنه بمنى ركعتين، فليت حظي من اربع ركعات ركعتان متقبلتان
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا ان سے ابوالعالیہ براء نے ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو ساتھ لے کر تلبیہ کہتے ہوئے ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ کو ( مکہ میں ) تشریف لائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن کے پاس ہدی نہیں ہے وہ بجائے حج کے عمرہ کی نیت کر لیں اور عمرہ سے فارغ ہو کر حلال ہو جائیں پھر حج کا احرام باندھیں۔ اس حدیث کی متابعت عطاء نے جابر سے کی ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا وهيب، قال حدثنا ايوب، عن ابي العالية البراء، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قدم النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه لصبح رابعة يلبون بالحج، فامرهم ان يجعلوها عمرة الا من معه الهدى. تابعه عطاء عن جابر
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، انہوں نے ابواسامہ سے، میں نے پوچھا کہ کیا آپ سے عبیداللہ عمری نے نافع سے یہ حدیث بیان کی تھی کہ ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا تھا کہ عورتیں تین دن کا سفر ذی رحم محرم کے بغیر نہ کریں ( ابواسامہ نے کہا ہاں ) ۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم الحنظلي، قال قلت لابي اسامة حدثكم عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تسافر المراة ثلاثة ايام الا مع ذي محرم
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، عبیداللہ عمری سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں نافع نے خبر دی، انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت تین دن کا سفر اس وقت تک نہ کرے جب تک اس کے ساتھ کوئی محرم رشتہ دار نہ ہو۔ اس روایت کی متابعت احمد نے ابن مبارک سے کی ان سے عبیداللہ عمری نے ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تسافر المراة ثلاثا الا مع ذي محرم ". تابعه احمد عن ابن المبارك عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے آدم نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید مقبری نے اپنے باپ سے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی خاتون کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں کہ ایک دن رات کا سفر بغیر کسی ذی رحم محرم کے کرے۔ اس روایت کی متابعت یحییٰ بن ابی کثیر، سہیل اور مالک نے مقبری سے کی۔ وہ اس روایت کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے۔
حدثنا ادم، قال حدثنا ابن ابي ذيب، قال حدثنا سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر ان تسافر مسيرة يوم وليلة ليس معها حرمة ". تابعه يحيى بن ابي كثير وسهيل ومالك عن المقبري عن ابي هريرة رضى الله عنه
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے، محمد بن منکدر اور ابراہیم بن میسرہ سے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں ظہر کی چار رکعت پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعت پڑھی۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا سفيان، عن محمد بن المنكدر، وابراهيم بن ميسرة، عن انس رضى الله عنه قال صليت الظهر مع النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة اربعا، وبذي الحليفة ركعتين
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری سے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پہلے نماز دو رکعت فرض ہوئی تھی بعد میں سفر کی نماز تو اپنی اسی حالت پر رہ گئی البتہ حضر کی نماز پوری ( چار رکعت ) کر دی گئی۔ زہری نے بیان کیا کہ میں نے عروہ سے پوچھا کہ پھر خود عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیوں نماز پوری پڑھی تھی انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی جو تاویل کی تھی وہی انہوں نے بھی کی۔
حدثنا عبد الله بن محمد، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت الصلاة اول ما فرضت ركعتين فاقرت صلاة السفر، واتمت صلاة الحضر. قال الزهري فقلت لعروة ما بال عايشة تتم قال تاولت ما تاول عثمان
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، زہری سے انہوں نے کہا کہ مجھے سالم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب سفر میں چلنے کی جلدی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز دیر سے پڑھتے یہاں تک کہ مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے۔ سالم نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی جب سفر میں جلدی ہوتی تو اس طرح کرتے۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سالم، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اعجله السير في السفر يوخر المغرب حتى يجمع بينها وبين العشاء. قال سالم وكان عبد الله يفعله اذا اعجله السير. وزاد الليث قال حدثني يونس، عن ابن شهاب، قال سالم كان ابن عمر رضى الله عنهما يجمع بين المغرب والعشاء بالمزدلفة. قال سالم واخر ابن عمر المغرب، وكان استصرخ على امراته صفية بنت ابي عبيد فقلت له الصلاة. فقال سر. فقلت الصلاة. فقال سر. حتى سار ميلين او ثلاثة ثم نزل فصلى ثم قال هكذا رايت النبي صلى الله عليه وسلم يصلي اذا اعجله السير. وقال عبد الله رايت النبي صلى الله عليه وسلم اذا اعجله السير يوخر المغرب، فيصليها ثلاثا ثم يسلم، ثم قلما يلبث حتى يقيم العشاء فيصليها ركعتين ثم يسلم، ولا يسبح بعد العشاء حتى يقوم من جوف الليل
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، زہری سے انہوں نے کہا کہ مجھے سالم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب سفر میں چلنے کی جلدی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز دیر سے پڑھتے یہاں تک کہ مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے۔ سالم نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی جب سفر میں جلدی ہوتی تو اس طرح کرتے۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سالم، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اعجله السير في السفر يوخر المغرب حتى يجمع بينها وبين العشاء. قال سالم وكان عبد الله يفعله اذا اعجله السير. وزاد الليث قال حدثني يونس، عن ابن شهاب، قال سالم كان ابن عمر رضى الله عنهما يجمع بين المغرب والعشاء بالمزدلفة. قال سالم واخر ابن عمر المغرب، وكان استصرخ على امراته صفية بنت ابي عبيد فقلت له الصلاة. فقال سر. فقلت الصلاة. فقال سر. حتى سار ميلين او ثلاثة ثم نزل فصلى ثم قال هكذا رايت النبي صلى الله عليه وسلم يصلي اذا اعجله السير. وقال عبد الله رايت النبي صلى الله عليه وسلم اذا اعجله السير يوخر المغرب، فيصليها ثلاثا ثم يسلم، ثم قلما يلبث حتى يقيم العشاء فيصليها ركعتين ثم يسلم، ولا يسبح بعد العشاء حتى يقوم من جوف الليل
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معمر نے زہری سے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عامر نے اور ان سے ان کے باپ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ اونٹنی پر نماز پڑھتے رہتے خواہ اس کا منہ کسی طرف ہو۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا عبد الاعلى، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن عبد الله بن عامر، عن ابيه، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يصلي على راحلته حيث توجهت به
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شیبان نے کہا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز اپنی اونٹنی پر غیر قبلہ کی طرف منہ کر کے بھی پڑھتے تھے۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا شيبان، عن يحيى، عن محمد بن عبد الرحمن، ان جابر بن عبد الله، اخبره ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي التطوع وهو راكب في غير القبلة
ہم سے ابوالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نفل نماز سواری پر پڑھتے تھے۔ اسی طرح وتر بھی۔ اور فرماتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا کرتے تھے۔
حدثنا عبد الاعلى بن حماد، قال حدثنا وهيب، قال حدثنا موسى بن عقبة، عن نافع، قال وكان ابن عمر رضى الله عنهما يصلي على راحلته ويوتر عليها، ويخبر ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يفعله
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں اپنی اونٹنی پر نماز پڑھتے خواہ اس کا منہ کسی طرف ہوتا۔ آپ اشاروں سے نماز پڑھتے۔ آپ کا بیان تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔
حدثنا موسى، قال حدثنا عبد العزيز بن مسلم، قال حدثنا عبد الله بن دينار، قال كان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما يصلي في السفر على راحلته، اينما توجهت يومي. وذكر عبد الله ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يفعله
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے کہ عامر بن ربیعہ نے انہیں خبر دی انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹنی پر نماز نفل پڑھتے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کے اشاروں سے پڑھ رہے تھے اس کا خیال کئے بغیر کہ سواری کا منہ کدھر ہوتا ہے لیکن فرض نمازوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نہیں کرتے تھے۔
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عبد الله بن عامر بن ربيعة، ان عامر بن ربيعة، اخبره قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على الراحلة يسبح، يومي براسه قبل اى وجه توجه، ولم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع ذلك في الصلاة المكتوبة
اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب کے واسطہ سے بیان کیا انہوں نے کہا کہ سالم نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں رات کے وقت اپنے جانور پر نماز پڑھتے کچھ پرواہ نہ کرتے کہ اس کا منہ کس طرف ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اونٹنی پر نفل نماز پڑھا کرتے چاہے اس کا منہ کدھر ہی ہو اور وتر بھی سواری پر پڑھ لیتے تھے البتہ فرض اس پر نہیں پڑھتے تھے۔
وقال الليث حدثني يونس، عن ابن شهاب، قال قال سالم كان عبد الله يصلي على دابته من الليل وهو مسافر، ما يبالي حيث ما كان وجهه. قال ابن عمر وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسبح على الراحلة قبل اى وجه توجه، ويوتر عليها، غير انه لا يصلي عليها المكتوبة
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ہشام نے یحییٰ سے بیان کیا ان سے محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان نے بیان کیا انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر مشرق کی طرف منہ کئے ہوئے نماز پڑھتے تھے اور جب فرض پڑھتے تو سواری سے اتر جاتے اور پھر قبلہ کی طرف رخ کر کے پڑھتے۔
حدثنا معاذ بن فضالة، قال حدثنا هشام، عن يحيى، عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان، قال حدثني جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي على راحلته نحو المشرق فاذا اراد ان يصلي المكتوبة نزل فاستقبل القبلة