Loading...

Loading...
کتب
۴۰ احادیث
ہم سے احمد بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حبان بن ہلال نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن سیرین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ انس رضی اللہ عنہ شام سے جب ( حجاج کی خلیفہ سے شکایت کر کے ) واپس ہوئے تو ہم ان سے عین التمر میں ملے۔ میں نے دیکھا کہ آپ گدھے پر سوار ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کا منہ قبلہ سے بائیں طرف تھا۔ اس پر میں نے کہا کہ میں نے آپ کو قبلہ کے سوا دوسری طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے نہ دیکھتا تو میں بھی نہ کرتا۔ اس روایت کو ابراہیم ابن طہمان نے بھی حجاج سے، انہوں نے انس بن سیرین سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔
حدثنا احمد بن سعيد، قال حدثنا حبان، قال حدثنا همام، قال حدثنا انس بن سيرين، قال استقبلنا انسا حين قدم من الشام، فلقيناه بعين التمر، فرايته يصلي على حمار ووجهه من ذا الجانب، يعني عن يسار القبلة. فقلت رايتك تصلي لغير القبلة. فقال لولا اني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم فعله لم افعله. رواه ابن طهمان عن حجاج عن انس بن سيرين عن انس رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے یحییٰ بن سلیمان کوفی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمر بن محمد بن یزید نے بیان کیا کہ حفص بن عاصم بن عمر نے ان سے بیان کیا کہ میں نے سفر میں سنتوں کے متعلق عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا آپ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا ہوں۔ میں نے آپ کو سفر میں کبھی سنتیں پڑھتے نہیں دیکھا اور اللہ جل ذکرہ کا ارشاد ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔
حدثنا يحيى بن سليمان، قال حدثني ابن وهب، قال حدثني عمر بن محمد، ان حفص بن عاصم، حدثه قال سافر ابن عمر رضى الله عنهما فقال صحبت النبي صلى الله عليه وسلم فلم اره يسبح في السفر، وقال الله جل ذكره {لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة}
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عیسیٰ بن حفص بن عاصم نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں دو رکعت ( فرض ) سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن عيسى بن حفص بن عاصم، قال حدثني ابي انه، سمع ابن عمر، يقول صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان لا يزيد في السفر على ركعتين، وابا بكر وعمر وعثمان كذلك رضى الله عنهم
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے ابن ابی لیلیٰ نے، انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی نے یہ خبر نہیں دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہاں ام ہانی رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر غسل کیا تھا اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھی تھیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اتنی ہلکی پھلکی نماز پڑھتے نہیں دیکھا البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ پوری طرح کرتے تھے۔
حدثنا حفص بن عمر، قال حدثنا شعبة، عن عمرو، عن ابن ابي ليلى، قال ما انبا احد، انه راى النبي صلى الله عليه وسلم صلى الضحى غير ام هاني ذكرت ان النبي صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة اغتسل في بيتها، فصلى ثمان ركعات، فما رايته صلى صلاة اخف منها، غير انه يتم الركوع والسجود
اور لیث بن سعد رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے بیان کیا کہ انہیں ان کے باپ نے خبر دی کہ انہوں نے خود دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( رات میں ) سفر میں نفل نمازیں سواری پر پڑھتے تھے، وہ جدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جاتی ادھر ہی سہی۔
وقال الليث حدثني يونس، عن ابن شهاب، قال حدثني عبد الله بن عامر، ان اباه، اخبره انه، راى النبي صلى الله عليه وسلم صلى السبحة بالليل في السفر على ظهر راحلته حيث توجهت به
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے اور انہیں سالم بن عبداللہ بن عمر نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی کی پیٹھ پر خواہ اس کا منہ کسی طرف ہوتا نفل نماز سر کے اشاروں سے پڑھتے تھے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سالم بن عبد الله، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسبح على ظهر راحلته حيث كان وجهه، يومي براسه، وكان ابن عمر يفعله
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر سفر میں جلد چلنا منظور ہوتا تو مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا سفيان، قال سمعت الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يجمع بين المغرب والعشاء اذا جد به السير
اور ابراہیم بن طہمان نے کہا کہ ان سے حسین معلم نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ملا کر پڑھتے، اسی طرح مغرب اور عشاء کی بھی ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔
وقال ابراهيم بن طهمان عن الحسين المعلم، عن يحيى بن ابي كثير، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجمع بين صلاة الظهر والعصر اذا كان على ظهر سير، ويجمع بين المغرب والعشاء
اور ابن طہمان ہی نے بیان کیا کہ ان سے حسین نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے حفص بن عبیداللہ بن انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ اس روایت کی متابعت علی بن مبارک اور حرب نے یحییٰ سے کی ہے۔ یحییٰ، حفص سے اور حفص انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مغرب اور عشاء ) ایک ساتھ ملا کر پڑھی تھیں۔
وعن حسين، عن يحيى بن ابي كثير، عن حفص بن عبيد الله بن انس، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يجمع بين صلاة المغرب والعشاء في السفر. وتابعه علي بن المبارك وحرب عن يحيى عن حفص عن انس جمع النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی۔ آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب جلدی سفر طے کرنا ہوتا تو مغرب کی نماز مؤخر کر دیتے۔ پھر اسے عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ سالم نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اگر سفر سرعت کے ساتھ طے کرنا چاہتے تو اسی طرح کرتے تھے۔ مغرب کی تکبیر پہلے کہی جاتی اور آپ تین رکعت مغرب کی نماز پڑھ کر سلام پھیر دیتے۔ پھر معمولی سے توقف کے بعد عشاء کی تکبیر کہی جاتی اور آپ اس کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیتے۔ دونوں نمازوں کے درمیان ایک رکعت بھی سنت وغیرہ نہ پڑھتے اور اسی طرح عشاء کے بعد بھی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ یہاں تک کہ درمیان شب میں آپ اٹھتے ( اور تہجد ادا کرتے ) ۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سالم، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اعجله السير في السفر يوخر صلاة المغرب، حتى يجمع بينها وبين العشاء. قال سالم وكان عبد الله يفعله اذا اعجله السير، ويقيم المغرب فيصليها ثلاثا، ثم يسلم، ثم قلما يلبث حتى يقيم العشاء، فيصليها ركعتين، ثم يسلم ولا يسبح بينها بركعة، ولا بعد العشاء بسجدة حتى يقوم من جوف الليل
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا ہم سے حرب بن شداد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حفص بن عبیداللہ بن انس نے بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دو نمازوں یعنی مغرب اور عشاء کو سفر میں ایک ساتھ ملا کر پڑھا کرتے تھے۔
حدثنا اسحاق، حدثنا عبد الصمد، حدثنا حرب، حدثنا يحيى، قال حدثني حفص بن عبيد الله بن انس، ان انسا رضى الله عنه حدثه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يجمع بين هاتين الصلاتين في السفر. يعني المغرب والعشاء
ہم سے حسان واسطی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے مفضل بن فضالہ نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر سورج ڈھلنے سے پہلے سفر شروع کرتے تو ظہر کی نماز عصر تک نہ پڑھتے پھر ظہر اور عصر ایک ساتھ پڑھتے اور اگر سورج ڈھل چکا ہوتا تو پہلے ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔
حدثنا حسان الواسطي، قال حدثنا المفضل بن فضالة، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا ارتحل قبل ان تزيغ الشمس اخر الظهر الى وقت العصر، ثم يجمع بينهما، واذا زاغت صلى الظهر ثم ركب
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے مفضل بن فضالہ نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے سفر شروع کرتے تو ظہر عصر کا وقت آنے تک نہ پڑھتے۔ پھر کہیں ( راستے میں ) ٹھہرتے اور ظہر اور عصر ملا کر پڑھتے لیکن اگر سفر شروع کرنے سے پہلے سورج ڈھل چکا ہوتا تو پہلے ظہر پڑھتے پھر سوار ہوتے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا المفضل بن فضالة، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا ارتحل قبل ان تزيغ الشمس اخر الظهر الى وقت العصر، ثم نزل فجمع بينهما، فان زاغت الشمس قبل ان يرتحل صلى الظهر ثم ركب
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے باپ عروہ نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں بیٹھ کر نماز پڑھائی، بعض لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے لگے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اس لیے جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها انها قالت صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيته وهو شاك، فصلى جالسا وصلى وراءه قوم قياما، فاشار اليهم ان اجلسوا، فلما انصرف قال " انما جعل الامام ليوتم به، فاذا ركع فاركعوا، واذا رفع فارفعوا
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری سے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے اور اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں پہلو پر زخم آ گئے۔ ہم مزاج پرسی کے لیے گئے تو نماز کا وقت آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ ہم نے بھی بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر فرمایا تھا کہ امام اس لیے ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا ابن عيينة، عن الزهري، عن انس رضى الله عنه قال سقط رسول الله صلى الله عليه وسلم من فرس فخدش او فجحش شقه الايمن، فدخلنا عليه نعوده، فحضرت الصلاة فصلى قاعدا فصلينا قعودا وقال " انما جعل الامام ليوتم به، فاذا كبر فكبروا واذا ركع فاركعوا، واذا رفع فارفعوا، واذا قال سمع الله لمن حمده. فقولوا ربنا ولك الحمد
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں روح بن عبادہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں حسین نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن بریدہ نے، انہیں عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ( دوسری سند ) اور ہمیں اسحاق بن منصور نے خبر دی، کہا کہ ہمیں عبدالصمد نے خبر دی، کہا کہ میں نے اپنے باپ عبدالوارث سے سنا، کہا کہ ہم سے حسین نے بیان کیا اور ان سے ابن بریدہ نے کہا کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، وہ بواسیر کے مریض تھے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی آدمی کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل یہی ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھے کیونکہ بیٹھ کر پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے اور لیٹے لیٹے پڑھنے والے کو بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، قال اخبرنا روح بن عبادة، اخبرنا حسين، عن عبد الله بن بريدة، عن عمران بن حصين رضى الله عنه انه سال نبي الله صلى الله عليه وسلم. اخبرنا اسحاق قال اخبرنا عبد الصمد قال سمعت ابي قال حدثنا الحسين عن ابن بريدة قال حدثني عمران بن حصين وكان مبسورا قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة الرجل قاعدا فقال " ان صلى قايما فهو افضل، ومن صلى قاعدا فله نصف اجر القايم، ومن صلى نايما فله نصف اجر القاعد
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسین معلم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن بریدہ نے کہ عمران بن حصین نے جنہیں بواسیر کا مرض تھا۔ اور کبھی ابومعمر نے یوں کہا کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنا افضل ہے لیکن اگر کوئی بیٹھ کر نماز پڑھے تو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے اسے آدھا ثواب ملے گا اور لیٹ کر پڑھنے والے کو بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملے گا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ میں «نائم» «مضطجع» کے معنی میں ہے یعنی لیٹ کر نماز پڑھنے والا۔
حدثنا ابو معمر، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا حسين المعلم، عن عبد الله بن بريدة، ان عمران بن حصين وكان رجلا مبسورا وقال ابو معمر مرة عن عمران، قال سالت النبي صلى الله عليه وسلم عن صلاة الرجل وهو قاعد فقال " من صلى قايما فهو افضل، ومن صلى قاعدا فله نصف اجر القايم، ومن صلى نايما فله نصف اجر القاعد ". قال ابو عبد الله نايما عندي مضطجعا ها هنا
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے امام عبداللہ بن مبارک نے، ان سے ابراہیم بن طہمان نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حسین مکتب نے (جو بچوں کو لکھنا سکھاتا تھا) بیان کیا، ان سے ابن بریدہ نے اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھے بواسیر کا مرض تھا۔ اس لیے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لو۔
حدثنا عبدان، عن عبد الله، عن ابراهيم بن طهمان، قال حدثني الحسين المكتب، عن ابن بريدة، عن عمران بن حصين رضى الله عنه قال كانت بي بواسير فسالت النبي صلى الله عليه وسلم عن الصلاة فقال " صل قايما، فان لم تستطع فقاعدا، فان لم تستطع فعلى جنب
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے باپ عروہ بن زبیر نے اور انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بیٹھ کر نماز پڑھتے نہیں دیکھا البتہ جب آپ ضعیف ہو گئے تو قرآت قرآن نماز میں بیٹھ کر کرتے تھے، پھر جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہو جاتے اور پھر تقریباً تیس یا چالیس آیتیں پڑھ کر رکوع کرتے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها ام المومنين انها اخبرته انها لم تر رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي صلاة الليل قاعدا قط حتى اسن، فكان يقرا قاعدا حتى اذا اراد ان يركع قام، فقرا نحوا من ثلاثين اية او اربعين اية، ثم ركع
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے عبداللہ بن یزید اور عمر بن عبیداللہ کے غلام ابوالنضر سے خبر دی، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز بیٹھ کر پڑھنا چاہتے تو قرآت بیٹھ کر کرتے۔ جب تقریباً تیس چالیس آیتیں پڑھنی باقی رہ جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے۔ پھر رکوع اور سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔ نماز سے فارغ ہونے پر دیکھتے کہ میں جاگ رہی ہوں تو مجھ سے باتیں کرتے لیکن اگر میں سوتی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی لیٹ جاتے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن عبد الله بن يزيد، وابي النضر، مولى عمر بن عبيد الله عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة ام المومنين رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي جالسا فيقرا وهو جالس، فاذا بقي من قراءته نحو من ثلاثين او اربعين اية قام فقراها وهو قايم، ثم يركع ثم يسجد، يفعل في الركعة الثانية مثل ذلك، فاذا قضى صلاته نظر، فان كنت يقظى تحدث معي، وان كنت نايمة اضطجع