Loading...

Loading...
کتب
۱۳ احادیث
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا اور ان سے ابواسحاق نے انہوں نے کہا کہ میں نے اسود سے سنا انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہ مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم کی تلاوت کی اور سجدہ تلاوت کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جتنے آدمی تھے ( مسلمان اور کافر ) ان سب نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا البتہ ایک بوڑھا شخص ( امیہ بن خلف ) اپنے ہاتھ میں کنکری یا مٹی اٹھا کر اپنی پیشانی تک لے گیا اور کہا میرے لیے یہی کافی ہے میں نے دیکھا کہ بعد میں وہ بوڑھا حالت کفر میں ہی مارا گیا۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا غندر، قال حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت الاسود، عن عبد الله رضى الله عنه قال قرا النبي صلى الله عليه وسلم النجم بمكة فسجد فيها، وسجد من معه، غير شيخ اخذ كفا من حصى او تراب فرفعه الى جبهته وقال يكفيني هذا. فرايته بعد ذلك قتل كافرا
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، انہوں نے سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف سے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں «الم تنزيل السجدة» اور «هل أتى على الإنسان» ( سورۃ دھر ) پڑھا کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن سعد بن ابراهيم، عن عبد الرحمن، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في الجمعة في صلاة الفجر {الم * تنزيل} السجدة و{هل اتى على الانسان}
ہم سے سلیمان بن حرب اور ابوالنعمان بن فضل نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سورۃ ص کا سجدہ کچھ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں ہے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔
حدثنا سليمان بن حرب، وابو النعمان، قالا حدثنا حماد، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال {ص} ليس من عزايم السجود، وقد رايت النبي صلى الله عليه وسلم يسجد فيها
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے، ابواسحاق سے بیان کیا، ان سے اسود نے، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم کی تلاوت کی اور اس میں سجدہ کیا اس وقت قوم کا کوئی فرد ( مسلمان اور کافر ) بھی ایسا نہ تھا جس نے سجدہ نہ کیا ہو۔ البتہ ایک شخص ( امیہ بن خلف ) نے ہاتھ میں کنکری یا مٹی لے کر اپنے چہرہ تک اٹھائی اور کہا کہ میرے لیے یہی کافی ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بعد میں میں نے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت ہی میں قتل ہوا۔
حدثنا حفص بن عمر، قال حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عبد الله رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قرا سورة النجم فسجد بها، فما بقي احد من القوم الا سجد، فاخذ رجل من القوم كفا من حصى او تراب، فرفعه الى وجهه وقال يكفيني هذا، فلقد رايته بعد قتل كافرا
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم میں سجدہ کیا تو مسلمانوں، مشرکوں اور جن و انس سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا۔ اس حدیث کی روایت ابراہیم بن طہمان نے بھی ایوب سختیانی سے کی ہے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم سجد بالنجم وسجد معه المسلمون والمشركون والجن والانس. ورواه ابن طهمان عن ايوب
ہم سے سلیمان بن داؤد ابوالربیع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں یزید بن خصیفہ نے خبر دی، انہیں (یزید بن عبداللہ) ابن قسیط نے، اور انہیں عطاء بن یسار نے کہ انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ آپ نے یقین کے ساتھ اس امر کا اظہار کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورۃ النجم کی تلاوت آپ نے کی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔
حدثنا سليمان بن داود ابو الربيع، قال حدثنا اسماعيل بن جعفر، قال اخبرنا يزيد بن خصيفة، عن ابن قسيط، عن عطاء بن يسار، انه اخبره، انه، سال زيد بن ثابت رضى الله عنه فزعم انه قرا على النبي صلى الله عليه وسلم {والنجم} فلم يسجد فيها
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن عبداللہ بن قسیط نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے، ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورۃ النجم کی تلاوت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، قال حدثنا ابن ابي ذيب، قال حدثنا يزيد بن عبد الله بن قسيط، عن عطاء بن يسار، عن زيد بن ثابت، قال قرات على النبي صلى الله عليه وسلم {والنجم} فلم يسجد فيها
ہم سے مسلم بن ابراہیم اور معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن ابی عبداللہ دستوائی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سورۃ «إذا السماء انشقت» پڑھتے دیکھا۔ آپ نے اس میں سجدہ کیا میں نے کہا کہ اے ابوہریرہ! کیا میں نے آپ کو سجدہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ آپ نے کہا کہ اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرتے نہ دیکھتا تو میں بھی نہ کرتا۔
حدثنا مسلم، ومعاذ بن فضالة، قالا اخبرنا هشام، عن يحيى، عن ابي سلمة، قال رايت ابا هريرة رضى الله عنه قرا {اذا السماء انشقت} فسجد بها فقلت يا ابا هريرة، الم ارك تسجد قال لو لم ار النبي صلى الله عليه وسلم يسجد لم اسجد
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا کہا کہ ہم سے نافع نے بیان کیا ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری موجودگی میں آیت سجدہ پڑھتے اور سجدہ کرتے تو ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( ہجوم کی وجہ سے ) اس طرح سجدہ کرتے کہ پیشانی رکھنے کی جگہ بھی نہ ملتی جس پر سجدہ کرتے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال حدثني نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرا علينا السورة فيها السجدة، فيسجد ونسجد، حتى ما يجد احدنا موضع جبهته
ہم سے بشر بن آدم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبیداللہ عمری نے خبر دی، انہیں نافع نے اور نافع کو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آیت سجدہ کی تلاوت اگر ہماری موجودگی میں کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم بھی سجدہ کرتے تھے۔ اس وقت اتنا اژدھام ہو جاتا کہ سجدہ کے لیے پیشانی رکھنے کی جگہ نہ ملتی جس پر سجدہ کرنے والا سجدہ کر سکے۔
حدثنا بشر بن ادم، قال حدثنا علي بن مسهر، قال اخبرنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرا السجدة ونحن عنده فيسجد ونسجد معه فنزدحم حتى ما يجد احدنا لجبهته موضعا يسجد عليه
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشام بن یوسف نے خبر دی اور انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوبکر بن ابی ملیکہ نے خبر دی، انہیں عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی نے اور انہیں ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر تیمی نے کہا۔۔۔ ابوبکر بن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ ربیعہ بہت اچھے لوگوں میں سے تھے ربیعہ نے وہ حال بیان کیا جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مجلس میں انہوں نے دیکھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر سورۃ النحل پڑھی جب سجدہ کی آیت ( «ولله يسجد ما في السمٰوٰت» ) آخر تک پہنچے تو منبر پر سے اترے اور سجدہ کیا تو لوگوں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کیا۔ دوسرے جمعہ کو پھر یہی سورت پڑھی جب سجدہ کی آیت پر پہنچے تو کہنے لگے لوگو! ہم سجدہ کی آیت پڑھتے چلے جاتے ہیں پھر جو کوئی سجدہ کرے اس نے اچھا کیا اور جو کوئی نہ کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں اور عمر رضی اللہ عنہ نے سجدہ نہیں کیا اور نافع نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت فرض نہیں کیا ہماری خوشی پر رکھا۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، قال اخبرنا هشام بن يوسف، ان ابن جريج، اخبرهم قال اخبرني ابو بكر بن ابي مليكة، عن عثمان بن عبد الرحمن التيمي، عن ربيعة بن عبد الله بن الهدير التيمي قال ابو بكر وكان ربيعة من خيار الناس عما حضر ربيعة من عمر بن الخطاب رضى الله عنه قرا يوم الجمعة على المنبر بسورة النحل حتى اذا جاء السجدة نزل فسجد وسجد الناس، حتى اذا كانت الجمعة القابلة قرا بها حتى اذا جاء السجدة قال يا ايها الناس انا نمر بالسجود فمن سجد فقد اصاب، ومن لم يسجد فلا اثم عليه. ولم يسجد عمر رضى الله عنه. وزاد نافع عن ابن عمر رضى الله عنهما ان الله لم يفرض السجود الا ان نشاء
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا کہا کہ ہم سے بکر بن عبداللہ مزنی نے بیان کیا، ان سے ابورافع نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز عشاء پڑھی۔ آپ نے «إذا السماء انشقت» کی تلاوت کی اور سجدہ کیا۔ میں نے عرض کیا کہ آپ نے یہ کیا کیا؟ انہوں نے اس کا جواب دیا کہ میں نے اس میں ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں سجدہ کیا تھا اور ہمیشہ سجدہ کرتا ہوں گا تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا معتمر، قال سمعت ابي قال، حدثني بكر، عن ابي رافع، قال صليت مع ابي هريرة العتمة فقرا {اذا السماء انشقت} فسجد فقلت ما هذه قال سجدت بها خلف ابي القاسم صلى الله عليه وسلم فلا ازال اسجد فيها حتى القاه
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعیدقطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے، اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسی سورۃ کی تلاوت کرتے جس میں سجدہ ہوتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں کسی کو اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ ملتی۔ ( معلوم ہوا کہ ایسی حالت میں سجدہ نہ کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے ) «والله أعلم» ۔
حدثنا صدقة، قال اخبرنا يحيى، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرا السورة التي فيها السجدة فيسجد ونسجد حتى ما يجد احدنا مكانا لموضع جبهته