احادیث
#1077
صحیح بخاری - Prostration During Recital of Qur'an
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشام بن یوسف نے خبر دی اور انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوبکر بن ابی ملیکہ نے خبر دی، انہیں عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی نے اور انہیں ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر تیمی نے کہا۔۔۔ ابوبکر بن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ ربیعہ بہت اچھے لوگوں میں سے تھے ربیعہ نے وہ حال بیان کیا جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مجلس میں انہوں نے دیکھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر سورۃ النحل پڑھی جب سجدہ کی آیت ( «ولله يسجد ما في السمٰوٰت» ) آخر تک پہنچے تو منبر پر سے اترے اور سجدہ کیا تو لوگوں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کیا۔ دوسرے جمعہ کو پھر یہی سورت پڑھی جب سجدہ کی آیت پر پہنچے تو کہنے لگے لوگو! ہم سجدہ کی آیت پڑھتے چلے جاتے ہیں پھر جو کوئی سجدہ کرے اس نے اچھا کیا اور جو کوئی نہ کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں اور عمر رضی اللہ عنہ نے سجدہ نہیں کیا اور نافع نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت فرض نہیں کیا ہماری خوشی پر رکھا۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، قال اخبرنا هشام بن يوسف، ان ابن جريج، اخبرهم قال اخبرني ابو بكر بن ابي مليكة، عن عثمان بن عبد الرحمن التيمي، عن ربيعة بن عبد الله بن الهدير التيمي قال ابو بكر وكان ربيعة من خيار الناس عما حضر ربيعة من عمر بن الخطاب رضى الله عنه قرا يوم الجمعة على المنبر بسورة النحل حتى اذا جاء السجدة نزل فسجد وسجد الناس، حتى اذا كانت الجمعة القابلة قرا بها حتى اذا جاء السجدة قال يا ايها الناس انا نمر بالسجود فمن سجد فقد اصاب، ومن لم يسجد فلا اثم عليه. ولم يسجد عمر رضى الله عنه. وزاد نافع عن ابن عمر رضى الله عنهما ان الله لم يفرض السجود الا ان نشاء
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- Prostration During Recital of Qur'an
- Hadith Index
- #1077
- Book Index
- 11
Grades
- -
