Loading...

Loading...
کتب
۳۵ احادیث
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عبداللہ بن ابی بکر سے بیان کیا، ان سے عباد بن تمیم نے اور ان سے ان کے چچا عبداللہ بن زید نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پانی کی دعا کرنے کے لیے تشریف لے گئے اور اپنی چادر الٹائی۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا سفيان، عن عبد الله بن ابي بكر، عن عباد بن تميم، عن عمه، قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم يستسقي وحول رداءه
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سر مبارک آخری رکعت ( کے رکوع ) سے اٹھاتے تو یوں فرماتے «اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة، اللهم أنج سلمة بن هشام، اللهم أنج الوليد بن الوليد، اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين، اللهم اشدد وطأتك على مضر، اللهم اجعلها سنين كسني يوسف» کہ یا اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے۔ یا اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے۔ یا اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے۔ یا اللہ! بےبس ناتواں مسلمانوں کو نجات دے۔ یا اللہ! مضر کے کافروں کو سخت پکڑ۔ یا اللہ! ان کے سال یوسف علیہ السلام کے سے سال کر دے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غفار کی قوم کو اللہ نے بخش دیا اور اسلم کی قوم کو اللہ نے سلامت رکھا۔ ابن ابی الزناد نے اپنے باپ سے صبح کی نماز میں یہی دعا نقل کی۔
حدثنا قتيبة، حدثنا مغيرة بن عبد الرحمن، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا رفع راسه من الركعة الاخرة يقول " اللهم انج عياش بن ابي ربيعة، اللهم انج سلمة بن هشام، اللهم انج الوليد بن الوليد، اللهم انج المستضعفين من المومنين، اللهم اشدد وطاتك على مضر، اللهم اجعلها سنين كسني يوسف ". وان النبي صلى الله عليه وسلم قال " غفار غفر الله لها، واسلم سالمها الله ". قال ابن ابي الزناد عن ابيه هذا كله في الصبح
ہم سے امام حمیدی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے سلیمان اعمش نے، ان سے ابوالضحی نے، ان سے مسروق نے، ان سے عبداللہ بن مسعود نے (دوسری سند) ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے منصور بن مسعود بن معتمر سے بیان کیا، اور ان سے ابوالضحی نے، ان سے مسروق نے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کفار قریش کی سرکشی دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کی «اللهم سبع كسبع يوسف» کہ اے اللہ! سات برس کا قحط ان پر بھیج جیسے یوسف علیہ السلام کے وقت میں بھیجا تھا چنانچہ ایسا قحط پڑا کہ ہر چیز تباہ ہو گئی اور لوگوں نے چمڑے اور مردار تک کھا لیے۔ بھوک کی شدت کا یہ عالم تھا کہ آسمان کی طرف نظر اٹھائی جاتی تو دھویں کی طرح معلوم ہوتا تھا آخر مجبور ہو کر ابوسفیان حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ لوگوں کو اللہ کی اطاعت اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ اب تو آپ ہی کی قوم برباد ہو رہی ہے، اس لیے آپ اللہ سے ان کے حق میں دعا کیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس دن کا انتظار کر جب آسمان صاف دھواں نظر آئے گا آیت «انکم عائدون» تک ( نیز ) جب ہم سختی سے ان کی گرفت کریں گے ( کفار کی ) سخت گرفت بدر کی لڑائی میں ہوئی۔ دھویں کا بھی معاملہ گزر چکا ( جب سخت قحط پڑا تھا ) جس میں پکڑ اور قید کا ذکر ہے وہ سب ہو چکے اسی طرح سورۃ الروم کی آیت میں جو ذکر ہے وہ بھی ہو چکا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي الضحى، عن مسروق، قال كنا عند عبد الله فقال ان النبي صلى الله عليه وسلم لما راى من الناس ادبارا قال " اللهم سبع كسبع يوسف ". فاخذتهم سنة حصت كل شىء حتى اكلوا الجلود والميتة والجيف، وينظر احدهم الى السماء فيرى الدخان من الجوع، فاتاه ابو سفيان فقال يا محمد انك تامر بطاعة الله وبصلة الرحم وان قومك قد هلكوا، فادع الله لهم قال الله تعالى {فارتقب يوم تاتي السماء بدخان مبين} الى قوله {عايدون * يوم نبطش البطشة الكبرى} فالبطشة يوم بدر، وقد مضت الدخان والبطشة واللزام واية الروم
حدثنا عمرو بن علي، قال حدثنا ابو قتيبة، قال حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن ابيه، قال سمعت ابن عمر، يتمثل بشعر ابي طالب وابيض يستسقى الغمام بوجهه ثمال اليتامى عصمة للارامل وقال عمر بن حمزة حدثنا سالم، عن ابيه، ربما ذكرت قول الشاعر وانا انظر، الى وجه النبي صلى الله عليه وسلم يستسقي، فما ينزل حتى يجيش كل ميزاب. وابيض يستسقى الغمام بوجهه ثمال اليتامى عصمة للارامل وهو قول ابي طالب
حدثنا عمرو بن علي، قال حدثنا ابو قتيبة، قال حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن ابيه، قال سمعت ابن عمر، يتمثل بشعر ابي طالب وابيض يستسقى الغمام بوجهه ثمال اليتامى عصمة للارامل وقال عمر بن حمزة حدثنا سالم، عن ابيه، ربما ذكرت قول الشاعر وانا انظر، الى وجه النبي صلى الله عليه وسلم يستسقي، فما ينزل حتى يجيش كل ميزاب. وابيض يستسقى الغمام بوجهه ثمال اليتامى عصمة للارامل وهو قول ابي طالب
ہم سے حسن بن محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن عبداللہ بن مثنی انصاری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ عبداللہ بن مثنی نے بیان کیا، ان سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس رضی اللہ عنہ نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ جب کبھی عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں قحط پڑتا تو عمر رضی اللہ عنہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سے دعا کرتے اور فرماتے کہ اے اللہ! پہلے ہم تیرے پاس اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ لایا کرتے تھے۔ تو، تو پانی برساتا تھا۔ اب ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کو وسیلہ بناتے ہیں تو، تو ہم پر پانی برسا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ چنانچہ بارش خوب ہی برسی۔
حدثنا الحسن بن محمد، قال حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، قال حدثني ابي عبد الله بن المثنى، عن ثمامة بن عبد الله بن انس، عن انس، ان عمر بن الخطاب رضى الله عنه كان اذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب فقال اللهم انا كنا نتوسل اليك بنبينا فتسقينا وانا نتوسل اليك بعم نبينا فاسقنا. قال فيسقون
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں شعبہ نے خبر دی، انہیں محمد بن ابی بکر نے، انہیں عباد بن تمیم نے، انہیں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا استسقاء کی تو اپنی چادر کو بھی الٹا۔
حدثنا اسحاق، قال حدثنا وهب، قال اخبرنا شعبة، عن محمد بن ابي بكر، عن عباد بن تميم، عن عبد الله بن زيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم استسقى فقلب رداءه
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عبداللہ بن ابی بکر سے بیان کیا، انہوں نے عباد بن تمیم سے سنا، وہ اپنے باپ سے بیان کرتے تھے کہ ان سے ان کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں دعائے استسقاء قبلہ رو ہو کر کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر بھی پلٹی اور دو رکعت نماز پڑھی۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ ابن عیینہ کہتے تھے کہ ( حدیث کے راوی عبداللہ بن زید ) وہی ہیں جنہوں نے اذان خواب میں دیکھی تھی لیکن یہ ان کی غلطی ہے کیونکہ یہ عبداللہ ابن زید بن عاصم مازنی ہے جو انصار کے قبیلہ مازن سے تھے۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا سفيان، قال عبد الله بن ابي بكر انه سمع عباد بن تميم، يحدث اباه عن عمه عبد الله بن زيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج الى المصلى فاستسقى، فاستقبل القبلة، وقلب رداءه، وصلى ركعتين. قال ابو عبد الله كان ابن عيينة يقول هو صاحب الاذان، ولكنه وهم، لان هذا عبد الله بن زيد بن عاصم المازني، مازن الانصار
ہم سے محمد بن مرحوم بیکندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوضمرہ انس بن عیاض نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے بیان کیا کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا آپ نے ایک شخص ( کعب بن مرہ یا ابوسفیان ) کا ذکر کیا جو منبر کے سامنے والے دروازے سے جمعہ کے دن مسجد نبوی میں آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے خطبہ دے رہے تھے، اس نے بھی کھڑے کھڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ! ( بارش نہ ہونے سے ) جانور مر گئے اور راستے بند ہو گئے آپ اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا فرمائیے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہتے ہی ہاتھ اٹھا دیئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللهم اسقنا، اللهم اسقنا، اللهم اسقنا» کہ اے اللہ! ہمیں سیراب کر۔ اے اللہ! ہمیں سیراب کر۔ اے اللہ! ہمیں سیراب کر۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا بخدا کہیں دور دور تک آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آتا تھا اور نہ کوئی اور چیز ( ہوا وغیرہ جس سے معلوم ہو کہ بارش آئے گی ) اور ہمارے اور سلع پہاڑ کے درمیان کوئی مکان بھی نہ تھا ( کہ ہم بادل ہونے کے باوجود نہ دیکھ سکتے ہوں ) پہاڑ کے پیچھے سے ڈھال کے برابر بادل نمودار ہوا اور بیچ آسمان تک پہنچ کر چاروں طرف پھیل گیا اور بارش شروع ہو گئی، اللہ کی قسم! ہم نے سورج ایک ہفتہ تک نہیں دیکھا۔ پھر ایک شخص دوسرے جمعہ کو اسی دروازے سے آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے خطبہ دے رہے تھے، اس شخص نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے کھڑے ہی مخاطب کیا کہ یا رسول اللہ! ( بارش کی کثرت سے ) مال و منال پر تباہی آ گئی اور راستے بند ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ بارش روک دے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی «اللهم حوالينا ولا علينا، اللهم على الآكام والجبال والآجام والظراب والأودية ومنابت الشجر» کہ یا اللہ اب ہمارے اردگرد بارش برسا ہم سے اسے روک دے۔ ٹیلوں، پہاڑوں، پہاڑیوں، وادیوں اور باغوں کو سیراب کر۔ انہوں نے کہا کہ اس دعا سے بارش ختم ہو گئی اور ہم نکلے تو دھوپ نکل چکی تھی۔ شریک نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ یہ وہی پہلا شخص تھا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں۔
حدثنا محمد، قال اخبرنا ابو ضمرة، انس بن عياض قال حدثنا شريك بن عبد الله بن ابي نمر، انه سمع انس بن مالك، يذكر ان رجلا، دخل يوم الجمعة من باب كان وجاه المنبر، ورسول الله صلى الله عليه وسلم قايم يخطب فاستقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم قايما فقال يا رسول الله، هلكت المواشي وانقطعت السبل، فادع الله يغيثنا. قال فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه فقال " اللهم اسقنا، اللهم اسقنا، اللهم اسقنا ". قال انس ولا والله ما نرى في السماء من سحاب ولا قزعة ولا شييا، وما بيننا وبين سلع من بيت ولا دار، قال فطلعت من ورايه سحابة مثل الترس، فلما توسطت السماء انتشرت ثم امطرت. قال والله ما راينا الشمس ستا، ثم دخل رجل من ذلك الباب في الجمعة المقبلة، ورسول الله صلى الله عليه وسلم قايم يخطب، فاستقبله قايما فقال يا رسول الله، هلكت الاموال وانقطعت السبل، فادع الله يمسكها، قال فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه ثم قال " اللهم حوالينا ولا علينا، اللهم على الاكام والجبال والاجام والظراب والاودية ومنابت الشجر ". قال فانقطعت وخرجنا نمشي في الشمس. قال شريك فسالت انسا اهو الرجل الاول قال لا ادري
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شریک نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا۔ اب جہاں دار القضاء ہے اسی طرف کے دروازے سے وہ آیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے خطبہ دے رہے تھے، اس نے بھی کھڑے کھڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا کہا کہ یا رسول اللہ! جانور مر گئے اور راستے بند ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہم پر پانی برسائے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی «اللهم أغثنا، اللهم أغثنا، اللهم أغثنا» اے اللہ! ہم پر پانی برسا۔ اے اللہ! ہمیں سیراب کر۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم! آسمان پر بادل کا کہیں نشان بھی نہ تھا اور ہمارے اور سلع پہاڑ کے بیچ میں مکانات بھی نہیں تھے، اتنے میں پہاڑ کے پیچھے سے بادل نمودار ہوا ڈھال کی طرح اور آسمان کے بیچ میں پہنچ کر چاروں طرف پھیل گیا اور برسنے لگا۔ اللہ کی قسم! ہم نے ایک ہفتہ تک سورج نہیں دیکھا۔ پھر دوسرے جمعہ کو ایک شخص اسی دروازے سے داخل ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے، اس لیے اس نے کھڑے کھڑے کہا کہ یا رسول اللہ! ( کثرت بارش سے ) جانور تباہ ہو گئے اور راستے بند ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ بارش بند ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی «اللهم حوالينا ولا علينا، اللهم على الآكام والظراب وبطون الأودية ومنابت الشجر» اے اللہ! ہمارے اطراف میں بارش برسا ( جہاں ضرورت ہے ) ہم پر نہ برسا۔ اے اللہ! ٹیلوں پہاڑیوں وادیوں اور باغوں کو سیراب کر۔ چنانچہ بارش کا سلسلہ بند ہو گیا اور ہم باہر آئے تو دھوپ نکل چکی تھی۔ شریک نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا یہ پہلا ہی شخص تھا؟ انہوں نے جواب دیا مجھے معلوم نہیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن شريك، عن انس بن مالك، ان رجلا، دخل المسجد يوم جمعة من باب كان نحو دار القضاء، ورسول الله صلى الله عليه وسلم قايم يخطب، فاستقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم قايما ثم قال يا رسول الله هلكت الاموال وانقطعت السبل، فادع الله يغيثنا فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه ثم قال " اللهم اغثنا، اللهم اغثنا، اللهم اغثنا ". قال انس ولا والله ما نرى في السماء من سحاب، ولا قزعة، وما بيننا وبين سلع من بيت ولا دار. قال فطلعت من ورايه سحابة مثل الترس، فلما توسطت السماء انتشرت ثم امطرت، فلا والله ما راينا الشمس ستا، ثم دخل رجل من ذلك الباب في الجمعة ورسول الله صلى الله عليه وسلم قايم يخطب، فاستقبله قايما فقال يا رسول الله هلكت الاموال وانقطعت السبل، فادع الله يمسكها عنا. قال فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه ثم قال " اللهم حوالينا ولا علينا، اللهم على الاكام والظراب وبطون الاودية ومنابت الشجر ". قال فاقلعت وخرجنا نمشي في الشمس. قال شريك سالت انس بن مالك اهو الرجل الاول فقال ما ادري
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! پانی کا قحط پڑ گیا ہے، اللہ سے دعا کیجئے کہ ہمیں سیراب کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور بارش اس طرح شروع ہوئی کہ گھروں تک پہنچنا مشکل ہو گیا، دوسرے جمعہ تک برابر بارش ہوتی رہی۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ( دوسرے جمعہ میں ) وہی شخص یا کوئی اور کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ بارش کا رخ کسی اور طرف موڑ دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ «اللهم حوالينا ولا علينا» اے اللہ ہمارے اردگرد بارش برسا ہم پر نہ برسا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ بادل ٹکڑے ٹکڑے ہو کر دائیں بائیں طرف چلے گئے پھر وہاں بارش شروع ہو گئی اور مدینہ میں اس کا سلسلہ بند ہوا۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس، قال بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب يوم الجمعة اذ جاء رجل فقال يا رسول الله، قحط المطر فادع الله ان يسقينا. فدعا فمطرنا، فما كدنا ان نصل الى منازلنا فما زلنا نمطر الى الجمعة المقبلة. قال فقام ذلك الرجل او غيره فقال يا رسول الله ادع الله ان يصرفه عنا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم حوالينا ولا علينا ". قال فلقد رايت السحاب يتقطع يمينا وشمالا يمطرون ولا يمطر اهل المدينة
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے، ان کو انس رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ جانور ہلاک ہو گئے اور راستے بند ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ایک ہفتہ تک بارش ہوتی رہی پھر ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ ( بارش کی کثرت سے ) گھر گر گئے راستے بند ہو گئے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کھڑے ہو کر دعا کی «اللهم على الآكام والظراب والأودية ومنابت الشجر» کہ اے اللہ! بارش ٹیلوں، پہاڑوں، وادیوں اور باغوں میں برسا ( دعا کے نتیجہ میں ) بادل مدینہ سے اس طرح پھٹ گئے جیسے کپڑا پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن شريك بن عبد الله، عن انس، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال هلكت المواشي وتقطعت السبل. فدعا، فمطرنا من الجمعة الى الجمعة، ثم جاء فقال تهدمت البيوت وتقطعت السبل، وهلكت المواشي فادع الله يمسكها. فقام صلى الله عليه وسلم فقال " اللهم على الاكام والظراب والاودية ومنابت الشجر ". فانجابت عن المدينة انجياب الثوب
ہم سے اسماعیل بن ابی ایوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کے واسطے سے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مویشی ہلاک ہو گئے اور راستے بند ہو گئے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تو ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی پھر دوسرے جمعہ کو ایک شخص حاضر خدمت ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ( کثرت باراں سے بہت سے ) مکانات گر گئے، راستے بند ہو گئے اور مویشی ہلاک ہو گئے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی «اللهم على رءوس الجبال والآكام وبطون الأودية ومنابت الشجر» کہ اے اللہ! پہاڑوں ٹیلوں وادیوں اور باغات کی طرف بارش کا رخ کر دے۔ ( جہاں بارش کی کمی ہے ) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے بادل کپڑے کی طرح پھٹ گیا۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن شريك بن عبد الله بن ابي نمر، عن انس بن مالك، قال جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله، هلكت المواشي وانقطعت السبل، فادع الله، فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم فمطروا من جمعة الى جمعة، فجاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله، تهدمت البيوت وتقطعت السبل وهلكت المواشي. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم على رءوس الجبال والاكام وبطون الاودية ومنابت الشجر ". فانجابت عن المدينة انجياب الثوب
ہم سے حسن بن بشر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے معافی بن عمران نے بیان کیا کہ ان سے امام اوزاعی نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( قحط سے ) مال کی بربادی اور اہل و عیال کی بھوک کی شکایت کی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے استسقاء کی۔ راوی نے اس موقع پر نہ چادر پلٹنے کا ذکر کیا اور نہ قبلہ کی طرف منہ کرنے کا۔
حدثنا الحسن بن بشر، قال حدثنا معافى بن عمران، عن الاوزاعي، عن اسحاق بن عبد الله، عن انس بن مالك، ان رجلا، شكا الى النبي صلى الله عليه وسلم هلاك المال وجهد العيال، فدعا الله يستسقي، ولم يذكر انه حول رداءه ولا استقبل القبلة
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کے واسطے سے خبر دی اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عرض کیا یا رسول اللہ! ( قحط سے ) جانور ہلاک ہو گئے اور راستے بند، اللہ سے دعا کیجئے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ایک جمعہ سے اگلے جمعہ تک ایک ہفتہ بارش ہوتی رہی۔ پھر ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ( بارش کی کثرت سے ) راستے بند ہو گئے اور مویشی ہلاک ہو گئے۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی «اللهم على ظهور الجبال والآكام وبطون الأودية ومنابت الشجر» کہ اے اللہ! بارش کا رخ پہاڑوں، ٹیلوں، وادیوں اور باغات کی طرف موڑ دے، چنانچہ بادل مدینہ سے اس طرح چھٹ گیا جیسے کپڑا پھٹ جایا کرتا ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن شريك بن عبد الله بن ابي نمر، عن انس بن مالك، انه قال جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله هلكت المواشي، وتقطعت السبل، فادع الله. فدعا الله، فمطرنا من الجمعة الى الجمعة، فجاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله، تهدمت البيوت وتقطعت السبل وهلكت المواشي. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم على ظهور الجبال والاكام وبطون الاودية ومنابت الشجر ". فانجابت عن المدينة انجياب الثوب
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے منصور اور اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحی نے، ان سے مسروق نے، آپ نے کہا کہ میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ نے فرمایا کہ قریش کا اسلام سے اعراض بڑھتا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں بددعا کی۔ اس بددعا کے نتیجے میں ایسا قحط پڑا کہ کفار مرنے لگے اور مردار اور ہڈیاں کھانے لگے۔ آخر ابوسفیان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں لیکن آپ کی قوم مر رہی ہے۔ اللہ عزوجل سے دعا کیجئے۔ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی ( ترجمہ ) اس دن کا انتظار کر جب آسمان پر صاف کھلا ہوا دھواں نمودار ہو گا الآیہ ( خیر آپ نے دعا کی بارش ہوئی قحط جاتا رہا ) لیکن وہ پھر کفر کرنے لگے اس پر اللہ پاک کا یہ فرمان نازل ہوا ( ترجمہ ) جس دن ہم انہیں سختی کے ساتھ پکڑ کریں گے اور یہ پکڑ بدر کی لڑائی میں ہوئی اور اسباط بن محمد نے منصور سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے استسقاء کی ( مدینہ میں ) جس کے نتیجہ میں خوب بارش ہوئی کہ سات دن تک وہ برابر جاری رہی۔ آخر لوگوں نے بارش کی زیادتی کی شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللهم حوالينا ولا علينا» کہ اے اللہ! ہمارے اطراف و جوانب میں بارش برسا، مدینہ میں بارش کا سلسلہ ختم کر۔ چنانچہ بادل آسمان سے چھٹ گیا اور مدینہ کے اردگرد خوب بارش ہوئی۔
حدثنا محمد بن كثير، عن سفيان، حدثنا منصور، والاعمش، عن ابي الضحى، عن مسروق، قال اتيت ابن مسعود فقال ان قريشا ابطيوا عن الاسلام،، فدعا عليهم النبي صلى الله عليه وسلم فاخذتهم سنة حتى هلكوا فيها واكلوا الميتة والعظام، فجاءه ابو سفيان فقال يا محمد، جيت تامر بصلة الرحم، وان قومك هلكوا، فادع الله. فقرا {فارتقب يوم تاتي السماء بدخان مبين} ثم عادوا الى كفرهم فذلك قوله تعالى {يوم نبطش البطشة الكبرى} يوم بدر. قال وزاد اسباط عن منصور فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فسقوا الغيث، فاطبقت عليهم سبعا، وشكا الناس كثرة المطر فقال " اللهم حوالينا ولا علينا ". فانحدرت السحابة عن راسه، فسقوا الناس حولهم
مجھ سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے عبیداللہ عمری سے بیان کیا، ان سے ثابت نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ اتنے میں لوگوں نے کھڑے ہو کر غل مچایا، کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! بارش کے نام بوند بھی نہیں درخت سرخ ہو چکے ( یعنی تمام پتے خشک ہو گئے ) اور جانور تباہ ہو رہے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمیں سیراب کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللهم اسقنا» اے اللہ! ہمیں سیراب کر۔ دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کہا، قسم اللہ کی اس وقت آسمان پر بادل کہیں دور دور نظر نہیں آتا تھا لیکن دعا کے بعد اچانک ایک بادل آیا اور بارش شروع ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اتر ے اور نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو بارش ہو رہی تھی اور دوسرے جمعہ تک بارش برابر ہوتی رہی پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے جمعہ میں خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو لوگوں نے بتایا کہ مکانات منہدم ہو گئے اور راستے بند ہو گئے، اللہ سے دعا کیجئے کہ بارش بند کر دے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور دعا کی «االلهم حوالينا ولا علينا» اے اللہ! ہمارے اطراف میں اب بارش برسا، مدینہ میں اس کا سلسلہ بند کر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے مدینہ سے بادل چھٹ گئے اور بارش ہمارے ارد گرد ہونے لگی۔ اس شان سے کہ اب مدینہ میں ایک بوند بھی نہ پڑتی تھی میں نے مدینہ کو دیکھا ابر تاج کی طرح گردا گرد تھا اور مدینہ اس کے بیچ میں۔
حدثنا محمد بن ابي بكر، حدثنا معتمر، عن عبيد الله، عن ثابت، عن انس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يخطب يوم جمعة، فقام الناس فصاحوا فقالوا يا رسول الله، قحط المطر واحمرت الشجر وهلكت البهايم، فادع الله يسقينا. فقال " اللهم اسقنا ". مرتين، وايم الله ما نرى في السماء قزعة من سحاب، فنشات سحابة وامطرت، ونزل عن المنبر فصلى، فلما انصرف لم تزل تمطر الى الجمعة التي تليها، فلما قام النبي صلى الله عليه وسلم يخطب صاحوا اليه تهدمت البيوت وانقطعت السبل، فادع الله يحبسها عنا. فتبسم النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال " اللهم حوالينا ولا علينا ". فكشطت المدينة، فجعلت تمطر حولها ولا تمطر بالمدينة قطرة، فنظرت الى المدينة وانها لفي مثل الاكليل
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، ان سے زہیر نے، ان سے ابواسحاق نے کہ عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ استسقاء کے لیے باہر نکلے۔ ان کے ساتھ براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ انہوں نے پانی کے لیے دعا کی تو پاؤں پر کھڑے رہے، منبر نہ تھا۔ اسی طرح آپ نے دعا کی پھر دو رکعت نماز پڑھی جس میں قرآت بلند آواز سے کی، نہ اذان کہی اور نہ اقامت ابواسحاق نے کہا عبداللہ بن یزید نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا۔
وقال لنا ابو نعيم عن زهير، عن ابي اسحاق، خرج عبد الله بن يزيد الانصاري وخرج معه البراء بن عازب وزيد بن ارقم رضى الله عنهم فاستسقى، فقام بهم على رجليه على غير منبر فاستغفر، ثم صلى ركعتين يجهر بالقراءة ولم يوذن، ولم يقم. قال ابو اسحاق وراى عبد الله بن يزيد النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابوالیمان حکیم بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عباد بن تمیم نے بیان کیا کہ ان کے چچا عبداللہ بن زید نے جو صحابی تھے، انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ساتھ لے کر استسقاء کے لیے نکلے اور آپ کھڑے ہوئے اور کھڑے ہی کھڑے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، پھر قبلہ کی طرف منہ کر کے اپنی چادر پلٹی چنانچہ بارش خوب ہوئی۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني عباد بن تميم، ان عمه وكان من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم اخبره ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج بالناس يستسقي لهم، فقام فدعا الله قايما، ثم توجه قبل القبلة، وحول رداءه فاسقوا
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے زہری سے بیان کیا، ان سے عباد بن تمیم نے اور ان سے ان کے چچا (عبداللہ بن زید) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے لیے باہر نکلے تو قبلہ رو ہو کر دعا کی۔ پھر اپنی چادر پلٹی اور دو رکعت نماز پڑھی۔ نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآت بلند آواز سے کی۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن عباد بن تميم، عن عمه، قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم يستسقي فتوجه الى القبلة يدعو، وحول رداءه، ثم صلى ركعتين جهر فيهما بالقراءة