Loading...

Loading...
کتب
۳۵ احادیث
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے زہری سے بیان کیا، ان سے عباد بن تمیم نے، ان سے ان کے چچا عبداللہ بن زید نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے لیے باہر نکلے، دیکھا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیٹھ صحابہ کی طرف کر دی اور قبلہ رخ ہو کر دعا کی۔ پھر چادر پلٹی اور دو رکعت نماز پڑھائی جس کی قرآت قرآن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہر کیا تھا۔
حدثنا ادم، قال حدثنا ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن عباد بن تميم، عن عمه، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يوم خرج يستسقي قال فحول الى الناس ظهره، واستقبل القبلة يدعو، ثم حول رداءه، ثم صلى لنا ركعتين جهر فيهما بالقراءة
مجھ سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عبداللہ بن ابی بکر سے بیان کیا، ان سے عباد بن تمیم نے، ان سے ان کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے استسقاء کی تو دو رکعت نماز پڑھی اور چادر پلٹی۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا سفيان، عن عبد الله بن ابي بكر، عن عباد بن تميم، عن عمه، ان النبي صلى الله عليه وسلم استسقى فصلى ركعتين، وقلب رداءه
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عبداللہ بن ابی بکر سے بیان کیا، انہوں نے عباد بن تمیم سے سنا اور عباد اپنے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعائے استسقاء کے لیے عیدگاہ کو نکلے اور قبلہ رخ ہو کر دو رکعت نماز پڑھی پھر چادر پلٹی۔ سفیان ثوری نے کہا مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ مسعودی نے ابوبکر کے حوالے سے خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کا داہنا کونا بائیں کندھے پر ڈالا۔
حدثنا عبد الله بن محمد، قال حدثنا سفيان، عن عبد الله بن ابي بكر، سمع عباد بن تميم، عن عمه، قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم الى المصلى يستسقي، واستقبل القبلة فصلى ركعتين، وقلب رداءه. قال سفيان فاخبرني المسعودي عن ابي بكر قال جعل اليمين على الشمال
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں یحییٰ بن سعید انصاری نے حدیث بیان کی، کہا کہ مجھے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے خبر دی کہ عباد بن تمیم نے انہیں خبر دی اور انہیں عبداللہ بن زید انصاری نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( استسقاء کے لیے ) عیدگاہ کی طرف نکلے وہاں نماز پڑھنے کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرنے لگے یا راوی نے یہ کہا دعا کا ارادہ کیا تو قبلہ رو ہو کر چادر مبارک پلٹی۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ اس حدیث کے راوی عبداللہ بن زید مازنی ہیں اور اس سے پہلے باب «الدعا فی الاستسقاء» میں جن کا ذکر گزرا اور وہ عبداللہ بن یزید ہیں کوفہ کے رہنے والے۔
حدثنا محمد، قال اخبرنا عبد الوهاب، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال اخبرني ابو بكر بن محمد، ان عباد بن تميم، اخبره ان عبد الله بن زيد الانصاري اخبره ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج الى المصلى يصلي، وانه لما دعا او اراد ان يدعو استقبل القبلة وحول رداءه. قال ابو عبد الله ابن زيد هذا مازني، والاول كوفي هو ابن يزيد
ایوب بن سلیمان نے کہا کہ مجھ سے ابوبکر بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے سلیمان بن بلال سے بیان کیا کہ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا کہ ایک بدوی ( گاؤں کا رہنے والا ) جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! بھوک سے مویشی تباہ ہو گئے، اہل و عیال اور تمام لوگ مر رہے ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے، اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے ہاتھ اٹھائے، دعا کرنے لگے، انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابھی ہم مسجد سے باہر نکلے بھی نہ تھے کہ بارش شروع ہو گئی اور ایک ہفتہ برابر بارش ہوتی رہی۔ دوسرے جمعہ میں پھر وہی شخص آیا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! ( بارش بہت ہونے سے ) مسافر گھبرا گئے اور راستے بند ہو گئے۔
قال ايوب بن سليمان حدثني ابو بكر بن ابي اويس، عن سليمان بن بلال، قال يحيى بن سعيد سمعت انس بن مالك، قال اتى رجل اعرابي من اهل البدو الى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الجمعة فقال يا رسول الله، هلكت الماشية هلك العيال هلك الناس. فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه يدعو، ورفع الناس ايديهم معه يدعون، قال فما خرجنا من المسجد حتى مطرنا، فما زلنا نمطر حتى كانت الجمعة الاخرى، فاتى الرجل الى نبي الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله، بشق المسافر، ومنع الطريق
عبدالعزیز اویسی نے کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ان سے یحییٰ بن سعید اور شریک نے، انہوں نے کہا کہ ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( نے استسقاء میں دعا کرنے کے لیے ) اس طرح ہاتھ اٹھائے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔
وقال الاويسي حدثني محمد بن جعفر، عن يحيى بن سعيد، وشريك، سمعا انسا، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه رفع يديه حتى رايت بياض ابطيه
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان اور محمد بن ابراہیم بن عدی بن عروبہ نے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے قتادہ اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعائے استسقاء کے سوا اور کسی دعا کے لیے ہاتھ ( زیادہ ) نہیں اٹھاتے تھے اور استسقاء میں ہاتھ اتنا اٹھاتے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى، وابن ابي عدي، عن سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يرفع يديه في شىء من دعايه الا في الاستسقاء، وانه يرفع حتى يرى بياض ابطيه
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ ہمیں عبیداللہ عمری نے نافع سے خبر دی، انہیں قاسم بن محمد نے، انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش ہوتی دیکھتے تو یہ دعا کرتے «صيبا نافعا» اے اللہ! نفع بخشنے والی بارش برسا۔ اس روایت کی متابعت قاسم بن یحییٰ نے عبیداللہ عمری سے کی ہے اور اس کی روایت اوزاعی اور عقیل نے نافع سے کی ہے۔
حدثنا محمد هو ابن مقاتل ابو الحسن المروزي قال اخبرنا عبد الله، قال اخبرنا عبيد الله، عن نافع، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا راى المطر قال " صيبا نافعا ". تابعه القاسم بن يحيى عن عبيد الله. ورواه الاوزاعي وعقيل عن نافع
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام اوزاعی نے خبر دی، کہا کہ ہم سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں پر ایک دفعہ قحط پڑا۔ انہی دنوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ! جانور مر گئے اور بال بچے فاقے پر فاقے کرر ہے ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ پانی برسائے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر دعا کے لیے دونوں ہاتھ اٹھا دیئے۔ آسمان پر دور دور تک ابر کا پتہ تک نہیں تھا۔ لیکن ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ) پہاڑوں کے برابر بادل گرجتے ہوئے آ گئے ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے بھی نہیں تھے کہ میں نے دیکھا کہ بارش کا پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے بہہ رہا ہے۔ انس نے کہا کہ اس روز بارش دن بھر ہوتی رہی۔ دوسرے دن تیسرے دن، بھی اور برابر اسی طرح ہوتی رہی۔ اس طرح دوسرا جمعہ آ گیا۔ پھر یہی بدوی یا کوئی دوسرا شخص کھڑا ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ( کثرت باراں سے ) عمارتیں گر گئیں اور جانور ڈوب گئے، ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی «اللهم حوالينا ولا علينا» کہ اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا اور ہم پر نہ برسا۔ انس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں سے آسمان کی جس طرف بھی اشارہ کر دیتے ابر ادھر سے پھٹ جاتا، اب مدینہ حوض کی طرح بن چکا تھا اور اسی کے بعد وادی قناۃ کا نالہ ایک مہینہ تک بہتا رہا۔ انس نے بیان کیا کہ اس کے بعد مدینہ کے اردگرد سے جو بھی آیا اس نے خوب سیرابی کی خبر لائی۔
حدثنا محمد بن مقاتل، قال اخبرنا عبد الله بن المبارك، قال اخبرنا الاوزاعي، قال حدثنا اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة الانصاري، قال حدثني انس بن مالك، قال اصابت الناس سنة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فبينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب على المنبر يوم الجمعة قام اعرابي فقال يا رسول الله، هلك المال وجاع العيال، فادع الله لنا ان يسقينا. قال فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه، وما في السماء قزعة، قال فثار سحاب امثال الجبال، ثم لم ينزل عن منبره حتى رايت المطر يتحادر على لحيته، قال فمطرنا يومنا ذلك، وفي الغد ومن بعد الغد والذي يليه الى الجمعة الاخرى، فقام ذلك الاعرابي او رجل غيره فقال يا رسول الله، تهدم البناء وغرق المال، فادع الله لنا. فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه وقال " اللهم حوالينا ولا علينا ". قال فما جعل يشير بيده الى ناحية من السماء الا تفرجت حتى صارت المدينة في مثل الجوبة، حتى سال الوادي وادي قناة شهرا. قال فلم يجي احد من ناحية الا حدث بالجود
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھے حمید طویل نے خبر دی اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب تیز ہوا چلتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ڈر محسوس ہوتا تھا۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، قال اخبرنا محمد بن جعفر، قال اخبرني حميد، انه سمع انسا، يقول كانت الريح الشديدة اذا هبت عرف ذلك في وجه النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے حکم سے بیان کیا، ان سے مجاہد نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پروا ہوا کے ذریعہ مدد پہنچائی گئی اور قوم عاد پچھوا کے ذریعہ ہلاک کر دی گئی تھی۔
حدثنا مسلم، قال حدثنا شعبة، عن الحكم، عن مجاهد، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " نصرت بالصبا، واهلكت عاد بالدبور
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے ابوالزناد (عبداللہ بن ذکوان) نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک علم دین نہ اٹھ جائے گا اور زلزلوں کی کثرت نہ ہو جائے گی اور زمانہ جلدی جلدی نہ گزرے گا اور فتنے فساد پھوٹ پڑیں گے اور «هرج» کی کثرت ہو جائے گی اور «هرج» سے مراد قتل ہے۔ قتل اور تمہارے درمیان دولت و مال کی اتنی کثرت ہو گی کہ وہ ابل پڑے گا۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، قال اخبرنا ابو الزناد، عن عبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى يقبض العلم، وتكثر الزلازل، ويتقارب الزمان، وتظهر الفتن، ويكثر الهرج وهو القتل القتل حتى يكثر فيكم المال فيفيض
مجھ سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حسین بن حسن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اے اللہ! ہمارے شام اور یمن پر برکت نازل فرما۔ اس پر لوگوں نے کہا اور ہمارے نجد کے لیے بھی برکت کی دعا کیجئے لیکن آپ نے پھر وہی کہا ”اے اللہ! ہمارے شام اور یمن پر برکت نازک فرما“ پھر لوگوں نے کہا اور ہمارے نجد میں؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہاں تو زلزلے اور فتنے ہوں گے اور شیطان کا سینگ وہی سے طلوع ہو گا۔
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثنا حسين بن الحسن، قال حدثنا ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، قال اللهم بارك لنا في شامنا وفي يمننا. قال قالوا وفي نجدنا قال قال اللهم بارك لنا في شامنا وفي يمننا. قال قالوا وفي نجدنا قال قال هناك الزلازل والفتن، وبها يطلع قرن الشيطان
ہم سے اسماعیل بن ایوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے صالح بن کیسان سے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا، ان سے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں ہم کو صبح کی نماز پڑھائی۔ رات کو بارش ہو چکی تھی نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا معلوم ہے تمہارے رب نے کیا فیصلہ کیا ہے؟ لوگ بولے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پروردگار فرماتا ہے آج میرے دو طرح کے بندوں نے صبح کی۔ ایک مومن ہے ایک کافر۔ جس نے کہا اللہ کے فضل و رحم سے پانی پڑا وہ تو مجھ پر ایمان لایا اور ستاروں کا منکر ہوا اور جس نے کہا فلاں تارے کے فلاں جگہ آنے سے پانی پڑا اس نے میرا کفر کیا، تاروں پر ایمان لایا۔
حدثنا اسماعيل، حدثني مالك، عن صالح بن كيسان، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، عن زيد بن خالد الجهني، انه قال صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح بالحديبية على اثر سماء كانت من الليلة، فلما انصرف النبي صلى الله عليه وسلم اقبل على الناس فقال " هل تدرون ماذا قال ربكم ". قالوا الله ورسوله اعلم. قال " اصبح من عبادي مومن بي وكافر، فاما من قال مطرنا بفضل الله ورحمته. فذلك مومن بي كافر بالكوكب، واما من قال بنوء كذا وكذا. فذلك كافر بي مومن بالكوكب
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غیب کی پانچ کنجیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ کسی کو نہیں معلوم کہ کل کیا ہونے والا ہے، کوئی نہیں جانتا کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے، کل کیا کرنا ہو گا، اس کا کسی کو علم نہیں۔ نہ کوئی یہ جانتا ہے کہ اسے موت کس جگہ آئے گی اور نہ کسی کو یہ معلوم کہ بارش کب ہو گی۔
حدثنا محمد بن يوسف، قال حدثنا سفيان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مفتاح الغيب خمس لا يعلمها الا الله لا يعلم احد ما يكون في غد، ولا يعلم احد ما يكون في الارحام، ولا تعلم نفس ماذا تكسب غدا، وما تدري نفس باى ارض تموت، وما يدري احد متى يجيء المطر