Loading...

Loading...
کتب
۶۶ احادیث
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ طاؤس نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم ( دنیا میں ) تو بعد میں آئے لیکن قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے، فرق صرف یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہمیں بعد میں۔ تو یہ دن ( جمعہ ) وہ ہے جس کے بارے میں اہل کتاب نے اختلاف کیا، اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دن بتلا دیا ( اس کے بعد ) دوسرا دن ( ہفتہ ) یہود کا دن ہے اور تیسرا دن ( اتوار ) نصاریٰ کا۔ آپ پھر خاموش ہو گئے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، قال حدثنا وهيب، قال حدثنا ابن طاوس، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نحن الاخرون السابقون يوم القيامة، اوتوا الكتاب من قبلنا، واوتيناه من بعدهم، فهذا اليوم الذي اختلفوا فيه فهدانا الله، فغدا لليهود وبعد غد للنصارى ". فسكت. ثم قال " حق على كل مسلم ان يغتسل في كل سبعة ايام يوما يغسل فيه راسه وجسده ". ثم قال " حق على كل مسلم ان يغتسل في كل سبعة ايام يوما يغسل فيه راسه وجسده
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ طاؤس نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم ( دنیا میں ) تو بعد میں آئے لیکن قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے، فرق صرف یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہمیں بعد میں۔ تو یہ دن ( جمعہ ) وہ ہے جس کے بارے میں اہل کتاب نے اختلاف کیا، اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دن بتلا دیا ( اس کے بعد ) دوسرا دن ( ہفتہ ) یہود کا دن ہے اور تیسرا دن ( اتوار ) نصاریٰ کا۔ آپ پھر خاموش ہو گئے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، قال حدثنا وهيب، قال حدثنا ابن طاوس، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نحن الاخرون السابقون يوم القيامة، اوتوا الكتاب من قبلنا، واوتيناه من بعدهم، فهذا اليوم الذي اختلفوا فيه فهدانا الله، فغدا لليهود وبعد غد للنصارى ". فسكت. ثم قال " حق على كل مسلم ان يغتسل في كل سبعة ايام يوما يغسل فيه راسه وجسده ". ثم قال " حق على كل مسلم ان يغتسل في كل سبعة ايام يوما يغسل فيه راسه وجسده
اس حدیث کی روایت ابان بن صالح نے مجاہد سے کی ہے، ان سے طاؤس نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ہر مسلمان پر حق ہے کہ ہر سات دن میں ایک دن ( جمعہ ) غسل کرے۔
رواه ابان بن صالح عن مجاهد، عن طاوس، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لله تعالى على كل مسلم حق ان يغتسل في كل سبعة ايام يوما
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شبابہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ورقاء بن عمرو نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے مجاہد نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کو رات کے وقت مسجدوں میں آنے کی اجازت دے دیا کرو۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا شبابة، حدثنا ورقاء، عن عمرو بن دينار، عن مجاهد، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ايذنوا للنساء بالليل الى المساجد
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا کہا کہ ہم سے عبیداللہ ابن عمر نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیوی تھیں جو صبح اور عشاء کی نماز جماعت سے پڑھنے کے لیے مسجد میں آیا کرتی تھیں۔ ان سے کہا گیا کہ باوجود اس علم کے کہ عمر رضی اللہ عنہ اس بات کو مکروہ جانتے ہیں اور وہ غیرت محسوس کرتے ہیں پھر آپ مسجد میں کیوں جاتی ہیں۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ پھر وہ مجھے منع کیوں نہیں کر دیتے۔ لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی وجہ سے کہ اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں آنے سے مت روکو۔
حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا ابو اسامة، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال كانت امراة لعمر تشهد صلاة الصبح والعشاء في الجماعة في المسجد، فقيل لها لم تخرجين وقد تعلمين ان عمر يكره ذلك ويغار قالت وما يمنعه ان ينهاني قال يمنعه قول رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تمنعوا اماء الله مساجد الله
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں صاحب الزیادی عبدالحمید نے خبر دی، کہا کہ ہم سے محمد بن سیرین کے چچازاد بھائی عبداللہ بن حارث نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے مؤذن سے ایک دفعہ بارش کے دن کہا کہ «أشهد أن محمدا رسول الله» کے بعد «حى على الصلاة» ( نماز کی طرف آؤ ) نہ کہنا بلکہ یہ کہنا کہ «صلوا في بيوتكم» ( اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو ) لوگوں نے اس بات پر تعجب کیا تو آپ نے فرمایا کہ اسی طرح مجھ سے بہتر انسان ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کیا تھا۔ بیشک جمعہ فرض ہے اور میں مکروہ جانتا ہوں کہ تمہیں گھروں سے باہر نکال کر مٹی اور کیچڑ پھسلوان میں چلاؤں۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا اسماعيل، قال اخبرني عبد الحميد، صاحب الزيادي قال حدثنا عبد الله بن الحارث ابن عم، محمد بن سيرين قال ابن عباس لموذنه في يوم مطير اذا قلت اشهد ان محمدا رسول الله. فلا تقل حى على الصلاة. قل صلوا في بيوتكم. فكان الناس استنكروا، قال فعله من هو خير مني، ان الجمعة عزمة، واني كرهت ان اخرجكم، فتمشون في الطين والدحض
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبیداللہ بن ابی جعفر نے کہ محمد بن جعفر بن زبیر نے ان سے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ نے، آپ نے کہا کہ لوگ جمعہ کی نماز پڑھنے اپنے گھروں سے اور اطراف مدینہ گاؤں سے ( مسجد نبوی میں ) باری باری آیا کرتے تھے۔ لوگ گردوغبار میں چلے آتے، گرد میں اٹے ہوئے اور پسینہ میں شرابور۔ اس قدر پسینہ ہوتا کہ تھمتا ( رکتا ) نہیں تھا۔ اسی حالت میں ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اس دن ( جمعہ میں ) غسل کر لیا کرتے تو بہتر ہوتا۔
حدثنا احمد، قال حدثنا عبد الله بن وهب، قال اخبرني عمرو بن الحارث، عن عبيد الله بن ابي جعفر، ان محمد بن جعفر بن الزبير، حدثه عن عروة بن الزبير، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت كان الناس ينتابون يوم الجمعة من منازلهم والعوالي، فياتون في الغبار، يصيبهم الغبار والعرق، فيخرج منهم العرق، فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم انسان منهم وهو عندي، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لو انكم تطهرتم ليومكم هذا
ہم سے عبدان عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ ہمیں یحیٰی بن سعید نے خبر دی کہ انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے جمعہ کے دن غسل کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ لوگ اپنے کاموں میں مشغول رہتے اور جمعہ کے لیے اسی حالت ( میل کچیل ) میں چلے آتے، اس لیے ان سے کہا گیا کہ کاش تم لوگ ( کبھی ) غسل کر لیا کرتے۔
حدثنا عبدان، قال اخبرنا عبد الله، قال اخبرنا يحيى بن سعيد، انه سال عمرة عن الغسل، يوم الجمعة فقالت قالت عايشة رضى الله عنها كان الناس مهنة انفسهم، وكانوا اذا راحوا الى الجمعة راحوا في هييتهم فقيل لهم لو اغتسلتم
ہم سے سریج بن نعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے عثمان بن عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔
حدثنا سريج بن النعمان، قال حدثنا فليح بن سليمان، عن عثمان بن عبد الرحمن بن عثمان التيمي، عن انس بن مالك، رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي الجمعة حين تميل الشمس
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ ہمیں حمید طویل نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے خبر دی۔ آپ نے فرمایا کہ ہم جمعہ سویرے پڑھ لیا کرتے اور جمعہ کے بعد آرام کرتے تھے۔
حدثنا عبدان، قال اخبرنا عبد الله، قال اخبرنا حميد، عن انس، قال كنا نبكر بالجمعة، ونقيل بعد الجمعة
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حرمی بن عمارہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوخلدہ جن کا نام خالد بن دینار ہے، نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے فرمایا کہ اگر سردی زیادہ پڑتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سویرے پڑھ لیتے۔ لیکن جب گرمی زیادہ ہوتی تو ٹھنڈے وقت نماز پڑھتے۔ آپ کی مراد جمعہ کی نماز سے تھی۔ یونس بن بکیر نے کہا کہ ہمیں ابوخلدہ نے خبر دی۔ انہوں نے صرف نماز کہا۔ جمعہ کا ذکر نہیں کیا اور بشر بن ثابت نے کہا کہ ہم سے ابوخلدہ نے بیان کیا کہ امیر نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی۔ پھر انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کس وقت پڑھتے تھے؟
حدثنا محمد بن ابي بكر المقدمي، قال حدثنا حرمي بن عمارة، قال حدثنا ابو خلدة هو خالد بن دينار قال سمعت انس بن مالك، يقول كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا اشتد البرد بكر بالصلاة، واذا اشتد الحر ابرد بالصلاة، يعني الجمعة. قال يونس بن بكير اخبرنا ابو خلدة فقال بالصلاة، ولم يذكر الجمعة. وقال بشر بن ثابت حدثنا ابو خلدة قال صلى بنا امير الجمعة ثم قال لانس رضى الله عنه كيف كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي الظهر
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں جمعہ کے لیے جا رہا تھا۔ راستے میں ابوعبس رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جس کے قدم اللہ کی راہ میں غبار آلود ہو گئے اللہ تعالیٰ اسے دوزخ پر حرام کر دے گا۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا الوليد بن مسلم، قال حدثنا يزيد بن ابي مريم، قال حدثنا عباية بن رفاعة، قال ادركني ابو عبس وانا اذهب، الى الجمعة فقال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من اغبرت قدماه في سبيل الله حرمه الله على النار
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہری نے سعید اور ابوسلمہ سے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری سند سے بیان کیا) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے اور انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب نماز کے لیے تکبیر کہی جائے تو دوڑتے ہوئے مت آؤ بلکہ ( اپنی معمولی رفتار سے ) آؤ پورے اطمینان کے ساتھ پھر نماز کا جو حصہ ( امام کے ساتھ ) پالو اسے پڑھ لو اور جو رہ جائے تو اسے بعد میں پورا کرو۔
حدثنا ادم، قال حدثنا ابن ابي ذيب، قال الزهري عن سعيد، وابي، سلمة عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم. وحدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا اقيمت الصلاة فلا تاتوها تسعون، واتوها تمشون عليكم السكينة، فما ادركتم فصلوا، وما فاتكم فاتموا
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو قتیبہ بن قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے علی بن مبارک نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے (امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ) عبداللہ نے اپنے باپ ابوقتادہ سے روایت کی ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک مجھے دیکھ نہ لو صف بندی کے لیے کھڑے نہ ہوا کرو اور آہستگی سے چلنا لازم کر لو۔
حدثنا عمرو بن علي، قال حدثني ابو قتيبة، قال حدثنا علي بن المبارك، عن يحيى بن ابي كثير، عن عبد الله بن ابي قتادة لا اعلمه الا عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوموا حتى تروني، وعليكم السكينة
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی انہوں نے کہا کہ ہمیں ابن ابی ذئب نے خبر دی، انہیں سعید مقبری نے، انہیں ان کے باپ ابوسعید نے، انہیں عبداللہ بن ودیعہ نے، انہیں سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور خوب پاکی حاصل کی اور تیل یا خوشبو استعمال کی، پھر جمعہ کے لیے چلا اور دو آدمیوں کے بیچ میں نہ گھسا اور جتنی اس کی قسمت میں تھی، نماز پڑھی، پھر جب امام باہر آیا اور خطبہ شروع کیا تو خاموش ہو گیا، اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے۔
حدثنا عبدان، قال اخبرنا عبد الله، قال اخبرنا ابن ابي ذيب، عن سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابن وديعة، عن سلمان الفارسي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اغتسل يوم الجمعة، وتطهر بما استطاع من طهر، ثم ادهن او مس من طيب، ثم راح فلم يفرق بين اثنين، فصلى ما كتب له، ثم اذا خرج الامام انصت، غفر له ما بينه وبين الجمعة الاخرى
ہم سے محمد بن سلام بیکندی رحمہ اللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں مخلد بن یزید نے خبر دی، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ میں نے نافع سے سنا، انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن عمر سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کو اٹھا کر اس کی جگہ خود بیٹھ جائے۔ میں نے نافع سے پوچھا کہ کیا یہ جمعہ کے لیے ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جمعہ اور غیر جمعہ سب کے لیے یہی حکم ہے۔
حدثنا محمد، قال اخبرنا مخلد بن يزيد، قال اخبرنا ابن جريج، قال سمعت نافعا، يقول سمعت ابن عمر رضى الله عنهما يقول نهى النبي صلى الله عليه وسلم ان يقيم الرجل اخاه من مقعده ويجلس فيه. قلت لنافع الجمعة قال الجمعة وغيرها
ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے زہری کے واسطے سے بیان کیا، ان سے سائب بن یزید نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کی پہلی اذان اس وقت دی جاتی تھی جب امام منبر پر خطبہ کے لیے بیٹھتے لیکن عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب مسلمانوں کی کثرت ہو گئی تو وہ مقام زوراء سے ایک اور اذان دلوانے لگے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ زوراء مدینہ کے بازار میں ایک جگہ ہے۔
حدثنا ادم، قال حدثنا ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن السايب بن يزيد، قال كان النداء يوم الجمعة اوله اذا جلس الامام على المنبر على عهد النبي صلى الله عليه وسلم وابي بكر وعمر رضى الله عنهما فلما كان عثمان رضى الله عنه وكثر الناس زاد النداء الثالث على الزوراء
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبد العزیز بن ابوسلمہ ماجشون نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، ان سے سائب بن یزید نے کہ جمعہ میں تیسری اذان عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بڑھائی جبکہ مدینہ میں لوگ زیادہ ہو گئے تھے جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ہی مؤذن تھے۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ) جمعہ کی اذان اس وقت دی جاتی جب امام منبر پر بیٹھتا۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة الماجشون، عن الزهري، عن السايب بن يزيد، ان الذي، زاد التاذين الثالث يوم الجمعة عثمان بن عفان رضى الله عنه حين كثر اهل المدينة، ولم يكن للنبي صلى الله عليه وسلم موذن غير واحد، وكان التاذين يوم الجمعة حين يجلس الامام، يعني على المنبر
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں ابوبکر بن عثمان بن سہل بن حنیف نے خبر دی، انہیں ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے، انہوں نے کہا میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو دیکھا آپ منبر پر بیٹھے، مؤذن نے اذان دی «الله أكبر الله أكبر» معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا «الله أكبر الله أكبر» مؤذن نے کہا «أشهد أن لا إله إلا الله» معاویہ نے جواب دیا «وأنا» اور میں بھی توحید کی گواہی دیتا ہوں مؤذن نے کہا «أشهد أن محمدا رسول الله» معاویہ نے جواب دیا «وأنا» اور میں بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتا ہوں جب مؤذن اذان کہہ چکا تو آپ نے کہا حاضرین! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اسی جگہ یعنی منبر پر آپ بیٹھے تھے مؤذن نے اذان دی تو آپ یہی فرما رہے تھے جو تم نے مجھ کو کہتے سنا۔
حدثنا ابن مقاتل، قال اخبرنا عبد الله، قال اخبرنا ابو بكر بن عثمان بن سهل بن حنيف، عن ابي امامة بن سهل بن حنيف، قال سمعت معاوية بن ابي سفيان،، وهو جالس على المنبر، اذن الموذن قال الله اكبر الله اكبر. قال معاوية الله اكبر الله اكبر. قال اشهد ان لا اله الا الله. فقال معاوية وانا. فقال اشهد ان محمدا رسول الله. فقال معاوية وانا. فلما ان قضى التاذين قال يا ايها الناس اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على هذا المجلس حين اذن الموذن يقول ما سمعتم مني من مقالتي
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے عقیل کے واسطے سے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے کہ سائب بن یزید نے انہیں خبر دی کہ جمعہ کی دوسری اذان کا حکم عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس وقت دیا جب نمازی بہت زیادہ ہو گئے تھے اور جمعہ کے دن اذان اس وقت ہوتی جب امام منبر پر بیٹھا کرتا تھا۔
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، ان السايب بن يزيد، اخبره ان التاذين الثاني يوم الجمعة امر به عثمان حين كثر اهل المسجد، وكان التاذين يوم الجمعة حين يجلس الامام