Loading...

Loading...
کتب
۶۶ احادیث
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے ربیعہ بن حارث کے غلام عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج نے بیان کیا کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا کہ ہم دنیا میں تمام امتوں کے بعد ہونے کے باوجود قیامت میں سب سے آگے رہیں گے فرق صرف یہ ہے کہ کتاب انہیں ہم سے پہلے دی گئی تھی۔ یہی ( جمعہ ) ان کا بھی دن تھا جو تم پر فرض ہوا ہے۔ لیکن ان کا اس کے بارے میں اختلاف ہوا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دن بتا دیا اس لیے لوگ اس میں ہمارے تابع ہوں گے۔ یہود دوسرے دن ہوں گے اور نصاریٰ تیسرے دن۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، قال حدثنا ابو الزناد، ان عبد الرحمن بن هرمز الاعرج، مولى ربيعة بن الحارث حدثه انه، سمع ابا هريرة رضى الله عنه انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " نحن الاخرون السابقون يوم القيامة، بيد انهم اوتوا الكتاب من قبلنا، ثم هذا يومهم الذي فرض عليهم فاختلفوا فيه، فهدانا الله، فالناس لنا فيه تبع، اليهود غدا والنصارى بعد غد
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے نافع سے خبر دی اور ان کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی شخص جمعہ کی نماز کے لیے آنا چا ہے تو اسے غسل کر لینا چاہیے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا جاء احدكم الجمعة فليغتسل
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جویریہ بن اسماء نے امام مالک سے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے صحابہ مہاجرین میں سے ایک بزرگ تشریف لائے ( یعنی عثمان رضی اللہ عنہ ) عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا بھلا یہ کون سا وقت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں مشغول ہو گیا تھا اور گھر واپس آتے ہی اذان سنی، اس لیے میں وضو سے زیادہ اور کچھ ( غسل ) نہ کر سکا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وضو بھی اچھا ہے۔ حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے لیے فرماتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن محمد بن اسماء، قال اخبرنا جويرية، عن مالك، عن الزهري، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان عمر بن الخطاب، بينما هو قايم في الخطبة يوم الجمعة اذ دخل رجل من المهاجرين الاولين من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فناداه عمر اية ساعة هذه قال اني شغلت فلم انقلب الى اهلي حتى سمعت التاذين، فلم ازد ان توضات. فقال والوضوء ايضا وقد علمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يامر بالغسل
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہمیں مالک نے صفوان بن سلیم کے واسطہ سے خبر دی، انہیں عطاء بن یسار نے، انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ہر بالغ کے لیے غسل ضروری ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن صفوان بن سليم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " غسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم
ہم سے علی بن مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں حرمی بن عمارہ نے خبر دی انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ بن حجاج نے ابوبکر بن منکدر سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن سلیم انصاری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں گواہ ہوں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ میں گواہ ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ہر جوان پر غسل، مسواک اور خوشبو لگانا اگر میسر ہو، ضروری ہے۔ عمرو بن سلیم نے کہا کہ غسل کے متعلق تو میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ واجب ہے لیکن مسواک اور خوشبو کا علم اللہ تعالیٰ کو زیادہ ہے کہ وہ بھی واجب ہیں یا نہیں۔ لیکن حدیث میں اسی طرح ہے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے فرمایا کہ ابوبکر بن منکدر محمد بن منکدر کے بھائی تھے اور ان کا نام معلوم نہیں ( ابوبکر ان کی کنیت تھی ) بکیر بن اشج۔ سعید بن ابی ہلال اور بہت سے لوگ ان سے روایت کرتے ہیں۔ اور محمد بن منکدر ان کے بھائی کی کنیت ابوبکر اور ابوعبداللہ بھی تھی۔
حدثنا علي، قال حدثنا حرمي بن عمارة، قال حدثنا شعبة، عن ابي بكر بن المنكدر، قال حدثني عمرو بن سليم الانصاري، قال اشهد على ابي سعيد قال اشهد على رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الغسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم، وان يستن وان يمس طيبا ان وجد ". قال عمرو اما الغسل فاشهد انه واجب، واما الاستنان والطيب فالله اعلم اواجب هو ام لا، ولكن هكذا في الحديث. قال ابو عبد الله هو اخو محمد بن المنكدر ولم يسم ابو بكر هذا. رواه عنه بكير بن الاشج وسعيد بن ابي هلال وعدة. وكان محمد بن المنكدر يكنى بابي بكر وابي عبد الله
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کے غلام سمی سے خبر دی، جنہیں ابوصالح سمان نے، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کر کے نماز پڑھنے جائے تو گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی دی ( اگر اول وقت مسجد میں پہنچا ) اور اگر بعد میں گیا تو گویا ایک گائے کی قربانی دی اور جو تیسرے نمبر پر گیا تو گویا اس نے ایک سینگ والے مینڈھے کی قربانی دی۔ اور جو کوئی چوتھے نمبر پر گیا تو اس نے گویا ایک مرغی کی قربانی دی اور جو کوئی پانچویں نمبر پر گیا اس نے گویا انڈا اللہ کی راہ میں دیا۔ لیکن جب امام خطبہ کے لیے باہر آ جاتا ہے تو فرشتے خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن سمى، مولى ابي بكر بن عبد الرحمن عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من اغتسل يوم الجمعة غسل الجنابة ثم راح فكانما قرب بدنة، ومن راح في الساعة الثانية فكانما قرب بقرة، ومن راح في الساعة الثالثة فكانما قرب كبشا اقرن، ومن راح في الساعة الرابعة فكانما قرب دجاجة، ومن راح في الساعة الخامسة فكانما قرب بيضة، فاذا خرج الامام حضرت الملايكة يستمعون الذكر
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک بزرگ ( عثمان رضی اللہ عنہ ) داخل ہوئے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ لوگ نماز کے لیے آنے میں کیوں دیر کرتے ہیں۔ ( اول وقت کیوں نہیں آتے ) آنے والے بزرگ نے فرمایا کہ دیر صرف اتنی ہوئی کہ اذان سنتے ہی میں نے وضو کیا ( اور پھر حاضر ہوا ) آپ نے فرمایا کہ کیا آپ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نہیں سنی ہے کہ جب کوئی جمعہ کے لیے جائے تو غسل کر لینا چاہیے۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا شيبان، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان عمر رضى الله عنه بينما هو يخطب يوم الجمعة اذ دخل رجل فقال عمر لم تحتبسون عن الصلاة فقال الرجل ما هو الا سمعت النداء توضات. فقال الم تسمعوا النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا راح احدكم الى الجمعة فليغتسل
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے سعید مقبری سے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے باپ ابوسعید مقبری نے عبداللہ بن ودیعہ سے خبر دی، ان سے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور خوب اچھی طرح سے پاکی حاصل کرے اور تیل استعمال کرے یا گھر میں جو خوشبو میسر ہو استعمال کرے پھر نماز جمعہ کے لیے نکلے اور مسجد میں پہنچ کر دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسے، پھر جتنی ہو سکے نفل نماز پڑھے اور جب امام خطبہ شروع کرے تو خاموش سنتا رہے تو اس کے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
حدثنا ادم، قال حدثنا ابن ابي ذيب، عن سعيد المقبري، قال اخبرني ابي، عن ابن وديعة، عن سلمان الفارسي، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا يغتسل رجل يوم الجمعة، ويتطهر ما استطاع من طهر، ويدهن من دهنه، او يمس من طيب بيته ثم يخرج، فلا يفرق بين اثنين، ثم يصلي ما كتب له، ثم ينصت اذا تكلم الامام، الا غفر له ما بينه وبين الجمعة الاخرى
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی کہ طاؤس بن کیسان نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن اگرچہ جنابت نہ ہو لیکن غسل کرو اور اپنے سر دھویا کرو اور خوشبو لگایا کرو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ غسل کا حکم تو ٹھیک ہے لیکن خوشبو کے متعلق مجھے علم نہیں۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال طاوس قلت لابن عباس ذكروا ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اغتسلوا يوم الجمعة واغسلوا رءوسكم وان لم تكونوا جنبا، واصيبوا من الطيب ". قال ابن عباس اما الغسل فنعم، واما الطيب فلا ادري
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشام بن یوسف نے خبر دی، کہ انہیں ابن جریج نے خبر دی انہوں نے کہا کہ مجھے ابراہیم بن میسرہ نے طاؤس سے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے، آپ نے جمعہ کے دن غسل کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا ذکر کیا تو میں نے کہا کہ کیا تیل اور خوشبو کا استعمال بھی ضروری ہے؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، قال اخبرنا هشام، ان ابن جريج، اخبرهم قال اخبرني ابراهيم بن ميسرة، عن طاوس، عن ابن عباس رضى الله عنهما انه ذكر قول النبي صلى الله عليه وسلم في الغسل يوم الجمعة فقلت لابن عباس ايمس طيبا او دهنا ان كان عند اهله فقال لا اعلمه
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے نافع سے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ( ریشم کا ) دھاری دار جوڑا مسجد نبوی کے دروازے پر بکتا دیکھا تو کہنے لگے یا رسول اللہ! بہتر ہو اگر آپ اسے خرید لیں اور جمعہ کے دن اور وفود جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو ان کی ملاقات کے لیے آپ اسے پہنا کریں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے تو وہی پہن سکتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی طرح کے کچھ جوڑے آئے تو اس میں سے ایک جوڑا آپ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے یہ جوڑا پہنا رہے ہیں حالانکہ اس سے پہلے عطارد کے جوڑے کے بارے میں آپ نے کچھ ایسا فرمایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے تمہیں خود پہننے کے لیے نہیں دیا ہے، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو پہنا دیا جو مکے میں رہتا تھا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان عمر بن الخطاب، راى حلة سيراء عند باب المسجد فقال يا رسول الله، لو اشتريت هذه فلبستها يوم الجمعة وللوفد اذا قدموا عليك. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما يلبس هذه من لا خلاق له في الاخرة ". ثم جاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم منها حلل، فاعطى عمر بن الخطاب رضى الله عنه منها حلة فقال عمر يا رسول الله، كسوتنيها وقد قلت في حلة عطارد ما قلت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لم اكسكها لتلبسها ". فكساها عمر بن الخطاب رضى الله عنه اخا له بمكة مشركا
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے ابوالزناد سے خبر دی، ان سے اعرج نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت یا لوگوں کی تکلیف کا خیال نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے لیے ان کو مسواک کا حکم دے دیتا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لولا ان اشق على امتي او على الناس لامرتهم بالسواك مع كل صلاة
ہم سے ابومعمر عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعیب بن حبحاب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم سے مسواک کے بارے میں بہت کچھ کہہ چکا ہوں۔
حدثنا ابو معمر، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا شعيب بن الحبحاب، حدثنا انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اكثرت عليكم في السواك
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہ ہمیں سفیان ثوری نے منصور بن معمر اور حصین بن عبدالرحمٰن سے خبر دی، انہیں ابووائل نے، انہیں حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو منہ کو مسواک سے خوب صاف کرتے۔
حدثنا محمد بن كثير، قال اخبرنا سفيان، عن منصور، وحصين، عن ابي وايل، عن حذيفة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا قام من الليل يشوص فاه
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سلیمان بن ہلال نے بیان کیا کہ ہشام بن عروہ نے کہا کہ مجھے میرے باپ عروہ بن زبیر نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر ( ایک مرتبہ ) آئے۔ ان کے ہاتھ میں مسواک تھی جسے وہ استعمال کیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماری کی حالت میں ان سے کہا عبدالرحمٰن یہ مسواک مجھے دیدے۔ انہوں نے دے دی۔ میں نے اس کے سرے کو پہلے توڑا یعنی اتنی لکڑی نکال دی جو عبدالرحمٰن اپنے منہ سے لگایا کرتے تھے، پھر اسے چبا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دانت صاف کئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میرے سینے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني سليمان بن بلال، قال قال هشام بن عروة اخبرني ابي، عن عايشة رضى الله عنها قالت دخل عبد الرحمن بن ابي بكر، ومعه سواك يستن به، فنظر اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت له اعطني هذا السواك يا عبد الرحمن. فاعطانيه فقصمته ثم مضغته، فاعطيته رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستن به وهو مستسند الى صدري
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے سعد بن ابراہیم کے واسطے سے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں «الم تنزيل» اور «هل أتى على الإنسان» پڑھا کرتے تھے۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا سفيان، عن سعد بن ابراهيم، عن عبد الرحمن هو ابن هرمز عن ابي هريرة رضى الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في الجمعة في صلاة الفجر {الم * تنزيل} السجدة و{هل اتى على الانسان}
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعامر عقدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے ابوجمرہ نضر بن عبدالرحمٰن ضبعی نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے بعد سب سے پہلا جمعہ بنو عبدالقیس کی مسجد میں ہوا جو بحرین کے ملک جواثی میں تھی۔
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثنا ابو عامر العقدي، قال حدثنا ابراهيم بن طهمان، عن ابي جمرة الضبعي، عن ابن عباس، انه قال ان اول جمعة جمعت بعد جمعة في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم في مسجد عبد القيس بجواثى من البحرين
ہم سے بشر بن محمد مروزی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ ہمیں یونس بن یزید نے زہری سے خبر دی، انہیں سالم بن عبداللہ نے ابن عمر سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور لیث نے اس میں یہ زیادتی کی کہ یونس نے بیان کیا کہ رزیق بن حکیم نے ابن شہاب کو لکھا، ان دنوں میں بھی وادی القریٰ میں ابن شہاب کے پاس ہی تھا کہ کیا میں جمعہ پڑھا سکتا ہوں۔ رزیق ( ایلہ کے اطراف میں ) ایک زمین کاشت کروا رہے تھے۔ وہاں حبشہ وغیرہ کے کچھ لوگ موجود تھے۔ اس زمانہ میں رزیق ایلہ میں ( عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے ) حاکم تھے۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے انہیں لکھوایا، میں وہیں سن رہا تھا کہ رزیق جمعہ پڑھائیں۔ ابن شہاب رزیق کو یہ خبر دے رہے تھے کہ سالم نے ان سے حدیث بیان کی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک نگراں ہے اور اس کے ماتحتوں کے متعلق اس سے سوال ہو گا۔ امام نگراں ہے اور اس سے سوال اس کی رعایا کے بارے میں ہو گا۔ انسان اپنے گھر کا نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ خادم اپنے آقا کے مال کا نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ انسان اپنے باپ کے مال کا نگراں ہے اور اس کی رعیت کے بارے میں اس سے سوال ہو گا اور تم میں سے ہر شخص نگراں ہے اور سب سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔
حدثنا بشر بن محمد، قال اخبرنا عبد الله، قال اخبرنا يونس، عن الزهري، قال اخبرنا سالم بن عبد الله، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " كلكم راع ". وزاد الليث قال يونس كتب رزيق بن حكيم الى ابن شهاب وانا معه يوميذ بوادي القرى هل ترى ان اجمع. ورزيق عامل على ارض يعملها، وفيها جماعة من السودان وغيرهم، ورزيق يوميذ على ايلة، فكتب ابن شهاب وانا اسمع يامره ان يجمع، يخبره ان سالما حدثه ان عبد الله بن عمر يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " كلكم راع، وكلكم مسيول عن رعيته، الامام راع ومسيول عن رعيته، والرجل راع في اهله وهو مسيول عن رعيته، والمراة راعية في بيت زوجها ومسيولة عن رعيتها، والخادم راع في مال سيده ومسيول عن رعيته قال وحسبت ان قد قال والرجل راع في مال ابيه ومسيول عن رعيته وكلكم راع ومسيول عن رعيته
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے (اپنے والد) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا وہ فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ تم میں سے جو شخص جمعہ پڑھنے آئے تو غسل کرے۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني سالم بن عبد الله، انه سمع عبد الله بن عمر رضى الله عنهما يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من جاء منكم الجمعة فليغتسل
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے صفوان بن سلیم نے، ان سے عطاء بن یسار نے، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بالغ کے اوپر جمعہ کے دن غسل واجب ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن صفوان بن سليم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " غسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم