Loading...

Loading...
کتب
۶۵ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں برتن ڈھانکنے، مشک کا منہ بند کر دینے، اور برتن کو الٹ کر رکھنے کا حکم دیا ہے۔
حدثنا عبد الحميد بن بيان الواسطي، حدثنا خالد بن عبد الله، عن سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال امرنا رسول الله بتغطية الاناء وايكاء السقاء واكفاء الاناء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کو تین ڈھکے ہوئے پانی کے برتن رکھتی: ایک آپ کے استنجاء کے لیے، دوسرا آپ کے مسواک یعنی وضو کے لیے، اور تیسرا آپ کے پینے کے لیے۔
حدثنا عصمة بن الفضل، حدثنا حرمي بن عمارة بن ابي حفصة، حدثنا حريش بن خريت، انبانا ابن ابي مليكة، عن عايشة، قالت كنت اصنع لرسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة انية من الليل مخمرة اناء لطهوره واناء لسواكه واناء لشرابه
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے ۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن نافع، عن زيد بن عبد الله بن عمر، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي بكر، عن ام سلمة، انها اخبرته عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الذي يشرب في اناء الفضة انما يجرجر في بطنه نار جهنم
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا ہے، آپ کا ارشاد ہے: یہ ان ( کافروں ) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں ۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن مجاهد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن حذيفة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الشرب في انية الذهب والفضة وقال " هي لهم في الدنيا وهي لكم في الاخرة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا غندر، عن شعبة، عن سعد بن ابراهيم، عن نافع، عن امراة ابن عمر، عن عايشة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من شرب في اناء فضة فكانما يجرجر في بطنه نار جهنم
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ برتن سے تین سانسوں میں پیتے اور کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تین سانسوں میں پیا کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابن مهدي، حدثنا عزرة بن ثابت الانصاري، عن ثمامة بن عبد الله، عن انس، انه كان يتنفس في الاناء ثلاثا وزعم انس ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يتنفس في الاناء ثلاثا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا، تو آپ نے دوبار سانس لی
حدثنا هشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا مروان بن معاوية، حدثنا رشدين بن كريب، عن ابيه، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم شرب فتنفس فيه مرتين
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ باہر نکال کر ان سے پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابي سعيد الخدري، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اختناث الاسقية ان يشرب من افواهها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ باہر کر کے پانی پینے سے منع فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ممانعت کے بعد ایک شخص نے رات کو اٹھ کر مشک کے منہ سے پانی پینا چاہا، تو اس میں سے ایک سانپ نکلا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر، حدثنا زمعة بن صالح، عن سلمة بن وهرام، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اختناث الاسقية وان رجلا بعدما نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك قام من الليل الى سقاء فاختنثه فخرجت عليه منه حية
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ۱؎۔
حدثنا بشر بن هلال الصواف، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الشرب من في السقاء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ مشک کے منہ سے پانی پیا جائے۔
حدثنا بكر بن خلف ابو بشر، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا خالد الحذاء، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان يشرب من فم السقاء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم کا پانی پلایا، تو آپ نے کھڑے کھڑے پیا ۱؎۔ شعبی کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث عکرمہ سے بیان کی تو انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا علي بن مسهر، عن عاصم، عن الشعبي، عن ابن عباس، قال سقيت النبي صلى الله عليه وسلم من زمزم فشرب قايما . فذكرت ذلك لعكرمة فحلف بالله ما فعل
کبشہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، ان کے پاس ایک پانی کی مشک لٹکی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑ ے کھڑے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پیا، تو انہوں نے مشک کے منہ کو جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کا لمس ہوا تھا برکت کے لیے کاٹ کر رکھ لیا۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن يزيد بن يزيد بن جابر، عن عبد الرحمن بن ابي عمرة، عن جدة، له يقال لها كبشة الانصارية ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عليها وعندها قربة معلقة فشرب منها وهو قايم فقطعت فم القربة تبتغي بركة موضع في رسول الله صلى الله عليه وسلم
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الشرب قايما
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ آیا جس میں پانی ملا ہوا تھا، اس وقت آپ کے دائیں جانب ایک اعرابی اور آپ کے بائیں جانب ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا، پھر اعرابی کو دیا اور فرمایا: دائیں طرف والے کو دینا چاہیئے، پھر وہ اپنے دائیں طرف والے کو دے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا مالك بن انس، عن الزهري، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتي بلبن قد شيب بماء وعن يمينه اعرابي وعن يساره ابو بكر فشرب ثم اعطى الاعرابي وقال " الايمن فالايمن
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ آیا، اس وقت آپ کے دائیں جانب ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بائیں جانب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا تم مجھے اس کی اجازت دیتے ہو کہ پہلے خالد کو پلاؤں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوٹھے کے لیے اپنے اوپر کسی کو ترجیح دینا پسند نہیں کرتا، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لیا، اور پیا، اور پھر خالد رضی اللہ عنہ نے پیا ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا ابن جريج، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، قال اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بلبن وعن يمينه ابن عباس وعن يساره خالد بن الوليد فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لابن عباس " اتاذن لي ان اسقي خالدا " . قال ابن عباس ما احب ان اوثر بسور رسول الله صلى الله عليه وسلم على نفسي احدا . فاخذ ابن عباس فشرب وشرب خالد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کچھ پئے تو برتن میں سانس نہ لے، اور اگر سانس لینا چاہے تو برتن کو منہ سے علیحدہ کر لے، پھر اگر چاہے تو دوبارہ پئے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا داود بن عبد الله، عن عبد العزيز بن محمد، عن الحارث بن ابي ذباب، عن عمه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا شرب احدكم فلا يتنفس في الاناء فاذا اراد ان يعود فلينح الاناء ثم ليعد ان كان يريد
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا۔
حدثنا بكر بن خلف ابو بشر، حدثنا يزيد بن زريع، عن خالد الحذاء، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التنفس في الاناء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا سفيان، عن عبد الكريم، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ينفخ في الاناء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشروب میں پھونک نہیں مارتے تھے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبد الرحيم بن عبد الرحمن المحاربي، عن شريك، عن عبد الكريم، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم ينفخ في الشراب