Loading...

Loading...
کتب
۶۵ احادیث
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود، حدثنا شعبة، عن سعيد بن ابي بردة، عن ابيه، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل مسكر حرام
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے اور جس کی زیادہ مقدار نشہ لانے والی ہو اس کا تھوڑا بھی حرام ہے ۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا ابو يحيى، زكريا بن منظور عن ابي حازم، عن عبد الله بن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل مسكر حرام وما اسكر كثيره فقليله حرام
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو، اس کا تھوڑا بھی حرام ہے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا انس بن عياض، حدثني داود بن بكر، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما اسكر كثيره فقليله حرام
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی زیادہ مقدار نشہ لانے والی ہو، اس کا تھوڑا بھی حرام ہے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا انس بن عياض، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما اسكر كثيره فقليله حرام
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور اور انگور کو ملا کر، اور کچی کھجور اور تر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان ينبذ التمر والزبيب جميعا ونهى ان ينبذ البسر والرطب جميعا . قال الليث بن سعد حدثني عطاء بن ابي رباح المكي، عن جابر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پکی اور کچی کھجوریں ملا کر نبیذ نہ بناؤ، بلکہ ان میں سے ہر ایک کا الگ الگ نبیذ بناؤ ۔
حدثنا يزيد بن عبد الله اليمامي، حدثنا عكرمة بن عمار، عن ابي كثير، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تنبذوا التمر والبسر جميعا وانبذوا كل واحد منهما على حدته
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تر اور کچی کھجوروں کو نہ ملاؤ، اور نہ ہی انگور اور کھجور کو، بلکہ ان میں سے ہر ایک کا الگ الگ نبیذ بناؤ ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تجمعوا بين الرطب والزهو ولا بين الزبيب والتمر وانبذوا كل واحد منهما على حدته
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشک میں نبیذ تیار کرتے اس کے لیے ہم ایک مٹھی کھجور یا ایک مٹھی انگور لے لیتے، پھر اسے مشک میں ڈال دیتے، اس کے بعد اس میں پانی ڈال دیتے، اگر ہم اسے صبح میں بھگوتے تو آپ اسے شام میں پیتے، اور اگر ہم شام میں بھگوتے تو آپ اسے صبح میں پیتے۔ ابومعاویہ اپنی روایت میں یوں کہتے ہیں: دن میں بھگوتے تو رات میں پیتے اور رات میں بھگوتے تو دن میں پیتے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، ح وحدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد الواحد بن زياد، قالا حدثنا عاصم الاحول، حدثتنا بنانة بنت يزيد العبشمية، عن عايشة، قالت كنا ننبذ لرسول الله صلى الله عليه وسلم في سقاء فناخذ قبضة من تمر او قبضة من زبيب فنطرحها فيه ثم نصب عليه الماء فننبذه غدوة فيشربه عشية وننبذه عشية فيشربه غدوة . وقال ابو معاوية نهارا فيشربه ليلا او ليلا فيشربه نهارا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اسے اسی دن پیتے، پھر اگلے دن، پھر تیسرے دن، اور اگر اس کے بعد بھی اس میں سے کچھ بچ جاتا تو اسے بہا دیتے یا کسی کو حکم دیتے تو وہ بہا دیتا۔
حدثنا ابو كريب، عن اسماعيل بن صبيح، عن ابي اسراييل، عن ابي عمر البهراني، عن ابن عباس، قال كان ينبذ لرسول الله صلى الله عليه وسلم فيشربه يومه ذلك والغد واليوم الثالث فان بقي منه شىء اهراقه او امر به فاهريق
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پتھر کے ایک پیالے میں نبیذ تیار بنائی جاتی تھی۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا ابو عوانة، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال كان ينبذ لرسول الله صلى الله عليه وسلم في تور من حجارة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ نقیر، مزفت، دباء اور حنتمہ میں نبیذ تیار کی جائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، عن محمد بن عمرو، حدثنا ابو سلمة، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ينبذ في النقير والمزفت والدباء والحنتمة وقال " كل مسكر حرام
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزفت ( روغنی برتن ) ، اور دباء ( کدو کی تونبی ) میں نبیذ تیار کرنے سے منع فرمایا۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن نافع، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ينبذ في المزفت والقرع
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتم، دباء اور نقیر میں پینے سے منع فرمایا۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا ابي، عن المثنى بن سعيد، عن ابي المتوكل، عن ابي سعيد الخدري، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الشرب في الحنتم والدباء والنقير
عبدالرحمٰن بن یعمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور حنتم ( کے استعمال ) سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا ابو بكر، والعباس بن عبد العظيم العنبري، قالا حدثنا شبابة، عن شعبة، عن بكير بن عطاء، عن عبد الرحمن بن يعمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الدباء والحنتم
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں ( مخصوص ) برتنوں کے استعمال سے روکا تھا، اب ان میں نبیذ تیار کر سکتے ہو لیکن ہر نشہ لانے والی چیز سے بچو ۔
حدثنا عبد الحميد بن بيان الواسطي، حدثنا اسحاق بن يوسف، عن شريك، عن سماك، عن القاسم بن مخيمرة، عن ابن بريدة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كنت نهيتكم عن الاوعية فانتبذوا فيه واجتنبوا كل مسكر
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں ( مخصوص ) برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کیا تھا، سنو! برتن کی وجہ سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی، البتہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔
حدثنا يونس بن عبد الاعلى، حدثنا عبد الله بن وهب، انبانا ابن جريج، عن ايوب بن هاني، عن مسروق بن الاجدع، عن ابن مسعود، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اني كنت نهيتكم عن نبيذ الاوعية الا وان وعاء لا يحرم شييا كل مسكر حرام
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے سوال کیا: کیا تم میں سے کوئی عورت اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ہر سال اپنی قربانی کے جانور کی کھال سے ایک مشک تیار کرے؟ پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے روغنی گھڑے میں نبیذ تیار کرنے سے منع فرمایا ہے، اور فلاں فلاں برتن میں بھی، البتہ ان میں سرکہ بنایا جا سکتا ہے۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا المعتمر بن سليمان، عن ابيه، حدثتني رميثة، عن عايشة، انها قالت اتعجز احداكن ان تتخذ كل عام من جلد اضحيتها سقاء ثم قالت نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ينبذ في الجر وفي كذا وفي كذا الا الخل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے روغنی برتنوں میں نبیذ تیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الخطمي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ينبذ في الجرار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسے گھڑے میں نبیذ لائی گئی جو جوش مار رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے دیوار پر مار دو، اس لیے کہ یہ ایسے لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ۱؎۔
حدثنا مجاهد بن موسى، حدثنا الوليد، عن صدقة ابي معاوية، عن زيد بن واقد، عن خالد بن عبد الله، عن ابي هريرة، قال اتي النبي صلى الله عليه وسلم بنبيذ جر ينش فقال " اضرب بهذا الحايط فان هذا شراب من لا يومن بالله واليوم الاخر
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برتن کو ڈھانک کر رکھو، مشک کا منہ بند کر کے رکھو، چراغ بجھا دو، اور دروازہ بند کر لو، اس لیے کہ شیطان نہ ایسی مشک کو کھولتا ہے، اور نہ ایسے دروازے کو اور نہ ہی ایسے برتن کو جو بند کر دیا گیا ہو، اب اگر تم میں سے کسی کو ڈھانکنے کے لیے لکڑی کے علاوہ کوئی چیز نہ ہو تو اسی کو «بسم الله» کہہ کر برتن پر آڑا رکھ دے، اس لیے کہ چوہیا لوگوں کے گھر جلا دیتی ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " غطوا الاناء واوكوا السقاء واطفيوا السراج واغلقوا الباب فان الشيطان لا يحل سقاء ولا يفتح بابا ولا يكشف اناء فان لم يجد احدكم الا ان يعرض على انايه عودا ويذكر اسم الله فليفعل فان الفويسقة تضرم على اهل البيت بيتهم