Loading...

Loading...
کتب
۱۰ احادیث
عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا شعلہ ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى بن سعيد، عن حميد الطويل، عن الحسن، عن مطرف بن عبد الله بن الشخير، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ضالة المسلم حرق النار
منذر بن جریر کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ بوازیج میں تھا کہ گایوں کا ریوڑ نکلا، تو آپ نے ان میں ایک اجنبی قسم کی گائے دیکھی تو پوچھا: یہ گائے کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: کسی اور کی گائے ہے، جو ہماری گایوں کے ساتھ آ گئی ہے، انہوں نے حکم دیا، اور وہ ہانک کر نکال دی گئی یہاں تک کہ وہ نظر سے اوجھل ہو گئی، پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: گمشدہ چیز کو وہی اپنے پاس رکھتا ہے جو گمراہ ہو ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ابو حيان التيمي، حدثنا الضحاك، خال المنذر بن جرير عن المنذر بن جرير، قال كنت مع ابي بالبوازيج فراحت البقر فراى بقرة انكرها فقال ما هذه قالوا بقرة لحقت بالبقر . قال فامر بها فطردت حتى توارت ثم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا ييوي الضالة الا ضال
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ غضب ناک ہو گئے، اور غصے سے آپ کے رخسار مبارک سرخ ہو گئے اور فرمایا: تم کو اس سے کیا سروکار، اس کے ساتھ اس کا جوتا اور مشکیزہ ہے، وہ خود پانی پر جا سکتا ہے اور درخت سے کھا سکتا ہے، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لیتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ بکری کے بارے پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے لو اس لیے کہ وہ یا تو تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیئے کی ۱؎ پھر آپ سے گری پڑی چیز کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان لو، اور ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو، ۲؎ اگر اس کی شناخت پہچان ہو جائے تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے اپنے مال میں شامل کر لو ۔
حدثنا اسحاق بن اسماعيل بن العلاء الايلي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن يحيى بن سعيد، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن يزيد، مولى المنبعث عن زيد بن خالد الجهني، فلقيت ربيعة فسالته فقال حدثني يزيد، عن زيد بن خالد الجهني، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال سيل عن ضالة الابل فغضب واحمرت وجنتاه وقال " مالك ولها معها الحذاء والسقاء ترد الماء وتاكل الشجر حتى يلقاها ربها " . وسيل عن ضالة الغنم فقال " خذها فانما هي لك او لاخيك او للذيب " . وسيل عن اللقطة فقال " اعرف عفاصها ووكاءها وعرفها سنة فان اعترفت والا فاخلطها بمالك
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو کوئی گری پڑی چیز ملے تو وہ ایک یا دو معتبر شخص کو اس پر گواہ بنا لے، پھر وہ نہ اس میں تبدیلی کرے اور نہ چھپائے، اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے، ورنہ وہ اللہ کا مال ہے جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن خالد الحذاء، عن ابي العلاء، عن مطرف، عن عياض بن حمار، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من وجد لقطة فليشهد ذا عدل او ذوى عدل ثم لا يغيره ولا يكتم فان جاء ربها فهو احق بها والا فهو مال الله يوتيه من يشاء
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ میں زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے ساتھ نکلا، جب ہم عذیب پہنچے تو میں نے وہاں ایک کوڑا پڑا ہوا پایا، ان دونوں نے مجھ سے کہا: اس کو اسی جگہ ڈال دو، لیکن میں نے ان کا کہا نہ مانا، پھر جب ہم مدینہ پہنچے، تو میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے اس کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا: تم نے ٹھیک کیا، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سو دینار پڑے پائے تھے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سال بھر تک اس کے مالک کا پتہ کرتے رہو ، میں پتا کرتا رہا، لیکن کسی کو نہ پایا جو انہیں پہچانتا ہو، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا تھیلا، بندھن اور اس کی تعداد یاد رکھو، پھر سال بھر اس کے مالک کا پتا کرتے رہو، اگر اس کا جا ننے والا آ جائے تو خیر، ورنہ وہ تمہارے مال کی طرح ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن سلمة بن كهيل، عن سويد بن غفلة، قال خرجت مع زيد بن صوحان وسلمان بن ربيعة حتى اذا كنا بالعذيب التقطت سوطا فقالا لي القه . فابيت فلما قدمنا المدينة اتيت ابى بن كعب فذكرت ذلك له فقال اصبت التقطت ماية دينار على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالته فقال " عرفها سنة " . فعرفتها فلم اجد احدا يعرفها فسالته فقال " عرفها " . فعرفتها فلم اجد احدا يعرفها . فقال " اعرف وعاءها ووكاءها وعددها ثم عرفها سنة فان جاء من يعرفها والا فهي كسبيل مالك
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سال بھر اس کے مالک کا پتہ کرتے رہو، اگر کوئی اس کی ( پہچان ) کر لے تو اسے دے دو، ورنہ اس کی تھیلی اور اس کا بندھن یاد رکھو، پھر اس کو اپنے کھانے میں استعمال کر لو، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے ادا کر دو ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو بكر الحنفي، ح وحدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، قالا حدثنا الضحاك بن عثمان القرشي، حدثني سالم ابو النضر، عن بسر بن سعيد، عن زيد بن خالد الجهني، . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل عن اللقطة فقال " عرفها سنة فان اعترفت فادها فان لم تعرف فاعرف عفاصها ووعاءها ثم كلها فان جاء صاحبها فادها اليه
مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن وہ بقیع کے قبرستان کی طرف قضائے حاجت کے لیے نکلے، ان دنوں لوگ قضائے حاجت کے لیے دو دو تین تین دن بعد ہی جایا کرتے تھے، اور مینگنیاں نکالتے تھے، خیر وہ ایک ویرانے میں گئے اور قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہی تھے کہ اتنے میں ایک چوہے پر نظر پڑی جس نے سوراخ میں سے ایک دینار نکالا، پھر وہ اندر گھس گیا، اور پھر ایک دینار اور نکالا یہاں تک کہ اس نے سترہ دینار نکالے، پھر ایک سرخ کپڑے کے ٹکڑے کا کنارہ نکالا۔ مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے وہ ٹکڑا کھینچا تو اس میں ایک دینار اور ملا اس طرح کل اٹھارہ دینار پورے ہو گئے، انہیں لے کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اور آپ کو پورا واقعہ بتایا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اس کی زکاۃ لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لے جاؤ، اس میں زکاۃ نہیں، اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں برکت دے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تم نے سوراخ میں اپنا ہاتھ ڈالا؟ میں نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کی حق سے عزت فرمائی ۔ راوی کہتے ہیں: ان دیناروں میں اتنی برکت ہوئی کہ ان کی وفات تک آخری دینار ختم نہیں ہوا تھا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن خالد بن عثمة، حدثني موسى بن يعقوب الزمعي، حدثتني عمتي، قريبة بنت عبد الله ان امها، كريمة بنت المقداد بن عمرو اخبرتها عن ضباعة بنت الزبير، عن المقداد بن عمرو، انه خرج ذات يوم الى البقيع وهو المقبرة لحاجته وكان الناس لا يذهب احدهم في حاجته الا في اليومين والثلاثة فانما يبعر كما تبعر الابل ثم دخل خربة فبينما هو جالس لحاجته اذ راى جرذا اخرج من جحر دينارا ثم دخل فاخرج اخر حتى اخرج سبعة عشر دينارا ثم اخرج طرف خرقة حمراء . قال المقداد فسللت الخرقة فوجدت فيها دينارا فتمت ثمانية عشر دينارا فخرجت بها حتى اتيت بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرته خبرها فقلت خذ صدقتها يا رسول الله . قال " ارجع بها لا صدقة فيها بارك الله لك فيها " . ثم قال " لعلك اتبعت يدك في الجحر " . قلت لا والذي اكرمك بالحق . قال فلم يفن اخرها حتى مات
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رکاز» میں پانچواں حصہ ( بیت المال کا ) ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن ميمون المكي، وهشام بن عمار، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد، وابي، سلمة عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " في الركاز الخمس
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رکاز» میں پانچواں حصہ ( بیت المال کا ) ہے ۔
حدثنا نصر بن عليى الجهضمي، حدثنا ابو احمد، عن اسراييل، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " في الركاز الخمس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص نے ایک زمین خریدی، اس میں اسے سونے کا ایک مٹکا ملا، خریدار بائع ( بیچنے والے ) سے کہنے لگا: میں نے تو تم سے زمین خریدی ہے سونا نہیں خریدا، اور بائع کہہ رہا تھا: میں نے زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب تمہارے ہاتھ بیچا ہے، الغرض دونوں ایک شخص کے پاس معاملہ لے گئے، اس نے پوچھا: تم دونوں کا کوئی بچہ ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: ہاں میرے پاس ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا: میرے پاس ایک لڑکی ہے، تو اس شخص نے کہا: تم دونوں اس لڑکے کی شادی اس لڑکی سے کر دو، اور چاہیئے کہ اس سونے کو وہی دونوں اپنے اوپر خرچ کریں، اور اس میں سے صدقہ بھی دیں۔
حدثنا احمد بن ثابت الجحدري، حدثنا يعقوب بن اسحاق الحضرمي، حدثنا سليمان بن حيان، سمعت ابي يحدث، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كان فيمن كان قبلكم رجل اشترى عقارا فوجد فيها جرة من ذهب فقال اشتريت منك الارض ولم اشتر منك الذهب . فقال الرجل انما بعتك الارض بما فيها . فتحاكما الى رجل فقال الكما ولد فقال احدهما لي غلام . وقال الاخر لي جارية . قال فانكحا الغلام الجارية ولينفقا على انفسهما منه وليتصدقا