Loading...

Loading...
کتب
۱۰ احادیث
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس کھجور کے درخت ہوں یا زمین ہو تو وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے، جب تک کہ اسے اپنے شریک پر پیش نہ کر دے ۔
حدثنا هشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كانت له نخل او ارض فلا يبيعها حتى يعرضها على شريكه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو اور وہ اس کو بیچنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے اپنے پڑوسی پر پیش کرے ۱؎۔
حدثنا احمد بن سنان، والعلاء بن سالم، قالا حدثنا يزيد بن هارون، انبانا شريك، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من كانت له ارض فاراد بيعها فليعرضها على جاره
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنے پڑوسی کے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے، اس کا انتظار کیا جائے گا اگر وہ موجود نہ ہو جب دونوں کا راستہ ایک ہو ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا هشيم، انبانا عبد الملك، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الجار احق بشفعة جاره ينتظر بها ان كان غايبا اذا كان طريقهما واحدا
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنے نزدیکی مکان کا زیادہ حقدار ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابراهيم بن ميسرة، عن عمرو بن الشريد، عن ابي رافع، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الجار احق بسقبه
شرید بن سوید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک زمین ہے جس میں کسی کا حصہ نہیں اور نہ کوئی شرکت ہے، سوائے پڑوسی کے ( تو اس کے بارے میں فرمائیے؟! ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنی نزدیکی زمین کا زیادہ حقدار ہے
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن عمرو بن الشريد بن سويد، عن ابيه الشريد بن سويد، قال قلت يا رسول الله ارض ليس فيها لاحد قسم ولا شرك الا الجوار . قال " الجار احق بسقبه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی جائیداد میں شفعہ کا حکم دیا ہے جو تقسیم نہ کی گئی ہو، لیکن جب تقسیم ہو جائے اور حد بندی ہو تو شفعہ نہیں ہے۔
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شریک ( ساجھی دار ) اپنی قریبی جائیداد کا زیادہ حقدار ہے، خواہ کوئی بھی چیز ہو ۔
حدثنا عبد الله بن الجراح، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابراهيم بن ميسرة، عن عمرو بن الشريد، عن ابي رافع، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الشريك احق بسقبه ما كان
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ ہر اس جائیداد میں ٹھہرایا ہے جو تقسیم نہ کی گئی ہو، اور جب حد بندی ہو جائے اور راستے جدا ہو جائیں تو اب شفعہ نہیں ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن جابر بن عبد الله، قال انما جعل رسول الله صلى الله عليه وسلم الشفعة في كل ما لم يقسم فاذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شفعہ اونٹ کی رسی کھولنے کے مانند ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن الحارث، عن محمد بن عبد الرحمن بن البيلماني، عن ابيه، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الشفعة كحل العقال
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شریک کو شریک پر اس وقت شفعہ نہیں رہتا ہے، جب وہ خریداری میں اس سے سبقت کر جائے، اسی طرح نہ کم سن ( نابالغ ) کے لیے شفعہ ہے، اور نہ غائب کے لیے ۱؎۔
حدثنا سويد بن سعيد، قال حدثنا محمد بن الحارث، عن محمد بن عبد الرحمن بن البيلماني، عن ابيه، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا شفعة لشريك على شريك اذا سبقه بالشراء ولا لصغير ولا لغايب