Loading...

Loading...
کتب
۱۵ احادیث
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان کے والد انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، اور عرض کیا: میں آپ کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے مال میں سے فلاں فلاں چیز نعمان کو دے دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اپنے سارے بیٹوں کو ایسی ہی چیزیں دی ہیں جو نعمان کو دی ہیں ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب میرے علاوہ کسی اور کو اس پر گواہ بنا لو، کیا تمہیں یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ تمہارے سارے بیٹے تم سے نیک سلوک کرنے میں برابر ہوں ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب ایسا مت کرو ۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا يزيد بن زريع، عن داود بن ابي هند، عن الشعبي، عن النعمان بن بشير، قال انطلق به ابوه يحمله الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اشهد اني قد نحلت النعمان من مالي كذا وكذا . قال " فكل بنيك نحلت مثل الذي نحلت النعمان " . قال لا . قال " فاشهد على هذا غيري " . قال " اليس يسرك ان يكونوا لك في البر سواء " . قال بلى . قال " فلا اذا
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان کے والد نے ان کو ایک غلام دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس پر گواہ بنائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اپنے سارے بیٹوں کو ایسے ہی دیا ہے ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب اس کو واپس لے لو ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، ومحمد بن النعمان بن بشير، اخبراه عن النعمان بن بشير، ان اباه، نحله غلاما وانه جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم يشهده فقال " اكل ولدك نحلت " . قال لا . قال " فاردده
عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے لیے جائز نہیں کہ کسی کو عطیہ دے کر واپس لے سوائے باپ کے جو اپنی اولاد کو دے ۔
حدثنا محمد بن بشار، وابو بكر بن خلاد الباهلي قالا حدثنا ابن ابي عدي، عن حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن طاوس، عن ابن عباس، وابن، عمر يرفعان الحديث الى النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل للرجل ان يعطي العطية ثم يرجع فيها الا الوالد فيما يعطي ولده
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہبہ کر کے کوئی واپس نہ لے سوائے باپ کے جو وہ اپنی اولاد کو کرے ۔
حدثنا جميل بن الحسن، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، عن عامر الاحول، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يرجع احدكم في هبته الا الوالد من ولده
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ کوئی چیز نہیں ہے، جس کو عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دی گئی تو وہ اسی کی ملک ہو جائے گی ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا عمرى فمن اعمر شييا فهو له
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے کسی کو بطور عمریٰ کوئی چیز دی، تو وہ جس کو دیا ہے اس کی اور اس کے بعد اس کے اولاد کی ہو جائے گی، اس نے عمریٰ کہہ کر اپنا حق ختم کر لیا، اب وہ چیز جس کو عمریٰ دیا گیا اس کی اور اس کے بعد اس کے وارثوں کی ہو گئی ۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن جابر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من اعمر رجلا عمرى له ولعقبه فقد قطع قوله حقه فيها فهي لمن اعمر ولعقبه
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ وارث کو دلا دیا۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن حجر المدري، عن زيد بن ثابت، ان النبي صلى الله عليه وسلم جعل العمرى للوارث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رقبیٰ کوئی چیز نہیں ہے جس کو بطور رقبیٰ کوئی چیز دی گئی تو وہ اسی کی ہو گی اس کی زندگی اور موت دونوں حالتوں میں راوی کہتے ہیں: رقبیٰ یہ ہے کہ ایک شخص کسی کو کوئی چیز دے کر یہ کہے کہ ہم اور تم میں سے جو آخر میں مرے گا یہ اس کی ہو گی۔
حدثنا اسحاق بن منصور، انبانا عبد الرزاق، انبانا ابن جريج، عن عطاء، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا رقبى فمن ارقب شييا فهو له حياته ومماته " . قال والرقبى ان يقول هو للاخر مني ومنك موتا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ اس شخص کا ہو جائے گا جس کو عمریٰ دیا گیا، اور رقبیٰ اس شخص کا ہو جائے گا جس کو رقبیٰ دیا گیا ۱؎۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا هشيم، ح وحدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، قالا حدثنا داود، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العمرى جايزة لمن اعمرها والرقبى جايزة لمن ارقبها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو ہبہ کر کے واپس لے اس کتے جیسی ہے جو خوب آسودہ ہو کر کھا لے، پھر قے کر کے اسے چاٹے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن عوف، عن خلاس، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان مثل الذي يعود في عطيته كمثل الكلب اكل حتى اذا شبع قاء ثم عاد في قييه فاكله
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہبہ کر کے واپس لینے والا قے کر کے چاٹنے والے کے مانند ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، قال سمعت قتادة، يحدث عن سعيد بن المسيب، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العايد في هبته كالعايد في قييه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہبہ کر کے اسے واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹتا ہے ۱؎۔
حدثنا احمد بن عبد الله بن يوسف العرعري، حدثنا يزيد بن ابي حكيم، حدثنا العمري، عن زيد بن اسلم، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " العايد في هبته كالكلب يعود في قييه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہبہ کرنے والا اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کا زیادہ حقدار ہے جب تک اس کا عوض نہ پائے ۔
حدثنا علي بن محمد، ومحمد بن اسماعيل، قالا حدثنا وكيع، حدثنا ابراهيم بن اسماعيل بن مجمع بن جارية الانصاري، عن عمرو بن دينار، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الرجل احق بهبته ما لم يثب منها
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: کسی عورت کا اپنے مال میں بغیر اپنے شوہر کی اجازت کے تصرف کرنا جائز نہیں، اس لیے کہ وہ اس کی عصمت ( ناموس ) کا مالک ہے ۔
حدثنا ابو يوسف الرقي، محمد بن احمد الصيدلاني حدثنا محمد بن سلمة، عن المثنى بن الصباح، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في خطبة خطبها " لا يجوز لامراة في مالها الا باذن زوجها اذا هو ملك عصمتها
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی اہلیہ خیرۃ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا زیور لے کر آئیں، اور عرض کیا: میں نے اسے صدقہ کر دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے لیے اپنے مال میں تصرف کرنا جائز نہیں، کیا تم نے کعب سے اجازت لے لی ہے ؟ وہ بولیں: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شوہر کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بھیج کر پچھوایا، کیا تم نے خیرہ کو اپنا زیور صدقہ کرنے کی اجازت دی ہے ، وہ بولے: جی ہاں، تب جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا صدقہ قبول کیا۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني الليث بن سعد، عن عبد الله بن يحيى، - رجل من ولد كعب بن مالك - عن ابيه، عن جده، ان جدته، خيرة - امراة كعب بن مالك - اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم بحلي لها فقالت اني تصدقت بهذا فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يجوز للمراة في مالها الا باذن زوجها فهل استاذنت كعبا " . قالت نعم . فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم الى كعب بن مالك زوجها فقال " هل اذنت لخيرة ان تتصدق بحليها " . فقال نعم . فقبله رسول الله صلى الله عليه وسلم منها