Loading...

Loading...
کتب
۳۵ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چٹائی تھی جسے آپ دن میں بچھایا کرتے تھے، اور رات میں اس کو حجرہ نما بنا لیتے اور اس میں نماز پڑھتے، لوگوں کو اس کا علم ہوا تو آپ کے ساتھ وہ بھی نماز پڑھنے لگے، آپ کے اور ان کے درمیان وہی چٹائی حائل ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اتنا ہی ) عمل کرو جتنا کہ تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہیں تھکے گا البتہ تم ( عمل سے ) تھک جاؤ گے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین عمل وہ ہے جس پر مداومت ہو گرچہ وہ کم ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جگہ چھوڑ دی، اور وہاں دوبارہ نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، آپ جب کوئی کام کرتے تو اسے جاری رکھتے تھے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن سعيد المقبري، عن ابي سلمة، عن عايشة، قالت كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم حصيرة يبسطها بالنهار ويحتجرها بالليل فيصلي فيها ففطن له الناس فصلوا بصلاته وبينه وبينهم الحصيرة فقال " اكلفوا من العمل ما تطيقون فان الله عز وجل لا يمل حتى تملوا وان احب الاعمال الى الله عز وجل ادومه وان قل " . ثم ترك مصلاه ذلك فما عاد له حتى قبضه الله عز وجل وكان اذا عمل عملا اثبته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سائل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟ ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان سايلا، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصلاة في الثوب الواحد فقال " اولكلكم ثوبان
عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک ایسے کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا جس کے دونوں کناروں کو آپ اپنے دونوں کندھوں پر رکھے ہوئے تھے۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عمر بن ابي سلمة، انه راى رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في ثوب واحد في بيت ام سلمة واضعا طرفيه على عاتقيه
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکار پر جاتا ہوں اور میرے جسم پر سوائے قمیص کے کچھ نہیں ہوتا، تو کیا میں اس میں نماز پڑھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( ہاں پڑھ لو ) اور اس میں ایک تکمہ لگا لو گرچہ کانٹے ہی کا ہو ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا العطاف، عن موسى بن ابراهيم، عن سلمة بن الاكوع، قال قلت يا رسول الله اني لاكون في الصيد وليس على الا القميص افاصلي فيه قال " وزره عليك ولو بشوكة
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بچوں کی طرح اپنا تہبند باندھے نماز پڑھ رہے تھے، تو عورتوں سے ( جو مردوں کے پیچھے پڑھ رہی تھیں ) کہا گیا کہ جب تک مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں تم اپنے سروں کو نہ اٹھاؤ ۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني ابو حازم، عن سهل بن سعد، قال كان رجال يصلون مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عاقدين ازرهم كهيية الصبيان فقيل للنساء لا ترفعن رءوسكن حتى يستوي الرجال جلوسا
عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میرے قبیلہ کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوٹ کر آئے تو کہنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم میں جسے قرآن زیادہ یاد ہو وہ تمہاری امامت کرائے ، تو ان لوگوں نے مجھے بلا بھیجا، اور مجھے رکوع اور سجدہ کرنا سکھایا تو میں ان لوگوں کو نماز پڑھاتا تھا، میرے جسم پر ایک پھٹی چادر ہوتی، تو وہ لوگ میرے والد سے کہتے تھے کہ تم ہم سے اپنے بیٹے کی سرین کیوں نہیں ڈھانپ دیتے؟۔
اخبرنا شعيب بن يوسف، قال حدثنا يزيد بن هارون، قال انبانا عاصم، عن عمرو بن سلمة، قال لما رجع قومي من عند النبي صلى الله عليه وسلم قالوا انه قال " ليومكم اكثركم قراءة للقران " . قال فدعوني فعلموني الركوع والسجود فكنت اصلي بهم وكانت على بردة مفتوقة فكانوا يقولون لابي الا تغطي عنا است ابنك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تھے، اور میں آپ کے پہلو میں ہوتی، اور میں حائضہ ہوتی، اور میرے اوپر ایک چادر ہوتی جس کا کچھ حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ( بھی ) ہوتا۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا وكيع، قال حدثنا طلحة بن يحيى، عن عبيد الله بن عبد الله، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بالليل وانا الى جنبه وانا حايض وعلى مرط بعضه على رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے جس کا کوئی حصہ اس کے کندھے پر نہ ہو ۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يصلين احدكم في الثوب الواحد ليس على عاتقه منه شىء
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی قباء ہدیے میں دی گئی، تو آپ نے اسے پہنا، پھر اس میں نماز پڑھی، پھر جب آپ نماز پڑھ چکے تو اسے زور سے اتار پھینکا جیسے آپ اسے ناپسند کر رہے ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل تقویٰ کے لیے یہ مناسب نہیں ۔
اخبرنا قتيبة، وعيسى بن حماد، زغبة عن الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر، قال اهدي لرسول الله صلى الله عليه وسلم فروج حرير فلبسه ثم صلى فيه ثم انصرف فنزعه نزعا شديدا كالكاره له ثم قال " لا ينبغي هذا للمتقين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان بیل بوٹوں نے مجھے مشغول کر دیا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ، اور اس کے عوض کوئی سادی چادر لے آؤ ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، وقتيبة بن سعيد، - واللفظ له - عن سفيان، عن الزهري، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى في خميصة لها اعلام ثم قال " شغلتني اعلام هذه اذهبوا بها الى ابي جهم وايتوني بانبجانيه
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سرخ جوڑے میں نکلے، اور آپ نے اپنے سامنے ایک برچھی گاڑی، پھر اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، اور اس کے پیچھے سے کتے، عورتیں اور گدھے گزرتے رہے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن عون بن ابي جحيفة، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج في حلة حمراء فركز عنزة فصلى اليها يمر من ورايها الكلب والمراة والحمار
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اکرم ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جسم سے لگے ایک ہی کپڑے میں سوتے اور میں حائضہ ہوتی، اگر مجھ سے آپ کو کچھ ( خون ) لگ جاتا تو آپ جتنی جگہ میں لگتا اسی کو دھو لیتے اور اس سے آگے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے، پھر واپس آ کر میرے ساتھ لیٹتے، اگر پھر مجھ سے کچھ ( خون ) لگ جاتا تو آپ پھر ویسے ہی کرتے، اور اس سے آگے تجاوز نہ فرماتے۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا هشام بن عبد الملك، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا جابر بن صبح، قال سمعت خلاس بن عمرو، يقول سمعت عايشة، تقول كنت انا ورسول الله، صلى الله عليه وسلم ابو القاسم في الشعار الواحد وانا حايض، طامث فان اصابه مني شىء غسل ما اصابه لم يعده الى غيره وصلى فيه ثم يعود معي فان اصابه مني شىء فعل مثل ذلك لم يعده الى غيره
ہمام کہتے ہیں کہ میں نے جریر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے پیشاب کیا پھر پانی منگایا، اور وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر وہ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی، تو اس کے بارے میں ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن سليمان، عن ابراهيم، عن همام، قال رايت جريرا بال ثم دعا بماء فتوضا ومسح على خفيه ثم قام فصلى فسيل عن ذلك فقال رايت النبي صلى الله عليه وسلم صنع مثل هذا
ابوسلمہ (ان کا نام سعید بن یزید بصریٰ ہے اور وہ ثقہ ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتوں میں نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں ( پڑھتے تھے ) ۔
اخبرنا عمرو بن علي، عن يزيد بن زريع، وغسان بن مضر، قالا حدثنا ابو مسلمة، - واسمه سعيد بن يزيد بصري - ثقة قال سالت انس بن مالك اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في النعلين قال نعم
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح ( مکہ ) کے دن نماز پڑھی، تو آپ نے اپنے جوتوں کو اپنے بائیں جانب رکھا ۱؎۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، وشعيب بن يوسف، عن يحيى، عن ابن جريج، قال اخبرني محمد بن عباد، عن عبد الله بن سفيان، عن عبد الله بن السايب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى يوم الفتح فوضع نعليه عن يساره