Loading...

Loading...
کتب
۳۵ احادیث
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے سولہ ماہ تک بیت المقدس کی جانب نماز پڑھی، پھر آپ خانہ کعبہ کی طرف پھیر دیئے گئے، ایک شخص جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ چکا تھا، انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ کعبہ کی طرف کر دیا گیا ہے، وہ لوگ ( یہ سنتے ہی نماز کی حالت میں ) کعبہ کی طرف پھر گئے۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا اسحاق بن يوسف الازرق، عن زكريا بن ابي زايدة، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، قال قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة فصلى نحو بيت المقدس ستة عشر شهرا ثم وجه الى الكعبة فمر رجل قد كان صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم على قوم من الانصار فقال اشهد ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد وجه الى الكعبة . فانحرفوا الى الكعبة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے خواہ وہ کسی بھی طرف متوجہ ہو جاتی۔ مالک کہتے ہیں کہ عبداللہ بن دینار کا کہنا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك بن انس، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي على راحلته في السفر حيثما توجهت به . قال مالك قال عبد الله بن دينار وكان ابن عمر يفعل ذلك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نماز پڑھتے خواہ وہ کسی بھی طرف آپ کو لے کر متوجہ ہوتی، وتر بھی اسی پر پڑھتے تھے، البتہ فرض نماز اس پر نہیں پڑھتے تھے۔
اخبرنا عيسى بن حماد، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن سالم، عن عبد الله، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي على الراحلة قبل اى وجه توجه به ويوتر عليها غير انه لا يصلي عليها المكتوبة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ لوگ مسجد قباء میں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی دوران ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا: آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ قرآن نازل ہوا ہے، اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ قبلہ ( کعبہ ) کی طرف رخ کریں، تو ان لوگوں نے کعبہ کی طرف رخ کر لیا، اور حال یہ تھا کہ ان کے چہرے شام کی طرف تھے تو وہ کعبہ کی طرف ( جنوب کی طرف ) گھوم گئے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال بينما الناس بقباء في صلاة الصبح جاءهم ات فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد انزل عليه الليلة قران وقد امر ان يستقبل القبلة . فاستقبلوها وكانت وجوههم الى الشام فاستداروا الى الكعبة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غزوہ تبوک میں نمازی کے سترہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ کجاوہ کی پچھلی لکڑی کی طرح کی بھی کوئی چیز ہو سکتی ہے ۔
اخبرنا العباس بن محمد الدوري، قال حدثنا عبد الله بن يزيد، قال حدثنا حيوة بن شريح، عن ابي الاسود، عن عروة، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك عن سترة المصلي فقال " مثل موخرة الرحل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنے سامنے ) نیزہ گاڑتے تھے، پھر اس کی طرف ( رخ کر کے ) نماز پڑھتے تھے۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال انبانا نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال كان يركز الحربة ثم يصلي اليها
سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سترہ کی طرف ( رخ کر کے ) نماز پڑھے، تو اس سے قریب رہے کہ شیطان اس کی نماز باطل نہ کر سکے ۔
اخبرنا علي بن حجر، واسحاق بن منصور، قالا حدثنا سفيان، عن صفوان بن سليم، عن نافع بن جبير، عن سهل بن ابي حثمة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا صلى احدكم الى سترة فليدن منها لا يقطع الشيطان عليه صلاته
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہم چاروں خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ بند کر لیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جب وہ لوگ نکلے تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کعبہ کے اندر ) کیا کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھمبا ( ستون ) اپنے بائیں طرف کیا، دو کھمبے اپنے دائیں طرف، اور تین کھمبے اپنے پیچھے، ( ان دنوں خانہ کعبہ چھ ستونوں پر تھا ) پھر آپ نے نماز پڑھی، اور اپنے اور دیوار کے درمیان تقریباً تین ہاتھ کا فاصلہ رکھا ۱؎۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل الكعبة هو واسامة بن زيد وبلال وعثمان بن طلحة الحجبي فاغلقها عليه قال عبد الله بن عمر فسالت بلالا حين خرج ماذا صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم قال جعل عمودا عن يساره وعمودين عن يمينه وثلاثة اعمدة وراءه - وكان البيت يوميذ على ستة اعمدة - ثم صلى وجعل بينه وبين الجدار نحوا من ثلاثة اذرع
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو تو جب اس کے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی جیسی کوئی چیز ہو تو وہ اس کے لیے سترہ ہو جائے گی، اور اگر کجاوہ کی پچھلی لکڑی کی طرح کوئی چیز نہ ہو تو عورت، گدھا اور کالا کتا اس کی نماز باطل کر دے گا ۔ عبداللہ بن صامت کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: پیلے اور لال رنگ کے مقابلہ میں کالے ( کتے ) کی کیا خصوصیت ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: جس طرح آپ نے مجھ سے پوچھا ہے میں نے بھی یہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہے ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال انبانا يزيد، قال حدثنا يونس، عن حميد بن هلال، عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كان احدكم قايما يصلي فانه يستره اذا كان بين يديه مثل اخرة الرحل فان لم يكن بين يديه مثل اخرة الرحل فانه يقطع صلاته المراة والحمار والكلب الاسود " . قلت ما بال الاسود من الاصفر من الاحمر فقال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما سالتني فقال " الكلب الاسود شيطان
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن زید سے پوچھا: کون سی چیز نماز کو باطل کر دیتی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہم کہتے تھے: حائضہ عورت اور کتا۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ شعبہ نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثني شعبة، وهشام، عن قتادة، قال قلت لجابر بن زيد ما يقطع الصلاة قال كان ابن عباس يقول المراة الحايض والكلب . قال يحيى رفعه شعبة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں: میں اور فضل دونوں اپنی ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ( پھر انہوں نے ایک بات کہی جس کا مفہوم تھا: ) تو ہم صف کے کچھ حصہ سے گزرے، پھر ہم اترے اور ہم نے گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ نہیں کہا ۱؎۔
اخبرنا محمد بن منصور، عن سفيان، قال حدثنا الزهري، قال اخبرني عبيد الله، عن ابن عباس، قال جيت انا والفضل، على اتان لنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بالناس بعرفة ثم ذكر كلمة معناها فمررنا على بعض الصف فنزلنا وتركناها ترتع فلم يقل لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم شييا
فضل بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ایک بادیہ میں عباس رضی اللہ عنہ سے ملنے آئے، وہاں ہماری ایک کتیا موجود تھی، اور ہماری ایک گدھی چر رہی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی، اور وہ دونوں آپ کے آگے موجود تھیں، تو انہیں نہ ہانکا گیا اور نہ ہٹا کر پیچھے کیا گیا۔
اخبرنا عبد الرحمن بن خالد، قال حدثنا حجاج، قال قال ابن جريج اخبرني محمد بن عمر بن علي، عن عباس بن عبيد الله بن عباس، عن الفضل بن العباس، قال زار رسول الله صلى الله عليه وسلم عباسا في بادية لنا ولنا كليبة وحمارة ترعى فصلى النبي صلى الله عليه وسلم العصر وهما بين يديه فلم يزجرا ولم يوخرا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ وہ اور بنی ہاشم کا ایک لڑکا دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک گدھے پر سوار ہو کر گزرے، آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو وہ دونوں اترے اور آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے، پھر ان لوگوں نے نماز پڑھی اور آپ نے نماز نہیں توڑی، اور ابھی آپ نماز ہی میں تھے کہ اتنے میں بنی عبدالمطلب کی دو بچیاں دوڑتی ہوئی آئیں، اور آپ کے گھٹنوں سے لپٹ گئیں، آپ نے ان دونوں کو جدا کیا، اور نماز نہیں توڑی ۱؎۔
اخبرنا ابو الاشعث، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، ان الحكم، اخبره قال سمعت يحيى بن الجزار، يحدث عن صهيب، قال سمعت ابن عباس، يحدث انه مر بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم هو وغلام من بني هاشم على حمار بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يصلي فنزلوا ودخلوا معه فصلوا ولم ينصرف فجاءت جاريتان تسعيان من بني عبد المطلب فاخذتا بركبتيه ففرع بينهما ولم ينصرف
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھی، آپ نماز پڑھ رہے تھے تو جب میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو مجھے یہ بات ناگوار لگی کہ میں اٹھ کر آپ کے سامنے سے گزروں تو میں دھیرے سے سرک گئی ۱؎۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كنت بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يصلي فاذا اردت ان اقوم كرهت ان اقوم - فامر بين يديه - انسللت انسلالا
بسر بن سعید سے روایت ہے کہ زید بن خالد نے انہیں ابوجہیم رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ انہوں نے نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کہتے سنا ہے؟ تو ابوجہیم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا کہ اس پر کیا گناہ ہے تو وہ چالیس ( دن، مہینہ یا سال ) تک کھڑا رہنے کو بہتر اس بات سے جانتا کہ وہ اس کے سامنے سے گزرے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابي النضر، عن بسر بن سعيد، ان زيد بن خالد، ارسله الى ابي جهيم يساله ماذا سمع من، رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في المار بين يدى المصلي فقال ابو جهيم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو يعلم المار بين يدى المصلي ماذا عليه لكان ان يقف اربعين خيرا له من ان يمر بين يديه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے سے کسی کو گزرنے نہ دے، اگر وہ نہ مانے تو اسے سختی سے دفع کرے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن عبد الرحمن بن ابي سعيد، عن ابي سعيد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا كان احدكم يصلي فلا يدع احدا ان يمر بين يديه فان ابى فليقاتله
مطلب بن ابی وداعۃ سہمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے خانہ کعبہ کا سات چکر لگایا، پھر مقام ابراہیم کے حاشیہ میں اپنے جوتوں کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھی، اور آپ کے اور طواف کرنے والوں کے درمیان کوئی ( سترہ ) نہ تھا ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عيسى بن يونس، قال حدثنا عبد الملك بن عبد العزيز بن جريج، عن كثير بن كثير، عن ابيه، عن جده، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم طاف بالبيت سبعا ثم صلى ركعتين بحذايه في حاشية المقام وليس بينه وبين الطواف احد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تھے، اور میں آپ کے اور قبلہ کے بیچ آپ کے بستر پر چوڑان میں سوئی رہتی تھی، تو جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو مجھے جگاتے، تو میں ( بھی ) وتر پڑھتی۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن هشام، قال حدثنا ابي، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل وانا راقدة معترضة بينه وبين القبلة على فراشه فاذا اراد ان يوتر ايقظني فاوترت
ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ تم قبروں کی طرف ( رخ کر کے ) نماز پڑھو اور نہ ان پر بیٹھو ۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا الوليد، عن ابن جابر، عن بسر بن عبيد الله، عن واثلة بن الاسقع، عن ابي مرثد الغنوي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تصلوا الى القبور ولا تجلسوا عليها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے گھر ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں، میں نے اسے گھر کے ایک روشندان پر لٹکا دیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرح ( رخ کر کے ) نماز پڑھتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اسے میرے پاس سے ہٹا دو ، تو میں نے اسے اتار لیا، اور اس کے تکیے بنا ڈالے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن عبد الرحمن بن القاسم، قال سمعت القاسم، يحدث عن عايشة، قالت كان في بيتي ثوب فيه تصاوير فجعلته الى سهوة في البيت فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي اليه ثم قال " يا عايشة اخريه عني " . فنزعته فجعلته وسايد