Loading...

Loading...
کتب
۱۴ احادیث
زید بن ثابت رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رقبیٰ لاگو ہو گا ۱؎۔
اخبرنا هلال بن العلاء، قال حدثنا ابي قال، حدثنا عبيد الله، - وهو ابن عمرو - عن سفيان، عن ابن ابي نجيح، عن طاوس، عن زيد بن ثابت، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الرقبى جايزة
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رقبیٰ کو اسی کا حق قرار دیا ہے جسے رقبیٰ کیا گیا ہے ۱؎۔
اخبرني محمد بن علي بن ميمون، قال حدثنا محمد، - وهو ابن يوسف - قال حدثنا سفيان، عن ابن ابي نجيح، عن طاوس، عن رجل، عن زيد بن ثابت، ان النبي صلى الله عليه وسلم جعل الرقبى للذي ارقبها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رقبیٰ ( مصلحتاً جائز ) نہیں ہے ( لیکن اگر کسی نے کر دیا ہے ) تو جسے رقبیٰ کیا گیا ہے اس کے ورثاء کو میراث میں ملے گا، دینے والے کو واپس نہ ہو گا۔
اخبرنا زكريا بن يحيى، قال حدثنا عبد الجبار بن العلاء، قال حدثنا سفيان، عن ابن ابي نجيح، عن طاوس، لعله عن ابن عباس، قال لا رقبى فمن ارقب شييا فهو سبيل الميراث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے مال کا رقبیٰ نہ کرو، اور جس نے کسی چیز کا رقبیٰ کیا تو وہ چیز اسی کی ہو گی جس کو وہ بطور رقبیٰ دی گئی“۔
اخبرني محمد بن وهب، قال حدثنا محمد بن سلمة، قال حدثني ابو عبد الرحيم، قال حدثني زيد، عن ابي الزبير، عن طاوس، عن ابن عباس، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا ترقبوا اموالكم فمن ارقب شييا فهو لمن ارقبه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ ۱؎ لاگو ہو گا، اور وہ اسی کا حق ہو گا جسے وہ عمریٰ کیا گیا ہے، اور رقبیٰ لاگو ہو گا، اور یہ اسی کا ہو گا جسے وہ رقبیٰ کیا گیا ہو اور اپنا ہبہ کر کے واپس لینے والا قے کر کے چاٹنے والے کی طرح ہے“۔
اخبرنا احمد بن حرب، قال حدثنا ابو معاوية، عن حجاج، عن ابي الزبير، عن طاوس، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العمرى جايزة لمن اعمرها والرقبى جايزة لمن ارقبها والعايد في هبته كالعايد في قييه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمریٰ اور رقبیٰ دونوں برابر ہیں ( ان میں کچھ فرق نہیں ) ۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا سفيان، عن ابي الزبير، عن طاوس، عن ابن عباس، قال العمرى والرقبى سواء
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رقبیٰ اور عمریٰ جائز نہیں ہیں ۱؎ لیکن اگر کسی نے کوئی چیز عمریٰ کسی کو دی تو وہ اسی کی ہو جائے گی جسے عمریٰ میں دی گئی ہے، اور جس نے کسی کو کوئی چیز رقبیٰ کی تو وہ چیز اس کی ہو جائے گی جسے اس نے رقبیٰ کی ہے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا يعلى، قال حدثنا سفيان، عن ابي الزبير، عن طاوس، عن ابن عباس، قال لا تحل الرقبى ولا العمرى فمن اعمر شييا فهو له ومن ارقب شييا فهو له
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمریٰ اور رقبیٰ کرنا جائز نہیں، لیکن جس کسی نے کسی کو کوئی چیز عمریٰ یا رقبیٰ میں دی تو جس کو دی ہے وہ چیز اسی کی ہو جائے گی، اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی ( یعنی مرنے کے بعد اس کے ورثہ کو ملے گی ) ۔ حنظلہ نے اس حدیث کو مرسلاً بیان کیا ہے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا محمد بن بشر، قال حدثنا حجاج، عن ابي الزبير، عن طاوس، عن ابن عباس، قال لا تصلح العمرى ولا الرقبى فمن اعمر شييا او ارقبه فانه لمن اعمره وارقبه حياته وموته . ارسله حنظلة
طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رقبیٰ کرنا جائز نہیں، لیکن جس کسی کو رقبیٰ میں کوئی چیز دی گئی تو ( وہ چیز اسی کی ہو گی اور ) اس میں میراث نافذ ہو گی“۔
اخبرنا محمد بن حاتم، قال انبانا حبان، قال حدثنا عبد الله، عن حنظلة، انه سمع طاوسا، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تحل الرقبى فمن ارقب رقبى فهو سبيل الميراث
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ میراث ہے“ ۱؎۔
اخبرني عبدة بن عبد الرحيم، عن وكيع، قال حدثنا سفيان، عن ابن ابي نجيح، عن طاوس، عن زيد بن ثابت، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العمرى ميراث
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ وارث کا حق ہے“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، قال حدثنا سفيان، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن حجر المدري، عن زيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العمرى للوارث
زید بن ثابت رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ لاگو ہو گا“۔
اخبرنا محمد بن عبيد، قال حدثنا عبد الله بن المبارك، عن معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن حجر المدري، عن زيد بن ثابت، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " العمرى جايزة
زید بن ثابت رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ وارث کا حق ہے“۔
اخبرنا محمد بن عبيد، عن ابن المبارك، عن معمر، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن زيد بن ثابت، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " العمرى للوارث
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ وارث کا حق ہے“، واللہ اعلم ( اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے ) ۔
اخبرنا محمد بن حاتم، قال انبانا حبان، قال انبانا عبد الله، عن معمر، قال سمعت عمرو بن دينار، يحدث عن طاوس، عن حجر المدري، عن زيد بن ثابت، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " العمرى للوارث " . والله اعلم