Loading...

Loading...
کتب
۱۸ احادیث
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب ہوازن کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو ہم آپ کے پاس تھے۔ انہوں نے کہا: اے محمد! ہم ایک ہی اصیل اور خاندانی لوگ ہیں اور ہم پر جو بلا اور مصیبت نازل ہوئی ہے وہ آپ سے پوشیدہ نہیں، آپ ہم پر احسان کیجئے، اللہ آپ پر احسان فرمائے گا۔ آپ نے فرمایا: ”اپنے مال یا اپنی عورتوں اور بچوں میں سے کسی ایک کو چن لو“، تو ان لوگوں نے کہا: آپ نے ہمیں اپنے خاندان والوں اور اپنے مال میں سے کسی ایک کے چن لینے کا اختیار دیا ہے تو ہم اپنی عورتوں اور بچوں کو حاصل کر لینا چاہتے ہیں، اس پر آپ نے فرمایا: ”میرے اور بنی مطلب کے حصے میں جو ہیں انہیں میں تمہیں واپس دے دیتا ہوں اور جب میں ظہر سے فارغ ہو جاؤں تو تم لوگ کھڑے ہو جاؤ اور کہو: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے آپ سارے مسلمانوں اور مومنوں سے اپنی عورتوں اور بچوں کے سلسلہ میں مدد کے طلب گار ہیں“۔ چنانچہ جب لوگ ظہر پڑھ چکے تو یہ لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے یہی بات دہرائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میرا اور بنی عبدالمطلب کا حصہ ہے وہ تمہارے حوالے ہے“، یہ بات سن کر مہاجرین نے کہا: جو ہمارے حصے میں ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد، اور انصار نے بھی کہا: جو ہمارے حصہ میں ہے وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد، اس پر اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اور بنو تمیم تو اپنا حصہ واپس نہیں کر سکتے۔ عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ نے بھی کہا کہ میں اور بنو فزارہ بھی اپنا حصہ دینے کے نہیں۔ عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اور بنو سلیم بھی اپنا حصہ نہیں لوٹانے کے۔ ( یہ سن کر ) قبیلہ بنو سلیم کے لوگ کھڑے ہوئے اور کہا: تم غلط کہتے ہو، ہمارا حصہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! ان کی عورتوں اور بچوں کو انہیں واپس کر دو اور جو کوئی بغیر کسی بدلے نہ دینا چاہے تو اس کے لیے میرا وعدہ ہے کہ مال فیٔ میں سے جو اللہ تعالیٰ پہلے عطا کر دے گا میں اس کے ہر گردن ( غلام ) کے بدلے چھ اونٹ ملیں گے“، یہ فرما کر آپ اپنی سواری پر سوار ہو گئے، اور لوگوں نے آپ کو گھیر لیا ( اور کہنے لگے: ) ہمارے حصہ کا مال غنیمت ہمیں بانٹ دیجئیے، اور آپ کو ایک درخت کا سہارا لینے پر مجبور کر دیا جس سے آپ کی چادر الجھ کر آپ سے الگ ہو گئی تو آپ نے فرمایا: ”لوگو! میری چادر تو واپس لا دو، قسم اللہ کی! اگر تمہارے لیے تہامہ کے درختوں کے برابر اونٹ بھی ہوں تو میں انہیں تم میں تقسیم کر دوں گا، تم لوگ مجھے بخیل، بزدل اور جھوٹا نہیں پاؤ گے، پھر ایک اونٹ کے پاس آئے اور اپنی انگلیوں کے درمیان اس کے کوہان سے بالوں کا ایک گچھا لے کر کہنے لگے: سن لو! فیٔ میں سے میرا کچھ نہیں ہے اور یہ بھی نہیں ہے ( اونٹ کے بالوں کی طرف اشارہ کر کے کہا ) سوائے خمس ( ۱/۵ ) کے اور خمس بھی ( گھوم پھر کر ) تمہیں لوگوں کو لوٹا دیا جاتا ہے“۔ یہ بات سن کر ایک آدمی بالوں کا ایک گچھا لے کر آپ کے پاس آ کھڑا ہوا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے بالوں کا یہ گچھا لیا ہے تاکہ اس سے اپنے اونٹ کی ( پھٹے ہوئے ) پالان ( گدے ) کو درست کر لوں، آپ نے فرمایا: ”میرا اور بنی مطلب کا جو حصہ ہے وہ تمہارے لیے ہے“ اس شخص نے کہا: کیا یہ اس حد تک سنگین اور اہم معاملہ ہے؟ تو مجھے اس سے کچھ نہیں لینا دینا، یہ کہہ کر اس نے بالوں کا گچھا مال فیٔ میں ڈال دیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! ”سوئی اور دھاگا بھی لا کر جمع کرو، کیونکہ مال غنیمت میں چوری اور خیانت قیامت کے دن چوری اور خیانت کرنے والے کے لیے شرم و ندامت کا باعث ہو گا“۔
اخبرنا عمرو بن يزيد، قال حدثنا ابن ابي عدي، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ اتته وفد هوازن فقالوا يا محمد انا اصل وعشيرة وقد نزل بنا من البلاء ما لا يخفى عليك فامنن علينا من الله عليك . فقال " اختاروا من اموالكم او من نسايكم وابنايكم " . فقالوا قد خيرتنا بين احسابنا واموالنا بل نختار نساءنا وابناءنا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما ما كان لي ولبني عبد المطلب فهو لكم فاذا صليت الظهر فقوموا فقولوا انا نستعين برسول الله على المومنين او المسلمين في نساينا وابناينا " . فلما صلوا الظهر قاموا فقالوا ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فما كان لي ولبني عبد المطلب فهو لكم " . فقال المهاجرون وما كان لنا فهو لرسول الله صلى الله عليه وسلم . وقالت الانصار ما كان لنا فهو لرسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال الاقرع بن حابس اما انا وبنو تميم فلا . وقال عيينة بن حصن اما انا وبنو فزارة فلا . وقال العباس بن مرداس اما انا وبنو سليم فلا . فقامت بنو سليم فقالوا كذبت ما كان لنا فهو لرسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ايها الناس ردوا عليهم نساءهم وابناءهم فمن تمسك من هذا الفىء بشىء فله ست فرايض من اول شىء يفييه الله عز وجل علينا " . وركب راحلته وركب الناس اقسم علينا فيانا فالجيوه الى شجرة فخطفت رداءه فقال " يا ايها الناس ردوا على ردايي فوالله لو ان لكم شجر تهامة نعما قسمته عليكم ثم لم تلقوني بخيلا ولا جبانا ولا كذوبا " . ثم اتى بعيرا فاخذ من سنامه وبرة بين اصبعيه ثم يقول " ها انه ليس لي من الفىء شىء ولا هذه الا خمس والخمس مردود فيكم " . فقام اليه رجل بكبة من شعر فقال يا رسول الله اخذت هذه لاصلح بها بردعة بعير لي . فقال " اما ما كان لي ولبني عبد المطلب فهو لك " . فقال اوبلغت هذه فلا ارب لي فيها . فنبذها . وقال " يا ايها الناس ادوا الخياط والمخيط فان الغلول يكون على اهله عارا وشنارا يوم القيامة
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص کسی کو کوئی چیز بطور ہبہ دے کر واپس نہیں لے سکتا، سوائے باپ کے کہ وہ اپنے بیٹے کو دے کر پھر واپس لے سکتا ہے، ( سن لو ) ہبہ کر کے واپس لینے والا ایسا ہی ہے جیسے کوئی قے کرے کے چاٹے“۔
اخبرنا احمد بن حفص، قال حدثني ابي قال، حدثني ابراهيم، عن سعيد بن ابي عروبة، عن عامر الاحول، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يرجع احد في هبته الا والد من ولده والعايد في هبته كالعايد في قييه
عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کے لیے حلال نہیں ہے کہ کسی کو کوئی تحفہ دے پھر اسے واپس لے ۱؎ سوائے باپ کے جسے وہ اپنے بیٹے کو دیتا ہے، اس شخص کی مثال جو کوئی عطیہ دیے کر اسے واپس لے لے اس کتے جیسی ہے جس نے ( خوب ) کھا لیا ہو یہاں تک کہ جب وہ آسودہ ہو جائے تو قے کرے پھر اسے چاٹے“
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا ابن ابي عدي، عن حسين، عن عمرو بن شعيب، قال حدثني طاوس، عن ابن عمر، وابن، عباس يرفعان الحديث الى النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لرجل يعطي عطية ثم يرجع فيها الا الوالد فيما يعطي ولده ومثل الذي يعطي عطية ثم يرجع فيها كمثل الكلب اكل حتى اذا شبع قاء ثم عاد في قييه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہبہ کر کے اسے لینے والا کتے کی طرح ہے، جو قے کرتا ہے پھر اسی کو چاٹتا ہے“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله الخلنجي المقدسي، قال حدثنا ابو سعيد، - وهو مولى بني هاشم - عن وهيب، قال حدثنا ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العايد في هبته كالكلب يقيء ثم يعود في قييه
تابعی طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کوئی ہبہ دے پھر اسے واپس لے، سوائے باپ کے کہ وہ اپنے بیٹے کو دے کر اس سے واپس لے سکتا ہے“۔ طاؤس کہتے ہیں: قے کر کے اسے چاٹنے کی بات میں سنتا تھا اور ( اس وقت ) میں چھوٹا تھا۔ میں یہ نہیں جان سکا تھا کہ آپ نے اسے بطور مثال بیان کیا ہے، ( تو اب سنو ) جو شخص ایسا کرے اس کی مثال کتے کی ہے جو قے کرتا ہے، پھر اسے چاٹتا ہے۔
اخبرنا محمد بن حاتم، قال حدثنا حبان، قال انبانا عبد الله، عن ابراهيم بن نافع، عن الحسن بن مسلم، عن طاوس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحل لاحد ان يهب هبة ثم يرجع فيها الا من ولده " . قال طاوس كنت اسمع وانا صغير عايد في قييه فلم ندر انه ضرب له مثلا قال " فمن فعل ذلك فمثله كمثل الكلب ياكل ثم يقيء ثم يعود في قييه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ دے کر جو شخص واپس لے لیتا ہے اس کی مثال کتے کی طرح ہے، کتا قے کرتا ہے اور پھر دوبارہ اپنے قے کیے ہوئے کو کھا لیتا ہے“۔
اخبرنا محمود بن خالد، قال حدثنا عمر، عن الاوزاعي، قال حدثني محمد بن علي بن حسين، قال حدثني سعيد بن المسيب، قال حدثني عبد الله بن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مثل الذي يرجع في صدقته كمثل الكلب يرجع في قييه فياكله
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ دے کر واپس لینے والے کی مثال کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے اور دوبارہ اسی قے کو کھا لیتا ہے“۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا عبد الصمد، قال حدثنا حرب، - وهو ابن شداد - قال حدثني يحيى، - هو ابن ابي كثير - قال حدثني عبد الرحمن بن عمرو، - وهو الاوزاعي - ان محمد بن علي بن حسين بن فاطمة بنت رسول الله، صلى الله عليه وسلم حدثه عن سعيد بن المسيب، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " مثل الذي يتصدق بالصدقة ثم يرجع فيها كمثل الكلب قاء ثم عاد في قييه فاكله
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ دے کر واپس لینے والے کی مثال کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے اور دوبارہ اسی قے کو کھا لیتا ہے“۔ اوزاعی کہتے ہیں: میں نے محمد بن علی بن الحسین کو یہ حدیث عطاء بن ابی رباح سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔
اخبرنا الهيثم بن مروان بن الهيثم بن عمران، قال حدثنا محمد، - وهو ابن بكار بن بلال - قال حدثنا يحيى، عن الاوزاعي، ان محمد بن علي بن الحسين، حدثه عن سعيد بن المسيب، عن عبد الله بن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " مثل الذي يرجع في صدقته كمثل الكلب يقيء ثم يعود في قييه " . قال الاوزاعي سمعته يحدث عطاء بن ابي رباح بهذا الحديث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہبہ ( کر کے واپس ) لینے والا قے کر کے چاٹنے والے کی طرح ہے“۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " العايد في هبته كالعايد في قييه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہبہ کر کے واپس لینے والا قے کرے چاٹنے والے کی طرح ہے“۔
اخبرنا ابو الاشعث، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العايد في هبته كالعايد في قييه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے لیے بری مثال ( زیبا ) نہیں ہبہ کر کے واپس لینے والا قے کر کے چاٹنے والے کی طرح ہے“۔
اخبرنا محمد بن العلاء، قال حدثنا ابو خالد، - وهو سليمان بن حيان - عن سعيد بن ابي عروبة، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس لنا مثل السوء العايد في هبته كالعايد في قييه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے لیے بری مثال ( زیبا ) نہیں، ہبہ کر کے واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے اسی کو چاٹ لیتا ہے“۔
اخبرنا عمرو بن زرارة، قال حدثنا اسماعيل، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس لنا مثل السوء العايد في هبته كالكلب يعود في قييه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے لیے بری مثال ( زیبا ) نہیں، ہبہ کر کے واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے کھا لیتا ہے“۔
اخبرنا محمد بن حاتم بن نعيم، قال حدثنا حبان، قال انبانا عبد الله، عن خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس لنا مثل السوء الراجع في هبته كالكلب في قييه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہبہ کر کے واپس لے لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کرتا اور اپنے قے کو چاٹتا ہے“۔
اخبرني زكريا بن يحيى، قال حدثنا اسحاق، قال حدثنا المخزومي، قال حدثنا وهيب، قال حدثنا عبد الله بن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " العايد في هبته كالكلب يقيء ثم يعود في قييه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہبہ کر کے واپس لینے والا قے کر کے چاٹنے والے کی طرح ہے“۔
اخبرنا احمد بن حرب، قال حدثنا ابو معاوية، عن حجاج، عن ابي الزبير، عن طاوس، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العايد في هبته كالعايد في قييه
عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو کوئی عطیہ ( تحفہ ) دے پھر اسے واپس لے لے۔ سوائے باپ کے، جو وہ اپنی اولاد کو دے، اور اس شخص کی مثال جو کسی کو عطیہ دیتا ہے پھر اسے واپس لے لیتا ہے اس کتے کی ہے جو کھاتا جاتا ہے یہاں تک کہ جب اس کا پیٹ بھر جاتا ہے تو وہ قے کر دیتا ہے پھر اسی کو چاٹ لیتا ہے“۔
اخبرنا عبد الرحمن بن محمد بن سلام، قال حدثنا اسحاق الازرق، قال حدثنا به، حسين المعلم عن عمرو بن شعيب، عن طاوس، عن ابن عمر، وابن، عباس قالا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحل لاحد ان يعطي العطية فيرجع فيها الا الوالد فيما يعطي ولده ومثل الذي يعطي العطية فيرجع فيها كالكلب ياكل حتى اذا شبع قاء ثم عاد فرجع في قييه
تابعی طاؤس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو کوئی چیز ہبہ کرے پھر اسے واپس لے لے سوائے باپ کے“۔ طاؤس کہتے ہیں کہ میں بچوں کو کہتے ہوئے سنتا تھا «يا عائدا في قيئه» ! اے اپنی قے کے چاٹنے والے، اور نہیں جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مثال دی ہے یہاں تک کہ مجھے یہ حدیث پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اس شخص کی مثال جو ہبہ دے کر واپس لے لیتا ہے“، اور راوی نے کچھ ایسی بات ذکر کی جس کے معنی یہ تھے کہ اس کی مثال کتے کی ہے جو اپنے قے کو کھا لیتا ہے۔
اخبرنا عبد الحميد بن محمد، قال حدثنا مخلد، قال حدثنا ابن جريج، عن الحسن بن مسلم، عن طاوس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لاحد يهب هبة ثم يعود فيها الا الوالد " . قال طاوس كنت اسمع الصبيان يقولون يا عايدا في قييه ولم اشعر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ضرب ذلك مثلا حتى بلغنا انه كان يقول " مثل الذي يهب الهبة ثم يعود فيها " . وذكر كلمة معناها " كمثل الكلب ياكل قييه
طاؤس کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا تھا ۱؎ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی مثال جو ہبہ کرتا ہے پھر اسے واپس لے لیتا ہے کتے کی مثال ہے۔ کتا کھاتا ہے پھر قے کرتا ہے پھر دوبارہ اسی قے کو کھا لیتا ہے“۔
اخبرنا محمد بن حاتم بن نعيم، قال حدثنا حبان، انبانا عبد الله، عن حنظلة، انه سمع طاوسا، يقول اخبرنا بعض، من ادرك النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " مثل الذي يهب فيرجع في هبته كمثل الكلب ياكل فيقيء ثم ياكل قييه