Loading...

Loading...
کتب
۲۲۰ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے اور یہ فجر طلوع ہو جانے کے بعد پڑھتے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الرزاق، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن سالم، قال ابن عمر اخبرتني حفصة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يركع ركعتين قبل الفجر وذلك بعد ما يطلع الفجر
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب فجر روشن ہو جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
اخبرنا الحسين بن عيسى، قال حدثنا سفيان، عن عمرو، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال اخبرتني حفصة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اضاء له الفجر صلى ركعتين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
اخبرنا محمود بن خالد، قال حدثنا الوليد، عن ابي عمرو، عن يحيى، قال حدثني ابو سلمة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي ركعتين خفيفتين بين النداء والاقامة من صلاة الفجر
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: آپ تیرہ رکعتیں پڑھتے، پہلے آٹھ رکعتیں پڑھتے، پھر ( ایک رکعت ) وتر پڑھتے، پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے، اور جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہو جاتے، اور رکوع کرتے، اور دو رکعتیں صبح کی نماز کی اذان اور اقامت کے درمیان پڑھتے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا هشام، قال حدثنا يحيى، عن ابي سلمة، انه سال عايشة عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم بالليل قالت كان يصلي ثلاث عشرة ركعة يصلي ثمان ركعات ثم يوتر ثم يصلي ركعتين وهو جالس فاذا اراد ان يركع قام فركع ويصلي ركعتين بين الاذان والاقامة في صلاة الصبح
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اذان سنتے تو فجر کی دو رکعتیں پڑھتے، اور انہیں ہلکی پڑھتے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے ۱؎۔
اخبرنا احمد بن نصر، قال حدثنا عمرو بن محمد، قال حدثنا عثام بن علي، قال حدثنا الاعمش، عن حبيب بن ابي ثابت، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي ركعتى الفجر اذا سمع الاذان ويخففهما . قال ابو عبد الرحمن هذا حديث منكر
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شریح حضرمی کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ قرآن کو تکیہ نہیں بناتے ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله، قال انبانا يونس، عن الزهري، قال اخبرني السايب بن يزيد، ان شريحا الحضرمي، ذكر عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ذاك رجل لا يتوسد القران
سعید بن جبیر ایک ایسے شخص سے روایت کرتے ہیں جو ان کے نزدیک پسندیدہ ہے اس نے انہیں خبر دی کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی آدمی رات کو تہجد پڑھا کرتا ہو، پھر کسی دن نیند کی وجہ سے وہ نہ پڑھ سکے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھ دیتا ہے، اور اس کی نیند اس پر صدقہ ہوتی ہے ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن محمد بن المنكدر، عن سعيد بن جبير، عن رجل، عنده رضا اخبره ان عايشة رضى الله عنها اخبرته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما من امري تكون له صلاة بليل فغلبه عليها نوم الا كتب الله له اجر صلاته وكان نومه صدقة عليه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی رات میں کسی نماز کا عادی ہو، اور کسی رات وہ نیند کی وجہ سے اسے نہ پڑھ سکے، تو یہ اس پر اللہ کی طرف سے کیا ہوا صدقہ ہو گا، اور وہ اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھے گا ۱؎۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا محمد بن سليمان، قال حدثنا ابو جعفر الرازي، عن محمد بن المنكدر، عن سعيد بن جبير، عن الاسود بن يزيد، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كانت له صلاة صلاها من الليل فنام عنها كان ذلك صدقة تصدق الله عز وجل عليه وكتب له اجر صلاته
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: ابو جعفر رازی حدیث میں قوی نہیں ہیں، ( اسی لیے سند میں سے ایک راوی اسود کو ساقط کر دیا ہے ) ۔
اخبرنا احمد بن نصر، قال حدثنا يحيى بن ابي بكير، قال حدثنا ابو جعفر الرازي، عن محمد بن المنكدر، عن سعيد بن جبير، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فذكر نحوه . قال ابو عبد الرحمن ابو جعفر الرازي ليس بالقوي في الحديث
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بستر پر آئے، اور وہ رات میں قیام کی نیت رکھتا ہو، پھر اس کی دونوں آنکھیں اس پر غالب آ جائیں یہاں تک کہ صبح ہو جائے تو اس کے لیے اس کی نیت کا ثواب لکھا جائے گا، اور اس کی نیند اس کے رب عزوجل کی جانب سے اس پر صدقہ ہو گی ۔ سفیان ثوری نے حبیب بن ابی ثابت کی مخالفت کی ہے۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا حسين بن علي، عن زايدة، عن سليمان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن عبدة بن ابي لبابة، عن سويد بن غفلة، عن ابي الدرداء، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اتى فراشه وهو ينوي ان يقوم يصلي من الليل فغلبته عيناه حتى اصبح كتب له ما نوى وكان نومه صدقة عليه من ربه عز وجل " . خالفه سفيان
اور سفیان ثوری (کی حبیب بن ابی ثابت سے مخالفت یہ ہے کہ انہوں) نے اس سند سے یہ حدیث ابوذر اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم سے موقوفاً روایت کی ہے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله، عن سفيان الثوري، عن عبدة، قال سمعت سويد بن غفلة، عن ابي ذر، وابي الدرداء، موقوفا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز نہیں پڑھ پاتے خواہ نیند نے آپ کو اس سے روکا ہو یا کسی تکلیف نے تو دن کو آپ بارہ رکعتیں پڑھتے۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن زرارة، عن سعد بن هشام، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا لم يصل من الليل منعه من ذلك نوم او وجع صلى من النهار ثنتى عشرة ركعة
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی رات کو اپنے وظیفہ سے، یا اس کی کسی چیز سے سو جائے، پھر وہ اسے فجر سے لے کر ظہر تک کے درمیان پڑھ لے، تو اس کے لیے یہی لکھا جائے گا کہ گویا اس نے اسے رات ہی میں پڑھا ہے ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا ابو صفوان عبد الله بن سعيد بن عبد الملك بن مروان، عن يونس، عن ابن شهاب، ان السايب بن يزيد، وعبيد الله، اخبراه ان عبد الرحمن بن عبد القاري قال سمعت عمر بن الخطاب، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نام عن حزبه او عن شىء منه فقراه فيما بين صلاة الفجر وصلاة الظهر كتب له كانما قراه من الليل
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جو کوئی رات کو اپنا وظیفہ پڑھے بغیر سو جائے، پھر وہ صبح سے ظہر تک کے درمیان کسی بھی وقت اسے پڑھ لے، تو گویا اس نے اسے رات ہی میں پڑھا ہے۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عبد الرحمن بن عبد القاري، ان عمر بن الخطاب، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نام عن حزبه - او قال جزيه - من الليل فقراه فيما بين صلاة الصبح الى صلاة الظهر فكانما قراه من الليل
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس کا رات کا وظیفہ چھوٹ جائے، اور وہ سورج ڈھلنے سے لے کر نماز ظہر تک کسی بھی وقت اسے پڑھ لے، تو اس کا وظیفہ نہیں چھوٹا، یا گویا اس نے اپنا وظیفہ پا لیا۔ اسے حمید بن عبدالرحمٰن نے موقوفاً ( یعنی: مقطوعا ) روایت کیا ہے۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن داود بن الحصين، عن الاعرج، عن عبد الرحمن بن عبد القاري، ان عمر بن الخطاب، قال من فاته حزبه من الليل فقراه حين تزول الشمس الى صلاة الظهر فانه لم يفته او كانه ادركه . رواه حميد بن عبد الرحمن بن عوف موقوفا
حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں جس کا رات کا وظیفہ چھوٹ جائے، تو اسے چاہیئے کہ وہ ظہر سے پہلے کسی نماز میں اسے پڑھ لے، کیونکہ یہ رات کی نماز کے برابر ہو گا۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله، عن شعبة، عن سعد بن ابراهيم، عن حميد بن عبد الرحمن، عن عمر، قال من فاته ورده من الليل فليقراه في صلاة قبل الظهر فانها تعدل صلاة الليل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو دن رات میں بارہ رکعتوں پر مداومت کرے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر سے پہلے ۱؎۔
اخبرنا الحسين بن منصور بن جعفر النيسابوري، قال حدثنا اسحاق بن سليمان، قال حدثنا مغيرة بن زياد، عن عطاء، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ثابر على اثنتى عشرة ركعة في اليوم والليلة دخل الجنة اربعا قبل الظهر وركعتين بعدها وركعتين بعد المغرب وركعتين بعد العشاء وركعتين قبل الفجر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پابندی سے بارہ رکعتوں پر مداومت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد، اور دو رکعتیں فجر سے پہلے ۔
اخبرنا احمد بن يحيى، قال حدثنا محمد بن بشر، قال حدثنا ابو يحيى، اسحاق بن سليمان الرازي عن المغيرة بن زياد، عن عطاء بن ابي رباح، عن عايشة، رضى الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ثابر على اثنتى عشرة ركعة بنى الله عز وجل له بيتا في الجنة اربعا قبل الظهر وركعتين بعد الظهر وركعتين بعد المغرب وركعتين بعد العشاء وركعتين قبل الفجر
ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۔
اخبرنا محمد بن معدان بن عيسى، قال حدثنا الحسن بن اعين، قال حدثنا معقل، عن عطاء، قال اخبرت ان ام حبيبة بنت ابي سفيان قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من ركع ثنتى عشرة ركعة في يومه وليلته سوى المكتوبة بنى الله له بها بيتا في الجنة
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ جمعہ سے پہلے بارہ رکعتیں پڑھتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کو کیا معلوم ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے خبر دی گئی ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عنبسہ بن ابی سفیان سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس نے رات دن میں فرض کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۔
اخبرني ابراهيم بن الحسن، قال حدثنا حجاج بن محمد، قال قال ابن جريج قلت لعطاء بلغني انك تركع قبل الجمعة اثنتى عشرة ركعة ما بلغك في ذلك قال اخبرت ام حبيبة عنبسة بن ابي سفيان ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ركع اثنتى عشرة ركعة في اليوم والليلة سوى المكتوبة بنى الله عز وجل له بيتا في الجنة