Loading...

Loading...
کتب
۲۷ احادیث
ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام عسفان میں دشمن کے مقابلہ میں صف آرا تھے، مشرکین کی کمان خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی، تو مشرک آپ سے میں کہنے لگے کہ ان کی اس نماز کے بعد جو نماز ہے وہ انہیں اپنے اموال و اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہے، ( چنانچہ جب عصر کا وقت ہوا ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عصر کی نماز پڑھائی، تو آپ نے اپنے پیچھے ان کی دو صفیں بنائیں، پھر آپ نے ان سبھوں کے ساتھ رکوع کیا، پھر جب لوگوں نے اپنے سروں کو رکوع سے اٹھا لیا تو ( آپ کے ساتھ ) اس صف نے سجدہ کیا جو آپ سے قریب تھی، اور دوسرے کھڑے رہے، پھر جب ان لوگوں نے اپنے سروں کو سجدے سے اٹھا لیا تو پچھلی صف نے بھی سجدہ کیا اپنے اس رکوع کے ساتھ جسے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا، پھر پہلی صف پیچھے چلی گئی، اور پچھلی صف آگے بڑھ آئی، ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی جگہ پر کھڑا ہو گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبھوں کے ساتھ مل کر رکوع کیا، پھر جب لوگوں نے رکوع سے اپنے سر اٹھا لیے تو وہ صف جو آپ سے قریب تھی سجدہ میں گئی، اور دوسرے لوگ کھڑے رہے، پھر جب یہ لوگ سجدے سے فارغ ہو گئے، تو دوسروں نے سجدہ کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبھوں کے ساتھ سلام پھیرا۔
اخبرنا محمد بن المثنى، ومحمد بن بشار، عن محمد، قال حدثنا شعبة، عن منصور، قال سمعت مجاهدا، يحدث عن ابي عياش الزرقي، قال شعبة كتب به الى وقراته عليه وسمعته منه يحدث ولكني حفظته قال ابن بشار في حديثه حفظي من الكتاب ان النبي صلى الله عليه وسلم كان مصاف العدو بعسفان وعلى المشركين خالد بن الوليد فصلى بهم النبي صلى الله عليه وسلم الظهر قال المشركون ان لهم صلاة بعد هذه هي احب اليهم من اموالهم وابنايهم فصلى بهم رسول الله صلى الله عليه وسلم العصر فصفهم صفين خلفه فركع بهم رسول الله صلى الله عليه وسلم جميعا فلما رفعوا رءوسهم سجد بالصف الذي يليه وقام الاخرون فلما رفعوا رءوسهم من السجود سجد الصف الموخر بركوعهم مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم تاخر الصف المقدم وتقدم الصف الموخر فقام كل واحد منهم في مقام صاحبه ثم ركع بهم رسول الله صلى الله عليه وسلم جميعا فلما رفعوا رءوسهم من الركوع سجد الصف الذي يليه وقام الاخرون فلما فرغوا من سجودهم سجد الاخرون ثم سلم النبي صلى الله عليه وسلم عليهم
ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام عسفان میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، اس وقت مشرکین کی کمان خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کر رہے تھے، مشرکوں نے ( آپ سے میں ) کہا: ہم نے انہیں دھوکہ دینے اور انہیں غفلت میں ( دبوچنے کا ) موقع پا لیا ہے، تو ظہر اور عصر کے درمیان خوف کی نماز نازل ہوئی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز عصر پڑھائی تو ہم دو گروہوں میں بٹ گئے، ایک گروہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے لگا، اور ایک گروہ ان کی حفاظت کرتا رہا، آپ نے جو آپ کے ساتھ کھڑے تھے، اور جو آپ کی حفاظت میں لگے تھے سبھوں کے ساتھ تکبیر تحریمہ کہی، پھر آپ نے رکوع کیا، تو ان لوگوں نے اور ان لوگوں نے سبھوں نے ایک ساتھ رکوع کیا، پھر جو آپ کے قریب تھے ان لوگوں نے سجدہ کیا، اور سجدہ کر کے وہ پیچھے ہٹ گئے اور پیچھے والے آگے بڑھ آئے، پھر انہوں نے سجدہ کیا، پھر آپ کھڑے ہوئے، پھر جو آپ کے قریب تھے اور جو آپ کی حفاظت کر رہے تھے سبھوں کے ساتھ مل کر آپ نے دوسرا رکوع کیا، پھر آپ نے اپنے پاس والوں کے ساتھ سجدہ کیا، پھر وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے، اور اپنے ساتھیوں کی صف میں کھڑے ہو گئے اور پیچھے والے آگے بڑھ آئے اور انہوں نے سجدہ کیا، پھر آپ نے ان پر سلام پھیرا، تو ان میں سے ہر ایک کی امام کے ساتھ دو دو رکعت ہو گئی، اور ایک بار آپ نے بنی سلیم کی سر زمین میں ( بھی ) خوف کی نماز پڑھی۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد، قال حدثنا منصور، عن مجاهد، عن ابي عياش الزرقي، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بعسفان فصلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الظهر وعلى المشركين يوميذ خالد بن الوليد فقال المشركون لقد اصبنا منهم غرة ولقد اصبنا منهم غفلة . فنزلت - يعني صلاة الخوف - بين الظهر والعصر فصلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة العصر ففرقنا فرقتين فرقة تصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم وفرقة يحرسونه فكبر بالذين يلونه والذين يحرسونهم ثم ركع فركع هولاء واوليك جميعا ثم سجد الذين يلونه وتاخر هولاء والذين يلونه وتقدم الاخرون فسجدوا ثم قام فركع بهم جميعا الثانية بالذين يلونه وبالذين يحرسونه ثم سجد بالذين يلونه ثم تاخروا فقاموا في مصاف اصحابهم وتقدم الاخرون فسجدوا ثم سلم عليهم فكانت لكلهم ركعتان ركعتان مع امامهم وصلى مرة بارض بني سليم
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو خوف کی نماز دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر آپ نے دوسرے لوگوں کو دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعت پڑھی ( اور لوگوں نے دو دو رکعت ) ۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، واسماعيل بن مسعود، - واللفظ له - قالا حدثنا خالد، عن اشعث، عن الحسن، عن ابي بكرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى بالقوم في الخوف ركعتين ثم سلم ثم صلى بالقوم الاخرين ركعتين ثم سلم فصلى النبي صلى الله عليه وسلم اربعا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے ایک گروہ کو ( خوف کی نماز ) دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر دوسرے لوگوں کو بھی آپ نے دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیرا۔
اخبرني ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا عمرو بن عاصم، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن قتادة، عن الحسن، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى بطايفة من اصحابه ركعتين ثم سلم ثم صلى باخرين ايضا ركعتين ثم سلم
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نماز خوف کے سلسلہ میں کہتے ہیں امام قبلہ رو کھڑا ہو گا، اور اس کے لشکر میں سے ایک گروہ اس کے ساتھ کھڑا ہو گا، اور ایک گروہ دشمن کے سامنے رہے گا، ان کے چہرے دشمن کی طرف ہوں گے، پھر امام ان کے ساتھ ایک رکعت پڑھے گا، اور ایک رکوع اور دو سجدے وہ خود سے اپنی جگہوں پر کریں گے، اور ان لوگوں کی جگہ میں چلے جائیں گے، پھر وہ لوگ آئیں گے، تو امام ان کے ساتھ ( بھی ) ایک رکوع اور دو سجدے کرے گا، تو ( اس طرح ) اس کی دو رکعتیں ہوں گی، اور ان لوگوں کی ایک ہو گی، تو پھر یہ لوگ ایک ایک رکوع اور دو دو سجدے کریں گے۔
اخبرنا ابو حفص، عمرو بن علي قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن يحيى بن سعيد، عن القاسم بن محمد، عن صالح بن خوات، عن سهل بن ابي حثمة، في صلاة الخوف قال يقوم الامام مستقبل القبلة وتقوم طايفة منهم معه وطايفة قبل العدو ووجوههم الى العدو فيركع بهم ركعة ويركعون لانفسهم ويسجدون سجدتين في مكانهم ويذهبون الى مقام اوليك ويجيء اوليك فيركع بهم ويسجد بهم سجدتين فهي له ثنتان ولهم واحدة ثم يركعون ركعة ركعة ويسجدون سجدتين
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو خوف کی نماز پڑھائی، تو ایک گروہ نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی، اور ایک گروہ کے چہرے دشمن کے مقابل رہے، تو آپ نے انہیں دو رکعت پڑھائی، پھر وہ لوگ اٹھ کر دوسرے لوگوں کی جگہ میں جا کھڑے ہوئے، اور دوسرے ان کی جگہ آ گئے تو آپ نے انہیں ( بھی ) دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الاعلى، قال حدثنا يونس، عن الحسن، قال حدث جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى باصحابه صلاة الخوف فصلت طايفة معه وطايفة وجوههم قبل العدو فصلى بهم ركعتين ثم قاموا مقام الاخرين وجاء الاخرون فصلى بهم ركعتين ثم سلم
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جو آپ کے پیچھے تھے انہیں نماز خوف دو رکعت پڑھائی، اور جو اس کے بعد آئے انہیں بھی دو رکعت پڑھائی، تو ( اس طرح ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعت ہوئی، اور لوگوں کی دو دو رکعت ہوئی۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا الاشعث، عن الحسن، عن ابي بكرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه صلى صلاة الخوف بالذين خلفه ركعتين والذين جاءوا بعد ركعتين فكانت للنبي صلى الله عليه وسلم اربع ركعات ولهولاء ركعتين ركعتين