Loading...

Loading...
کتب
۲۷ احادیث
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ہم سعید بن عاصی کے ساتھ طبرستان میں تھے، ہمارے ساتھ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بھی تھے، سعید نے پوچھا: تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خوف کی نماز پڑھی ہے؟ تو خذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے، تو انہوں نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو جو آپ کے پیچھے صف باندھے تھا ایک رکعت پڑھائی، اور دوسرا گروہ آپ کے اور دشمنوں کے مابین ڈٹا ہوا تھا، تو جو گروہ آپ کے ساتھ تھا اسے آپ نے ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ لوگ ان لوگوں کی جگہوں پر چلے گئے جو دشمن کے سامنے صف باندھے تھے، اور وہ لوگ ان کی جگہ آ گئے تو آپ نے انہیں ( بھی ) ایک رکعت پڑھائی۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا سفيان، عن الاشعث بن ابي الشعثاء، عن الاسود بن هلال، عن ثعلبة بن زهدم، قال كنا مع سعيد بن العاصي بطبرستان ومعنا حذيفة بن اليمان فقال ايكم صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف فقال حذيفة انا فوصف فقال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف بطايفة ركعة صف خلفه وطايفة اخرى بينه وبين العدو فصلى بالطايفة التي تليه ركعة ثم نكص هولاء الى مصاف اوليك وجاء اوليك فصلى بهم ركعة
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ہم سعید بن عاصی کے ساتھ طبرستان میں تھے، تو انہوں نے پوچھا: تم لوگوں میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خوف کی نماز کس نے پڑھی ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے، پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، اور لوگوں نے ان کے پیچھے دو صف بنائی، ایک صف ان کے پیچھے تھی، اور ایک صف دشمن کے مقابلہ میں تھی، تو انہوں نے ان لوگوں کو جو ان کے پیچھے تھے ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دوسری صف والوں کی جگہ پر لوٹ گئے، اور وہ لوگ ان لوگوں کی جگہ پر آ گئے، پھر انہوں نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی، اور ان لوگوں نے قضاء نہیں کی ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا سفيان، قال حدثني اشعث بن سليم، عن الاسود بن هلال، عن ثعلبة بن زهدم، قال كنا مع سعيد بن العاصي بطبرستان فقال ايكم صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف فقال حذيفة انا . فقام حذيفة فصف الناس خلفه صفين صفا خلفه وصفا موازي العدو فصلى بالذي خلفه ركعة ثم انصرف هولاء الى مكان هولاء وجاء اوليك فصلى بهم ركعة ولم يقضوا
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حذیفہ رضی اللہ عنہ کی نماز کے مثل روایت کی ہے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا سفيان، قال حدثني الركين بن الربيع، عن القاسم بن حسان، عن زيد بن ثابت، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثل صلاة حذيفة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر حضر میں چار رکعت نماز فرض کی، اور سفر میں دو رکعت، اور خوف میں ایک رکعت۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن بكير بن الاخنس، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال فرض الله الصلاة على لسان نبيكم صلى الله عليه وسلم في الحضر اربعا وفي السفر ركعتين وفي الخوف ركعة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قرد ۱؎ میں نماز پڑھی، لوگوں نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنائیں، ایک صف آپ کے پیچھے اور ایک دشمن کے مقابلے میں، تو آپ نے ان لوگوں کو جو آپ کے پیچھے کھڑے تھے ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دوسری صف والوں کی جگہ پر چلے گئے، اور وہ لوگ ان کی جگہ پر آ گئے، تو آپ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی، اور لوگوں نے قضاء نہیں کی۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، قال حدثني ابو بكر بن ابي الجهم، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى بذي قرد وصف الناس خلفه صفين صفا خلفه وصفا موازي العدو فصلى بالذين خلفه ركعة ثم انصرف هولاء الى مكان هولاء وجاء اوليك فصلى بهم ركعة ولم يقضوا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( خوف کی نماز پڑھانے ) کھڑے ہوئے، لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے، تو آپ نے اللہ اکبر کہا، اور لوگوں نے بھی اللہ اکبر کہا، پھر آپ نے رکوع کیا، اور ان میں سے بھی کچھ لوگوں نے رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو جن لوگوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کر لیا تھا وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے، اور اپنے بھائیوں کی حفاظت میں لگ گئے، اور دوسرا گروہ آیا پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا، اور سجدہ کیا، اور سبھی لوگ نماز ہی میں تھے، اللہ اکبر کہتے تھے، لیکن ایک دوسرے کی حفاظت ( بھی ) کرتے تھے۔
اخبرني عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير، عن محمد، عن الزبيدي، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان عبد الله بن عباس، قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم وقام الناس معه فكبر وكبروا ثم ركع وركع اناس منهم ثم سجد وسجدوا ثم قام الى الركعة الثانية فتاخر الذين سجدوا معه وحرسوا اخوانهم واتت الطايفة الاخرى فركعوا مع النبي صلى الله عليه وسلم وسجدوا والناس كلهم في صلاة يكبرون ولكن يحرس بعضهم بعضا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ خوف کی نماز صرف دو سجدوں پر مشتمل تھی، جیسے آج کل تمہارے ان اماموں کی پیچھے تمہارے نگہبان پڑھتے ہیں، مگر وہ باری باری آگے پیچھے آئے، اس طرح کہ پہلے ایک گروہ ( نماز کے لیے آپ کے ساتھ ) کھڑا ہوا حالانکہ وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ کے ساتھ ان میں سے ایک گروہ نے سجدہ کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، پھر آپ نے رکوع کیا، اور سبھی لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا، تو آپ کے ساتھ ان لوگوں نے سجدہ کیا جو آپ کے ساتھ پہلی بار کھڑے تھے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ لوگ جنہوں نے آپ کے ساتھ آخر میں سجدہ کیا تھا بیٹھے تو جو لوگ کھڑے تھے ( اور سجدہ نہیں کیا تھا ) انہوں نے خود سے سجدہ کیا، پھر وہ لوگ بیٹھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے ساتھ سلام پھیرا۔
اخبرنا عبيد الله بن سعد بن ابراهيم، قال حدثنا عمي، قال حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، قال حدثني داود بن الحصين، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال ما كانت صلاة الخوف الا سجدتين كصلاة احراسكم هولاء اليوم خلف ايمتكم هولاء الا انها كانت عقبا قامت طايفة منهم وهم جميعا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وسجدت معه طايفة منهم ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم وقاموا معه جميعا ثم ركع وركعوا معه جميعا ثم سجد فسجد معه الذين كانوا قياما اول مرة فلما جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم والذين سجدوا معه في اخر صلاتهم سجد الذين كانوا قياما لانفسهم ثم جلسوا فجمعهم رسول الله صلى الله عليه وسلم بالتسليم
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خوف کی نماز پڑھائی، تو ایک صف آپ کے پیچھے بنی اور ایک صف دشمن کے بالمقابل بنی، پھر آپ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ چلے گئے، اور دوسری صف والے آئے تو آپ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی، پھر لوگ کھڑے ہوئے، اور انہوں نے اپنی ایک ایک رکعت پوری کی۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا شعبة، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن صالح بن خوات، عن سهل بن ابي حثمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى بهم صلاة الخوف فصف صفا خلفه وصفا مصافو العدو فصلى بهم ركعة ثم ذهب هولاء وجاء اوليك فصلى بهم ركعة ثم قاموا فقضوا ركعة ركعة
صالح بن خوات اس شخص سے روایت کرتے ہیں کہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع کے دن خوف کی نماز پڑھی ( وہ بیان کرتے ہیں ) کہ ایک گروہ نے آپ کے ساتھ صف بنائی، اور دوسرا گروہ دشمن کے بالمقابل رہا، آپ نے ان لوگوں کو جو آپ کے ساتھ تھے ایک رکعت پڑھائی، پھر آپ کھڑے رہے، اور ان لوگوں نے خود سے دوسری رکعت پوری کی، پھر وہ لوگ لوٹ کر آئے، اور دشمن کے سامنے صف بستہ ہو گئے، اور دوسرا گروہ آیا تو آپ نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی جو آپ کی نماز سے باقی رہ گئی تھی، پھر آپ بیٹھے رہے، اور ان لوگوں نے اپنی دوسری رکعت خود سے پوری کی، پھر آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن يزيد بن رومان، عن صالح بن خوات، عمن صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم ذات الرقاع صلاة الخوف ان طايفة صفت معه وطايفة وجاه العدو فصلى بالذين معه ركعة ثم ثبت قايما واتموا لانفسهم ثم انصرفوا فصفوا وجاه العدو وجاءت الطايفة الاخرى فصلى بهم الركعة التي بقيت من صلاته ثم ثبت جالسا واتموا لانفسهم ثم سلم بهم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گروہوں میں سے ایک گروہ کو ایک رکعت نماز پڑھائی، اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلہ میں رہا، پھر یہ لوگ جا کر ان لوگوں کی جگہ پر کھڑے ہو گئے، اور وہ لوگ ان لوگوں کی جگہ پر آ گئے، تو آپ نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے اپنی باقی ایک رکعت پوری کی ( اور اسی طرح ) وہ لوگ بھی کھڑے ہوئے، اور ان لوگوں نے بھی اپنی رکعت پوری کی۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، عن يزيد بن زريع، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى باحدى الطايفتين ركعة والطايفة الاخرى مواجهة العدو ثم انطلقوا فقاموا في مقام اوليك وجاء اوليك فصلى بهم ركعة اخرى ثم سلم عليهم فقام هولاء فقضوا ركعتهم وقام هولاء فقضوا ركعتهم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف غزوہ کیا، تو ہم دشمن کے مقابل میں کھڑے ہوئے اور ہم نے صف بندی کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے کھڑے ہوئے، تو ہم میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہو گیا، اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلہ میں ڈٹا رہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھ والوں نے ایک رکوع اور دو سجدے کیے، پھر یہ لوگ جا کر ان لوگوں کی جگہ پر ڈٹ گئے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی تھی، اور اس گروہ والے ( آپ کے پیچھے ) آئے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی تھی، تو آپ نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے کرائے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو مسلمانوں میں سے ہر آدمی کھڑا ہو گیا، اور اس نے خود سے ایک رکوع اور دو سجدے کیے۔
اخبرني كثير بن عبيد، عن بقية، عن شعيب، قال حدثني الزهري، قال حدثني سالم بن عبد الله، عن ابيه، قال غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل نجد فوازينا العدو وصاففناهم فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بنا فقامت طايفة منا معه واقبل طايفة على العدو فركع رسول الله صلى الله عليه وسلم ومن معه ركعة وسجد سجدتين ثم انصرفوا فكانوا مكان اوليك الذين لم يصلوا وجاءت الطايفة التي لم تصل فركع بهم ركعة وسجدتين ثم سلم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام كل رجل من المسلمين فركع لنفسه ركعة وسجدتين
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم بیان کرتے تھے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خوف کی نماز پڑھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا، اور ہم میں سے ایک گروہ نے آپ کے پیچھے صف بنائی، اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکوع اور دو سجدے کرائے، پھر یہ لوگ پلٹے اور دشمن کے مقابلہ میں آ گئے، اور دوسرا گروہ آیا تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، تو آپ نے ( اس کے ساتھ بھی ) اسی طرح کیا، پھر آپ نے سلام پھیرا، پھر دونوں گروہوں میں سے ہر آدمی کھڑا ہوا، اور اس نے خود سے ایک رکوع اور دو سجدے کیے۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الرحيم البرقي، عن عبد الله بن يوسف، قال انبانا سعيد بن عبد العزيز، عن الزهري، قال كان عبد الله بن عمر يحدث انه صلى صلاة الخوف مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قال كبر النبي صلى الله عليه وسلم وصف خلفه طايفة منا واقبلت طايفة على العدو فركع بهم النبي صلى الله عليه وسلم ركعة وسجدتين ثم انصرفوا واقبلوا على العدو وجاءت الطايفة الاخرى فصلوا مع النبي صلى الله عليه وسلم ففعل مثل ذلك ثم سلم ثم قام كل رجل من الطايفتين فصلى لنفسه ركعة وسجدتين
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی نماز پڑھائی، تو آپ کھڑے ہوئے، اور اللہ اکبر کہا، تو آپ کے پیچھے ہم میں سے ایک گروہ نے نماز پڑھی، اور ایک گروہ دشمن کے سامنے رہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر وہ لوگ پلٹے حالانکہ انہوں نے ابھی سلام نہیں پھیرا تھا، اور دشمن کے بالمقابل آ گئے، اور ان کی جگہ صف بستہ ہو گئے، اور دوسرا گروہ آیا، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بستہ ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، اس حال میں کہ آپ نے دو رکوع اور چار سجدے مکمل کر لیے تھے، پھر دونوں گروہ کھڑے ہوئے، اور ان میں سے ہر شخص نے خود سے ایک رکوع اور دو سجدے کیے۔ ابوبکر بن السنی کہتے ہیں: زہری نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے دو حدیثیں سنی ہیں، لیکن یہ حدیث انہوں نے ان سے نہیں سنی ہے ۱؎۔
اخبرني عمران بن بكار، قال حدثنا محمد بن المبارك، قال انبانا الهيثم بن حميد، عن العلاء، وابي، ايوب عن الزهري، عن عبد الله بن عمر، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف قام فكبر فصلى خلفه طايفة منا وطايفة مواجهة العدو فركع بهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعة وسجد سجدتين ثم انصرفوا ولم يسلموا واقبلوا على العدو فصفوا مكانهم وجاءت الطايفة الاخرى فصفوا خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى بهم ركعة وسجدتين ثم سلم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد اتم ركعتين واربع سجدات ثم قامت الطايفتان فصلى كل انسان منهم لنفسه ركعة وسجدتين . قال ابو بكر بن السني الزهري سمع من ابن عمر حديثين ولم يسمع هذا منه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض غزوات میں خوف کی نماز پڑھی، تو ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوا، اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلہ میں رہا، تو جو لوگ آپ کے ساتھ تھے انہیں آپ نے ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ چلے گئے، اور دوسرے لوگ آ گئے تو آپ نے انہیں ( بھی ) ایک رکعت پڑھائی، پھر دونوں گروہوں نے ایک ایک رکعت پوری کی۔
اخبرنا عبد الاعلى بن واصل بن عبد الاعلى، قال حدثنا يحيى بن ادم، عن سفيان، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف في بعض ايامه فقامت طايفة معه وطايفة بازاء العدو فصلى بالذين معه ركعة ثم ذهبوا وجاء الاخرون فصلى بهم ركعة ثم قضت الطايفتان ركعة ركعة
مروان بن حکم سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خوف کی نماز پڑھی ہے؟ تو ابوہریرہ نے کہا: ہاں پڑھی ہے، انہوں نے پوچھا: کب؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نجد کے غزوہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوا، اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابل رہا، اور ان کی پیٹھ قبلہ کی طرف تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا، تو جو آپ کے ساتھ تھے اور جو دشمن کا مقابلہ کر رہے تھے سبھوں نے اللہ اکبر کہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکوع کیا، اور اس گروہ نے بھی جو آپ کے ساتھ تھا رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور اس گروہ نے بھی سجدہ کیا جو آپ کے ساتھ تھا، اور دوسرے لوگ دشمن کے مقابل کھڑے رہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور وہ گروہ جو آپ کے ساتھ تھا، پھر یہ لوگ جا کر دشمن کے بالمقابل کھڑے ہو گئے، پھر وہ گروہ جو دشمن کے بالمقابل تھا آیا، چنانچہ ان لوگوں نے ( بھی ) رکوع کیا، اور سجدہ کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے جیسے تھے، پھر وہ لوگ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا رکوع کیا، تو ان لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ رکوع کیا، آپ نے سجدہ کیا، اور ان لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا، پھر وہ گروہ آیا جو دشمن کے مقابل میں کھڑا تھا، تو اس نے بھی رکوع اور سجدہ کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ تھے بیٹھے ہوئے تھے، پھر سلام پھیرنے ( کا وقت آیا ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، اور تمام لوگوں نے سلام پھیرا، تو اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعت ہوئی، اور دونوں گروہوں کے ہر ہر فرد کی ( بھی ) دو دو رکعت ہوئی۔
اخبرني عبيد الله بن فضالة بن ابراهيم، قال انبانا عبد الله بن يزيد المقري، ح وانبانا محمد بن عبد الله بن يزيد، قال حدثنا ابي قال، حدثنا حيوة، وذكر، اخر قالا حدثنا ابو الاسود، انه سمع عروة بن الزبير، يحدث عن مروان بن الحكم، انه سال ابا هريرة هل صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف فقال ابو هريرة نعم . قال متى قال عام غزوة نجد قام رسول الله صلى الله عليه وسلم لصلاة العصر وقامت معه طايفة وطايفة اخرى مقابل العدو وظهورهم الى القبلة فكبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فكبروا جميعا الذين معه والذين يقابلون العدو ثم ركع رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعة واحدة وركعت معه الطايفة التي تليه ثم سجد وسجدت الطايفة التي تليه والاخرون قيام مقابل العدو ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم وقامت الطايفة التي معه فذهبوا الى العدو فقابلوهم واقبلت الطايفة التي كانت مقابل العدو فركعوا وسجدوا ورسول الله صلى الله عليه وسلم قايم كما هو ثم قاموا فركع رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعة اخرى وركعوا معه وسجد وسجدوا معه ثم اقبلت الطايفة التي كانت مقابل العدو فركعوا وسجدوا ورسول الله صلى الله عليه وسلم قاعد ومن معه ثم كان السلام فسلم رسول الله صلى الله عليه وسلم وسلموا جميعا فكان لرسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتان ولكل رجل من الطايفتين ركعتان ركعتان
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضجنان اور عسفان کے درمیان اترے آپ مشرکین کا محاصرہ کئے ہوئے تھے، مشرکین نے ( آپس میں ) کہا: ان لوگوں کی ایک ایسی نماز ہے جو انہیں اپنی اولاد اور اپنی بیویوں سے بھی زیادہ محبوب ہے، تو ایسا کرو تم سب تیار رہو ( جب یہ نماز پڑھنے لگیں ) تو یکبارگی ان پر پل پڑو، تو جبرائیل علیہ السلام ( آپ کے پاس ) آئے، اور انہوں نے آپ کو حکم دیا کہ آپ صحابہ کو دو حصوں میں بانٹ دیں، ان میں سے ایک گروہ کو آپ نماز پڑھائیں، اور ایک گروہ دشمن کے مقابل اپنے بچاؤ کی چیز اور اپنے ہتھیار لے کر کھڑا رہے، آپ انہیں ایک رکعت پڑھائیں، پھر یہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں، اور وہ لوگ آگے آ جائیں جو دشمن کے مقابل ہوں، تو پھر آپ انہیں ایک رکعت پڑھائیں، تو لوگوں کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہو گی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوں گی۔
اخبرنا العباس بن عبد العظيم، قال حدثني عبد الصمد بن عبد الوارث، قال حدثني سعيد بن عبيد الهنايي، قال حدثنا عبد الله بن شقيق، قال حدثنا ابو هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم نازلا بين ضجنان وعسفان محاصر المشركين فقال المشركون ان لهولاء صلاة هي احب اليهم من ابنايهم وابكارهم اجمعوا امركم ثم ميلوا عليهم ميلة واحدة فجاء جبريل عليه السلام فامره ان يقسم اصحابه نصفين فيصلي بطايفة منهم وطايفة مقبلون على عدوهم قد اخذوا حذرهم واسلحتهم فيصلي بهم ركعة ثم يتاخر هولاء ويتقدم اوليك فيصلي بهم ركعة تكون لهم مع النبي صلى الله عليه وسلم ركعة ركعة وللنبي صلى الله عليه وسلم ركعتان
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خوف کی نماز پڑھائی، تو ایک صف آپ کے آگے کھڑی ہوئی، اور ایک صف آپ کے پیچھے، آپ نے ان لوگوں کے ساتھ جو آپ کے پیچھے تھے ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر یہ لوگ آگے چلے گئے یہاں تک کہ جا کر اپنے ساتھیوں کی جگہ میں کھڑے ہو گئے، اور وہ لوگ آ کر ان لوگوں کی جگہ کھڑے ہو گئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ( بھی ) ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر آپ نے سلام پھیرا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں، اور لوگوں کی ایک ایک۔
اخبرنا ابراهيم بن الحسن، عن حجاج بن محمد، عن شعبة، عن الحكم، عن يزيد الفقير، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى بهم صلاة الخوف فقام صف بين يديه وصف خلفه صلى بالذين خلفه ركعة وسجدتين ثم تقدم هولاء حتى قاموا في مقام اصحابهم وجاء اوليك فقاموا مقام هولاء وصلى بهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعة وسجدتين ثم سلم فكانت للنبي صلى الله عليه وسلم ركعتان ولهم ركعة
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم ( ایک غزوہ میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ( نماز کا وقت ہوا ) تو نماز کھڑی کی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور آپ کے پیچھے ایک گروہ کھڑا ہوا، اور ایک گروہ دشمن کے مقابل کھڑا رہا، آپ نے ان لوگوں کے ساتھ جو آپ کے پیچھے تھے ایک رکوع اور دو سجدے کیے، پھر وہ چلے گئے، اور ان لوگوں کی جگہ آ کر کھڑے ہو گئے جو دشمن کے بالمقابل تھے، اور وہ گروہ آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ بھی ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، تو آپ کے پیچھے والوں نے بھی سلام پھیرا، اور ان لوگوں نے بھی۔
اخبرنا احمد بن المقدام، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي، قال انباني يزيد الفقير، انه سمع جابر بن عبد الله، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فاقيمت الصلاة فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم وقامت خلفه طايفة وطايفة مواجهة العدو فصلى بالذين خلفه ركعة وسجد بهم سجدتين ثم انهم انطلقوا فقاموا مقام اوليك الذين كانوا في وجه العدو وجاءت تلك الطايفة فصلى بهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعة وسجد بهم سجدتين ثم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سلم فسلم الذين خلفه وسلم اوليك
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خوف کی نماز میں موجود تھے، ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، اور ہم نے دو صفیں کیں، اور دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہی، اور ہم نے بھی کہی، آپ نے رکوع کیا ہم نے بھی رکوع کیا، آپ ( رکوع سے ) اٹھے اور ہم بھی اٹھے، پھر جب آپ سجدے کے لیے جھکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ان لوگوں نے جو آپ کے قریب ( یعنی پہلی صف میں ) تھے سجدہ کیا، اور دوسری صف اس وقت تک کھڑی رہی جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ والی صف نے سر اٹھایا، پھر دوسری صف نے جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا، اپنی جگہوں پر سجدہ کیا، پھر جو صف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تھی پیچھے ہٹ گئی، اور پیچھے والی صف آگے آ گئی، اور آ کر ان کی جگہوں میں کھڑی ہو گئی، اور یہ لوگ پچھلے والوں کی جگہوں میں جا کر کھڑے ہو گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، اور ہم نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا اور ہم نے بھی اٹھایا، پھر جب آپ سجدے کے لیے جھکے تو ان لوگوں نے سجدہ کیا جو آپ سے قریب تھے، اور دوسرے کھڑے رہے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ان لوگوں نے جو آپ سے قریب تھے ( سجدے سے سر ) اٹھایا تو دوسروں نے سجدہ کیا، پھر آپ نے سلام پھیرا۔
اخبرنا علي بن الحسين الدرهمي، واسماعيل بن مسعود، قالا حدثنا خالد، قال حدثنا عبد الملك بن ابي سليمان، عن عطاء، عن جابر، قال شهدنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف فقمنا خلفه صفين والعدو بيننا وبين القبلة فكبر رسول الله صلى الله عليه وسلم وكبرنا وركع وركعنا ورفع ورفعنا فلما انحدر للسجود سجد رسول الله صلى الله عليه وسلم والذين يلونه وقام الصف الثاني حين رفع رسول الله صلى الله عليه وسلم والصف الذين يلونه ثم سجد الصف الثاني حين رفع رسول الله صلى الله عليه وسلم في امكنتهم ثم تاخر الصف الذين كانوا يلون النبي صلى الله عليه وسلم وتقدم الصف الاخر فقام في مقامهم وقام هولاء في مقام الاخرين قياما وركع النبي صلى الله عليه وسلم وركعنا ثم رفع ورفعنا فلما انحدر للسجود سجد الذين يلونه والاخرون قيام فلما رفع رسول الله صلى الله عليه وسلم والذين يلونه سجد الاخرون ثم سلم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ کھجور کے باغات میں تھے، اور دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی، تو سبھوں نے تکبیر تحریمہ کہی، پھر آپ نے رکوع کیا، تو سبھوں نے رکوع کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اس صف نے جو آپ سے قریب تھی سجدہ کیا، اور دوسرے لوگ کھڑے ان کی حفاظت کرتے رہے، پھر جب وہ کھڑے ہو گئے تو دوسروں نے بھی اپنی جگہوں پر جہاں وہ تھے سجدہ کیا، پھر وہ لوگ ان لوگوں کی جگہ پر آگے آ گئے ۱؎ پھر آپ نے رکوع کیا، تو سبھوں نے ایک ساتھ رکوع کیا، پھر آپ نے ( رکوع سے سر ) اٹھایا تو سبھوں نے سر اٹھایا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، اور اس صف نے جو آپ سے قریب تھی، اور دوسرے لوگ کھڑے ان کی پہریداری کرتے رہے، پھر جب وہ لوگ سجدہ کر چکے اور ( سجدہ کے بعد ) بیٹھ گئے، تو دوسروں نے بھی اپنی جگہوں میں سجدہ کیا، پھر آپ نے سلام پھیرا، جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس طرح تمہارے امراء کرتے ہیں، ( یعنی سلام پھیرتے ہیں ) ۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن ابي الزبير، عن جابر، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بنخل والعدو بيننا وبين القبلة فكبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فكبروا جميعا ثم ركع فركعوا جميعا ثم سجد النبي صلى الله عليه وسلم والصف الذي يليه والاخرون قيام يحرسونهم فلما قاموا سجد الاخرون مكانهم الذين كانوا فيه ثم تقدم هولاء الى مصاف هولاء فركع فركعوا جميعا ثم رفع فرفعوا جميعا ثم سجد النبي صلى الله عليه وسلم والصف الذين يلونه والاخرون قيام يحرسونهم فلما سجدوا وجلسوا سجد الاخرون مكانهم ثم سلم . قال جابر كما يفعل امراوكم