Loading...

Loading...
کتب
۲۵ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! چوپائے ہلاک ہو گئے، ( اور پانی نہ ہونے سے ) راستے ( سفر ) ٹھپ ہو گئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، تو جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک ہم پر بارش ہوتی رہی، تو پھر ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گھر منہدم ہو گئے، راستے ( سیلاب کی وجہ سے ) کٹ گئے، اور جانور مر گئے، تو آپ نے دعا کی: «اللہم على رءوس الجبال والآكام وبطون الأودية ومنابت الشجر» اے اللہ! پہاڑوں کی چوٹیوں، ٹیلوں، نالوں اور درختوں پر برسا تو اسی وقت بادل مدینہ سے اس طرح چھٹ گئے جیسے کپڑا ( اپنے پہننے والے سے اتار دینے پر الگ ہو جاتا ہے ) ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن شريك بن عبد الله بن ابي نمر، عن انس بن مالك، قال جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله هلكت المواشي وانقطعت السبل فادع الله عز وجل . فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم فمطرنا من الجمعة الى الجمعة فجاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله تهدمت البيوت وانقطعت السبل وهلكت المواشي . فقال " اللهم على رءوس الجبال والاكام وبطون الاودية ومنابت الشجر " . فانجابت عن المدينة انجياب الثوب
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ (جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کی نماز پڑھنے کے لیے عید گاہ کی طرف نکلے۔ تو آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا، اور اپنی چادر پلٹی، اور دو رکعت نماز پڑھی۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ ابن عیینہ کی غلطی ہے ۱؎ عبداللہ بن زید جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی وہ عبداللہ بن زید بن عبد ربہ ہیں، اور یہ جو استسقا کی حدیث روایت کر رہے ہیں عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی ہیں۔
اخبرني محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا المسعودي، عن ابي بكر بن عمرو بن حزم، عن عباد بن تميم، - قال سفيان فسالت عبد الله بن ابي بكر فقال سمعته من، عباد بن تميم يحدث ابي - ان عبد الله بن زيد الذي، اري النداء قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج الى المصلى يستسقي فاستقبل القبلة وقلب رداءه وصلى ركعتين . قال ابو عبد الرحمن هذا غلط من ابن عيينة وعبد الله بن زيد الذي اري النداء هو عبد الله بن زيد بن عبد ربه وهذا عبد الله بن زيد بن عاصم
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ فلاں نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز استسقاء کے بارے میں پوچھوں۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( استسقاء کی نماز کے لیے ) عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہوئے پھٹے پرانے کپڑے میں نکلے، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ۱؎ آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، ومحمد بن المثنى، عن عبد الرحمن، عن سفيان، عن هشام بن اسحاق بن عبد الله بن كنانة، عن ابيه، قال ارسلني فلان الى ابن عباس اساله عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم في الاستسقاء فقال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم متضرعا متواضعا متبذلا فلم يخطب نحو خطبتكم هذه فصلى ركعتين
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استسقاء کی نماز پڑھی، اور آپ کے جسم مبارک پر ایک سیاہ چادر تھی۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا عبد العزيز، عن عمارة بن غزية، عن عباد بن تميم، عن عبد الله بن زيد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم استسقى وعليه خميصة سوداء
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استسقاء کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھٹے پرانے کپڑوں میں عاجزی اور گریہ وزاری کا اظہار کرتے ہوئے نکلے، اور منبر پر بیٹھے، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا، بلکہ آپ برابر دعا اور عاجزی کرتے رہے، اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے میں لگے رہے، اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی جیسے آپ عیدین میں پڑھتے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبيد بن محمد، قال حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن هشام بن اسحاق بن عبد الله بن كنانة، عن ابيه، قال سالت ابن عباس عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم في الاستسقاء فقال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم متبذلا متواضعا متضرعا فجلس على المنبر فلم يخطب خطبتكم هذه ولكن لم يزل في الدعاء والتضرع والتكبير وصلى ركعتين كما كان يصلي في العيدين
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استسقاء کی نماز کے لیے نکلے تو آپ نے اپنی چادر پلٹی، اور لوگوں کی جانب اپنی پیٹھ پھیری، اور دعا کی، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور قرآت کی تو بلند آواز سے قرآت کی۔
اخبرني عمرو بن عثمان، قال حدثنا الوليد، عن ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن عباد بن تميم، ان عمه، حدثه انه، خرج مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يستسقي فحول رداءه وحول للناس ظهره ودعا ثم صلى ركعتين فقرا فجهر
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے لیے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور اپنی چادر پلٹی۔
اخبرنا قتيبة، عن سفيان، عن عبد الله بن ابي بكر، عن عباد بن تميم، عن عمه، ان النبي صلى الله عليه وسلم استسقى وصلى ركعتين وقلب رداءه
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( جائے نماز کی طرف ) نکلے، تو آپ نے استسقاء کی نماز پڑھی، اور جس وقت آپ قبلہ رخ ہوئے اپنی چادر پلٹی۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن عبد الله بن ابي بكر، انه سمع عباد بن تميم، يقول سمعت عبد الله بن زيد، يقول خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستسقى وحول رداءه حين استقبل القبلة
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو استسقاء میں دیکھا کہ آپ قبلہ رخ ہوئے، آپ نے اپنی چادر پلٹی، اور ( دعا مانگنے کے لیے ) اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔
اخبرنا هشام بن عبد الملك ابو تقي الحمصي، قال حدثنا بقية، عن شعيب، عن الزهري، عن عباد بن تميم، عن عمه، انه راى رسول الله صلى الله عليه وسلم في الاستسقاء استقبل القبلة وقلب الرداء ورفع يديه
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے استسقاء کے اپنے دونوں ہاتھ کسی دعا میں نہیں اٹھاتے تھے، آپ اس میں اپنے دونوں ہاتھ اتنا بلند کرتے کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی۔
اخبرني شعيب بن يوسف، عن يحيى بن سعيد القطان، عن سعيد، عن قتادة، عن انس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يرفع يديه في شىء من الدعاء الا في الاستسقاء فانه كان يرفع يديه حتى يرى بياض ابطيه
آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احجار الزیت کے پاس دیکھا کہ آپ بارش کے لیے دعا کر رہے تھے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اٹھائے دعا کر رہے تھے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن ابي هلال، عن يزيد بن عبد الله، عن عمير، مولى ابي اللحم عن ابي اللحم، انه راى رسول الله صلى الله عليه وسلم عند احجار الزيت يستسقي وهو مقنع بكفيه يدعو
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ جمعہ کے روز مسجد میں تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! راستے ( سفر ) ٹھپ ہو گئے، جانور ہلاک ہو گئے، اور علاقے خشک سالی کا شکار ہو گئے، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے کے بالمقابل اٹھایا، پھر آپ نے دعا کی: «اللہم اسقنا» اے اللہ! ہمیں سیراب کر تو قسم اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی منبر سے اترے بھی نہ تھے کہ زور دار بارش ہونے لگی، اور اس دن سے دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ چنانچہ پھر ایک آدمی کھڑا ہوا ( مجھے یاد نہیں کہ یہ وہی شخص تھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش کے لیے دعا کرنے کے لیے کہا تھا یا کوئی دوسرا شخص تھا ) اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پانی کی زیادتی کی وجہ سے راستے بند ہو گئے ہیں، اور جانور ہلاک ہو گئے ہیں، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ( اب ) ہم سے بارش روک لے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللہم حوالينا ولا علينا ولكن على الجبال ومنابت الشجر» اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا، ہم پر نہ برسا، اور پہاڑوں پر اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! آپ کا یہ کہنا ہی تھا کہ بادل پھٹ پھٹ کر ( آسمان صاف ہو گیا ) یہاں تک کہ ہمیں اس میں سے کچھ نہیں دکھائی دے رہا تھا۔
اخبرنا عيسى بن حماد، قال حدثنا الليث، عن سعيد، - وهو المقبري - عن شريك بن عبد الله بن ابي نمر، عن انس بن مالك، انه سمعه يقول بينا نحن في المسجد يوم الجمعة ورسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب الناس فقام رجل فقال يا رسول الله تقطعت السبل وهلكت الاموال واجدب البلاد فادع الله ان يسقينا . فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه حذاء وجهه فقال " اللهم اسقنا " . فوالله ما نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المنبر حتى اوسعنا مطرا وامطرنا ذلك اليوم الى الجمعة الاخرى فقام رجل - لا ادري هو الذي قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم استسق لنا ام لا - فقال يا رسول الله انقطعت السبل وهلكت الاموال من كثرة الماء فادع الله ان يمسك عنا الماء . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم حوالينا ولا علينا ولكن على الجبال ومنابت الشجر " . قال والله ما هو الا ان تكلم رسول الله صلى الله عليه وسلم بذلك تمزق السحاب حتى ما نرى منه شييا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللہم اسقنا» اے اللہ! ہمیں سیراب فرما ۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثني ابو هشام المغيرة بن سلمة، قال حدثني وهيب، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اللهم اسقنا
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ کچھ لوگ آپ کی طرف اٹھ کر بڑھے، اور چلا کر کہنے لگے: اللہ کے نبی! بارش نہیں ہو رہی ہے، اور جانور ہلاک ہو رہے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے۔ تو آپ نے دعا کی: «اللہم اسقنا اللہم اسقنا» اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، اے اللہ ہمیں سیراب فرما ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! اس وقت ہم کو آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نظر نہیں آ رہا تھا ( مگر آپ کے دعا کرتے ہی ) بدلی اٹھی، اور پھیل گئی، پھر برسنے لگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، اور آپ نے نماز پڑھی، اور لوگ فارغ ہو کر پلٹے تو دوسرے جمعہ تک برابر بارش ہوتی رہی۔ تو دوسرے جمعہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگے، تو لوگ پھر چلا کر کہنے لگے: اللہ کے نبی! گھر گر گئے، راستے ٹھپ ہو گئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ اب اسے ہم سے روک لے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، اور آپ نے دعا فرمائی: «اللہم حوالينا ولا علينا» اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا ہم پر نہ برسا تو بادل مدینہ سے چھٹ گئے، اور اس کے اطراف میں برسنے لگے، اور مدینہ میں ایک بوند بارش کی نہیں پڑ رہی تھی۔ میں نے مدینہ کو دیکھا کہ وہ ایسا لگ رہا تھا گویا وہ تاج پہنے ہوئے ہے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا المعتمر، قال سمعت عبيد الله بن عمر، - وهو العمري - عن ثابت، عن انس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يخطب يوم الجمعة فقام اليه الناس فصاحوا فقالوا يا نبي الله قحطت المطر وهلكت البهايم فادع الله ان يسقينا . قال " اللهم اسقنا اللهم اسقنا " . قال وايم الله ما نرى في السماء قزعة من سحاب - قال - فانشات سحابة فانتشرت ثم انها امطرت ونزل رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى وانصرف الناس فلم تزل تمطر الى يوم الجمعة الاخرى فلما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب صاحوا اليه فقالوا يا نبي الله تهدمت البيوت وتقطعت السبل فادع الله ان يحبسها عنا . فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " اللهم حوالينا ولا علينا " . فتقشعت عن المدينة فجعلت تمطر حولها وما تمطر بالمدينة قطرة فنظرت الى المدينة وانها لفي مثل الاكليل
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کر کے کھڑا ہو گیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! مال ( جانور ) ہلاک ہو گئے، اور راستے بند ہو گئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، اور دعا کی: «اللہم أغثنا اللہم أغثنا» اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، اے اللہ ہمیں سیراب فرما ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! ہم کو آسمان میں کہیں بادل یا بادل کا کوئی ٹکڑا دکھائی نہیں دے رہا تھا، اور ہمارے اور سلع پہاڑی کے بیچ کسی گھر یا مکان کی آڑ نہ تھی، اتنے میں ڈھال کے مانند بادل کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا، پھر جب وہ آسمان کے درمیان میں پہنچا تو پھیل گیا، اور برسنے لگا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! ہم نے ایک ہفتہ تک سورج نہیں دیکھا۔ پھر اگلے جمعہ میں اسی دروازے سے ایک آدمی داخل ہوا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے، تو وہ آپ کی طرف چہرہ کر کے کھڑا ہو گیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کا سلام و صلاۃ ( درود و رحمت ) ہو آپ پر! مال ہلاک ہو گئے ( جانور مر گئے ) ، اور راستے بند ہو گئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہم سے اسے روک لے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے، اور دعا کی: «اللہم حوالينا ولا علينا اللہم على الآكام والظراب وبطون الأودية ومنابت الشجر» اے اللہ! ہمارے اردگرد برسا، ہم پر نہ برسا، اے اللہ! ٹیلوں، چوٹیوں، گھاٹیوں اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا یہ کہنا تھا کہ بادل چھٹ گئے، اور ہم نکل کر دھوپ میں چل رہے تھے۔ شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا یہ وہی پہلا شخص تھا، تو انہوں نے کہا: نہیں ۱؎۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل بن جعفر، قال حدثنا شريك بن عبد الله، عن انس بن مالك، ان رجلا، دخل المسجد ورسول الله صلى الله عليه وسلم قايم يخطب فاستقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم قايما وقال يا رسول الله هلكت الاموال وانقطعت السبل فادع الله ان يغيثنا . فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه ثم قال " اللهم اغثنا اللهم اغثنا " . قال انس ولا والله ما نرى في السماء من سحابة ولا قزعة وما بيننا وبين سلع من بيت ولا دار فطلعت سحابة مثل الترس فلما توسطت السماء انتشرت وامطرت . قال انس ولا والله ما راينا الشمس سبتا . قال ثم دخل رجل من ذلك الباب في الجمعة المقبلة ورسول الله صلى الله عليه وسلم قايم يخطب فاستقبله قايما فقال يا رسول الله صلى الله وسلم عليك هلكت الاموال وانقطعت السبل فادع الله ان يمسكها عنا . فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه فقال " اللهم حوالينا ولا علينا اللهم على الاكام والظراب وبطون الاودية ومنابت الشجر " . قال فاقلعت وخرجنا نمشي في الشمس . قال شريك سالت انسا اهو الرجل الاول قال لا
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کی غرض سے نکلے، تو آپ نے لوگوں کی جانب اپنی پیٹھ پھیری، اور قبلہ رخ کھڑے ہو کر اللہ سے دعا کی، اور اپنی چادر الٹی، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ ابن ابی ذئب کہتے ہیں: حدیث میں یہ بھی ہے: «وقرأ فيهما» اور ان دونوں میں قرأت کی ۔
قال الحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن وهب، عن ابن ابي ذيب، ويونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني عباد بن تميم، انه سمع عمه، وكان، من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما يستسقي فحول الى الناس ظهره يدعو الله ويستقبل القبلة وحول رداءه ثم صلى ركعتين . قال ابن ابي ذيب في الحديث وقرا فيهما
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرنے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور قبلہ کی طرف منہ کیا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن يحيى، عن ابي بكر بن محمد، عن عباد بن تميم، عن عبد الله بن زيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج يستسقي فصلى ركعتين واستقبل القبلة
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ امراء میں سے ایک امیر نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بھیجا کہ میں ان سے استسقاء کے بارے میں پوچھوں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہم نے کہا: وہ مجھ سے خود کیوں نہیں پوچھتے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاجزی و انکساری کے ساتھ پھٹے پرانے کپڑوں میں گریہ وزاری کرتے ہوئے نکلے، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اسی طرح جیسی آپ عیدین میں پڑھتے تھے، اور آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ۱؎۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا سفيان، عن هشام بن اسحاق بن عبد الله بن كنانة، عن ابيه، قال ارسلني امير من الامراء الى ابن عباس اساله عن الاستسقاء، فقال ابن عباس ما منعه ان يسالني، خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم متواضعا متبذلا متخشعا متضرعا فصلى ركعتين كما يصلي في العيدين ولم يخطب خطبتكم هذه
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے لیے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، ان میں آپ نے بلند آواز سے قرآت کی۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا سفيان، عن ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن عباد بن تميم، عن عمه، ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج فاستسقى فصلى ركعتين جهر فيهما بالقراءة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش ہوتی تو کہتے: «اللہم اجعله صيبا نافعا» اے اللہ! خوب برسا اور اسے فائدہ مند بنا ۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن مسعر، عن المقدام بن شريح، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا امطر قال " اللهم اجعله صيبا نافعا