Loading...

Loading...
کتب
۱۵۰ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تلاوت قرآن کے سجدوں میں کہتے: «سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته» میرے چہرہ نے سجدہ کیا اس ذات کے لیے جس نے اسے پیدا کیا، اور اس کے کان اور اس کی آنکھیں اپنی قوت و طاقت سے بنائیں ۔
اخبرنا سوار بن عبد الله بن سوار القاضي، ومحمد بن بشار، عن عبد الوهاب، قال حدثنا خالد، عن ابي العالية، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول في سجود القران بالليل " سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( بستر پر ) موجود نہیں پایا، تو دیکھا کہ آپ سجدے کی حالت میں ہیں، اور آپ کے دونوں قدموں کے پنجے قبلہ رخ ہیں، تو میں نے آپ کو سجدہ میں کہتے سنا: «أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، میں پناہ مانگتا ہوں تیری معافی کی تیری سزا سے، اور میں پناہ مانگتا ہوں تیری تجھ سے، میں تیری حمد و ثنا کا حق نہیں ادا کر سکتا، تو ایسے ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف خود کی ہے ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن ابراهيم، عن عايشة، قالت فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فوجدته وهو ساجد وصدور قدميه نحو القبلة فسمعته يقول " اعوذ برضاك من سخطك واعوذ بمعافاتك من عقوبتك واعوذ بك منك لا احصي ثناء عليك انت كما اثنيت على نفسك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات ( بستر پر ) موجود نہیں پایا، تو میں نے گمان کیا کہ آپ اپنی کسی دوسری بیوی کے پاس چلے گئے ہیں، پھر میں نے آپ کو تلاش کیا تو اچانک کیا دیکھتی ہوں کہ آپ رکوع یا سجدہ کی حالت میں کہہ رہے ہیں: «سبحانك اللہم وبحمدك لا إله إلا أنت» اے اللہ! تو پاک ہے، میں تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتا ہوں، نہیں ہے کوئی معبود برحق مگر تو ہی ، تو وہ کہنے لگیں: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! میں کس خیال میں تھی اور آپ کس حال میں ہیں۔
اخبرنا ابراهيم بن الحسن المصيصي المقسمي، قال حدثنا حجاج، عن ابن جريج، عن عطاء، قال اخبرني ابن ابي مليكة، عن عايشة، قالت فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فظننت انه ذهب الى بعض نسايه فتحسسته فاذا هو راكع او ساجد يقول " سبحانك اللهم وبحمدك لا اله الا انت " . فقلت بابي انت وامي اني لفي شان وانك لفي اخر
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھا، پہلے آپ نے مسواک کی، پھر وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے، تو آپ نے سورۃ البقرہ شروع کی، آپ جب بھی کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے اس پر رحمت کا سوال کرتے، اور جب بھی عذاب کی کسی آیت سے گزرتے تو ٹھہرتے، اور اس کے عذاب سے اس کی پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع کیا، تو رکوع میں اپنے قیام کے بقدر ٹھہرے رہے، آپ اپنے رکوع میں کہہ رہے تھے: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» پھر آپ نے اپنے رکوع کے بقدر سجدہ کیا، اور اپنے سجدے میں آپ کہہ رہے تھے: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة»، پھر آپ نے دوسری رکعت میں سورۃ آل عمران پڑھی، پھر ایک اور سورۃ پڑھی، پھر ایک اور سورۃ پڑھی، آپ نے اسی طرح کیا۔
اخبرني هارون بن عبد الله، قال حدثنا الحسن بن سوار، قال حدثنا ليث بن سعد، عن معاوية بن صالح، عن عمرو بن قيس الكندي، انه سمع عاصم بن حميد، يقول سمعت عوف بن مالك، يقول قمت مع النبي صلى الله عليه وسلم فبدا فاستاك وتوضا ثم قام فصلى فبدا فاستفتح من البقرة لا يمر باية رحمة الا وقف وسال ولا يمر باية عذاب الا وقف يتعوذ ثم ركع فمكث راكعا بقدر قيامه يقول في ركوعه " سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة " . ثم سجد بقدر ركوعه يقول في سجوده " سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة " . ثم قرا ال عمران ثم سورة ثم سورة فعل مثل ذلك
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، تو آپ نے سورۃ البقرہ شروع کر دی، آپ نے سو آیتیں پڑھ لیں لیکن رکوع نہیں کیا، اور آگے بڑھ گئے، میں نے اپنے جی میں کہا: لگتا ہے کہ آپ اسے دونوں رکعتوں میں ختم کر دیں گے، لیکن آپ برابر آگے بڑھتے رہے، تو میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ اسے ختم کر کے ہی پھر رکوع کریں گے، لیکن آپ سورت ختم کر کے آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ پوری سورۃ نساء آپ نے پڑھ ڈالی، پھر سورۃ اٰل عمران بھی پڑھ ڈالی، پھر تقریباً اپنے قیام ہی کے برابر رکوع میں رہے، اپنے رکوع میں کہہ رہے تھے: «سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم» پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده ربنا لك الحمد» کہا، اور دیر تک کھڑے رہے، پھر آپ نے سجدہ کیا تو دیر تک سجدہ میں رہے، آپ سجدے میں کہہ رہے تھے: «سبحان ربي الأعلى سبحان ربي الأعلى سبحان ربي الأعلى» جب آپ کسی خوف کی یا اللہ تعالیٰ کی بڑائی کی آیت پر سے گزرتے، تو اللہ کا ذکر کرتے یعنی اس کی حمد و ثنا کرتے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن الاعمش، عن سعد بن عبيدة، عن المستورد بن الاحنف، عن صلة بن زفر، عن حذيفة، قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فاستفتح بسورة البقرة فقرا بماية اية لم يركع فمضى قلت يختمها في الركعتين فمضى قلت يختمها ثم يركع فمضى حتى قرا سورة النساء ثم قرا سورة ال عمران ثم ركع نحوا من قيامه يقول في ركوعه " سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم " . ثم رفع راسه فقال " سمع الله لمن حمده ربنا لك الحمد " . واطال القيام ثم سجد فاطال السجود يقول في سجوده " سبحان ربي الاعلى سبحان ربي الاعلى سبحان ربي الاعلى " . لا يمر باية تخويف او تعظيم لله عز وجل الا ذكره
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں «سبوح قدوس رب الملائكة والروح» تمام فرشتے اور جبرائیل کا رب ہر نقص و عیب سے پاک ہے کہتے۔
اخبرنا بندار، محمد بن بشار قال حدثنا يحيى بن سعيد القطان، وابن ابي عدي، عن شعبة، قالا حدثنا سعيد، عن قتادة، عن مطرف، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في ركوعه وسجوده " سبوح قدوس رب الملايكة والروح
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ نماز کسی کی نہیں دیکھی، تو ہم نے ان کے رکوع میں دس تسبیحوں کا، اور سجدے میں بھی دس تسبیحوں کا اندازہ لگایا۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا عبد الله بن ابراهيم بن عمر بن كيسان، قال حدثني ابي، عن وهب بن مانوس، قال سمعت سعيد بن جبير، قال سمعت انس بن مالك، يقول ما رايت احدا اشبه صلاة بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم من هذا الفتى - يعني عمر بن عبد العزيز - فحزرنا في ركوعه عشر تسبيحات وفي سجوده عشر تسبيحات
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے، اور ہم لوگ آپ کے اردگرد تھے، اتنے میں ایک شخص آیا اور وہ قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھنے لگا، جب وہ اپنی نماز پوری کر چکا تو آیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم پر بھی سلامتی ہو، جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، تو وہ گیا، اور اس نے جا کر پھر سے نماز پڑھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز کو کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے لیکن وہ یہ جان نہیں رہا تھا کہ اس میں وہ کیا غلطی کر رہا ہے؟ تو جب وہ اپنی نماز پوری کر چکا تو آیا، اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے فرمایا: تم پر بھی سلامتی ہو، جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، چنانچہ اس نے دو یا تین بار نماز دہرائی، پھر اس شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! میری نماز میں آپ نے کیا خامی پائی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کی نماز پوری نہیں ہوتی جب تک کہ وہ اچھی طرح وضو نہ کر لے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے کرنے کا حکم دیا ہے، وہ اپنا چہرہ دھوئے، اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے، اپنے سر کا مسح کرے، اور اپنے دونوں پیر ٹخنوں سمیت دھوئے، پھر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کرے ( یعنی تکبیر تحریمہ کہے ) اور اس کی حمد و ثناء اور بزرگی بیان کرے ( یعنی دعائے ثناء پڑھے ) ۔ ہمام کہتے ہیں: میں نے اسحاق کو «ويحمد اللہ ويمجده ويكبره» بھی کہتے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دونوں طرح سے انہیں کہتے سنا ہے۔ آگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور قرآن میں سے حسب توفیق اور مرضی الٰہی جو آسان ہو پڑھے، پھر اللہ اکبر کہے، اور رکوع کرے یہاں تک کہ اس کے تمام جوڑ اپنی جگہ آ جائیں، اور ڈھیلے پڑ جائیں، پھر «سمع اللہ لمن حمده» کہے، پھر سیدھا کھڑا ہو جائے یہاں تک اس کی پیٹھ برابر ہو جائے، پھر اللہ اکبر کہے، اور سجدہ کرے یہاں تک کہ وہ اپنا چہرہ زمین پر ٹکا دے ، ( میں نے اسحاق کو اپنی پیشانی بھی کہتے سنا ہے ) ، اور تمام جوڑ اپنی جگہ آ جائیں اور ڈھیلے پڑ جائیں، پھر اللہ اکبر کہے، اور اپنا سر اٹھائے یہاں تک کہ اپنی سرین پر سیدھا ہو کر بیٹھ جائے، اور اپنی پیٹھ سیدھی کر لے، پھر اللہ اکبر کہے، اور سجدہ کرے یہاں تک کہ وہ اپنا چہرہ زمین سے اچھی طرح ٹکا دے، اور ڈھیلا پڑ جائے، اگر اس نے اس طرح نہیں کیا تو اس کی نماز پوری نہیں ہوئی ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد المقري ابو يحيى، بمكة - وهو بصري - قال حدثنا ابي قال، حدثنا همام، قال حدثنا اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، ان علي بن يحيى بن خلاد بن مالك بن رافع بن مالك، حدثه عن ابيه، عن عمه، رفاعة بن رافع قال بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم جالس ونحن حوله اذ دخل رجل فاتى القبلة فصلى فلما قضى صلاته جاء فسلم على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلى القوم فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " وعليك اذهب فصل فانك لم تصل " . فذهب فصلى فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يرمق صلاته ولا يدري ما يعيب منها فلما قضى صلاته جاء فسلم على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلى القوم فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " وعليك اذهب فصل فانك لم تصل " . فاعادها مرتين او ثلاثا فقال الرجل يا رسول الله ما عبت من صلاتي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انها لم تتم صلاة احدكم حتى يسبغ الوضوء كما امره الله عز وجل فيغسل وجهه ويديه الى المرفقين ويمسح براسه ورجليه الى الكعبين ثم يكبر الله عز وجل ويحمده ويمجده " . قال همام وسمعته يقول " ويحمد الله ويمجده ويكبره " . قال فكلاهما قد سمعته يقول قال " ويقرا ما تيسر من القران مما علمه الله واذن له فيه ثم يكبر ويركع حتى تطمين مفاصله وتسترخي ثم يقول سمع الله لمن حمده ثم يستوي قايما حتى يقيم صلبه ثم يكبر ويسجد حتى يمكن وجهه " . وقد سمعته يقول " جبهته حتى تطمين مفاصله وتسترخي ويكبر فيرفع حتى يستوي قاعدا على مقعدته ويقيم صلبه ثم يكبر فيسجد حتى يمكن وجهه ويسترخي فاذا لم يفعل هكذا لم تتم صلاته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے، لہٰذا ( سجدے میں ) تم لوگ بکثرت دعا کیا کرو ۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن وهب، عن عمرو، - يعني ابن الحارث - عن عمارة بن غزية، عن سمى، انه سمع ابا صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اقرب ما يكون العبد من ربه عز وجل وهو ساجد فاكثروا الدعاء
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے وضو اور آپ کی حاجت کا پانی لے کر آتا تھا، تو ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مانگنا ہو مجھ سے مانگو ، میں نے کہا: میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ اور بھی کچھ؟ میں نے عرض کیا: بس یہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے اوپر کثرت سجدہ کو لازم کر کے میری مدد کرو ۱؎۔
اخبرنا هشام بن عمار، عن هقل بن زياد الدمشقي، قال حدثنا الاوزاعي، قال حدثنا يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، قال حدثني ربيعة بن كعب الاسلمي، قال كنت اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بوضويه وبحاجته فقال " سلني " . قلت مرافقتك في الجنة . قال " اوغير ذلك " . قلت هو ذاك قال " فاعني على نفسك بكثرة السجود
معدان بن طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی، تو میں نے کہا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے فائدہ پہنچائے، یا مجھے جنت میں داخل کرے، وہ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر میری طرف متوجہ ہوئے، اور کہنے لگے: تم سجدوں کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے بدلے، اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے ۔ معدان کہتے ہیں: پھر میں ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملا اور میں نے ان سے وہی سوال کیا جو ثوبان رضی اللہ عنہ سے کر چکا تھا، تو انہوں نے بھی مجھ سے یہی کہا: تم سجدوں کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے ۔
اخبرنا ابو عمار الحسين بن حريث، قال انبانا الوليد بن مسلم، قال حدثنا الاوزاعي، قال حدثني الوليد بن هشام المعيطي، قال حدثني معدان بن طلحة اليعمري، قال لقيت ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت دلني على عمل ينفعني او يدخلني الجنة فسكت عني مليا ثم التفت الى فقال عليك بالسجود فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من عبد يسجد لله سجدة الا رفعه الله عز وجل بها درجة وحط عنه بها خطيية " . قال معدان ثم لقيت ابا الدرداء فسالته عما سالت عنه ثوبان فقال لي عليك بالسجود فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من عبد يسجد لله سجدة الا رفعه الله بها درجة وحط عنه بها خطيية
عطاء بن یزید کہتے ہیں کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید کے پاس بیٹھا ہوا تھا، تو ان دونوں میں سے ایک نے شفاعت کی حدیث بیان کی، اور دوسرے خاموش رہے، انہوں نے کہا: فرشتے آئیں گے، شفاعت کریں گے، اور انبیاء و رسل بھی شفاعت کریں گے، نیز انہوں نے پل صراط کا ذکر کیا، اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: پل صراط پار کرنے والا سب سے پہلا شخص میں ہوں گا جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلوں سے فارغ ہو گا، اور جہنم سے جسے نکالنا چاہے گا نکال لے گا، تو اللہ فرشتوں کو اور رسولوں کو حکم دے گا کہ وہ شفاعت کریں، قابل شفاعت لوگ اپنی نشانیوں سے پہچان لیئے جائیں گے، آگ ابن آدم کی ہر چیز کھا جائے گی سوائے سجدہ کی جگہ کے، پھر ان پر چشمہ حیات کا پانی انڈیلا جائے گا، تو وہ اگنے لگیں گے جیسے سیلاب کے خش و خاشاک میں دانہ اگتا ہے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن سليمان، لوين بالمصيصة عن حماد بن زيد، عن معمر، والنعمان بن راشد، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد، قال كنت جالسا الى ابي هريرة وابي سعيد فحدث احدهما، حديث الشفاعة والاخر منصت قال فتاتي الملايكة فتشفع وتشفع الرسل وذكر الصراط قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فاكون اول من يجيز فاذا فرغ الله عز وجل من القضاء بين خلقه واخرج من النار من يريد ان يخرج امر الله الملايكة والرسل ان تشفع فيعرفون بعلاماتهم ان النار تاكل كل شىء من ابن ادم الا موضع السجود فيصب عليهم من ماء الجنة فينبتون كما تنبت الحبة في حميل السيل
شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کی دونوں نمازوں میں سے کسی ایک نماز کے لیے نکلے، اور حسن یا حسین کو اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو انہیں ( زمین پر ) بٹھا دیا، پھر آپ نے نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہی، اور نماز شروع کر دی، اور اپنی نماز کے دوران آپ نے ایک سجدہ لمبا کر دیا، تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر ہے، اور آپ سجدے میں ہیں، پھر میں اپنے سجدے کی طرف دوبارہ پلٹ گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ اتنا لمبا کر دیا کہ ہم نے سمجھا کوئی معاملہ پیش آ گیا ہے، یا آپ پر وحی نازل ہونے لگی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی، البتہ میرے بیٹے نے مجھے سواری بنا لی تھی تو مجھے ناگوار لگا کہ میں جلدی کروں یہاں تک کہ وہ اپنی خواہش پوری کر لے ۔
اخبرنا عبد الرحمن بن محمد بن سلام، قال حدثنا يزيد بن هارون، قال انبانا جرير بن حازم، قال حدثنا محمد بن ابي يعقوب البصري، عن عبد الله بن شداد، عن ابيه، قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم في احدى صلاتى العشاء وهو حامل حسنا او حسينا فتقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فوضعه ثم كبر للصلاة فصلى فسجد بين ظهرانى صلاته سجدة اطالها . قال ابي فرفعت راسي واذا الصبي على ظهر رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو ساجد فرجعت الى سجودي فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة قال الناس يا رسول الله انك سجدت بين ظهرانى صلاتك سجدة اطلتها حتى ظننا انه قد حدث امر او انه يوحى اليك . قال " كل ذلك لم يكن ولكن ابني ارتحلني فكرهت ان اعجله حتى يقضي حاجته
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں اللہ اکبر کہتے دیکھا، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی، اور میں نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا الفضل بن دكين، ويحيى بن ادم، قالا حدثنا زهير، عن ابي اسحاق، عن عبد الرحمن بن الاسود، عن ابيه، وعلقمة، عن عبد الله، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يكبر في كل خفض ورفع وقيام وقعود ويسلم عن يمينه وعن شماله " السلام عليكم ورحمة الله " . حتى يرى بياض خده . قال ورايت ابا بكر وعمر - رضى الله عنهما - يفعلان ذلك
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع کرتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے یعنی اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، عن نصر بن عاصم، عن مالك بن الحويرث، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم كان اذا دخل في الصلاة رفع يديه واذا ركع فعل مثل ذلك واذا رفع راسه من الركوع فعل مثل ذلك واذا رفع راسه من السجود فعل مثل ذلك كله يعني رفع يديه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے، اور جب رکوع کرتے تو بھی، اور رکوع کے بعد بھی، اور دونوں سجدوں کے درمیان نہیں اٹھاتے تھے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، عن سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا افتتح الصلاة كبر ورفع يديه واذا ركع وبعد الركوع ولا يرفع بين السجدتين
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ کے پہلو میں جا کر کھڑے ہو گئے، آپ نے «اللہ أكبر ذو الملكوت والجبروت والكبرياء والعظمة» کہا، پھر آپ نے سورۃ البقرہ پڑھی، پھر رکوع کیا، آپ کا رکوع تقریباً آپ کے قیام کے برابر رہا، اور آپ نے رکوع میں:«سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم» کہا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا تو: «لربي الحمد لربي الحمد» کہا، اور آپ اپنے سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى سبحان ربي الأعلى» اور دونوں سجدوں کے درمیان «رب اغفر لي رب اغفر لي» کہتے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن ابي حمزة، سمعه يحدث، عن رجل، من عبس عن حذيفة، انه انتهى الى النبي صلى الله عليه وسلم فقام الى جنبه فقال " الله اكبر ذو الملكوت والجبروت والكبرياء والعظمة " . ثم قرا بالبقرة ثم ركع فكان ركوعه نحوا من قيامه فقال في ركوعه " سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم " . وقال حين رفع راسه " لربي الحمد لربي الحمد " . وكان يقول في سجوده " سبحان ربي الاعلى سبحان ربي الاعلى " . وكان يقول بين السجدتين " رب اغفر لي رب اغفر لي
نضر بن کثیر ابوسہل ازدی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن طاؤس نے منیٰ میں مسجد خیف میں میرے پہلو میں نماز پڑھی، تو انہوں نے جب پہلا سجدہ کیا، اور سجدے سے اپنا سر اٹھایا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو چہرے کے بالمقابل اٹھایا، مجھے یہ بات عجیب لگی تو میں نے وہیب بن خالد سے کہا کہ یہ ایسا کام کر رہے ہیں جو میں نے کبھی کسی کو کرتے نہیں دیکھا؟، تو وہیب نے ان سے کہا: آپ ایسا کام کرتے ہیں جسے ہم نے کسی کو کرتے نہیں دیکھا؟ اس پر عبداللہ بن طاؤس نے کہا: میں نے اپنے والد کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور میرے والد نے کہا: میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔
اخبرنا موسى بن عبد الله بن موسى البصري، قال حدثنا النضر بن كثير ابو سهل الازدي، قال صلى الى جنبي عبد الله بن طاوس بمنى في مسجد الخيف فكان اذا سجد السجدة الاولى فرفع راسه منها رفع يديه تلقاء وجهه فانكرت انا ذلك فقلت لوهيب بن خالد ان هذا يصنع شييا لم ار احدا يصنعه . فقال له وهيب تصنع شييا لم نر احدا يصنعه . فقال عبد الله بن طاوس رايت ابي يصنعه وقال ابي رايت ابن عباس يصنعه وقال عبد الله بن عباس رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنعه
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے پہلو سے جدا رکھتے یہاں تک کہ آپ کے پیچھے آپ کے بغل کی سفیدی نظر آتی، اور جب بیٹھتے تو اپنی بائیں ران زمین پر لگا کر بیٹھتے۔
اخبرنا عبد الرحمن بن ابراهيم، دحيم قال حدثنا مروان بن معاوية، قال حدثنا عبيد الله بن عبد الله بن الاصم، قال حدثني يزيد بن الاصم، عن ميمونة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا سجد خوى بيديه حتى يرى وضح ابطيه من ورايه واذا قعد اطمان على فخذه اليسرى
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یعنی آپ کا رکوع، سجدہ، رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کا قیام اور دونوں سجدوں کے درمیان کا بیٹھنا تقریباً سب برابر برابر ہوتا۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد ابو قدامة، قال حدثنا يحيى، عن شعبة، قال حدثني الحكم، عن ابن ابي ليلى، عن البراء، قال كان صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم ركوعه وسجوده وقيامه بعد ما يرفع راسه من الركوع وبين السجدتين قريبا من السواء