Loading...

Loading...
کتب
۱۵۰ احادیث
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے پہلو سے جدا رکھتے یہاں تک کہ اگر کوئی بکری کا بچہ آپ کے ہاتھوں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن عبيد الله، - وهو ابن عبد الله بن الاصم - عن عمه، يزيد - وهو ابن الاصم - عن ميمونة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا سجد جافى يديه حتى لو ان بهمة ارادت ان تمر تحت يديه مرت
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سجدے میں اپنی ہیئت درمیانی رکھو ۱؎ اور تم میں سے کوئی اپنے دونوں ہاتھوں کو کتے کی طرح نہ پھیلائے – یہ الفاظ اسحاق بن راہویہ کے ہیں۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبدة، قال حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس، ح واخبرنا اسماعيل بن مسعود، عن خالد، عن شعبة، عن قتادة، قال سمعت انسا، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اعتدلوا في السجود ولا يبسط احدكم ذراعيه انبساط الكلب " . اللفظ لاسحاق
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نماز کفایت نہیں کرتی جس میں آدمی رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے ۔
اخبرنا علي بن خشرم المروزي، قال انبانا عيسى، - وهو ابن يونس - عن الاعمش، عن عمارة، عن ابي معمر، عن ابي مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تجزي صلاة لا يقيم الرجل فيها صلبه في الركوع والسجود
عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں سے منع کیا ہے: ایک کوے کی طرح ٹھونگ مارنے سے، دوسری درندوں کی طرح ہاتھ بچھانے سے، اور تیسری یہ کہ آدمی نماز کے لیے ایک جگہ خاص کر لے جیسے اونٹ اپنے بیٹھنے کی جگہ کو خاص کر لیتا ہے۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن شعيب، عن الليث، قال حدثنا خالد، عن ابن ابي هلال، عن جعفر بن عبد الله، ان تميم بن محمود، اخبره ان عبد الرحمن بن شبل اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن ثلاث عن نقرة الغراب وافتراش السبع وان يوطن الرجل المقام للصلاة كما يوطن البعير
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں، اور بال اور کپڑے نہ سمیٹوں ۔
اخبرنا حميد بن مسعدة البصري، عن يزيد، - وهو ابن زريع - قال حدثنا شعبة، وروح، - يعني ابن القاسم - عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " امرت ان اسجد على سبعة ولا اكف شعرا ولا ثوبا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں نماز پڑھتے دیکھا کہ ان کے سر میں پیچھے جوڑا بندھا ہوا تھا، تو وہ کھڑے ہو کر اسے کھولنے لگے، جب عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سلام پھیر چکے تو ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس آئے، اور کہنے لگے: آپ کو میرے سر سے کیا مطلب تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اس کی مثال اس آدمی جیسی ہے جو نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ہاتھ بندھے ہوں ۔
اخبرنا عمرو بن سواد بن الاسود بن عمرو السرحي، - من ولد عبد الله بن سعد بن ابي سرح - قال انبانا ابن وهب، قال انبانا عمرو بن الحارث، ان بكيرا، حدثه ان كريبا مولى ابن عباس حدثه عن عبد الله بن عباس، انه راى عبد الله بن الحارث يصلي وراسه معقوص من ورايه فقام فجعل يحله فلما انصرف اقبل الى ابن عباس فقال ما لك وراسي قال اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انما مثل هذا مثل الذي يصلي وهو مكتوف
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور بال اور کپڑے سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
اخبرنا محمد بن منصور المكي، عن سفيان، عن عمرو، عن طاوس، عن ابن عباس، قال امر النبي صلى الله عليه وسلم ان يسجد على سبعة اعظم ونهي ان يكف الشعر والثياب
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھتے تو گرمی سے بچنے کے لیے اپنے کپڑوں پر سجدہ کرتے تھے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن خالد بن عبد الرحمن، - هو السلمي - قال حدثني غالب القطان، عن بكر بن عبد الله المزني، عن انس، قال كنا اذا صلينا خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم بالظهاير سجدنا على ثيابنا اتقاء الحر
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم رکوع اور سجدہ پوری طرح کرو، اللہ کی قسم! میں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے تمہیں رکوع اور سجدہ کی حالت میں دیکھتا ہوں ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبدة، عن سعيد، عن قتادة، عن انس، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اتموا الركوع والسجود فوالله اني لاراكم من خلف ظهري في ركوعكم وسجودكم
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں سے منع کیا ہے، میں نہیں کہتا کہ لوگوں کو بھی منع کیا ہے، مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے سے، قسی کے بنے ہوئے ریشمی کپڑے پہننے سے، اور کُسم میں رنگے ہوئے گہرے سرخ کپڑے پہننے سے منع کیا ہے، اور میں رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن نہیں پڑھتا۔
اخبرنا ابو داود، سليمان بن سيف قال حدثنا ابو علي الحنفي، وعثمان بن عمر، قال ابو علي حدثنا وقال، عثمان انبانا داود بن قيس، عن ابراهيم بن عبد الله بن حنين، عن ابيه، عن ابن عباس، عن علي بن ابي طالب، - رضى الله عنه - قال نهاني حبي صلى الله عليه وسلم عن ثلاث - لا اقول نهى الناس - نهاني عن تختم الذهب وعن لبس القسي وعن المعصفر المفدمة ولا اقرا ساجدا ولا راكعا
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے۔
اخبرنا احمد بن عمرو بن السرح، قال انبانا ابن وهب، عن يونس، ح والحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني ابراهيم بن عبد الله، ان اباه، حدثه انه، سمع عليا، قال نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اقرا راكعا او ساجدا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوئی پردہ ہٹایا، آپ کا سر مبارک کپڑے سے بندھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: اے اللہ! میں نے پہنچا دیا ( پھر فرمایا: ) نبوت کی خوش خبریوں میں سے سوائے سچے خواب کے جسے بندہ خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے کوئی اور دیکھتا ہے کوئی اور چیز باقی نہیں رہ گئی ہے، سنو! مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، تو جب تم رکوع کرو تو اپنے رب کی عظمت بیان کرو، اور جب سجدہ کرو تو دعا میں کوشش کرو کیونکہ یہ حالت اس لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول کی جائے ۔
اخبرنا علي بن حجر المروزي، قال انبانا اسماعيل، - هو ابن جعفر - قال حدثنا سليمان بن سحيم، عن ابراهيم بن عبد الله بن معبد بن عباس، عن ابيه، عن عبد الله بن عباس، قال كشف رسول الله صلى الله عليه وسلم الستر وراسه معصوب في مرضه الذي مات فيه فقال " اللهم قد بلغت - ثلاث مرات - انه لم يبق من مبشرات النبوة الا الرويا الصالحة يراها العبد او ترى له الا واني قد نهيت عن القراءة في الركوع والسجود فاذا ركعتم فعظموا ربكم واذا سجدتم فاجتهدوا في الدعاء فانه قمن ان يستجاب لكم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس رات کو ان ہی کے پاس رہے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنی حاجت کے لیے اٹھے، مشک کے پاس آئے، اور اس کا بندھن کھولا، پھر وضو کیا جو دو وضوؤں کے درمیان تھا، ( یعنی شرعی وضو نہیں تھا ) ، پھر آپ اپنے بستر پہ آئے، اور سو گئے، پھر دوسری بار اٹھے، مشک کے پاس آئے، اور اس کا بندھن کھولا، پھر وضو کیا یہ ( شرعی ) وضو تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر نماز پڑھنے لگے، آپ اپنے سجدے میں یہ دعا پڑھ رہے تھے: «اللہم اجعل في قلبي نورا واجعل في سمعي نورا واجعل في بصري نورا واجعل من تحتي نورا واجعل من فوقي نورا وعن يميني نورا وعن يساري نورا واجعل أمامي نورا واجعل خلفي نورا وأعظم لي نورا» اے اللہ! میرے دل کو منور کر دے، میرے کانوں کو نور ( روشنی ) سے بھر دے، میری آنکھوں کو روشن کر دے، میرے نیچے نور کر دے، میرے اوپر نور کر دے، میرے دائیں نور کر دے، میرے بائیں نور کر دے، میرے آگے نور کر دے، میرے پیچھے نور کر دے، اور میرے لیے نور کو عظیم کر دے ، پھر آپ سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر بلال رضی اللہ عنہ آئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے جگایا۱؎۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابي الاحوص، عن سعيد بن مسروق، عن سلمة بن كهيل، عن ابي رشدين، - وهو كريب - عن ابن عباس، قال بت عند خالتي ميمونة بنت الحارث وبات رسول الله صلى الله عليه وسلم عندها فرايته قام لحاجته فاتى القربة فحل شناقها ثم توضا وضوءا بين الوضوءين ثم اتى فراشه فنام ثم قام قومة اخرى فاتى القربة فحل شناقها ثم توضا وضوءا هو الوضوء ثم قام يصلي وكان يقول في سجوده " اللهم اجعل في قلبي نورا واجعل في سمعي نورا واجعل في بصري نورا واجعل من تحتي نورا واجعل من فوقي نورا وعن يميني نورا وعن يساري نورا واجعل امامي نورا واجعل خلفي نورا واعظم لي نورا " . ثم نام حتى نفخ فاتاه بلال فايقظه للصلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں «سبحانك اللہم ربنا وبحمدك اللہم اغفر لي اے اللہ! ہمارے رب! تو پاک ہے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ تو مجھے بخش دے کہہ رہے تھے، آپ قرآن کی عملی تفسیر فرما رہے تھے ۱؎۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن سفيان، عن منصور، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في ركوعه وسجوده " سبحانك اللهم ربنا وبحمدك اللهم اغفر لي " . يتاول القران
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدے میں «سبحانك اللہم ربنا وبحمدك اللہم اغفر لي» اے اللہ ہمارے رب! تو پاک ہے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ تو مجھے بخش دے کہہ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی عملی تفسیر فر مار ہے تھے۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا وكيع، عن سفيان، عن منصور، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في ركوعه وسجوده " سبحانك اللهم ربنا وبحمدك اللهم اغفر لي " . يتاول القران
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی خواب گاہ میں نہیں ملے، تو میں آپ کو تلاش کرنے لگی، اور مجھے گمان ہوا کہ شاید آپ اپنی کسی لونڈی کے پاس چلے گئے ہیں کہ اچانک میرا ہاتھ آپ پر پڑا، آپ سجدے میں تھے، اور کہہ رہے تھے: «اللہم اغفر لي ما أسررت وما أعلنت» اے اللہ! بخش دے میرے ان گناہوں کو جنہیں میں نے چھپا کر کیا ہے اور جنہیں میں نے اعلانیہ کیا ہے ۔
اخبرنا محمد بن قدامة، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن هلال بن يساف، قال قالت عايشة رضى الله عنها فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم من مضجعه فجعلت التمسه وظننت انه اتى بعض جواريه فوقعت يدي عليه وهو ساجد وهو يقول " اللهم اغفر لي ما اسررت وما اعلنت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر موجود نہیں پایا، میں نے گمان کیا کہ شاید آپ اپنی کسی لونڈی کے پاس چلے گئے ہیں، چنانچہ میں نے آپ کو تلاش کیا، تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپ سجدہ میں ہیں اور کہہ رہے ہیں: «رب اغفر لي ما أسررت وما أعلنت» اے میرے رب! میرے تمام گناہوں کو جو میں نے چھپے اور کھلے کئے ہیں بخش دے ۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم فظننت انه اتى بعض جواريه فطلبته فاذا هو ساجد يقول " رب اغفر لي ما اسررت وما اعلنت
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو کہتے: «اللہم لك سجدت ولك أسلمت وبك آمنت سجد وجهي للذي خلقه وصوره فأحسن صورته وشق سمعه وبصره تبارك اللہ أحسن الخالقين» اے اللہ! میں نے تیرے لیے اپنی پیشانی زمین سے ٹیک دی، اور تیرے ہی لیے میں اسلام لایا، اور تجھی پر میں ایمان لایا، میرے چہرے نے سجدہ کیا، اس ذات کے لیے جس نے اسے پیدا کیا، اور اس کی صورت گری کی، اور اچھی صورت گری کی، اور جس نے اس کے کان اور اس کی آنکھیں پھاڑیں، اللہ بڑی برکت والا ہے، اور سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے ۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، - هو ابن مهدي - قال حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة، قال حدثني عمي الماجشون بن ابي سلمة، عن عبد الرحمن الاعرج، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن علي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا سجد يقول " اللهم لك سجدت ولك اسلمت وبك امنت سجد وجهي للذي خلقه وصوره فاحسن صورته وشق سمعه وبصره تبارك الله احسن الخالقين
(جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجدے میں کہتے تھے: «اللہم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت وأنت ربي سجد وجهي للذي خلقه وصوره وشق سمعه وبصره تبارك اللہ أحسن الخالقين» اے اللہ! میں نے تیرے لیے اپنی پیشانی زمین پر ٹیک دی، تیرے ہی اوپر ایمان لایا، تیرے ہی لیے میں مسلمان ہوا، تو ہی میرا رب ہے، میرے چہرہ نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا، اور اس کی صورت گری کی، اور جس نے اس کے کان اور اس کی آنکھیں بنائیں، بڑی برکتوں والا ہے، اللہ سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے ) ۔
اخبرنا يحيى بن عثمان، قال انبانا ابو حيوة، قال حدثنا شعيب بن ابي حمزة، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول في سجوده " اللهم لك سجدت وبك امنت ولك اسلمت وانت ربي سجد وجهي للذي خلقه وصوره وشق سمعه وبصره تبارك الله احسن الخالقين
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں اٹھتے تو نفل پڑھتے، اور جب سجدہ کرتے تو کہتے: «اللہم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت اللہم أنت ربي سجد وجهي للذي خلقه وصوره وشق سمعه وبصره تبارك اللہ أحسن الخالقين» اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا، تجھی پر میں ایمان لایا، تیرے لیے میں مسلمان ہوا، اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، میرے چہرہ نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا، اور اس کی صورت گری کی، اور اس کے کان اور اس کی آنکھیں بنائیں، اللہ بڑی برکتوں والا، سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے ۔
اخبرنا يحيى بن عثمان، قال انبانا ابن حمير، قال حدثنا شعيب بن ابي حمزة، عن محمد بن المنكدر، وذكر، اخر قبله عن عبد الرحمن بن هرمز الاعرج، عن محمد بن مسلمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا قام من الليل يصلي تطوعا قال اذا سجد " اللهم لك سجدت وبك امنت ولك اسلمت اللهم انت ربي سجد وجهي للذي خلقه وصوره وشق سمعه وبصره تبارك الله احسن الخالقين