Loading...

Loading...
کتب
۲۳ احادیث
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے، آپ: «الحمد لله رب العالمين» پڑھتے، پھر رک جاتے، پھر «الرحمن الرحيم» پڑھتے پھر رک جاتے، اور «ملك يوم الدين» پڑھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ابو عبید بھی یہی پڑھتے تھے اور اسی کو پسند کرتے تھے ۲؎، ۳- یحییٰ بن سعید اموی اور ان کے سوا دوسرے لوگوں نے ابن جریج سے اور ابن جریج نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے ام سلمہ سے اسی طرح روایت کی ہے، اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے، کیونکہ لیث بن سعد نے یہ حدیث ابن ابی ملیکہ سے ابن ابی ملیکہ نے یعلیٰ بن مملک سے انہوں نے ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی کیفیت ایک ایک حرف الگ کر کے بیان کی۔ لیث کی حدیث زیادہ صحیح ہے اور لیث کی حدیث میں یہ ذکر نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم «ملك يوم الدين» “ پڑھتے تھے۔
حدثنا علي بن حجر، قال اخبرنا يحيى بن سعيد الاموي، عن ابن جريج، عن ابن ابي مليكة، عن ام سلمة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقطع قراءته يقرا (الحمد لله رب العالمين ) ثم يقف ( الرحمن الرحيم ) ثم يقف وكان يقروها (ملك يوم الدين ) قال ابو عيسى هذا حديث غريب وبه يقرا ابو عبيد ويختاره هكذا روى يحيى بن سعيد الاموي وغيره عن ابن جريج عن ابن ابي مليكة عن ام سلمة وليس اسناده بمتصل لان الليث بن سعد روى هذا الحديث عن ابن ابي مليكة عن يعلى بن مملك عن ام سلمة انها وصفت قراءة النبي صلى الله عليه وسلم حرفا حرفا وحديث الليث اصح وليس في حديث الليث وكان يقرا (ملك يوم الدين)
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر و عمر رضی الله عنہما ( راوی زہری کہتے ہیں کہ ) اور میرا خیال ہے کہ انس رضی الله عنہ نے عثمان رضی الله عنہ کا بھی نام لیا کہ یہ سب لوگ «مالك يوم الدين» پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف زہری کی روایت سے جسے وہ انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں صرف اس شیخ یعنی ایوب بن سوید رملی کی روایت سے ہی جانتے ہیں، ۳- زہری کے بعض اصحاب ( تلامذہ ) نے یہ حدیث زہری سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر «مالك يوم الدين» پڑھتے تھے۔ اور عبدالرزاق نے معمر سے، معمر نے زہری سے اور زہری نے سعید بن مسیب سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما «مالك يوم الدين» پڑھتے تھے، ( یعنی: اس کو مرفوعاً صرف ایوب بن سوید ہی نے روایت کیا ہے، اور وہ ضعیف ہیں ) ۔
حدثنا ابو بكر، محمد بن ابان قال حدثنا ايوب بن سويد الرملي، عن يونس بن يزيد، عن الزهري، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم وابا بكر وعمر - واراه قال - وعثمان كانوا يقرءون (مالك يوم الدين ) . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه من حديث الزهري عن انس بن مالك الا من حديث هذا الشيخ ايوب بن سويد الرملي . وقد روى بعض اصحاب الزهري هذا الحديث عن الزهري ان النبي صلى الله عليه وسلم وابا بكر وعمر كانوا يقرءون (مالك يوم الدين ) . وقد روى عبد الرزاق عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب ان النبي صلى الله عليه وسلم وابا بكر وعمر كانوا يقرءون (مالك يوم الدين)
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «أن النفس بالنفس والعين بالعين» ۱؎ «بالعين» ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوعلی بن یزید، یونس بن یزید کے بھائی ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اس حدیث کو یونس بن یزید سے روایت کرنے میں ابن مبارک منفرد ( تنہا ) ہیں، ۴- اور ابو عبید ( قاسم بن سلام ) نے اس حدیث کی اتباع میں اس طرح ( «العين» «بالعين» ) پڑھا ہے۔
حدثنا ابو كريب، قال حدثنا ابن المبارك، عن يونس بن يزيد، عن ابي علي ابن يزيد، عن الزهري، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم قرا(ان النفس بالنفس والعين بالعين ) حدثنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله بن المبارك، عن يونس بن يزيد، بهذا الاسناد نحوه . وابو علي بن يزيد هو اخو يونس بن يزيد وهذا حديث حسن غريب . قال محمد تفرد ابن المبارك بهذا الحديث عن يونس بن يزيد وهكذا قرا ابو عبيد ( والعين بالعين ) اتباعا لهذا الحديث
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا «هل تستطيع ربك» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین کی حدیث سے جانتے ہیں، ۲- اور اس کی سند قوی نہیں ہے، رشدین بن سعد اور ( عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم ) افریقی دونوں حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
حدثنا ابو كريب، قال حدثنا رشدين بن سعد، عن عبد الرحمن بن زياد بن انعم، عن عتبة بن حميد، عن عبادة بن نسى، عن عبد الرحمن بن غنم، عن معاذ بن جبل، ان النبي صلى الله عليه وسلم قرا (هل تستطيع ربك ) هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث رشدين وليس اسناده بالقوي . ورشدين بن سعد والافريقي يضعفان في الحديث
ام سلمہ ۱؎ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے «إنه عمل غير صالح» ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسی طرح کئی ایک رواۃ نے ثابت بنانی سے اس حدیث کی روایت کی ہے، ۲- یہ حدیث شہر بن حوشب سے اسماء بنت یزید کے واسطہ سے بھی روایت کی گئی ہے، ۳- میں نے عبد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ اسماء بنت یزید ہی ام سلمہ انصاریہ ہیں، ۴- یہ دونوں ہی حدیثیں میرے نزدیک ایک ہیں، ۵- شہر بن حوشب نے کئی حدیثیں ام سلمہ انصاریہ سے روایت کی ہیں، اور ام سلمہ انصاریہ یہی اسماء بنت یزید ہیں، ۶- عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
حدثنا الحسين بن محمد البصري، قال حدثنا عبد الله بن حفص، قال حدثنا ثابت البناني، عن شهر بن حوشب، عن ام سلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقروها (انه عمل غير صالح ) . قال ابو عيسى هذا حديث قد رواه غير واحد عن ثابت البناني نحو هذا وهو حديث ثابت البناني وروي هذا الحديث ايضا عن شهر بن حوشب عن اسماء بنت يزيد . وسمعت عبد بن حميد يقول اسماء بنت يزيد هي ام سلمة الانصارية . قال ابو عيسى كلا الحديثين عندي واحد وقد روى شهر بن حوشب غير حديث عن ام سلمة الانصارية وهي اسماء بنت يزيد وقد روي عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا
ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت اس طرح پڑھی: «إنه عمل غير صالح»
حدثنا يحيى بن موسى، قال حدثنا وكيع وحبان بن هلال، قالا حدثنا هارون النحوي، عن ثابت البناني، عن شهر بن حوشب، عن ام سلمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قرا هذه الاية : (انه عمل غير صالح)
ابی بن کعب سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «قد بلغت من لدني عذرا» ۱؎ یعنی «لدني» کو نون ثقیلہ کے ساتھ پڑھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- امیہ بن خالد ثقہ ہیں، ۳- ابوالجاریہ عبدی مجہول شیخ ہیں، ہم ان کا نام نہیں جانتے۔
حدثنا ابو بكر بن نافع، - البصري - قال حدثنا امية بن خالد، قال حدثنا ابو الجارية العبدي، عن شعبة، عن ابي اسحاق، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن ابى بن كعب، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قرا (قد بلغت من لدني عذرا) مثقلة . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . وامية بن خالد ثقة وابو الجارية العبدي شيخ مجهول و لا يعرف اسمه
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «في عين حمئة» پڑھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- صحیح ابن عباس کی قرأت ہے جو ان سے مروی ہے، ۳- مروی ہے کہ ابن عباس اور عمرو بن العاص رضی الله عنہم دونوں نے اس آیت کی قرأت میں آپس میں اختلاف کیا، اور اپنا معاملہ ( فیصلہ کے لیے ) کعب احبار کے پاس لے گئے۔ اگر ان کے پاس اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی روایت ہوتی تو وہ روایت ان کے لیے کافی ہوتی، اور کعب احبار کی طرف انہیں رجوع کی حاجت نہ رہتی۔
حدثنا يحيى بن موسى، قال حدثنا معلى بن منصور، قال حدثنا محمد بن دينار، عن سعد بن اوس، عن مصدع ابي يحيى، عن ابن عباس، عن ابى بن كعب، ان النبي صلى الله عليه وسلم قرا (في عين حمية ) . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه والصحيح ما روي عن ابن عباس قراءته . ويروى ان ابن عباس وعمرو بن العاصي اختلفا في قراءة هذه الاية وارتفعا الى كعب الاحبار في ذلك فلو كانت عنده رواية عن النبي صلى الله عليه وسلم لاستغنى بروايته ولم يحتج الى كعب
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر رومی ( اہل کتاب نصاریٰ ) اہل فارس ( آتش پرست مجوسیوں ) پر غالب آ گئے۔ تو یہ چیز مسلمانوں کو بڑی پسند آئی اور اسی موقع پر ( «الم غلبت الروم» سے «يفرح المؤمنون» ) تک کی آیات نازل ہوئیں ۱؎۔ چنانچہ مسلمان اہل روم کے اہل فارس پر غلبہ سے خوش ہوئے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا جاتا ہے۔ کہتے ہیں: اہل روم پہلے مغلوب ہوئے پھر غالب آ گئے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتْ» پڑھا ہے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، قال حدثنا المعتمر بن سليمان، عن ابيه، عن سليمان الاعمش، عن عطية، عن ابي سعيد، قال لما كان يوم بدر ظهرت الروم على فارس فاعجب ذلك المومنين فنزلت ( الم * غلبت الروم ) الى قوله (يفرح المومنون ) قال ففرح المومنون بظهور الروم على فارس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . ويقرا غلبت وغلبت يقول كانت غلبت ثم غلبت هكذا قرا نصر بن علي غلبت
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے «خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ» ( ضاد کے فتحہ کے ساتھ ) پڑھا تو آپ نے فرمایا: «مِنْ ضَعْفٍ» نہیں «مِنْ ضُعْفٍ» ۱؎ ( ضاد کے ضمہ کے ساتھ ) پڑھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف فضیل بن مرزوق کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن حميد الرازي، قال حدثنا نعيم بن ميسرة النحوي، عن فضيل بن مرزوق، عن عطية العوفي، عن ابن عمر، انه قرا على النبي صلى الله عليه وسلم (خلقكم من ضعف ) فقال من ضعف . حدثنا عبد بن حميد، قال حدثنا يزيد بن هارون، عن فضيل بن مرزوق، عن عطية، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث فضيل بن مرزوق
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «فهل من مدكر» ۱؎ پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو احمد الزبيري، قال حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن الاسود بن يزيد، عن عبد الله بن مسعود، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا (فهل من مدكر ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «فروح وريحان وجنة نعيم» ۱؎ پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اسے ہم صرف ہارون اعور کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔
حدثنا بشر بن هلال الصواف البصري ، قال حدثنا جعفر بن سليمان الضبعي، عن هارون الاعور، عن بديل بن ميسرة، عن عبد الله بن شقيق، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرا (فروح و ريحان و جنة نعيم) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث هارون الاعور
علقمہ کہتے ہیں کہ ہم شام پہنچے تو ابوالدرواء رضی الله عنہ ہمارے پاس آئے اور کہا: کیا تم میں کوئی شخص ایسا ہے جو عبداللہ بن مسعود کی قرأت کی طرح پر قرأت کرتا ہو؟ تو لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا، میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: تم نے یہ آیت «والليل إذا يغشى» عبداللہ بن مسعود کو کیسے پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے کہا: میں نے انہیں «والليل إذا يغشى والذكر والأنثى» ۱؎ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ ابو الدرداء نے کہا: اور میں، قسم اللہ کی، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی پڑھتے ہوئے سنا ہے، اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں اسے «وما خلق» پڑھوں ( یعنی «وما خلق والذكر والأنثى» ) تو میں ان کی بات نہ مانوں گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عبداللہ بن مسعود کی قرأت بھی اسی طرح ہے: «والليل إذا يغشى والنهار إذا تجلى والذكر والأنثى»
حدثنا هناد، قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، قال قدمنا الشام فاتانا ابو الدرداء فقال افيكم احد يقرا على قراءة عبد الله قال فاشاروا الى فقلت نعم انا . قال كيف سمعت عبد الله يقرا هذه الاية (والليل اذا يغشى ) قال قلت سمعته يقروها (والليل اذا يغشى ) (والذكر والانثى ) فقال ابو الدرداء وانا والله هكذا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقروها وهولاء يريدونني ان اقراها(وما خلق ) فلا اتابعهم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهكذا قراءة عبد الله بن مسعود ( والليل اذا يغشى * والنهار اذا تجلى * والذكر والانثى)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «إني أنا الرزاق ذو القوة المتين» پڑھایا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، قال حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله بن مسعود، قال اقراني رسول الله صلى الله عليه وسلم:( اني انا الرزاق ذو القوة المتين ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «وترى الناس سكارى وما هم بسكارى» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- قتادہ صحابہ میں سے انس ابوطفیل کے علاوہ کسی اور صحابی سے ہم سماع نہیں جانتے، ۳- یہ روایت میرے نزدیک مختصر ہے۔ پوری روایت اس طرح ہے: روایت کی گئی قتادہ سے، قتادہ نے روایت کی حسن بصری سے، اور حسن بصری نے روایت کی عمران بن حصین سے، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے تو آپ نے آیت «يا أيها الناس اتقوا ربكم» ۲؎ پڑھی، ( آگے ) پوری حدیث بیان کی، ۴- حکم بن عبدالملک کی حدیث میرے نزدیک اس حدیث سے مختصر ہے۔
حدثنا ابو زرعة، والفضل بن ابي طالب، وغير، واحد، قالوا حدثنا الحسن بن بشر، عن الحكم بن عبد الملك، عن قتادة، عن عمران بن حصين، ان النبي صلى الله عليه وسلم قرا: (وترى الناس سكارى وما هم بسكارى ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وهكذا روى الحكم بن عبد الملك عن قتادة . ولا نعرف لقتادة سماعا من احد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم الا من انس وابي الطفيل . وهذا عندي حديث مختصر انما يروى عن قتادة عن الحسن عن عمران بن حصين قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في السفر فقرا : (يا ايها الناس اتقوا ربكم ) الحديث بطوله وحديث الحكم بن عبد الملك عندي مختصر من هذا الحديث
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے یا تم میں سے کسی کے لیے یہ کہنا برا ہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ یہ کہو کہ وہ بھلا دیا گیا ۱؎ تم قرآن یاد کرتے دھراتے رہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! قرآن لوگوں کے سینوں سے نکل بھاگنے میں چوپایوں کے اپنی رسی سے نکل بھاگنے کی بہ نسبت زیادہ تیز ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، قال اخبرنا شعبة، عن منصور، قال سمعت ابا وايل، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " بيسما لاحدهم او لاحدكم ان يقول نسيت اية كيت وكيت بل هو نسي فاستذكروا القران فوالذي نفسي بيده لهو اشد تفصيا من صدور الرجال من النعم من عقله " . هذا حديث حسن صحيح
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ ان دونوں نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے: میں ہشام بن حکیم بن حزام کے پاس سے گزرا، وہ سورۃ الفرقان پڑھ رہے تھے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے، میں نے ان کی قرأت سنی، وہ ایسے حرفوں پر پڑھ رہے تھے، جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پڑھایا ہی نہ تھا۔ قریب تھا کہ میں ان پر حملہ کر دیتا مگر میں نے انہیں ( نماز پڑھ لینے تک کی ) مہلت دی۔ جونہی انہوں نے سلام پھیرا میں نے ان کو انہیں کی چادر ان کے گلے میں ڈال کر گھسیٹا، میں نے ان سے پوچھا: یہ سورۃ جسے میں نے تمہیں ابھی پڑھتے ہوئے سنا ہے، تمہیں کس نے پڑھائی ہے؟ کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے۔ میں نے کہا: تم غلط کہتے ہو، قسم اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی مجھے یہ سورۃ پڑھائی جو تم پڑھ رہے تھے ۱؎، میں انہیں کھینچتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورۃ الفرقان ایسے حرفوں ( طریقوں ) پر پڑھتے ہوئے سنا ہے جن پر آپ نے مجھے پڑھنا نہیں سکھایا ہے جب کہ آپ ہی نے مجھے سورۃ الفرقان پڑھایا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! انہیں چھوڑ دو، ہشام! تم پڑھو“۔ تو انہوں نے وہی قرأت کی جو میں نے ان سے سنی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، ایسی ہی نازل ہوئی ہے“۔ پھر مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! تم پڑھو“، تو میں نے اسی طرح پڑھا جس طرح آپ نے مجھے پڑھایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اسی طرح نازل کی گئی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قرآن سات حرفوں پر اتارا گیا ہے ۲؎، تو جو قرأت تمہیں آسان لگے اسی قرأت پر تم قرآن پڑھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- مالک بن انس نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اپنی روایت میں مسور بن مخرمہ کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، وغير، واحد، قالوا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عروة بن الزبير، عن المسور بن مخرمة، وعبد الرحمن بن عبد القاري، اخبراه انهما، سمعا عمر بن الخطاب، يقول مررت بهشام بن حكيم بن حزام وهو يقرا سورة الفرقان في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستمعت قراءته فاذا هو يقرا على حروف كثيرة لم يقرينيها رسول الله صلى الله عليه وسلم فكدت اساوره في الصلاة فنظرته حتى سلم فلما سلم لببته بردايه فقلت من اقراك هذه السورة التي سمعتك تقروها فقال اقرانيها رسول الله صلى الله عليه وسلم قال . قلت له كذبت والله ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لهو اقراني هذه السورة التي تقروها . فانطلقت اقوده الى النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله اني سمعت هذا يقرا سورة الفرقان على حروف لم تقرينيها وانت اقراتني سورة الفرقان . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ارسله يا عمر اقرا يا هشام " . فقرا عليه القراءة التي سمعته فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هكذا انزلت " . ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم " اقرا يا عمر " . فقرات بالقراءة التي اقراني النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هكذا انزلت " . ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان هذا القران انزل على سبعة احرف فاقرءوا ما تيسر منه " . هذا حديث حسن صحيح . وقد روى مالك بن انس عن الزهري بهذا الاسناد نحوه الا انه لم يذكر فيه المسور بن مخرمة
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام سے ملے۔ آپ نے فرمایا: ”جبرائیل! میں ایک امی ( ان پڑھ ) قوم کے پاس نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں، ان میں بوڑھی عورتیں اور بوڑھے مرد ہیں، لڑکے اور لڑکیاں ہیں، ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے کبھی کوئی کتاب پڑھی ہی نہیں ہے تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا: محمد! قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، حذیفہ بن یمان، ابوہریرہ، اور ام ایوب رضی الله عنہم ام ایوب ( ابوایوب انصاری کی بیوی ) ۔ اور سمرہ، ابن عباس، ابوجہیم بن حارث بن صمہ، عمرو بن العاص اور ابوبکرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابی بن کعب سے یہ حدیث متعدد سندوں سے مروی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا الحسن بن موسى، قال حدثنا شيبان، عن عاصم، عن زر بن حبيش، عن ابى بن كعب، قال لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم جبريل فقال " يا جبريل اني بعثت الى امة اميين منهم العجوز والشيخ الكبير والغلام والجارية والرجل الذي لم يقرا كتابا قط " . قال يا محمد ان القران انزل على سبعة احرف . وفي الباب عن عمر وحذيفة بن اليمان وام ايوب وهي امراة ابي ايوب الانصاري وسمرة وابن عباس وابي هريرة وابي جهيم بن الحارث بن الصمة وعمرو بن العاص وابي بكرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن ابى بن كعب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے بھائی کی کوئی دنیاوی مصیبت دور کی تو اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن کوئی نہ کوئی مصیبت دور فرمائے گا۔ اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی۔ تو اللہ اس کی دنیا و آخرت میں پردہ پوشی کرے گا، اور جس نے کسی تنگ دست کے ساتھ آسانی کی، تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا۔ اللہ اپنے بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے، اور جو ایسی راہ چلتا ہے جس میں اسے علم کی تلاش ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ ہموار کر دیتا ہے اور جب قوم ( لوگ ) مسجد میں بیٹھ کر کلام اللہ ( قرآن ) کی تلاوت کرتے ہیں اور اسے پڑھتے پڑھاتے ( سمجھتے سمجھاتے ) ہیں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، انہیں رحمت الٰہی ڈھانپ لیتی ہے۔ ملائکہ انہیں اپنے گھیرے میں لیے رہتے ہیں، جس کے عمل نے اسے پیچھے کر دیا تو آخرت میں اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ایسے ہی کئی رواۃ نے اسی حدیث کی طرح اعمش سے اعمش نے ابوصالح کے واسطہ سے، اور ابوصالح نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۲- اسباط بن محمد نے بھی اعمش سے روایت کی ہے، ( اس روایت میں ہے کہ ) اعمش کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا گیا ہے ۲؎ ابوصالح کے واسطہ سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں پھر اس حدیث کا بعض حصہ ذکر کیا۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو اسامة، قال حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نفس عن اخيه كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة ومن ستر مسلما ستره الله في الدنيا والاخرة ومن يسر على معسر يسر الله عليه في الدنيا والاخرة والله في عون العبد ما كان العبد في عون اخيه ومن سلك طريقا يلتمس فيه علما سهل الله له طريقا الى الجنة وما قعد قوم في مسجد يتلون كتاب الله ويتدارسونه بينهم الا نزلت عليهم السكينة وغشيتهم الرحمة وحفتهم الملايكة ومن ابطا به عمله لم يسرع به نسبه " . قال ابو عيسى هكذا روى غير واحد عن الاعمش عن ابي صالح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم مثل هذا الحديث وروى اسباط بن محمد عن الاعمش قال حدثت عن ابي صالح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . فذكر بعض هذا الحديث
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں کتنے دنوں میں قرآن پڑھ ڈالوں؟ آپ نے فرمایا: ”مہینے میں ایک بار ختم کرو“، میں نے کہا میں اس سے بڑھ کر ( یعنی کم مدت میں ) ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”تو بیس دن میں ختم کرو“۔ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی یعنی اور بھی کم مدت میں ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”پندرہ دن میں ختم کر لیا کرو“۔ میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”دس دن میں ختم کر لیا کرو“۔ میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”پانچ دن میں ختم کر لیا کرو“۔ میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ تو آپ نے مجھے پانچ دن سے کم مدت میں قرآن ختم کرنے کی اجازت نہیں دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث بطریق: «أبي بردة عن عبد الله بن عمرو» غریب سمجھی گئی ہے، ۳- یہ حدیث کئی سندوں سے عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے۔ عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن تین دن سے کم مدت میں پڑھا، اس نے قرآن کو نہیں سمجھا“، ۴- عبداللہ بن عمرو سے ( یہ بھی ) مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”قرآن چالیس دن میں پڑھ ڈالا کرو“، ۵- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: ہم اس حدیث کی بنا پر کسی آدمی کے لیے یہ پسند نہیں کرتے کہ اس پر چالیس دن سے زیادہ گزر جائیں اور وہ قرآن پاک ختم نہ کر چکا ہو، ۶- اس حدیث کی بنا پر جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ تین دن سے کم مدت میں قرآن پڑھ کر نہ ختم کیا جائے، ۷- اور بعض اہل علم نے اس کی رخصت دی ہے، ۸- اور عثمان بن عفان سے متعلق ہے مروی ہے کہ وہ وتر کی ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھ ڈالتے تھے، ۹- سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ انہوں نے کعبہ کے اندر ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھا، ۱۰- قرأت میں ترتیل ( ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا ) اہل علم کے نزدیک پسندیدہ ہے۔
حدثنا عبيد بن اسباط بن محمد القرشي، قال حدثنا ابي، عن مطرف، عن ابي اسحاق، عن ابي بردة، عن عبد الله بن عمرو، قال قلت يا رسول الله في كم اقرا القران قال " اختمه في شهر " . قلت اني اطيق افضل من ذلك . قال " اختمه في عشرين " . قلت اني اطيق افضل من ذلك . قال " اختمه في خمسة عشر " . قلت اني اطيق افضل من ذلك . قال " اختمه في عشر " . قلت اني اطيق افضل من ذلك . قال " اختمه في خمس " . قلت اني اطيق افضل من ذلك . قال فما رخص لي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب يستغرب من حديث ابي بردة عن عبد الله بن عمرو . وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن عبد الله بن عمرو وروي عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لم يفقه من قرا القران في اقل من ثلاث " . وروي عن عبد الله بن عمرو ان النبي صلى الله عليه وسلم قال له " اقرا القران في اربعين " . قال اسحاق بن ابراهيم ولا نحب للرجل ان ياتي عليه اكثر من اربعين يوما ولم يقرا القران لهذا الحديث . وقال بعض اهل العلم لا يقرا القران في اقل من ثلاث للحديث الذي روي عن النبي صلى الله عليه وسلم ورخص فيه بعض اهل العلم وروي عن عثمان بن عفان انه كان يقرا القران في ركعة يوتر بها وروي عن سعيد بن جبير انه قرا القران في ركعة في الكعبة والترتيل في القراءة احب الى اهل العلم