Loading...

Loading...
کتب
۱۶ احادیث
نواس بن سمعان کلابی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی مثال دی ہے، اس صراط مستقیم کے دونوں جانب دو گھر ہیں، ان گھروں کے دروازے کھلے ہوئے ہیں، دروازوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں، ایک پکارنے والا اس راستے کے سرے پر کھڑا پکار رہا ہے، اور دوسرا پکارنے والا اوپر سے پکار رہا ہے، ( پھر آپ نے یہ آیت پڑھی ) «والله يدعوا إلى دار السلام ويهدي من يشاء إلى صراط مستقيم» ”اللہ تعالیٰ دارالسلام ( جنت کی طرف ) بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ”صراط مستقیم“ کی ہدایت دیتا ہے“، تو وہ دروازے جو صراط مستقیم کے دونوں جانب ہیں وہ حدود اللہ ہیں ۱؎ تو کوئی شخص جب تک پردہ کھول نہ دیا جائے، حدود اللہ میں داخل نہیں ہو سکتا اور اوپر سے پکارنے والا اس کے رب کا واعظ ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن کو سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے زکریا بن عدی کو سنا وہ کہتے تھے کہ ابواسحاق فزاری نے کہا: بقیہ ( راوی ) تم سے جو ثقہ راویوں کے ذریعہ روایت کریں اسے لے لو اور اسماعیل بن عیاش کی روایت نہ لو خواہ وہ ثقہ سے روایت کریں یا غیر ثقہ سے۔
حدثنا علي بن حجر السعدي، قال حدثنا بقية بن الوليد، عن بحير بن سعد، عن خالد بن معدان، عن جبير بن نفير، عن النواس بن سمعان الكلابي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله ضرب مثلا صراطا مستقيما على كنفى الصراط سوران لهما ابواب مفتحة على الابواب ستور وداع يدعو على راس الصراط وداع يدعو فوقه: (والله يدعو الى دار السلام ويهدي من يشاء الى صراط مستقيم) والابواب التي على كنفى الصراط حدود الله فلا يقع احد في حدود الله حتى يكشف الستر والذي يدعو من فوقه واعظ ربه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . قال سمعت عبد الله بن عبد الرحمن يقول سمعت زكريا بن عدي يقول قال ابو اسحاق الفزاري خذوا عن بقية ما حدثكم عن الثقات ولا تاخذوا عن اسماعيل بن عياش ما حدثكم عن الثقات ولا غير الثقات
جابر بن عبداللہ انصاری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے پاس آئے اور فرمایا: ”میں نے خواب دیکھا ہے کہ جبرائیل میرے سر کے پاس ہیں اور میکائیل میرے پیروں کے پاس، ان دونوں میں سے ایک اپنے دوسرے ساتھی سے کہہ رہا تھا: ان کی کوئی مثال پیش کرو، تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: آپ سنیں، آپ کے کان ہمیشہ سنتے رہیں، آپ سمجھیں، آپ کا دل عقل ( سمجھ، علم و حکمت ) سے بھرا رہے۔ آپ کی مثال اور آپ کی امت کی مثال ایک ایسے بادشاہ کی ہے جس نے ایک شہر آباد کیا، اس شہر میں ایک گھر بنایا پھر ایک دستر خوان بچھایا، پھر قاصد کو بھیج کر لوگوں کو کھانے پر بلایا، تو کچھ لوگوں نے اس کی دعوت قبول کر لی اور کچھ لوگوں نے بلانے والے کی دعوت ٹھکرا دی ( کچھ پرواہ ہی نہ کی ) اس مثال میں یہ سمجھو کہ اللہ بادشاہ ہے، اور ”دار“ سے مراد اسلام ہے اور ”بیت“ سے مراد جنت ہے اور آپ اے محمد! رسول و قاصد ہیں۔ جس نے آپ کی دعوت قبول کر لی وہ اسلام میں داخل ہو گیا اور جو اسلام میں داخل ہو گیا وہ جنت میں داخل ہو گیا تو اس نے وہ سب کچھ کھایا جو جنت میں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اور وہ سندیں اس حدیث کی سند سے زیادہ صحیح ہیں، ۲- یہ مرسل حدیث ہے ( یعنی منقطع ہے ) ۳- سعید بن ابی ہلال نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم کو نہیں پایا ہے، ۴- اس باب میں ابن مسعود رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن ابي هلال، ان جابر بن عبد الله الانصاري، قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فقال " اني رايت في المنام كان جبريل عند راسي وميكاييل عند رجلى يقول احدهما لصاحبه اضرب له مثلا . فقال اسمع سمعت اذنك واعقل عقل قلبك انما مثلك ومثل امتك كمثل ملك اتخذ دارا ثم بنى فيها بيتا ثم جعل فيها مايدة ثم بعث رسولا يدعو الناس الى طعامه فمنهم من اجاب الرسول ومنهم من تركه فالله هو الملك والدار الاسلام والبيت الجنة وانت يا محمد رسول فمن اجابك دخل الاسلام ومن دخل الاسلام دخل الجنة ومن دخل الجنة اكل ما فيها " . وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن النبي صلى الله عليه وسلم باسناد اصح من هذا . قال ابو عيسى هذا حديث مرسل . سعيد بن ابي هلال لم يدرك جابر بن عبد الله . وفي الباب عن ابن مسعود
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی۔ پھر پلٹے تو عبداللہ بن مسعود کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور انہیں ساتھ لیے ہوئے مکہ کی پتھریلی زمین کی طرف نکل گئے ( وہاں ) انہیں ( ایک جگہ ) بٹھا دیا۔ پھر ان کے چاروں طرف لکیریں کھینچ دیں، اور ان سے کہا: ”ان لکیروں سے باہر نکل کر ہرگز نہ جانا۔ تمہارے قریب بہت سے لوگ آ کر رکیں گے لیکن تم ان سے بات نہ کرنا، اور وہ خود بھی تم سے بات نہ کریں گے“۔ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں جانا چاہتے تھے وہاں چلے گئے، اسی دوران کہ میں اپنے دائرہ کے اندر بیٹھا ہوا تھا کچھ لوگ میرے پاس آئے وہ جاٹ لگ رہے تھے ۱؎، ان کے بال اور جسم نہ مجھے ننگے دکھائی دے رہے تھے اور نہ ہی ( ان کے جسموں پر مجھے ) لباس نظر آ رہا تھا، وہ میرے پاس آ کر رک جاتے اور لکیر کو پار نہ کرتے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نکل جاتے، یہاں تک کہ جب رات ختم ہونے کو آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں بیٹھا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”رات ہی سے اپنے آپ کو دیکھتا ہوں ( یعنی میں سو نہ سکا ) پھر آپ دائرے کے اندر داخل ہو کر میرے پاس آئے۔ اور میری ران کا تکیہ بنا کر سو گئے، آپ سونے میں خراٹے لینے لگتے تھے، تو اسی دوران کہ میں بیٹھا ہوا تھا اور آپ میری ران کا تکیہ بنائے ہوئے سو رہے تھے۔ یکایک میں نے اپنے آپ کو ایسے لوگوں کے درمیان پایا جن کے کپڑے سفید تھے، اللہ خوب جانتا ہے کہ انہیں کس قدر خوبصورتی حاصل تھی۔ وہ لوگ میرے پاس آ کر رک گئے، ان میں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے بیٹھ گئے اور کچھ لوگ آپ کے پائتانے، پھر ان لوگوں نے آپس میں باتیں کرتے ہوئے کہا: ہم نے کسی بندے کو کبھی نہیں دیکھا جسے اتنا ملا ہو جتنا اس نبی کو ملا ہے۔ ان کی آنکھیں سوتی ہیں اور ان کا دل بیدار رہتا ہے۔ ان کے لیے کوئی مثال پیش کرو ( پھر انہوں نے کہا ان کی مثال ) ایک سردار کی مثال ہے جس نے ایک محل بنایا، پھر ایک دستر خوان بچھایا اور لوگوں کو اپنے دستر خوان پر کھانے پینے کے لیے بلایا، تو جس نے ان کی دعوت قبول کر لی وہ ان کے کھانے پینے سے فیض یاب ہوا۔ اور جس نے ان کی دعوت قبول نہ کی وہ ( سردار ) اسے سزا دے گا پھر وہ لوگ اٹھ کر چلے گئے۔ اور ان کے جاتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”سنا، کیا کہا انہوں نے؟ اور یہ کون لوگ تھے؟ میں نے کہا: اللہ اور اللہ کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”وہ فرشتے تھے۔ تم سمجھتے ہو انہوں نے کیا مثال دی ہے؟“ میں نے ( پھر ) کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”انہوں نے جو مثال دی ہے وہ ہے رحمن ( اللہ ) تبارک و تعالیٰ کی، رحمن نے جنت بنائی، اور اپنے بندوں کو جنت کی دعوت دی۔ تو جس نے دعوت قبول کر لی وہ جنت میں داخل ہو گیا اور جو اس کی دعوت نہ قبول کرے گا وہ اسے عذاب و عقاب سے دوچار کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابو تمیمہ: ہجیمی ہیں اور ان کا نام طریف بن مجالد ہے، ۳- ابوعثمان نہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے، ۴- سلیمان تیمی جن سے یہ حدیث معتمر نے روایت کی ہے وہ سلیمان بن طرخان ہیں، وہ اصلاً تیمی نہ تھے، لیکن وہ بنی تیم میں آیا جایا کرتے تھے جس کی وجہ سے وہ تیمی مشہور ہو گئے۔ علی ابن المدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید کہتے تھے: میں نے سلیمان تیمی سے زیادہ کسی کو اللہ سے ڈرنے والا نہیں دیکھا۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مثال اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کی مثال، اس شخص کی طرح ہے جس نے گھر بنایا، گھر کو مکمل کیا اور اسے خوبصورت بنایا، سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے ۱؎۔ لوگ اس گھر میں آنے لگے اور اسے دیکھ کر تعجب کرنے لگے، اور کہنے لگے: کاش یہ ایک اینٹ کی جگہ ( بھی ) خالی نہ ہوتی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابی بن کعب اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، قال حدثنا محمد بن سنان، قال حدثنا سليم بن حيان بصري، قال حدثنا سعيد بن ميناء، عن جابر بن عبد الله، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " انما مثلي ومثل الانبياء قبلي كرجل بنى دارا فاكملها واحسنها الا موضع لبنة فجعل الناس يدخلونها ويتعجبون منها ويقولون لولا موضع اللبنة " . وفي الباب عن ابى بن كعب وابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
حارث اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو پانچ باتوں کا حکم دیا کہ وہ خود ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں۔ قریب تھا کہ وہ اس حکم کی تعمیل میں سستی و تاخیر کریں عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ تم خود ان پر عمل کرو اور بنی اسرائیل کو بھی حکم دو کہ وہ بھی اس پر عمل کریں، یا تو تم ان کو حکم دو یا پھر میں ان کو حکم دیتا ہوں۔ یحییٰ نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ اگر آپ نے ان امور پر مجھ سے سبقت کی تو میں زمین میں دھنسا نہ دیا جاؤں یا عذاب میں مبتلا نہ کر دیا جاؤں، پھر انہوں نے لوگوں کو بیت المقدس میں جمع کیا، مسجد لوگوں سے بھر گئی۔ لوگ کنگوروں پر بھی جا بیٹھے، پھر انہوں نے کہا: اللہ نے ہمیں پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ میں خود بھی ان پر عمل کروں اور تمہیں حکم دوں کہ تم بھی ان پر عمل کرو۔ پہلی چیز یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور اس شخص کی مثال جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس آدمی کی ہے جس نے ایک غلام خالص اپنے مال سے سونا یا چاندی دے کر خریدا، اور ( اس سے ) کہا: یہ میرا گھر ہے اور یہ میرا پیشہ ( روز گار ) ہے تو تم کام کرو اور منافع مجھے دو، سو وہ کام کرتا ہے اور نفع اپنے مالک کے سوا کسی اور کو دیتا ہے، تو بھلا کون شخص یہ پسند کر سکتا ہے کہ اس کا غلام اس قسم کا ہو، ۲- اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں نماز کا حکم دیا ہے تو جب تم نماز پڑھو تو ادھر ادھر نہ دیکھو۔ کیونکہ اللہ اپنا چہرہ نماز پڑھتے ہوئے بندے کے چہرے کی طرف رکھتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہ دیکھے، ۳- اور تمہیں روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اور اس کی مثال اس آدمی کی ہے جو ایک جماعت کے ساتھ ہے۔ اس کے ساتھ ایک تھیلی ہے جس میں مشک ہے اور ہر ایک کو اس کی خوشبو بھاتی ہے۔ اور روزہ دار کے منہ کی بو مشک کی خوشبو سے بڑھ کر ہے، ۴- اور تمہیں صدقہ و زکاۃ دینے کا حکم دیا ہے۔ اس کی مثال اس شخص کی ہے جسے دشمن نے قیدی بنا لیا ہے اور اس کے ہاتھ اس کے گردن سے ملا کر باندھ دیئے ہیں، اور اسے لے کر چلے تاکہ اس کی گردن اڑا دیں تو اس ( قیدی ) نے کہا کہ میرے پاس تھوڑا زیادہ جو کچھ مال ہے میں تمہیں فدیہ دے کر اپنے کو چھڑا لینا چاہتا ہوں، پھر انہیں فدیہ دے کر اپنے کو آزاد کرا لیا ۱؎، ۵- اور اس نے حکم دیا ہے کہ تم اللہ کا ذکر کرو۔ اس کی مثال اس آدمی کی مثال ہے جس کا پیچھا دشمن تیزی سے کرے اور وہ ایک مضبوط قلعہ میں پہنچ کر اپنی جان کو ان ( دشمنوں ) سے بچا لے۔ ایسے ہی بندہ ( انسان ) اپنے کو شیطان ( کے شر ) سے اللہ کے ذکر کے بغیر نہیں بچا سکتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی تمہیں ان پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کا حکم مجھے اللہ نے دیا ہے ( ۱ ) بات سننا ( ۲ ) ( سننے کے بعد ) اطاعت کرنا ( ۳ ) جہاد کرنا ( ۴ ) ہجرت کرنا ( ۵ ) جماعت کے ساتھ رہنا کیونکہ جو جماعت سے ایک بالشت بھی ہٹا ( علیحدہ ہوا ) اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے باہر نکال پھینکا۔ مگر یہ کہ پھر اسلام میں واپس آ جائے۔ اور جس نے جاہلیت کا نعرہ لگایا تو وہ جہنم کے ایندھنوں میں سے ایک ایندھن ہے۔ ( یہ سن کر ) ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔ اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے۔ تو تم اللہ کے بندو! اس اللہ کے پکار کی دعوت دو ۲؎ جس نے تمہارا نام مسلم و مومن رکھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: حارث اشعری صحابی ہیں اور اس حدیث کے علاوہ بھی ان سے حدیثیں مروی ہیں۔
اس سند سے بھی حارث اشعری رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح اسی کی ہم معنی حدیث روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۲- ابوسلام حبشی کا نام ممطور ہے، ۳- اس حدیث کو علی بن مبارک نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا ابو داود الطيالسي، قال حدثنا ابان بن يزيد، عن يحيى بن ابي كثير، عن زيد بن سلام، عن ابي سلام، عن الحارث الاشعري، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . وابو سلام الحبشي اسمه ممطور وقد رواه علي بن المبارك عن يحيى بن ابي كثير
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے سنگترے کی سی ہے جس کی خوشبو بھی اچھی ہے اور ذائقہ و مزہ بھی اچھا ہے، اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اس کھجور کی سی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہے اور مزہ میٹھا ہے۔ اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے خوشبودار پودے کی ہے جس کی بو، مہک تو اچھی ہے مزہ کڑوا ہے۔ اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا ہے اندرائن ( حنظل ) ( ایک کڑوا پھل ) کی طرح ہے جس کی بو بھی اچھی نہیں اور مزہ بھی اچھا نہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے شعبہ نے قتادہ سے بھی روایت کیا ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس، عن ابي موسى الاشعري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مثل المومن الذي يقرا القران كمثل الاترجة ريحها طيب وطعمها طيب ومثل المومن الذي لا يقرا القران كمثل التمرة لا ريح لها وطعمها حلو ومثل المنافق الذي يقرا القران كمثل الريحانة ريحها طيب وطعمها مر ومثل المنافق الذي لا يقرا القران كمثل الحنظلة ريحها مر وطعمها مر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد رواه شعبة عن قتادة ايضا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال اس کھیتی کی سی ہے جسے ہوائیں ( ادھر ادھر ) ہلاتی رہتی ہیں۔ ( ایسا ہی مومن ہے ) مومن پر بلائیں برابر آتی رہتی ہیں، اور منافق کی مثال صنوبر ( اشوک ) کے درخت کی ہے، وہ اپنی جگہ سے ہلتا نہیں جب تک کہ کاٹ نہ دیا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، وغير، واحد، قالوا حدثنا عبد الرزاق، قال اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مثل المومن كمثل الزرع لا تزال الرياح تفييه ولا يزال المومن يصيبه بلاء ومثل المنافق كمثل الشجرة الارز لا تهتز حتى تستحصد " . هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کا پتا نہیں جھڑتا، یہ مومن کی مثال ہے تو مجھے بتاؤ یہ کون سا درخت ہے؟ عبداللہ کہتے ہیں: لوگ اسے جنگلوں کے درختوں میں ڈھونڈنے لگے، اور میرے دل میں آیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کھجور ہے“، مجھے شرم آ گئی کہ میں ( چھوٹا ہو کر بڑوں کے سامنے ) بولوں ( جب کہ لوگ خاموش ہیں ) پھر میں نے ( اپنے والد ) عمر رضی الله عنہ کو وہ بات بتائی جو میرے دل میں آئی تھی، تو انہوں نے کہا ( میرے بیٹے ) اگر تم نے یہ بات بتا دی ہوتی تو یہ چیز مجھے اس سے زیادہ عزیز و محبوب ہوتی کہ میرے پاس اس اس طرح کا مال اور یہ یہ چیزیں ہوتیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان من الشجر شجرة لا يسقط ورقها وهي مثل المومن حدثوني ما هي " . قال عبد الله فوقع الناس في شجر البوادي ووقع في نفسي انها النخلة . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هي النخلة " . فاستحييت ان اقول قال عبد الله فحدثت عمر بالذي وقع في نفسي . فقال لان تكون قلتها احب الى من ان يكون لي كذا وكذا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ابي هريرة رضى الله عنه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا بتاؤ تو صحیح، اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس نہر میں ہر دن پانچ بار نہائے تو کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل کچیل رہے گا؟ صحابہ نے کہا: اس کے جسم پر تھوڑا بھی میل نہیں رہے گا۔ آپ نے فرمایا: ”یہی مثال ہے پانچوں نمازوں کی، ان نمازوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- قتیبہ کہتے ہیں: ہم سے بکر بن مضر قرشی نے ابن الہاد کے واسطہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ ۳- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن الهاد، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ارايتم لو ان نهرا بباب احدكم يغتسل منه كل يوم خمس مرات هل يبقى من درنه شيء " . قالوا لا يبقى من درنه شيء . قال " فذلك مثل الصلوات الخمس يمحو الله بهن الخطايا " . وفي الباب عن جابر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
حدثنا قتيبة، قال حدثنا بكر بن مضر القرشي، عن ابن الهاد، نحوه
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کی مثال بارش کی ہے، نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا اول بہتر ہے یا اس کا آخر“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عمار، عبداللہ بن عمرو اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- عبدالرحمٰن بن مہدی سے روایت ہے کہ وہ حماد بن یحییٰ الابح کی تائید و تصدیق کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ ہمارے اساتذہ میں سے ہیں۔ فائدہ ۱؎: معلوم ہوا کہ امت کا ہر فرد بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، نہیں معلوم اس میں سے کس کو کب اور کس وقت دوسرے سے خیر و برکت پہنچ جائے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا حماد بن يحيى الابح، عن ثابت البناني، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مثل امتي مثل المطر لا يدرى اوله خير ام اخره " . قال وفي الباب عن عمار وعبد الله بن عمرو وابن عمر وهذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وروي عن عبد الرحمن بن مهدي انه كان يثبت حماد بن يحيى الابح وكان يقول هو من شيوخنا
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کنکریاں پھینکتے ہوئے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے اور یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو بہتر معلوم ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ امید ( و آرزو ) ہے اور یہ اجل ( موت ) ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، قال حدثنا خلاد بن يحيى، قال حدثنا بشير بن المهاجر، قال اخبرنا عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " هل تدرون ما هذه وما هذه " . ورمى بحصاتين . قالوا الله ورسوله اعلم . قال " هذاك الامل وهذاك الاجل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری مدت گزری ہوئی امتوں کے مقابل میں عصر سے مغرب تک کی درمیانی مدت کی طرح ہے ( یعنی بہت مختصر تھوڑی ) تمہاری مثال اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے کئی مزدور رکھے۔ اس نے کہا: میرے یہاں کون فی کس ایک قیراط پر دوپہر تک کام کرتا ہے؟ تو یہود نے ایک ایک قیراط پر کام کیا، پھر اس نے کہا: میرے یہاں کون مزدوری کرتا ہے دوپہر سے عصر تک فی کس ایک ایک قیراط پر؟ تو نصاریٰ نے ایک قیراط پر کام کیا۔ پھر تم ( مسلمان ) کام کرتے ہو عصر سے سورج ڈوبنے تک فی کس دو دو قیراط پر۔ ( یہ دیکھ کر ) یہود و نصاریٰ غصہ ہو گئے، انہوں نے کہا: ہمارا کام زیادہ ہے اور مزدوری تھوڑی ہے؟، اللہ نے فرمایا: کیا تمہارا حق کچھ کم کر کے میں نے تم پر ظلم کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو اس نے کہا: یہ میرا فضل و انعام ہے میں جسے چاہوں دوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انما اجلكم فيما خلا من الامم كما بين صلاة العصر الى مغارب الشمس وانما مثلكم ومثل اليهود والنصارى كرجل استعمل عمالا فقال من يعمل لي الى نصف النهار على قيراط قيراط فعملت اليهود على قيراط قيراط فقال من يعمل لي من نصف النهار الى العصر على قيراط قيراط فعملت النصارى على قيراط قيراط ثم انتم تعملون من صلاة العصر الى مغارب الشمس على قيراطين قيراطين فغضبت اليهود والنصارى وقالوا نحن اكثر عملا واقل عطاء . قال هل ظلمتكم من حقكم شييا قالوا لا . قال فانه فضلي اوتيه من اشاء " . هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ سو اونٹ کی طرح ہیں۔ آدمی ان میں سے ایک بھی سواری کے قابل نہیں پاتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال وغير واحد، قالوا حدثنا عبد الرزاق، قال اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما الناس كابل ماية لا يجد الرجل فيها راحلة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
سفیان بن عیینہ زہری سے اسی سند سے اسی طرح روایت کرتے ہیں اور انہوں نے کہا: تم ان میں ایک بھی سواری کے قابل نہ پاؤ گے، یا یہ کہا: تم ان میں سے صرف ایک سواری کے قابل پا سکو گے۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، قال حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، بهذا الاسناد نحوه وقال لا تجد فيها راحلة او قال لا تجد فيها الا راحلة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اور میری امت کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے آگ جلائی تو مکھیاں اور پتنگے اس میں پڑنے لگے ( یہی حال تمہارا اور ہمارا ہے ) میں تمہاری کمر پکڑ پکڑ کر تمہیں بچا رہا ہوں اور تم ہو کہ اس میں ( جہنم کی آگ میں ) بلا سوچے سمجھے گھسے چلے جا رہے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انما مثلي ومثل امتي كمثل رجل استوقد نارا فجعلت الذباب والفراش يقعن فيها وانا اخذ بحجزكم وانتم تقحمون فيها " . قال هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا ابن ابي عدي، عن جعفر بن ميمون، عن ابي تميمة الهجيمي، عن ابي عثمان، عن ابن مسعود، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم العشاء ثم انصرف فاخذ بيد عبد الله بن مسعود حتى خرج به الى بطحاء مكة فاجلسه ثم خط عليه خطا ثم قال " لا تبرحن خطك فانه سينتهي اليك رجال فلا تكلمهم فانهم لا يكلمونك " . قال ثم مضى رسول الله صلى الله عليه وسلم حيث اراد فبينا انا جالس في خطي اذ اتاني رجال كانهم الزط اشعارهم واجسامهم لا ارى عورة ولا ارى قشرا وينتهون الى لا يجاوزون الخط ثم يصدرون الى رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اذا كان من اخر الليل لكن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد جاءني وانا جالس فقال " لقد اراني منذ الليلة " . ثم دخل على في خطي فتوسد فخذي فرقد وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا رقد نفخ فبينا انا قاعد ورسول الله صلى الله عليه وسلم متوسد فخذي اذا انا برجال عليهم ثياب بيض الله اعلم ما بهم من الجمال فانتهوا الى فجلس طايفة منهم عند راس رسول الله صلى الله عليه وسلم وطايفة منهم عند رجليه ثم قالوا بينهم ما راينا عبدا قط اوتي مثل ما اوتي هذا النبي ان عينيه تنامان وقلبه يقظان اضربوا له مثلا مثل سيد بنى قصرا ثم جعل مادبة فدعا الناس الى طعامه وشرابه فمن اجابه اكل من طعامه وشرب من شرابه ومن لم يجبه عاقبه او قال عذبه - ثم ارتفعوا واستيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك فقال " سمعت ما قال هولاء وهل تدري من هولاء " . قلت الله ورسوله اعلم . قال " هم الملايكة فتدري ما المثل الذي ضربوا " . قلت الله ورسوله اعلم . قال " المثل الذي ضربوا الرحمن تبارك وتعالى بنى الجنة ودعا اليها عباده فمن اجابه دخل الجنة ومن لم يجبه عاقبه او عذبه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه وابو تميمة هو الهجيمي واسمه طريف بن مجالد وابو عثمان النهدي اسمه عبد الرحمن بن مل وسليمان التيمي قد روى هذا الحديث عنه معتمر وهو سليمان بن طرخان ولم يكن تيميا وانما كان ينزل بني تيم فنسب اليهم . قال علي قال يحيى بن سعيد ما رايت اخوف لله تعالى من سليمان التيمي
حدثنا محمد بن اسماعيل، قال حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا ابان بن يزيد، قال حدثنا يحيى بن ابي كثير، عن زيد بن سلام، ان ابا سلام، حدثه ان الحارث الاشعري حدثه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله امر يحيى بن زكريا بخمس كلمات ان يعمل بها ويامر بني اسراييل ان يعملوا بها وانه كاد ان يبطي بها فقال عيسى ان الله امرك بخمس كلمات لتعمل بها وتامر بني اسراييل ان يعملوا بها فاما ان تامرهم واما انا امرهم . فقال يحيى اخشى ان سبقتني بها ان يخسف بي او اعذب فجمع الناس في بيت المقدس فامتلا المسجد وقعدوا على الشرف فقال ان الله امرني بخمس كلمات ان اعمل بهن وامركم ان تعملوا بهن اولهن ان تعبدوا الله ولا تشركوا به شييا وان مثل من اشرك بالله كمثل رجل اشترى عبدا من خالص ماله بذهب او ورق فقال هذه داري وهذا عملي فاعمل واد الى فكان يعمل ويودي الى غير سيده فايكم يرضى ان يكون عبده كذلك وان الله امركم بالصلاة فاذا صليتم فلا تلتفتوا فان الله ينصب وجهه لوجه عبده في صلاته ما لم يلتفت وامركم بالصيام فان مثل ذلك كمثل رجل في عصابة معه صرة فيها مسك فكلهم يعجب او يعجبه ريحها وان ريح الصايم اطيب عند الله من ريح المسك وامركم بالصدقة فان مثل ذلك كمثل رجل اسره العدو فاوثقوا يده الى عنقه وقدموه ليضربوا عنقه فقال انا افديه منكم بالقليل والكثير . ففدى نفسه منهم وامركم ان تذكروا الله فان مثل ذلك كمثل رجل خرج العدو في اثره سراعا حتى اذا اتى على حصن حصين فاحرز نفسه منهم كذلك العبد لا يحرز نفسه من الشيطان الا بذكر الله " . قال النبي صلى الله عليه وسلم " وانا امركم بخمس الله امرني بهن السمع والطاعة والجهاد والهجرة والجماعة فانه من فارق الجماعة قيد شبر فقد خلع ربقة الاسلام من عنقه الا ان يرجع ومن ادعى دعوى الجاهلية فانه من جثا جهنم " . فقال رجل يا رسول الله وان صلى وصام قال " وان صلى وصام فادعوا بدعوى الله الذي سماكم المسلمين المومنين عباد الله " . هذا حديث حسن صحيح غريب . قال محمد بن اسماعيل الحارث الاشعري له صحبة وله غير هذا الحديث