Loading...

Loading...
کتب
۲۲۳ احادیث
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم سے نکلے گا ( شعبہ نے اپنی روایت میں کہا ہے: ( اللہ تعالیٰ کہے گا، اسے جہنم سے نکال لو ) جس نے «لا إلٰہ إلا اللہ» کہا اور اس کے دل میں ایک جو کے دانہ کے برابر بھلائی تھی، اسے جہنم سے نکالو جس نے «لا إلٰہ إلا اللہ» کہا، اور اس کے دل میں گیہوں کے دانہ کے برابر بھلائی تھی، اسے جہنم سے نکالو جس نے «لا إلٰہ إلا اللہ» کہا اس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھلائی تھی۔ ( شعبہ نے کہا ہے: جوار کے برابر بھلائی تھی ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابو سعید خدری اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، حدثنا شعبة، وهشام، عن قتادة، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال - قال هشام " يخرج من النار " . وقال شعبة " اخرجوا من النار من قال لا اله الا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن شعيرة اخرجوا من النار من قال لا اله الا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن برة اخرجوا من النار من قال لا اله الا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن ذرة " . وقال شعبة " ما يزن ذرة " . مخففة . وفي الباب عن جابر وعمران بن حصين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کہے گا: اسے جہنم سے نکال لو جس نے ایک دن بھی مجھے یاد کیا یا ایک مقام پر بھی مجھ سے ڈرا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا ابو داود، عن مبارك بن فضالة، عن عبيد الله بن ابي بكر بن انس، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يقول الله اخرجوا من النار من ذكرني يوما او خافني في مقام " . قال هذا حديث حسن غريب
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم سے سب سے آخر میں نکلنے والے آدمی کو میں جانتا ہوں، وہ ایسا آدمی ہو گا جو سرین کے بل چلتے ہوئے نکلے گا اور عرض کرے گا: اے میرے رب! لوگ جنت کی تمام جگہ لے چکے ہوں گے“، آپ نے فرمایا: ”اس سے کہا جائے گا: چلو جنت میں داخل ہو جاؤ“، آپ نے فرمایا: ”وہ داخل ہونے کے لیے جائے گا ( جنت کو اس حال میں ) پائے گا کہ لوگ تمام جگہ لے چکے ہیں، وہ واپس آ کر عرض کرے گا: اے میرے رب! لوگ تمام جگہ لے چکے ہیں؟ !“، آپ نے فرمایا: ”اس سے کہا جائے گا: کیا وہ دن یاد ہیں جن میں ( دنیا کے اندر ) تھے؟“ وہ کہے گا: ہاں، اس سے کہا جائے گا: ”آرزو کرو“، آپ نے فرمایا: ”وہ آرزو کرے گا، اس سے کہا جائے گا: تمہارے لیے وہ تمام چیزیں جس کی تم نے آرزو کی ہے اور دنیا کے دس گنا ہے“۔ آپ نے فرمایا: ”وہ کہے گا: ( اے باری تعالیٰ! ) آپ مذاق کر رہے ہیں حالانکہ آپ مالک ہیں“، ابن مسعود کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنستے دیکھا حتیٰ کہ آپ کے اندرونی کے دانت نظر آنے لگے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن عبيدة السلماني، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لاعرف اخر اهل النار خروجا رجل يخرج منها زحفا فيقول يا رب قد اخذ الناس المنازل . قال فيقال له انطلق فادخل الجنة . قال فيذهب ليدخل فيجد الناس قد اخذوا المنازل فيرجع فيقول يا رب قد اخذ الناس المنازل . قال فيقال له اتذكر الزمان الذي كنت فيه فيقول نعم . فيقال له تمن . قال فيتمنى فيقال له فان لك ما تمنيت وعشرة اضعاف الدنيا . قال فيقول اتسخر بي وانت الملك " . قال فلقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحك حتى بدت نواجذه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم سے سب سے آخر میں نکلنے اور جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والے آدمی کو میں جانتا ہوں، ایک آدمی کو لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ ( فرشتوں سے ) کہے گا: اس سے اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کے بارے میں پوچھو اور اس کے بڑے گناہوں کو چھپا دو، اس سے کہا جائے گا: تم نے فلاں فلاں دن ایسے ایسے گناہ کئے تھے، تم نے فلاں فلاں دن ایسے ایسے گناہ کیے تھے؟“، آپ نے فرمایا: ”اس سے کہا جائے گا: تمہارے ہر گناہ کے بدلے ایک نیکی ہے“۔ آپ نے فرمایا: ”وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے کچھ ایسے بھی گناہ کیے تھے جسے یہاں نہیں دیکھ رہا ہوں“۔ ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنستے ہوئے دیکھا حتیٰ کہ آپ کے اندرونی دانت نظر آنے لگے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن المعرور بن سويد، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لاعرف اخر اهل النار خروجا من النار واخر اهل الجنة دخولا الجنة يوتى برجل فيقول سلوا عن صغار ذنوبه واخبيوا كبارها . فيقال له عملت كذا وكذا يوم كذا وكذا عملت كذا وكذا في يوم كذا وكذا . قال فيقال له فان لك مكان كل سيية حسنة . قال فيقول يا رب لقد عملت اشياء ما اراها ها هنا " . قال فلقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يضحك حتى بدت نواجذه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موحدین میں سے کچھ لوگ جہنم میں عذاب دئیے جائیں گے، یہاں تک کہ کوئلہ ہو جائیں گے، پھر ان پر رحمت الٰہی سایہ فگن ہو گی تو وہ نکالے جائیں گے اور جنت کے دروازے پر ڈال دئیے جائیں گے“۔ آپ نے فرمایا: ”جنتی ان پر پانی چھڑکیں گے تو وہ ویسے ہی اگیں گے جیسے سیلاب کی مٹیوں میں دانہ اگتا ہے، پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ دوسری سند سے بھی جابر سے مروی ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يعذب ناس من اهل التوحيد في النار حتى يكونوا فيها حمما ثم تدركهم الرحمة فيخرجون ويطرحون على ابواب الجنة . قال فيرش عليهم اهل الجنة الماء فينبتون كما ينبت الغثاء في حمالة السيل ثم يدخلون الجنة " . قال هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن جابر
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم سے وہ آدمی نکلے گا جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو گا، ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے کہا: جس کو شک ہو وہ یہ آیت پڑھے «إن الله لا يظلم مثقال ذرة» ”اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ہے“ ( النساء: ۴۰ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سلمة بن شبيب، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " يخرج من النار من كان في قلبه مثقال ذرة من الايمان " . قال ابو سعيد فمن شك فليقرا: (ان الله لا يظلم مثقال ذرة ) . قال هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں داخل ہونے والوں میں سے دو آدمیوں کی چیخ بلند ہو گی“۔ رب عزوجل کہے گا: ان دونوں کو نکالو، جب انہیں نکالا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: تمہاری چیخ کیوں بلند ہو رہی ہے؟ وہ دونوں عرض کریں گے: ہم نے ایسا اس وجہ سے کیا تاکہ تو ہم پر رحم کر۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم دونوں کے لیے ہماری رحمت یہی ہے کہ تم جاؤ اور اپنے آپ کو اسی جگہ جہنم میں ڈال دو جہاں پہلے تھے۔ وہ دونوں چلیں گے ان میں سے ایک اپنے آپ کو جہنم میں ڈال دے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم کو ٹھنڈا اور سلامتی والی بنا دے گا اور دوسرا کھڑا رہے گا اور اپنے آپ کو نہیں ڈالے گا۔ اس سے رب عزوجل پوچھے گا: تمہیں جہنم میں اپنے آپ کو ڈالنے سے کس چیز نے روکا؟ جیسے تمہارے ساتھی نے اپنے آپ کو ڈالا؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے امید ہے کہ تو جہنم سے نکالنے کے بعد اس میں دوبارہ نہیں داخل کرے گا، اس سے رب تعالیٰ کہے گا: تمہارے لیے تیری تمنا پوری کی جا رہی ہے، پھر وہ دونوں اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کی سند ضعیف ہے، اس لیے کہ یہ رشدین بن سعد کے واسطہ سے مروی ہے، اور رشدین بن سعد محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، اور رشدین عبدالرحمٰن بن انعم سے روایت کرتے ہیں، یہ ابن انعم افریقی ہیں اور افریقی بھی محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله، اخبرنا رشدين بن سعد، حدثني ابن انعم، عن ابي عثمان، انه حدثه عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان رجلين ممن دخل النار اشتد صياحهما فقال الرب عز وجل اخرجوهما . فلما اخرجا قال لهما لاى شيء اشتد صياحكما قالا فعلنا ذلك لترحمنا . قال ان رحمتي لكما ان تنطلقا فتلقيا انفسكما حيث كنتما من النار . فينطلقان فيلقي احدهما نفسه فيجعلها عليه بردا وسلاما ويقوم الاخر فلا يلقي نفسه فيقول له الرب عز وجل ما منعك ان تلقي نفسك كما القى صاحبك فيقول يا رب اني لارجو ان لا تعيدني فيها بعد ما اخرجتني . فيقول له الرب لك رجاوك . فيدخلان جميعا الجنة برحمة الله " . قال ابو عيسى اسناد هذا الحديث ضعيف لانه عن رشدين بن سعد . ورشدين بن سعد هو ضعيف عند اهل الحديث عن ابن انعم وهو الافريقي والافريقي ضعيف عند اهل الحديث
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کی ایک جماعت میری شفاعت کے سبب جہنم سے نکلے گی ان کا نام جہنمی رکھا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا الحسن بن ذكوان، عن ابي رجاء العطاردي، عن عمران بن حصين، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليخرجن قوم من امتي من النار بشفاعتي يسمون الجهنميون " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو رجاء العطاردي اسمه عمران بن تيم ويقال ابن ملحان
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جہنم جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والے سو رہے ہیں اور جنت جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی جس کے طلب کرنے والے سو رہے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس کو ہم صرف یحییٰ بن عبیداللہ کی سند سے جانتے ہیں اور یحییٰ بن عبیداللہ اکثر محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ان کے بارے میں شعبہ نے کلام کیا ہے۔ یحییٰ بن عبیداللہ کے دادا کا نام موہب ہے اور وہ مدنی ہیں۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن يحيى بن عبيد الله، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما رايت مثل النار نام هاربها ولا مثل الجنة نام طالبها " . قال ابو عيسى هذا حديث انما نعرفه من حديث يحيى بن عبيد الله . ويحيى بن عبيد الله ضعيف عند اهل الحديث تكلم فيه شعبة ويحيى بن عبيد الله هو ابن موهب وهو مدني
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جنتی فقیر ہیں اور جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جہنمی عورتیں ہیں“۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، حدثنا ايوب، عن ابي رجاء العطاردي، قال سمعت ابن عباس، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اطلعت في الجنة فرايت اكثر اهلها الفقراء واطلعت في النار فرايت اكثر اهلها النساء
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جہنمی عورتیں ہیں اور جنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جنتی فقیر ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عوف نے سند بیان کرتے ہوئے اس طرح کہا ہے: «عن أبي رجاء عن عمران بن حصين» اور ایوب نے کہا: «عن أبي رجاء عن ابن عباس»، دونوں سندوں میں کوئی کلام نہیں ہے۔ اس بات کا احتمال ہے کہ ابورجاء نے عمران بن حصین اور ابن عباس دونوں سے سنا ہو، عوف کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی یہ حدیث ابورجاء کے واسطہ سے عمران بن حصین سے روایت کی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، ومحمد بن جعفر، وعبد الوهاب الثقفي، قالوا حدثنا عوف، هو ابن ابي جميلة عن ابي رجاء العطاردي، عن عمران بن حصين، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اطلعت في النار فرايت اكثر اهلها النساء واطلعت في الجنة فرايت اكثر اهلها الفقراء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهكذا يقول عوف عن ابي رجاء عن عمران بن حصين ويقول ايوب عن ابي رجاء عن ابن عباس وكلا الاسنادين ليس فيهما مقال ويحتمل ان يكون ابو رجاء سمع منهما جميعا وقد روى غير عوف ايضا هذا الحديث عن ابي رجاء عن عمران بن حصين
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے ہلکا عذاب والا وہ جہنمی ہو گا جس کے تلوے میں دو انگارے ہوں گے جن سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عباس بن عبدالمطلب، ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وهب بن جرير، عن شعبة، عن ابي اسحاق، عن النعمان بن بشير، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان اهون اهل النار عذابا يوم القيامة رجل في اخمص قدميه جمرتان يغلي منهما دماغه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن العباس بن عبد المطلب وابي سعيد الخدري وابي هريرة
حارثہ بن وہب خزاعی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کیا میں تمہیں جنتیوں کے بارے میں نہ بتا دوں؟ ہر کمزور حال آدمی جسے لوگ حقیر سمجھیں اگر وہ اللہ کی قسم کھائے تو اللہ اسے پوری کر دے۔ کیا میں تمہیں جہنمیوں کے بارے میں نہ بتا دوں؟ ہر سرکش، بخیل اور متکبر“، ( جہنم میں جائے گا۔ ) امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن معبد بن خالد، قال سمعت حارثة بن وهب الخزاعي، يقول سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " الا اخبركم باهل الجنة كل ضعيف متضعف لو اقسم على الله لابره الا اخبركم باهل النار كل عتل جواظ متكبر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح