Loading...

Loading...
کتب
۲۲۳ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم اس طرح لائی جائے گی کہ اس کی ستر ہزار لگام ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اسے کھینچ رہے ہوں گے“۔ عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: ثوری نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، عن العلاء بن خالد الكاهلي، عن شقيق بن سلمة، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوتى بجهنم يوميذ لها سبعون الف زمام مع كل زمام سبعون الف ملك يجرونها " . قال عبد الله بن عبد الرحمن والثوري لا يرفعه . حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد الملك بن عمرو ابو عامر العقدي، عن سفيان، عن العلاء بن خالد، بهذا الاسناد نحوه ولم يرفعه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن نکلے گی اس کی دو آنکھیں ہوں گی جو دیکھیں گی، دو کان ہوں گے جو سنیں گے اور ایک زبان ہو گی جو بولے گی، وہ کہے گی: مجھے تین لوگوں پر مقرر کیا گیا ہے: ہر سرکش ظالم پر، ہر اس آدمی پر جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کو پکارتا ہو، اور مجسمہ بنانے والوں پر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- بعض لوگوں نے یہ حدیث «عن الأعمش عن عطية عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی طرح روایت کی ہے، ۴- اشعث بن سوار نے بھی «عن عطية عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی طرح روایت کی ہے۔
حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي، حدثنا عبد العزيز بن مسلم، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يخرج عنق من النار يوم القيامة له عينان تبصران واذنان تسمعان ولسان ينطق يقول اني وكلت بثلاثة بكل جبار عنيد وبكل من دعا مع الله الها اخر وبالمصورين " . وفي الباب عن ابي سعيد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح . وقد رواه بعضهم عن الاعمش عن عطية عن ابي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا وروى اشعث بن سوار عن عطية عن ابي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
حسن بصری کہتے ہیں کہ عتبہ بن غزوان رضی الله عنہ نے ہمارے اس بصرہ کے منبر پر بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ایک بڑا بھاری پتھر جہنم کے کنارہ سے ڈالا جائے تو وہ ستر برس تک اس میں گرتا جائے گا پھر بھی اس کی تہہ تک نہیں پہنچے گا۔ عتبہ کہتے ہیں: عمر رضی الله عنہ کہا کرتے تھے: جہنم کو کثرت یاد کرو، اس لیے کہ اس کی گرمی بہت سخت ہے۔ اس کی گہرائی بہت زیادہ ہے اور اس کے آنکس ( آنکڑے ) لوہے کے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم عتبہ بن غزوان سے حسن بصری کا سماع نہیں جانتے ہیں، عمر رضی الله عنہ کے عہد خلافت میں عتبہ بن غزوان رضی الله عنہ بصرہ آئے تھے، اور حسن بصری کی ولادت اس وقت ہوئی جب عمر رضی الله عنہ کے عہد خلافت کے دو سال باقی تھے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا حسين بن علي الجعفي، عن فضيل بن عياض، عن هشام، عن الحسن، قال قال عتبة بن غزوان على منبرنا هذا منبر البصرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الصخرة العظيمة لتلقى من شفير جهنم فتهوي فيها سبعين عاما وما تفضي الى قرارها " . قال وكان عمر يقول اكثروا ذكر النار فان حرها شديد وان قعرها بعيد وان مقامعها حديد . قال ابو عيسى لا نعرف للحسن سماعا من عتبة بن غزوان وانما قدم عتبة بن غزوان البصرة في زمن عمر وولد الحسن لسنتين بقيتا من خلافة عمر
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صعود» جہنم کا ایک پہاڑ ہے، اس پر کافر ستر سال میں چڑھے گا اور اتنے ہی سال میں نیچے گرے گا اور یہ عذاب اسے ہمیشہ ہوتا رہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا الحسن بن موسى، عن ابن لهيعة، عن دراج، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الصعود جبل من نار يتصعد فيه الكافر سبعين خريفا ويهوي فيه كذلك ابدا " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه مرفوعا الا من حديث ابن لهيعة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر کے چمڑے کی موٹائی بیالیس گز ہو گی، اس کی ڈاڑھ احد پہاڑ جیسی ہو گی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہو گی جتنا مکہ اور مدینہ کے درمیان کا فاصلہ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اعمش کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا عباس الدوري، حدثنا عبيد الله بن موسى، اخبرنا شيبان، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان غلظ جلد الكافر اثنان واربعون ذراعا وان ضرسه مثل احد وان مجلسه من جهنم كما بين مكة والمدينة " . هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث الاعمش
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن کافر کی ڈاڑھ احد پہاڑ جیسی ہو گی، اس کی ران بیضاء ( پہاڑ ) جیسی ہو گی اور جہنم کے اندر اس کے بیٹھنے کی جگہ تین میل کی مسافت کے برابر ہو گی جس طرح ربذہ کی دوری ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- «مثل الربذة» کا مطلب ہے کہ جس طرح ربذہ پہاڑ مدینہ سے دور ہے، ربذہ اور بیضاء احد کی طرح دو پہاڑ ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا محمد بن عمار، حدثني جدي، محمد بن عمار وصالح مولى التوامة عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ضرس الكافر يوم القيامة مثل احد وفخذه مثل البيضاء ومقعده من النار مسيرة ثلاث مثل الربذة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . " ومثل الربذة " كما بين المدينة والربذة . والبيضاء جبل مثل احد
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر کی ڈاڑھ احد جیسی ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا مصعب بن المقدام، عن فضيل بن غزوان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، رفعه قال " ضرس الكافر مثل احد " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وابو حازم هو الاشجعي اسمه سلمان مولى عزة الاشجعية
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر اپنی زبان کو ایک یا دو فرسخ تک گھسیٹے گا اور لوگ اسے روندیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- فضل بن یزید کوفی ہیں، ان سے کئی ائمہ حدیث نے روایت کی ہے، ۳- ابوالمخارق غیر معروف راوی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا علي بن مسهر، عن الفضل بن يزيد، عن ابي المخارق، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الكافر ليسحب لسانه الفرسخ والفرسخين يتوطوه الناس " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب انما نعرفه من هذا الوجه . والفضل بن يزيد هو كوفي قد روى عنه غير واحد من الايمة وابو المخارق ليس بمعروف
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے قول «كالمهل» کے بارے میں فرمایا: ”وہ پانی تلچھٹ کی طرح ہو گا جب اسے ( کافر ) اپنے منہ کے قریب کرے گا تو اس کے چہرے کی کھال اس میں گر جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ہم صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، اور رشدین کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا رشدين بن سعد، عن عمرو بن الحارث، عن دراج، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله: (كالمهل ) قال " كعكر الزيت فاذا قربه الى وجهه سقطت فروة وجهه فيه " . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه الا من حديث رشدين بن سعد . ورشدين قد تكلم فيه من قبل حفظه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں کے سر پر «ماء حمیم» ( گرم پانی ) انڈیلا جائے گا تو وہ ( بدن میں ) سرایت کر جائے گا یہاں تک کہ اس کے پیٹ تک جا پہنچے گا اور اس کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے اسے کاٹے گا یہاں تک کہ اس کے پیروں ( یعنی سرین ) سے نکل جائے گا۔ یہی وہ «صہر» ہے ( جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے ) پھر اسی طرح لوٹا دیا جائے گا جس طرح تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا سعيد بن يزيد، عن ابي السمح، عن ابن حجيرة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الحميم ليصب على رءوسهم فينفذ الحميم حتى يخلص الى جوفه فيسلت ما في جوفه حتى يمرق من قدميه وهو الصهر ثم يعاد كما كان " . وسعيد بن يزيد يكنى ابا شجاع وهو مصري وقد روى عنه الليث بن سعد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . وابن حجيرة هو عبد الرحمن بن حجيرة المصري
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول «ويسقى من ماء صديد يتجرعه» ( ابراہیم: ۱۶ ) کے بارے میں فرمایا: ” «صديد» ( پیپ ) اس کے منہ کے قریب کی جائے گی تو اسے ناپسند کرے گا جب اسے اور قریب کیا جائے گا تو اس کا چہرہ بھن جائے گا اور اس کے سر کی کھال گر جائے گی اور جب اسے پیئے گا تو اس کی آنت کٹ جائے گی یہاں تک کہ اس کے سرین سے نکل جائے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وسقوا ماء حميما فقطع أمعاءهم» ”وہ «ماء حمیم» ( گرم پانی ) پلائے جائیں گے تو وہ ان کی آنتوں کو کاٹ دے گا“ ( سورۃ محمد: ۱۵ ) اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وإن يستغيثوا يغاثوا بماء كالمهل يشوي الوجوه بئس الشراب» ”اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو تلچھٹ کی طرح ہو گا چہرے کو بھون دے گا اور وہ نہایت برا مشروب ہے“ ( الکہف: ۲۹ ) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اسی طرح محمد بن اسماعیل بخاری نے بھی سند میں «عن عبيد الله بن بسر» کہا ہے اور ہم عبیداللہ بن بسر کو صرف اسی حدیث میں جانتے ہیں، ۳- صفوان بن عمر نے عبداللہ بن بسر سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ایک دوسری حدیث روایت کی ہے، عبداللہ بن بسر کے ایک بھائی ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور ان کی ایک بہن نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنی ہے۔ جس عبیداللہ بن بسر سے صفوان بن عمرو نے یہ حدیث روایت کی ہے، یہ صحابی نہیں ہیں کوئی دوسرے آدمی ہیں۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا صفوان بن عمرو، عن عبيد الله بن بسر، عن ابي امامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله: (يسقى من ماء صديد * يتجرعه ) قال " يقرب الى فيه فيكرهه فاذا ادني منه شوى وجهه ووقعت فروة راسه فاذا شربه قطع امعاءه حتى يخرج من دبره يقول الله: (وسقوا ماء حميما فقطع امعاءهم ) ويقول: (وان يستغيثوا يغاثوا بماء كالمهل يشوي الوجوه بيس الشراب ) " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وهكذا قال محمد بن اسماعيل عن عبيد الله بن بسر ولا نعرف عبيد الله بن بسر الا في هذا الحديث وقد روى صفوان بن عمرو عن عبد الله بن بسر صاحب النبي صلى الله عليه وسلم غير هذا الحديث وعبد الله بن بسر له اخ قد سمع من النبي صلى الله عليه وسلم . واخته قد سمعت من النبي صلى الله عليه وسلم . وعبيد الله بن بسر الذي روى عنه صفوان بن عمرو حديث ابي امامة لعله ان يكون اخا عبد الله بن بسر
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «كالمهل» یعنی تلچھٹ کی طرح ہو گا جب اسے ( جہنمی ) اپنے قریب کرے گا تو اس کے چہرے کی کھال اس میں گر جائے گی“۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا رشدين بن سعد، حدثني عمرو بن الحارث، عن دراج، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (كالمهل ) كعكر الزيت فاذا قرب اليه سقطت فروة وجهه فيه " . وبهذا الاسناد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لسرادق النار اربعة جدر كثف كل جدار مثل مسيرة اربعين سنة " . وبهذا الاسناد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لو ان دلوا من غساق يهراق في الدنيا لانتن اهل الدنيا " . قال ابو عيسى هذا حديث انما نعرفه من حديث رشدين بن سعد وفي رشدين مقال وقد تكلم فيه من قبل حفظه . ومعنى قوله " كثف كل جدار " يعني غلظه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» ”تم اللہ سے ڈرنے کی طرح ڈرو اور مسلمان ہی رہتے ہوئے مرو“ ( آل عمران: ۱۰۲ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر «زقوم» تھوہڑ کا ایک قطرہ بھی دنیا کی زمین میں ٹپکا دیا جائے تو دنیا والوں کی معیشت بگڑ جائے، بھلا اس آدمی کا کیا ہو گا جس کی غذا ہی «زقوم» ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، اخبرنا شعبة، عن الاعمش، عن مجاهد، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قرا هذه الاية: (اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن الا وانتم مسلمون ) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو ان قطرة من الزقوم قطرت في دار الدنيا لافسدت على اهل الدنيا معايشهم فكيف بمن يكون طعامه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں پر بھوک مسلط کر دی جائے گی اور یہ عذاب کے برابر ہو جائے گی جس سے وہ دوچار ہوں گے، لہٰذا وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی «ضريع» ( خاردار پودا ) کے کھانے سے کی جائے گی جو نہ انہیں موٹا کرے گا اور نہ ان کی بھوک ختم کرے گا، پھر وہ دوبارہ کھانے کی فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی گلے میں اٹکنے والے کھانے سے کی جائے گی، پھر وہ یاد کریں گے کہ دنیا میں اٹکے ہوئے نوالے کو پانی کے ذریعہ نگلتے تھے، چنانچہ وہ پانی کی فریاد کریں گے اور ان کی فریاد رسی «حميم» ( جہنمیوں کے مواد ) سے کی جائے گی جو لوہے کے برتنوں میں دیا جائے گا جب مواد ان کے چہروں سے قریب ہو گا تو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور جب ان کے پیٹ میں جائے گا تو ان کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے اسے کاٹ ڈالے گا، وہ کہیں گے: جہنم کے داروغہ کو بلاؤ، داروغہ کہیں گے: کیا تمہارے پاس رسول روشن دلائل کے ساتھ نہیں گئے تھے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں، داروغہ کہیں گے: پکارتے رہو، کافروں کی پکار بیکار ہی جائے گی“۔ آپ نے فرمایا: ”جہنمی کہیں گے: مالک کو بلاؤ اور کہیں گے: اے مالک! چاہیئے کہ تیرا رب ہمارا فیصلہ کر دے ( ہمیں موت دیدے ) “، آپ نے فرمایا: ”ان کو مالک جواب دے گا: تم لوگ ( ہمیشہ کے لیے ) اسی میں رہنے والے ہو“۔ اعمش کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا گیا کہ ان کی پکار اور مالک کے جواب میں ایک ہزار سال کا وقفہ ہو گا، آپ نے فرمایا: ”جہنمی کہیں گے: اپنے رب کو پکارو اس لیے کہ تمہارے رب سے بہتر کوئی نہیں ہے، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمارے اوپر شقاوت غالب آ گئی تھی اور ہم گمراہ لوگ تھے، اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال دے اگر ہم پھر ویسا ہی کریں گے تو ظالم ہوں گے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ انہیں جواب دے گا: پھٹکار ہو تم پر اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو“، آپ نے فرمایا: ”اس وقت وہ ہر خیر سے محروم ہو جائیں گے اور اس وقت گدھے کی طرح رینکنے لگیں گے اور حسرت و ہلاکت میں گرفتار ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عبدالرحمٰن ( دارمی ) کہتے ہیں: لوگ اس حدیث کو مرفوعاً نہیں روایت کرتے ہیں، ۲- ہم اس حدیث کو صرف «عن الأعمش عن شمر بن عطية عن شهر بن حوشب عن أم الدرداء عن أبي الدرداء» کی سند سے جانتے ہیں جو ابودرداء کا اپنا قول ہے، مرفوع حدیث نہیں ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا عاصم بن يوسف، حدثنا قطبة بن عبد العزيز، عن الاعمش، عن شمر بن عطية، عن شهر بن حوشب، عن ام الدرداء، عن ابي الدرداء، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يلقى على اهل النار الجوع فيعدل ما هم فيه من العذاب فيستغيثون فيغاثون بطعام من ضريع لا يسمن ولا يغني من جوع فيستغيثون بالطعام فيغاثون بطعام ذي غصة فيذكرون انهم كانوا يجيزون الغصص في الدنيا بالشراب فيستغيثون بالشراب فيرفع اليهم الحميم بكلاليب الحديد فاذا دنت من وجوههم شوت وجوههم فاذا دخلت بطونهم قطعت ما في بطونهم فيقولون ادعوا خزنة جهنم فيقولون الم تك تاتيكم رسلكم بالبينات قالوا بلى . قالوا فادعوا وما دعاء الكافرين الا في ضلال . قال فيقولون ادعوا مالكا فيقولون: (يا مالك ليقض علينا ربك ) قال فيجيبهم: (انكم ماكثون ) " . قال الاعمش نبيت ان بين دعايهم وبين اجابة مالك اياهم الف عام . قال " فيقولون ادعوا ربكم فلا احد خير من ربكم فيقولون: (ربنا غلبت علينا شقوتنا وكنا قوما ضالين * ربنا اخرجنا منها فان عدنا فانا ظالمون ) قال فيجيبهم: (اخسووا فيها ولا تكلمون ) قال فعند ذلك ييسوا من كل خير وعند ذلك ياخذون في الزفير والحسرة والويل " . قال عبد الله بن عبد الرحمن والناس لا يرفعون هذا الحديث . قال ابو عيسى انما نعرف هذا الحديث عن الاعمش عن شمر بن عطية عن شهر بن حوشب عن ام الدرداء عن ابي الدرداء قوله وليس بمرفوع . وقطبة بن عبد العزيز هو ثقة عند اهل الحديث
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ «وهم فيها كالحون» ”کافر جہنم کے اندر بد شکل ہوں گے“ ( المؤمنون: ۱۰۴ ) کے بارے میں فرمایا: ”ان کے چہروں کو آگ جھلس دے گی تو ان کے اوپر کا ہونٹ سکڑ کر بیچ سر تک پہنچ جائے گا اور نیچے کا ہونٹ لٹک کر ناف سے جا لگے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا سويد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن سعيد بن يزيد ابي شجاع، عن ابي السمح، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (وهم فيها كالحون) قال " تشويه النار فتقلص شفته العليا حتى تبلغ وسط راسه وتسترخي شفته السفلى حتى تضرب سرته " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . وابو الهيثم اسمه سليمان بن عمرو بن عبد العتواري وكان يتيما في حجر ابي سعيد
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس کے برابر ایک ٹکڑا ( اور آپ نے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا ) آسمان سے زمین کی طرف جو پانچ سو سال کی مسافت ہے، چھوڑا جائے تو زمین پر رات سے پہلے پہنچ جائے گا اور اگر وہی ٹکڑا زنجیر ( جس کا ذکر ) قرآن میں آیا ہے: «ثم في سلسلة ذرعها سبعون ذراعا فاسلكوه» ( الحاقة: ۳۲ ) کے سر سے چھوڑا جائے تو اس زنجیر کی جڑ یا اس کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے چالیس سال رات اور دن کے گزر جائیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند حسن صحیح ہے، ۲- سعید بن یزید مصری ہیں۔ ان سے لیث بن سعد اور کئی ائمہ نے حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله، اخبرنا سعيد بن يزيد، عن ابي السمح، عن عيسى بن هلال الصدفي، عن عبد الله بن عمرو بن العاصي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو ان رصاصة مثل هذه واشار الى مثل الجمجمة ارسلت من السماء الى الارض وهي مسيرة خمسماية سنة لبلغت الارض قبل الليل ولو انها ارسلت من راس السلسلة لصارت اربعين خريفا الليل والنهار قبل ان تبلغ اصلها او قعرها " . قال ابو عيسى هذا حديث اسناده حسن صحيح . وسعيد بن يزيد هو مصري وقد روى عنه الليث بن سعد وغير واحد من الايمة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری ( دنیا کی ) آگ جسے تم جلاتے ہو جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک ٹکڑا ( حصہ ) ہے“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر یہی آگ رہتی تو کافی ہوتی، آپ نے فرمایا: ”وہ اس سے انہتر حصہ بڑھی ہوئی ہے، ہر حصے کی گرمی اسی آگ کی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ناركم هذه التي يوقد بنو ادم جزء واحد من سبعين جزءا من حر جهنم " . قالوا والله ان كانت لكافية يا رسول الله . قال " فانها فضلت بتسعة وستين جزءا كلهن مثل حرها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهمام بن منبه هو اخو وهب بن منبه وقد روى عنه وهب
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے، اس کے ہر حصے کی گرمی اسی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابوسعید کی روایت سے حسن غریب ہے۔
حدثنا العباس بن محمد الدوري، حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا شيبان، عن فراس، عن عطية، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ناركم هذه جزء من سبعين جزءا من نار جهنم لكل جزء منها حرها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث ابي سعيد
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کی آگ ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سرخ ہو گئی، پھر ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سفید ہو گئی، پھر ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سیاہ ہو گئی، اب وہ سیاہ ہے اور تاریک ہے“۔
حدثنا عباس بن محمد الدوري البغدادي، حدثنا يحيى بن ابي بكير، حدثنا شريك، عن عاصم، هو ابن بهدلة عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اوقد على النار الف سنة حتى احمرت ثم اوقد عليها الف سنة حتى ابيضت ثم اوقد عليها الف سنة حتى اسودت فهي سوداء مظلمة " . حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن شريك، عن عاصم، عن ابي صالح، او رجل اخر عن ابي هريرة، نحوه ولم يرفعه . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة في هذا موقوف اصح ولا اعلم احدا رفعه غير يحيى بن ابي بكير عن شريك
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی کہ میرا بعض حصہ بعض حصے کو کھائے جا رہا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دو سانسیں مقرر کر دیں: ایک سانس گرمی میں اور ایک سانس جاڑے میں، جہنم کے جاڑے کی سانس سے سخت سردی پڑتی ہے۔ اور اس کی گرمی کی سانس سے لو چلتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سند سے بھی مروی ہے، ۳- مفضل بن صالح محدثین کے نزدیک کوئی قوی حافظے والے نہیں ہیں۔
حدثنا محمد بن عمر بن الوليد الكندي الكوفي، حدثنا المفضل بن صالح، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اشتكت النار الى ربها وقالت اكل بعضي بعضا فجعل لها نفسين نفسا في الشتاء ونفسا في الصيف فاما نفسها في الشتاء فزمهرير واما نفسها في الصيف فسموم " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح قد روي عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير وجه . والمفضل بن صالح ليس عند اهل الحديث بذلك الحافظ