Loading...

Loading...
کتب
۹ احادیث
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں سب سے اچھے گواہ کے بارے میں نہ بتا دوں؟ سب سے اچھا گواہ وہ آدمی ہے جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دے“ ۱؎۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو بن عثمان، عن ابي عمرة الانصاري، عن زيد بن خالد الجهني، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الا اخبركم بخير الشهداء الذي ياتي بالشهادة قبل ان يسالها
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اکثر لوگوں نے اپنی روایت میں عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کہا ہے۔ ۳- اس حدیث کی روایت کرنے میں مالک کے شاگردوں کا اختلاف ہے، بعض راویوں نے اسے ابی عمرہ سے روایت کیا ہے، اور بعض نے ابن ابی عمرہ سے، ان کا نام عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری ہے، ابن ابی عمرہ زیادہ صحیح ہے، کیونکہ مالک کے سوا دوسرے راویوں نے «عن عبدالرحمٰن بن أبي عمرة عن زيد بن خالد» کہا ہے «عن ابن أبي عمرة عن زيد بن خالد» کی سند سے اس کے علاوہ دوسری حدیث بھی مروی ہے، اور وہ صحیح حدیث ہے، ابو عمرہ زید بن خالد جہنی کے آزاد کردہ غلام تھے، اور ابو عمرہ کے واسطہ سے خالد سے حدیث غلول مروی ہے، اکثر لوگ عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ ہی کہتے ہیں ۱؎۔
حدثنا احمد بن الحسن، حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، نحوه وقال ابن ابي عمرة . قال هذا حديث حسن . واكثر الناس يقولون عبد الرحمن بن ابي عمرة واختلفوا على مالك في رواية هذا الحديث فروى بعضهم عن ابي عمرة وروى بعضهم عن ابن ابي عمرة وهو عبد الرحمن بن ابي عمرة الانصاري وهذا اصح لانه قد روي من غير حديث مالك عن عبد الرحمن بن ابي عمرة عن زيد بن خالد وقد روي عن ابن ابي عمرة عن زيد بن خالد غير هذا الحديث وهو حديث صحيح ايضا وابو عمرة مولى زيد بن خالد الجهني وله حديث الغلول واكثر الناس يقولون عبد الرحمن بن ابي عمرة
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”سب سے بہتر گواہ وہ ہے جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے اپنی گواہی کا فریضہ ادا کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا بشر بن ادم ابن بنت ازهر السمان، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا ابى بن عباس بن سهل بن سعد، حدثني ابو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، حدثني عبد الله بن عمرو بن عثمان، حدثني خارجة بن زيد بن ثابت، حدثني عبد الرحمن بن ابي عمرة، حدثني زيد بن خالد الجهني، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " خير الشهداء من ادى شهادته قبل ان يسالها " . قال هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیانت کرنے والے مرد اور عورت کی گواہی درست اور مقبول نہیں ہے، اور نہ ان مردوں اور عورتوں کی گواہی مقبول ہے جن پر حد نافذ ہو چکی ہے، نہ اپنے بھائی سے دشمنی رکھنے والے کی گواہی مقبول ہے، نہ اس آدمی کی جس کی ایک بار جھوٹی گواہی آزمائی جا چکی ہو، نہ اس شخص کی گواہی جو کسی کے زیر کفالت ہو اس کفیل خاندان کے حق میں ( جیسے مزدور وغیرہ ) اور نہ اس شخص کی جو ولاء یا رشتہ داری کی نسبت میں متہم ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف یزید بن زیاد دمشقی کی روایت سے جانتے ہیں، اور یزید ضعیف الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث زہری کی روایت سے صرف اسی طریق سے جانی جاتی ہے، ۳- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی حدیث مروی ہے، ۴- فزازی کہتے ہیں: «قانع» سے مراد «تابع» ہے، ۵- اس حدیث کا مطلب ہم نہیں سمجھتے اور نہ ہی سند کے اعتبار سے یہ میرے نزدیک صحیح ہے، ۶- اس بارے میں اہل علم کا عمل ہے کہ رشتہ دار کے لیے رشتہ کی گواہی درست ہے، البتہ بیٹے کے حق میں باپ کی گواہی یا باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے، اکثر اہل علم بیٹے کے حق میں باپ کی گواہی یا باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی کو درست نہیں سمجھتے، ۷- بعض اہل علم کہتے ہیں: جب گواہی دینے والا عادل ہو تو باپ کی گواہی بیٹے کے حق میں اسی طرح باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی درست ہے، ۸- بھائی کی گواہی کے جواز کے بارے میں اختلاف نہیں ہے، ۹- اسی طرح رشتہ دار کے لیے رشتہ دار کی گواہی میں بھی اختلاف نہیں ہے، ۱۰- امام شافعی کہتے ہیں: جب دو آدمیوں میں دشمنی ہو تو ایک کے خلاف دوسرے کی گواہی درست نہ ہو گی، گرچہ گواہی دینے والا عادل ہو، انہوں نے عبدالرحمٰن اعرج کی حدیث سے استدلال کیا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً مروی ہے کہ دشمنی رکھنے والے کی گواہی درست نہیں ہے، اسی طرح اس ( مذکورہ ) حدیث کا بھی مفہوم یہی ہے، ( جس میں ) آپ نے فرمایا: ”اپنے بھائی کے لیے دشمنی رکھنے والے کی گواہی درست نہیں ہے“۔
حدثنا قتيبة، حدثنا مروان بن معاوية الفزاري، عن يزيد بن زياد الدمشقي، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تجوز شهادة خاين ولا خاينة ولا مجلود حدا ولا مجلودة ولا ذي غمر لاخيه ولا مجرب شهادة ولا القانع اهل البيت لهم ولا ظنين في ولاء ولا قرابة " . قال الفزاري القانع التابع . هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث يزيد بن زياد الدمشقي . ويزيد يضعف في الحديث ولا يعرف هذا الحديث من حديث الزهري الا من حديثه . وفي الباب عن عبد الله بن عمرو . قال ولا نعرف معنى هذا الحديث ولا يصح عندي من قبل اسناده . والعمل عند اهل العلم في هذا ان شهادة القريب جايزة لقرابته . واختلف اهل العلم في شهادة الوالد للولد والولد لوالده ولم يجز اكثر اهل العلم شهادة الوالد للولد ولا الولد للوالد . وقال بعض اهل العلم اذا كان عدلا فشهادة الوالد للولد جايزة وكذلك شهادة الولد للوالد . ولم يختلفوا في شهادة الاخ لاخيه انها جايزة وكذلك شهادة كل قريب لقريبه . وقال الشافعي لا تجوز شهادة لرجل على الاخر وان كان عدلا اذا كانت بينهما عداوة . وذهب الى حديث عبد الرحمن الاعرج عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا " لا تجوز شهادة صاحب احنة " . يعني صاحب عداوة وكذلك معنى هذا الحديث حيث قال " لا تجوز شهادة صاحب غمر لاخيه " يعني صاحب عداوة
ایمن بن خریم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”لوگو! جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور» ”تو بتوں کی گندگی سے بچے رہو ( ان کی پرستش نہ کرو ) اور جھوٹ بولنے سے بچے رہو“ ( الحج: ۳۰ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف سفیان بن زیاد کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور لوگوں نے سفیان بن زیاد سے اس حدیث کی روایت کرنے میں اختلاف کیا ہے، ۳- نیز ہم ایمن بن خریم کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع بھی نہیں جانتے ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا مروان بن معاوية، عن سفيان بن زياد الاسدي، عن فاتك بن فضالة، عن ايمن بن خريم، ان النبي صلى الله عليه وسلم قام خطيبا فقال " يا ايها الناس عدلت شهادة الزور اشراكا بالله " . ثم قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم : (واجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور ) . قال ابو عيسى وهذا حديث غريب انما نعرفه من حديث سفيان بن زياد واختلفوا في رواية هذا الحديث عن سفيان بن زياد . ولا نعرف لايمن بن خريم سماعا من النبي صلى الله عليه وسلم
خریم بن فاتک اسدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب پلٹے تو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے“، آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی پھر آپ نے یہ مکمل آیت تلاوت فرمائی «واجتنبوا قول الزور» ”اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے، ۲- خریم بن فاتک کو شرف صحابیت حاصل ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے کئی حدیثیں روایت کی ہیں، اور مشہور صحابی ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا سفيان، وهو ابن زياد العصفري عن ابيه، عن حبيب بن النعمان الاسدي، عن خريم بن فاتك الاسدي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى صلاة الصبح فلما انصرف قام قايما فقال " عدلت شهادة الزور بالشرك بالله " . ثلاث مرات ثم تلا هذه الاية (واجتنبوا قول الزور ) الى اخر الاية . قال ابو عيسى هذا عندي اصح . وخريم بن فاتك له صحبة وقد روى عن النبي صلى الله عليه وسلم احاديث وهو مشهور
ابوبکرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں بڑے بڑے ( کبیرہ ) گناہوں کے بارے میں نہ بتا دوں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹی بات بولنا“، ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری بات کو برابر دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم لوگوں نے دل میں کہا: کاش! آپ خاموش ہو جاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا بشر بن المفضل، عن الجريري، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الا اخبركم باكبر الكباير " . قالوا بلى يا رسول الله . قال " الاشراك بالله وعقوق الوالدين وشهادة الزور او قول الزور " . قال فما زال رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولها حتى قلنا ليته سكت . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن عبد الله بن عمرو
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”سب سے اچھے لوگ میرے زمانہ کے ہیں ( یعنی صحابہ ) ، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے ( یعنی تابعین ) ، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے ( یعنی اتباع تابعین ) ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو موٹا ہونا چاہیں گے، موٹاپا پسند کریں گے اور گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اعمش کے واسطہ سے علی بن مدرک کی روایت سے غریب ہے، ۲- اعمش کے دیگر شاگردوں نے «عن الأعمش عن هلال بن يساف عن عمران بن حصين» کی سند سے روایت کی ہے۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى، حدثنا محمد بن فضيل، عن الاعمش، عن علي بن مدرك، عن هلال بن يساف، عن عمران بن حصين، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " خير الناس قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثلاثا ثم يجيء قوم من بعدهم يتسمنون ويحبون السمن يعطون الشهادة قبل ان يسالوها " . قال ابو عيسى وهذا حديث غريب من حديث الاعمش عن علي بن مدرك واصحاب الاعمش انما رووا عن الاعمش عن هلال بن يساف عن عمران بن حصين
حدثنا ابو عمار الحسين بن حريث، حدثنا وكيع، عن الاعمش، حدثنا هلال بن يساف، عن عمران بن حصين، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . وهذا اصح من حديث محمد بن فضيل . قال ومعنى هذا الحديث عند بعض اهل العلم " يعطون الشهادة قبل ان يسالوها " . انما يعني شهادة الزور يقول يشهد احدهم من غير ان يستشهد وبيان هذا في [الحديث التالي]
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے اچھے اور بہتر لوگ ہمارے زمانے والے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا یہاں تک کہ آدمی گواہی طلب کیے بغیر گواہی دے گا، اور قسم کھلائے بغیر قسم کھائے گا“۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث کہ سب سے بہتر گواہ وہ ہے، جو گواہی طلب کیے بغیر گواہی دے تو اس کا مفہوم ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جب کسی سے کسی چیز کی گواہی ( حق بات کی خاطر ) دلوائی جائے تو وہ گواہی دے، گواہی دینے سے باز نہ رہے، بعض اہل علم کے نزدیک دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہی صورت ہے۔
حديث عمر بن الخطاب عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " خير الناس قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يفشو الكذب حتى يشهد الرجل ولا يستشهد ويحلف الرجل ولا يستحلف " . ومعنى حديث النبي صلى الله عليه وسلم " خير الشهداء الذي ياتي بشهادته قبل ان يسالها " . هو عندنا اذا اشهد الرجل على الشىء ان يودي شهادته ولا يمتنع من الشهادة هكذا وجه الحديث عند بعض اهل العلم . كمل والحمد لله كتاب الشهادات ويليه كتاب الزهد