Loading...

Loading...
کتب
۲۵ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زمانہ قریب ہو جائے گا ۱؎ تو مومن کے خواب کم ہی جھوٹے ہوں گے، ان میں سب سے زیادہ سچے خواب والا وہ ہو گا جس کی باتیں زیادہ سچی ہوں گی، مسلمان کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ۲؎ خواب تین قسم کے ہوتے ہیں، بہتر اور اچھے خواب اللہ کی طرف سے بشارت ہوتے ہیں، کچھ خواب شیطان کی طرف سے تکلیف و رنج کا باعث ہوتے ہیں، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے تو کھڑا ہو کر تھوکے اور اسے لوگوں سے نہ بیان کرے“، آپ نے فرمایا: ”میں خواب میں قید ( پیر میں بیڑی پہننا ) پسند کرتا ہوں اور طوق کو ناپسند کرتا ہوں ۳؎، قید سے مراد دین پر ثابت قدمی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، حدثنا ايوب، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اقترب الزمان لم تكد رويا المومن تكذب واصدقهم رويا اصدقهم حديثا ورويا المسلم جزء من ستة واربعين جزءا من النبوة والرويا ثلاث فالرويا الصالحة بشرى من الله والرويا من تحزين الشيطان والرويا مما يحدث بها الرجل نفسه فاذا راى احدكم ما يكره فليقم وليتفل ولا يحدث بها الناس قال واحب القيد في النوم واكره الغل القيد ثبات في الدين " . قال وهذا حديث حسن صحيح
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ کی حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابورزین عقیلی، ابو سعید خدری، عبداللہ بن عمرو، عوف بن مالک، ابن عمر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، عن شعبة، عن قتادة، انه سمع انسا، عن عبادة بن الصامت، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " رويا المومن جزء من ستة واربعين جزءا من النبوة " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وابي رزين العقيلي وابي سعيد وعبد الله بن عمرو وعوف بن مالك وابن عمر وانس . قال وحديث عبادة حديث صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے، لہٰذا میرے بعد کوئی رسول اور کوئی نبی نہ ہو گا“، انس کہتے ہیں: یہ بات لوگوں پر گراں گزری تو آپ نے فرمایا: ”البتہ بشارتیں باقی ہیں“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بشارتیں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”مسلمان کا خواب اور یہ نبوت کا ایک حصہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی مختار بن فلفل کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، حذیفہ بن اسید، ابن عباس، ام کرز اور ابواسید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا الحسن بن محمد الزعفراني، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا عبد الواحد يعني ابن زياد، حدثنا المختار بن فلفل، حدثنا انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدي ولا نبي " . قال فشق ذلك على الناس فقال " لكن المبشرات " . قالوا يا رسول الله وما المبشرات قال " رويا المسلم وهي جزء من اجزاء النبوة " . وفي الباب عن ابي هريرة وحذيفة بن اسيد وابن عباس وام كرز . قال هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه من حديث المختار بن فلفل
عطاء بن یسار مصر کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو الدرداء رضی الله عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے“ ( یونس: ۶۴ ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا ہے، تمہارے سوا صرف ایک آدمی نے مجھ سے پوچھا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے اس کے بارے میں تمہارے سوا کسی نے نہیں پوچھا، اس سے مراد نیک اور اچھے خواب ہیں جسے مسلمان دیکھتا ہے یا اسے دکھایا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن محمد بن المنكدر، عن عطاء بن يسار، عن رجل، من اهل مصر قال سالت ابا الدرداء عن قول الله تعالى: (لهم البشرى في الحياة الدنيا ) فقال ما سالني عنها احد غيرك الا رجل واحد منذ سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ما سالني عنها احد غيرك منذ انزلت هي الرويا الصالحة يراها المسلم او ترى له " . قال وفي الباب عن عبادة بن الصامت . قال هذا حديث حسن
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سچے خواب وہ ہیں جو سحری ( صبح ) کے وقت آتے ہیں“۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن دراج، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم " اصدق الرويا بالاسحار
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد اچھے اور نیک خواب ہیں جسے مومن دیکھتا ہے یا اسے دکھایا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- حرب نے اپنی حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر سے «عنعنہ» کے بجائے صیغہ تحدیث «حدثني» کے صیغے کے ساتھ روایت کی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود، حدثنا حرب بن شداد، وعمران القطان، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، قال نبيت عن عبادة بن الصامت، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قوله (لهم البشرى في الحياة الدنيا ) قال " هي الرويا الصالحة يراها المومن او ترى له " . قال حرب في حديثه حدثني يحيى بن ابي كثير . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا، اس لیے کہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابوقتادہ، ابن عباس، ابو سعید خدری، جابر، انس، ابو مالک اشجعی کے والد، ابوبکرہ اور ابوحجیفہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من راني في المنام فقد راني فان الشيطان لا يتمثل بي " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وابي قتادة وابن عباس وابي سعيد وجابر وانس وابي مالك الاشجعي عن ابيه وابي بكرة وابي جحيفة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں، اور برے خواب شیطان کی طرف سے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو تین بار اپنے بائیں طرف تھوکے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، ایسا کرنے پر وہ اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، ابوسعید، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يحيى بن سعيد، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي قتادة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " الرويا من الله والحلم من الشيطان فاذا راى احدكم شييا يكرهه فلينفث عن يساره ثلاث مرات وليستعذ بالله من شرها فانها لا تضره " . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وابي سعيد وجابر وانس . قال وهذا حديث حسن صحيح
ابورزین عقیلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا خواب نبوت کا چالیسواں حصہ ہے اور خواب کی جب تک تعبیر نہ بیان کی جائے وہ ایک پرندے کے پنجہ میں ہوتا ہے، پھر جب تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے ۱؎“، ابورزین کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی فرمایا: ”خواب صرف اس سے بیان کرو جو عقلمند ہو یا جس سے تمہاری دوستی ہو“۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، قال انبانا شعبة، قال اخبرني يعلى بن عطاء، قال سمعت وكيع بن عدس، عن ابي رزين العقيلي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " رويا المومن جزء من اربعين جزءا من النبوة وهي على رجل طاير ما لم يتحدث بها فاذا تحدث بها سقطت " . قال واحسبه قال " ولا يحدث بها الا لبيبا او حبيبا
ابورزین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہوتا ہے اور خواب کی جب تک تعبیر نہ بیان کی جائے وہ ایک پرندے کے پنجہ میں ہوتا ہے پھر جب تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابورزین عقیلی کا نام لقیط بن عامر ہے، ۳- حماد بن سلمہ نے اسے یعلیٰ بن عطاء سے روایت کرتے ہوئے ”وكيع بن حدس“ کہا ہے جب کہ شعبہ، ابو عوانہ اور ہشیم نے اسے یعلیٰ بن عطاء سے روایت کرتے ہوئے ”وكيع بن عدس“ کہا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا شعبة، عن يعلى بن عطاء، عن وكيع بن عدس، عن عمه ابي رزين، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " رويا المسلم جزء من ستة واربعين جزءا من النبوة وهي على رجل طاير ما لم يحدث بها فاذا حدث بها وقعت " . قال هذا حديث حسن صحيح . وابو رزين العقيلي اسمه لقيط بن عامر . وروى حماد بن سلمة عن يعلى بن عطاء فقال عن وكيع بن حدس وقال شعبة وابو عوانة وهشيم عن يعلى بن عطاء عن وكيع بن عدس وهذا اصح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خواب تین قسم کے ہوتے ہیں، ایک خواب وہ ہے جو سچا ہوتا ہے، ایک خواب وہ ہے کہ آدمی جو کچھ سوچتا رہتا ہے، اسی کو خواب میں دیکھتا ہے، اور ایک خواب ایسا ہے جو شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور غم و صدمہ کا سبب ہوتا ہے، لہٰذا جو شخص خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ اٹھ کر نماز پڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: ”مجھے خواب میں بیڑی کا دیکھنا اچھا لگتا ہے اور طوق دیکھنے کو میں ناپسند کرتا ہوں، بیڑی کی تعبیر دین پر ثابت قدمی ( جمے رہنا ) ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: ”جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو وہ میں ہی ہوں، اس لیے کہ شیطان میری شکل نہیں اپنا سکتا ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”خواب کسی عالم یا خیرخواہ سے ہی بیان کیا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس، ابوبکرہ، ام العلاء، ابن عمر، عائشہ، ابوموسیٰ، جابر، ابو سعید خدری، ابن عباس اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن ابي عبيد الله السليمي البصري، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الرويا ثلاث فرويا حق ورويا يحدث بها الرجل نفسه ورويا تحزين من الشيطان فمن راى ما يكره فليقم فليصل " . وكان يقول " يعجبني القيد واكره الغل القيد ثبات في الدين " . وكان يقول " من راني فاني انا هو فانه ليس للشيطان ان يتمثل بي " . وكان يقول " لا تقص الرويا الا على عالم او ناصح " . وفي الباب عن انس وابي بكرة وام العلاء وابن عمر وعايشة وابي موسى وجابر وابي سعيد وابن عباس وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، قیامت کے دن اسے جو کے درمیان گرہ لگانے پر مکلف کیا جائے گا“۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا سفيان، عن عبد الاعلى، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن علي، قال اراه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من كذب في حلمه كلف يوم القيامة عقد شعيرة
اس سند سے بھی علی رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس، ابوہریرہ، ابوشریح اور واثلہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن عبد الاعلى، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن علي، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال هذا حديث حسن . وفي الباب عن ابن عباس وابي هريرة وابي شريح وواثلة . قال ابو عيسى وهذا اصح من الحديث الاول
عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے تو قیامت کے دن دو جو کے درمیان گرہ لگانے پر مکلف کیا جائے گا اور وہ ان دونوں کے درمیان گرہ ہرگز نہیں لگا سکے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من تحلم كاذبا كلف يوم القيامة ان يعقد بين شعيرتين ولن يعقد بينهما " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں سویا ہوا تھا کہ اس دوران میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، میں نے اس سے پیا پھر اپنا جوٹھا عمر بن خطاب کو دے دیا، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟“ فرمایا: ”علم سے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر کی حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابوبکرہ، ابن عباس، عبداللہ بن سلام، خزیمہ، طفیل بن سخبرہ، ابوامامہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن عقيل، عن الزهري، عن حمزة بن عبد الله بن عمر، عن ابن عمر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " بينما انا نايم اذ اتيت بقدح لبن فشربت منه ثم اعطيت فضلي عمر بن الخطاب " . قالوا فما اولته يا رسول الله قال " العلم " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وابي بكرة وابن عباس وعبد الله بن سلام وخزيمة والطفيل بن سخبرة وسمرة وابي امامة وجابر . قال حديث ابن عمر حديث صحيح
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہما بعض صحابہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سویا ہوا تھا دیکھا: لوگ میرے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں اور وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں، بعض کی قمیص چھاتی تک پہنچ رہی تھی اور بعض کی اس سے نیچے تک پہنچ رہی تھی، پھر میرے سامنے عمر کو پیش کیا گیا ان کے جسم پر جو قمیص تھی وہ اسے گھسیٹ رہے تھے“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپ نے فرمایا: ”دین سے“ ۱؎۔
حدثنا الحسين بن محمد الجريري البلخي، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن ابي امامة بن سهل بن حنيف، عن بعض، اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " بينما انا نايم رايت الناس يعرضون على وعليهم قمص منها ما يبلغ الثدي ومنها ما يبلغ اسفل من ذلك فعرض على عمر وعليه قميص يجره " . قالوا فما اولته يا رسول الله قال " الدين
اس سند سے ابو سعید خدری رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی اور اسی معنی کی حدیث روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا يعقوب بن ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن صالح بن كيسان، عن الزهري، عن ابي امامة بن سهل بن حنيف، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه . قال وهذا اصح
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: ”تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو اترا، آپ اور ابوبکر تولے گئے تو آپ ابوبکر سے بھاری نکلے، ابوبکر اور عمر تولے گئے، تو ابوبکر بھاری نکلے، عمر اور عثمان تولے گئے تو عمر بھاری نکلے پھر ترازو اٹھا لیا گیا، ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا الانصاري، حدثنا اشعث، عن الحسن، عن ابي بكرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال ذات يوم " من راى منكم رويا " . فقال رجل انا رايت كان ميزانا نزل من السماء فوزنت انت وابو بكر فرجحت انت بابي بكر ووزن ابو بكر وعمر فرجح ابو بكر ووزن عمر وعثمان فرجح عمر ثم رفع الميزان . فراينا الكراهية في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ورقہ ( ورقہ بن نوفل ) کے بارے میں پوچھا گیا تو خدیجہ نے کہا: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی تھی مگر وہ آپ کی نبوت کے ظہور سے پہلے وفات پا گئے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے خواب میں انہیں دکھایا گیا ہے، اس وقت ان کے جسم پر سفید کپڑے تھے، اگر وہ جہنمی ہوتے تو ان کے جسم پر کوئی دوسرا لباس ہوتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- محدثین کے نزدیک عثمان بن عبدالرحمٰن قوی نہیں ہیں۔
حدثنا ابو موسى الانصاري، حدثنا يونس بن بكير، حدثني عثمان بن عبد الرحمن، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ورقة فقالت له خديجة انه كان صدقك ولكنه مات قبل ان تظهر . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اريته في المنام وعليه ثياب بياض ولو كان من اهل النار لكان عليه لباس غير ذلك " . قال هذا حديث غريب . وعثمان بن عبد الرحمن ليس عند اهل الحديث بالقوي
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے بارے میں مروی ہے جس میں آپ نے ابوبکر اور عمر کو دیکھا، آپ نے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ لوگ ( ایک کنویں پر ) جمع ہو گئے ہیں، پھر ابوبکر نے ایک یا دو ڈول کھینچے اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی اللہ ان کی مغفرت کرے، پھر عمر رضی الله عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ڈول کھینچا تو وہ ڈول بڑے ڈول میں بدل گیا، میں نے کسی مضبوط اور طاقتور شخص کو نہیں دیکھا جس نے ایسا کام کیا ہو، یہاں تک کہ لوگوں نے اپنی آرام گاہوں میں جگہ پکڑی“ ( یعنی سب آسودہ ہو گئے ۱؎ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ ابن عمر رضی الله عنہما کی روایت سے صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عاصم، اخبرنا ابن جريج، اخبرني موسى بن عقبة، اخبرني سالم بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر، عن رويا النبي، صلى الله عليه وسلم وابي بكر وعمر قال " رايت الناس اجتمعوا فنزع ابو بكر ذنوبا او ذنوبين فيه ضعف والله يغفر له ثم قام عمر فنزع فاستحالت غربا فلم ار عبقريا يفري فريه حتى ضرب الناس بعطن " . قال وفي الباب عن ابي هريرة . وهذا حديث صحيح غريب من حديث ابن عمر