Loading...

Loading...
کتب
۳۱ احادیث
یوسف بن ماہک سے روایت ہے کہ لوگ حفصہ بنت عبدالرحمٰن کے پاس گئے اور ان سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ ( ان کی پھوپھی ) ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ایک جیسی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کریں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- حفصہ، عبدالرحمٰن بن ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کی بیٹی ہیں، ۳- اس باب میں علی، ام کرز، بریدہ، سمرہ، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو، انس، سلمان بن عامر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف البصري حدثنا بشر بن المفضل، اخبرنا عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن يوسف بن ماهك، انهم دخلوا على حفصة بنت عبد الرحمن فسالوها عن العقيقة، فاخبرتهم ان عايشة اخبرتها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امرهم عن الغلام شاتان مكافيتان وعن الجارية شاة . قال وفي الباب عن علي وام كرز وبريدة وسمرة وابي هريرة وعبد الله بن عمرو وانس وسلمان بن عامر وابن عباس . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . وحفصة هي بنت عبد الرحمن بن ابي بكر الصديق
ابورافع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ حسن بن علی جب فاطمۃالزہراء رضی الله عنہم سے پیدا ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن کے کان میں نماز کی اذان کی طرح اذان دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عقیقہ کے مسئلہ میں اس حدیث پر عمل ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سندوں سے آئی ہے کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ایک جیسی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے حسن کی طرف سے ایک بکری ذبح کی، بعض اہل علم کا مسلک اسی حدیث کے موافق ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، وعبد الرحمن بن مهدي، قالا اخبرنا سفيان، عن عاصم بن عبيد الله، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن ابيه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذن في اذن الحسن بن علي حين ولدته فاطمة بالصلاة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل عند اهل العلم في العقيقة على ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير وجه عن الغلام شاتان مكافيتان وعن الجارية شاة . - وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم ايضا انه عق عن الحسن بشاة وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا الحديث
سلمان بن عامر ضبی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ لازم ہے، لہٰذا اس کی طرف سے خون بہاؤ ( جانور ذبح کرو ) اور اس سے گندگی دور کرو“۔ اس سند سے بھی سلمان بن عامر رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث روایت مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ام کرز رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے گی، وہ جانور نر یا ہو مادہ اس میں تمہارے لیے کوئی حرج نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عبد الرزاق، عن ابن جريج، اخبرنا عبيد الله بن ابي يزيد، عن سباع بن ثابت، ان محمد بن ثابت بن سباع، اخبره ان ام كرز اخبرته انها، سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن العقيقة فقال " عن الغلام شاتان وعن الجارية واحدة ولا يضركم ذكرانا كن ام اناثا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کے جانوروں میں سب سے بہتر مینڈھا ہے اور سب سے بہتر کفن «حلة» ( تہبند اور چادر ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- عفیر بن معدان حدیث کی روایت میں ضعیف ہیں۔
حدثنا سلمة بن شبيب، حدثنا ابو المغيرة، عن عفير بن معدان، عن سليم بن عامر، عن ابي امامة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير الاضحية الكبش وخير الكفن الحلة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وعفير بن معدان يضعف في الحديث
مخنف بن سلیم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے، میں نے آپ کو فرماتے سنا: لوگو! ہر گھر والے پر ہر سال ایک قربانی اور «عتيرة» ہے، تم لوگ جانتے ہو «عتيرة» کیا ہے؟ «عتيرة» وہ ہے جسے تم لوگ «رجبية» کہتے ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس کو ابن عون ہی کی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا ابن عون، حدثنا ابو رملة، عن مخنف بن سليم، قال كنا وقوفا مع النبي صلى الله عليه وسلم بعرفات فسمعته يقول " يا ايها الناس على كل اهل بيت في كل عام اضحية وعتيرة هل تدرون ما العتيرة هي التي تسمونها الرجبية " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب ولا نعرف هذا الحديث الا من هذا الوجه من حديث ابن عون
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کیا، اور فرمایا: ”فاطمہ! اس کا سر مونڈ دو اور اس کے بال کے برابر چاندی صدقہ کرو“، فاطمہ رضی الله عنہا نے اس کے بال کو تولا تو اس کا وزن ایک درہم کے برابر یا اس سے کچھ کم ہوا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس کی سند متصل نہیں ہے، اور راوی ابوجعفر الصادق محمد بن علی بن حسین نے علی بن ابی طالب کو نہیں پایا ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى القطعي، حدثنا عبد الاعلى بن عبد الاعلى، عن محمد بن اسحاق، عن عبد الله بن ابي بكر، عن محمد بن علي بن الحسين، عن علي بن ابي طالب، قال عق رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الحسن بشاة وقال " يا فاطمة احلقي راسه وتصدقي بزنة شعره فضة " . قال فوزنته فكان وزنه درهما او بعض درهم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب واسناده ليس بمتصل . وابو جعفر محمد بن علي بن الحسين لم يدرك علي بن ابي طالب
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، پھر ( منبر سے ) اترے پھر آپ نے دو مینڈھے منگائے اور ان کو ذبح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ( یہ عید الاضحی کی نماز کے بعد کیا تھا، دیکھئیے اگلی حدیث ) ۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا ازهر بن سعد السمان، عن ابن عون، عن محمد بن سيرين، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم خطب ثم نزل فدعا بكبشين فذبحهما . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الاضحی کے دن عید گاہ گیا، جب آپ خطبہ ختم کر چکے تو منبر سے نیچے اترے، پھر ایک مینڈھا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، اور ( ذبح کرتے وقت ) یہ کلمات کہے: «بسم الله والله أكبر، هذا عني وعمن لم يضح من أمتي» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- اہل علم صحابہ اور دیگر لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ جانور ذبح کرتے وقت آدمی یہ کہے «بسم الله والله أكبر» ابن مبارک کا بھی یہی قول ہے، کہا جاتا ہے، ۳- راوی مطلب بن عبداللہ بن حنطب کا سماع جابر سے ثابت نہیں ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن عمرو بن ابي عمرو، عن المطلب، عن جابر بن عبد الله، قال شهدت مع النبي صلى الله عليه وسلم الاضحى بالمصلى فلما قضى خطبته نزل عن منبره فاتي بكبش فذبحه رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده وقال " بسم الله والله اكبر هذا عني وعمن لم يضح من امتي " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان يقول الرجل اذا ذبح بسم الله والله اكبر وهو قول ابن المبارك . والمطلب بن عبد الله بن حنطب يقال انه لم يسمع من جابر
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بچہ عقیقہ کے بدلے گروی رکھا ہوا ہے ۱؎، پیدائش کے ساتویں دن اس کا عقیقہ کیا جائے، اس کا نام رکھا جائے اور اس کے سر کے بال منڈائے جائیں“۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ماہ ذی الحجہ کا چاند دیکھے اور قربانی کرنا چاہتا ہو وہ ( جب تک قربانی نہ کر لے ) اپنا بال اور ناخن نہ کاٹے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ( عمرو اور عمر میں کے بارے میں ) صحیح عمرو بن مسلم ہے، ان سے محمد بن عمرو بن علقمہ اور کئی لوگوں نے حدیث روایت کی ہے، دوسری سند سے اسی جیسی حدیث سعید بن مسیب سے آئی ہے، سعید بن مسیب ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، ۳- بعض اہل علم کا یہی قول ہے، سعید بن مسیب بھی اسی کے قائل ہیں، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا مسلک بھی اسی حدیث کے موافق ہے، ۴- بعض اہل علم نے اس سلسلے میں رخصت دی ہے، وہ لوگ کہتے ہیں: بال اور ناخن کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے، شافعی کا یہی قول ہے، وہ عائشہ رضی الله عنہا کی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کا جانور مدینہ روانہ کرتے تھے اور محرم جن چیزوں سے اجتناب کرتا ہے، آپ ان میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہیں کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا احمد بن الحكم البصري، حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن مالك بن انس، عن عمرو، او عمر بن مسلم عن سعيد بن المسيب، عن ام سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من راى هلال ذي الحجة واراد ان يضحي فلا ياخذن من شعره ولا من اظفاره " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والصحيح هو عمرو بن مسلم قد روى عنه محمد بن عمرو بن علقمة وغير واحد . وقد روي هذا الحديث عن سعيد بن المسيب عن ام سلمة عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير هذا الوجه نحو هذا . وهو قول بعض اهل العلم وبه كان يقول سعيد بن المسيب والى هذا الحديث ذهب احمد واسحاق . ورخص بعض اهل العلم في ذلك فقالوا لا باس ان ياخذ من شعره واظفاره . وهو قول الشافعي واحتج بحديث عايشة ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يبعث بالهدى من المدينة فلا يجتنب شييا مما يجتنب منه المحرم