Loading...

Loading...
کتب
۳۱ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کے دن اللہ کے نزدیک آدمی کا سب سے محبوب عمل خون بہانا ہے، قیامت کے دن قربانی کے جانور اپنی سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئیں گے قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے قبولیت کا درجہ حاصل کر لیتا ہے، اس لیے خوش دلی کے ساتھ قربانی کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہشام بن عروہ کی اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں عمران بن حصین اور زید بن ارقم رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- راوی ابومثنی کا نام سلیمان بن یزید ہے، ان سے ابن ابی فدیک نے روایت کی ہے، ۴- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”قربانی کرنے والے کو قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے نیکی ملے گی“، ۵- یہ بھی مروی ہے کہ جانور کی سینگ کے عوض نیکی ملے گی۔
حدثنا ابو عمرو، مسلم بن عمرو بن مسلم الحذاء المدني حدثنا عبد الله بن نافع الصايغ ابو محمد، عن ابي المثنى، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما عمل ادمي من عمل يوم النحر احب الى الله من اهراق الدم انها لتاتي يوم القيامة بقرونها واشعارها واظلافها وان الدم ليقع من الله بمكان قبل ان يقع من الارض فطيبوا بها نفسا " . قال وفي الباب عن عمران بن حصين وزيد بن ارقم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه من حديث هشام بن عروة الا من هذا الوجه . وابو المثنى اسمه سليمان بن يزيد . روى عنه ابن ابي فديك . - قال ابو عيسى ويروى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " في الاضحية لصاحبها بكل شعرة حسنة " . ويروى " بقرونها
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی، آپ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ پڑھی اور اللہ اکبر کہا اور ( ذبح کرتے وقت ) اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، عائشہ، ابوہریرہ، ابوایوب، جابر، ابو الدرداء، ابورافع، ابن عمر اور ابوبکرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم بكبشين املحين اقرنين ذبحهما بيده وسمى وكبر ووضع رجله على صفاحهما . قال وفي الباب عن علي وعايشة وابي هريرة وابي ايوب وجابر وابي الدرداء وابي رافع وابن عمر وابي بكرة ايضا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے، ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور دوسرا اپنی طرف سے، تو ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے اس کا حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے، لہٰذا میں اس کو کبھی نہیں چھوڑوں گا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اس کو صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: علی بن مدینی نے کہا: اس حدیث کو شریک کے علاوہ لوگوں نے بھی روایت کیا ہے، میں نے ان سے دریافت کیا: راوی ابوالحسناء کا کیا نام ہے؟ تو وہ اسے نہیں جان سکے، مسلم کہتے ہیں: اس کا نام حسن ہے، ۳- بعض اہل علم نے میت کی طرف سے قربانی کی رخصت دی ہے اور بعض لوگ میت کی طرف سے قربانی درست نہیں سمجھتے ہیں، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: مجھے یہ چیز زیادہ پسند ہے کہ میت کی طرف سے صدقہ کر دیا جائے، قربانی نہ کی جائے، اور اگر کسی نے اس کی طرف سے قربانی کر دی تو اس میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ تمام کو صدقہ کر دے۔
حدثنا محمد بن عبيد المحاربي الكوفي، حدثنا شريك، عن ابي الحسناء، عن الحكم، عن حنش، عن علي، انه كان يضحي بكبشين احدهما عن النبي صلى الله عليه وسلم والاخر عن نفسه، فقيل له فقال امرني به يعني النبي صلى الله عليه وسلم - فلا ادعه ابدا . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث شريك . وقد رخص بعض اهل العلم ان يضحى عن الميت ولم ير بعضهم ان يضحى عنه . وقال عبد الله بن المبارك احب الى ان يتصدق عنه ولا يضحى عنه وان ضحى فلا ياكل منها شييا ويتصدق بها كلها . قال محمد قال علي بن المديني وقد رواه غير شريك . قلت له ابو الحسناء ما اسمه فلم يعرفه . قال مسلم اسمه الحسن
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے ایک نر مینڈھے کی قربانی کی، وہ سیاہی میں کھاتا تھا، سیاہی میں چلتا تھا اور سیاہی میں دیکھتا تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ہم اس کو صرف حفص بن غیاث ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا حفص بن غياث، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، قال ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم بكبش اقرن فحيل ياكل في سواد ويمشي في سواد وينظر في سواد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه الا من حديث حفص بن غياث
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے لنگڑے جانور کی قربانی نہ کی جائے جس کا لنگڑا پن واضح ہو، نہ ایسے اندھے جانور کی جس کا اندھا پن واضح ہو، نہ ایسے بیمار جانور کی جس کی بیماری واضح ہو، اور نہ ایسے لاغر و کمزور جانور کی قربانی کی جائے جس کی ہڈی میں گودا نہ ہو“ ۱؎۔ اس سند سے بھی براء بن عازب رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اسے ہم صرف عبید بن فیروز کی حدیث سے جانتے ہیں انہوں نے براء سے روایت کی ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ( قربانی والے جانور کی ) آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں، اور ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان آگے سے کٹا ہو، یا جس کا کان پیچھے سے کٹا ہو، یا جس کا کان چیرا ہوا ہو ( یعنی لمبائی میں کٹا ہوا ہو ) ، یا جس کے کان میں سوراخ ہو۔ اس سند سے بھی علی رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ «مقابلة» وہ جانور ہے جس کے کان کا کنارہ ( آگے سے ) کٹا ہو، «مدابرة» وہ جانور ہے جس کے کان کا کنارہ ( پیچھے سے ) کٹا ہو، «شرقاء» جس کا کان ( لمبائی میں ) چیرا ہوا ہو، اور «خرقاء» جس کے کان میں ( گول ) سوراخ ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شریح بن نعمان صائدی، کوفہ کے رہنے والے ہیں اور علی رضی الله عنہ کے ساتھیوں میں سے ہیں، ۳- شریح بن ہانی کوفہ کے رہنے والے ہیں اور ان کے والد کو شرف صحبت حاصل ہے اور علی رضی الله عنہ کے ساتھی ہیں، اور شریح بن حارث کندی ابوامیہ قاضی ہیں، انہوں نے علی رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، یہ تینوں شریح ( جن کی تفصیل اوپر گزری ) علی رضی الله عنہ کے ساتھی اور ہم عصر ہیں، ۳- «نستشرف» سے مراد «ننظر صحيحا» ہے یعنی قربانی کے جانور کو ہم اچھی طرح دیکھ لیں۔
ابوکباش کہتے ہیں کہ میں مدینہ میں تجارت کے لیے جذع یعنی دنبہ کے چھوٹے بچے لایا اور بازار مندا ہو گیا ۱؎، لہٰذا میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ملاقات کی، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”بھیڑ کے جذع کی قربانی خوب ہے!“ ابوکباش کہتے ہیں ( یہ سنتے ہی ) لوگ اس کی خریداری پر ٹوٹ پڑے۔ اس باب میں ابن عباس، ام بلال بنت ہلال کی ان کے والد سے اور جابر، عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم اور ایک آدمی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں سے بھی احادیث آئی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے موقوفاً بھی مروی ہے، ۳- عثمان بن واقدیہ ابن محمد بن زیاد بن عبداللہ بن عمر بن خطاب ہیں، ۴- صحابہ کرام میں سے اہل علم اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ بھیڑ کا جذع قربانی کے لیے کفایت کر جائے گا۔
حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا وكيع، حدثنا عثمان بن واقد، عن كدام بن عبد الرحمن، عن ابي كباش، قال جلبت غنما جذعانا الى المدينة فكسدت على فلقيت ابا هريرة فسالته فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " نعم - او نعمت - الاضحية الجذع من الضان " . قال فانتهبه الناس . قال وفي الباب عن ابن عباس وام بلال ابنة هلال عن ابيها وجابر وعقبة بن عامر ورجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن غريب . وقد روي هذا عن ابي هريرة موقوفا . وعثمان بن واقد هو ابن محمد بن زياد بن عبد الله بن عمر بن الخطاب . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان الجذع من الضان يجزي في الاضحية
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بکریاں دیں تاکہ وہ قربانی کے لیے صحابہ کرام کے درمیان تقسیم کر دیں، ایک «عتود» ( بکری کا ایک سال کا فربہ بچہ ) یا «جدي» ۱؎ باقی بچ گیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم اس کی قربانی خود کر لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- وکیع کہتے ہیں: بھیڑ کا جذع، چھ یا سات ماہ کا بچہ ہوتا ہے۔ ۳- عقبہ بن عامر سے دوسری سند سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور تقسیم کیے، ایک جذعہ باقی بچ گیا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”تم اس کی قربانی خود کر لو“۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ قربانی کا دن آ گیا، چنانچہ ہم نے گائے کی قربانی میں سات آدمیوں اور اونٹ کی قربانی میں دس آدمیوں کو شریک کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف فضل بن موسیٰ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں «ابوالأ سد سلمی عن أبیہ عن جدہ» اور ابوایوب سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو عمار الحسين بن حريث، حدثنا الفضل بن موسى، عن الحسين بن واقد، عن علباء بن احمر، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فحضر الاضحى فاشتركنا في البقرة سبعة وفي البعير عشرة . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي الاسود السلمي عن ابيه عن جده وابي ايوب . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث الفضل بن موسى
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے موقع پر اونٹ اور گائے کو سات آدمیوں کی طرف سے نحر ( ذبح ) کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام میں سے اہل علم اور ان کے علاوہ لوگوں کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ۳- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: اونٹ دس آدمی کی طرف سے بھی کفایت کر جائے گا، انہوں نے ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث سے استدلال کیا ہے ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا مالك بن انس، عن ابي الزبير، عن جابر، قال نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالحديبية البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق . وقال اسحاق يجزي ايضا البعير عن عشرة . واحتج بحديث ابن عباس
حجیہ بن عدی سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ نے کہا: گائے کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے کی جائے گی، حجیہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اگر وہ بچہ جنے؟ انہوں نے کہا: اسی کے ساتھ اس کو بھی ذبح کر دو ۱؎، میں نے کہا اگر وہ لنگڑی ہو؟ انہوں نے کہا: جب قربان گاہ تک پہنچ جائے تو اسے ذبح کر دو، میں نے کہا: اگر اس کے سینگ ٹوٹے ہوں؟ انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں ۲؎، ہمیں حکم دیا گیا ہے، یا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ ہم ان کی آنکھوں اور کانوں کو خوب دیکھ بھال لیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کیا ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا شريك، عن سلمة بن كهيل، عن حجية بن عدي، عن علي، قال البقرة عن سبعة، . قلت فان ولدت قال اذبح ولدها معها . قلت فالعرجاء قال اذا بلغت المنسك . قلت فمكسورة القرن قال لا باس امرنا او امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نستشرف العينين والاذنين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال ابو عيسى وقد رواه سفيان الثوري عن سلمة بن كهيل
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کی قربانی کرنے سے منع فرمایا جن کے سینگ ٹوٹے اور کان پھٹے ہوئے ہوں۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: «عضب» ( سینگ ٹوٹنے ) سے مراد یہ ہے کہ سینگ آدھی یا اس سے زیادہ ٹوٹی ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن سعيد، عن قتادة، عن جرى بن كليب النهدي، عن علي، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يضحى باعضب القرن والاذن . قال قتادة فذكرت ذلك لسعيد بن المسيب فقال العضب ما بلغ النصف فما فوق ذلك . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانیاں کیسے ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: ایک آدمی اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتا تھا، وہ لوگ خود کھاتے تھے اور دوسروں کو کھلاتے تھے یہاں تک کہ لوگ ( کثرت قربانی پر ) فخر کرنے لگے، اور اب یہ صورت حال ہو گئی جو دیکھ رہے ہو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- راوی عمارہ بن عبداللہ مدنی ہیں، ان سے مالک بن انس نے بھی روایت کی ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ آپ نے ایک مینڈھے کی قربانی کی اور فرمایا: ”یہ میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے ہے، جنہوں نے قربانی نہیں کی ہے“، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: ایک بکری ایک ہی آدمی کی طرف سے کفایت کرے گی، عبداللہ بن مبارک اور دوسرے اہل علم کا یہی قول ہے ( لیکن راجح پہلا قول ہے ) ۔
حدثني يحيى بن موسى، حدثنا ابو بكر الحنفي، حدثنا الضحاك بن عثمان، حدثني عمارة بن عبد الله، قال سمعت عطاء بن يسار، يقول سالت ابا ايوب الانصاري كيف كانت الضحايا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال كان الرجل يضحي بالشاة عنه وعن اهل بيته فياكلون ويطعمون حتى تباهى الناس فصارت كما ترى . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وعمارة بن عبد الله هو مدني وقد روى عنه مالك بن انس . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم وهو قول احمد واسحاق واحتجا بحديث النبي صلى الله عليه وسلم انه ضحى بكبش فقال " هذا عمن لم يضح من امتي " . وقال بعض اهل العلم لا تجزي الشاة الا عن نفس واحدة وهو قول عبد الله بن المبارك وغيره من اهل العلم
جبلہ بن سحیم سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر رضی الله عنہما سے قربانی کے بارے میں پوچھا: کیا یہ واجب ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور مسلمانوں نے قربانی کی ہے، اس آدمی نے پھر اپنا سوال دہرایا، انہوں نے کہا: سمجھتے نہیں ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور مسلمانوں نے قربانی کی ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ قربانی واجب نہیں ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے، اور اس پر عمل کرنا مستحب ہے، سفیان ثوری اور ابن مبارک کا یہی قول ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا حجاج بن ارطاة، عن جبلة بن سحيم، ان رجلا، سال ابن عمر عن الاضحية، اواجبة هي فقال ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم والمسلمون . فاعادها عليه فقال اتعقل ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم والمسلمون . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم ان الاضحية ليست بواجبة ولكنها سنة من سنن رسول الله صلى الله عليه وسلم يستحب ان يعمل بها وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں دس سال مقیم رہے اور آپ ( ہر سال ) قربانی کرتے رہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، وهناد، قالا حدثنا ابن ابي زايدة، عن حجاج بن ارطاة، عن نافع، عن ابن عمر، قال اقام رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمدينة عشر سنين يضحي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ دیا، آپ نے خطبہ کے دوران فرمایا: ”جب تک نماز عید ادا نہ کر لے کوئی ہرگز قربانی نہ کرے“۔ براء کہتے ہیں: میرے ماموں کھڑے ہوئے ۱؎، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے جس میں ( زیادہ ہونے کی وجہ سے ) گوشت قابل نفرت ہو جاتا ہے، اس لیے میں نے اپنی قربانی جلد کر دی تاکہ اپنے بال بچوں اور گھر والوں یا پڑوسیوں کو کھلا سکوں؟ آپ نے فرمایا: ”پھر دوسری قربانی کرو“، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس دودھ پیتی پٹھیا ہے اور گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا میں اس کو ذبح کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں! وہ تمہاری دونوں قربانیوں سے بہتر ہے، لیکن تمہارے بعد کسی کے لیے جذعہ ( بچے ) کی قربانی کافی نہ ہو گی“ ۲؎۔ اس باب میں جابر، جندب، انس، عویمر بن اشقر، ابن عمر اور ابوزید انصاری رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب تک امام نماز عید نہ ادا کر لے شہر میں قربانی نہ کی جائے، ۳- اہل علم کی ایک جماعت نے جب فجر طلوع ہو جائے تو گاؤں والوں کے لیے قربانی کی رخصت دی ہے، ابن مبارک کا بھی یہی قول ہے، ۴- اہل علم کا اجماع ہے کہ بکری کے جذع ( چھ ماہ کے بچے ) کی قربانی درست نہیں ہے، وہ کہتے ہیں البتہ بھیڑ کے جذع کی قربانی درست ہے ۳؎۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن ابراهيم، عن داود بن ابي هند، عن الشعبي، عن البراء بن عازب، قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في يوم نحر فقال " لا يذبحن احدكم حتى يصلي " . قال فقام خالي فقال يا رسول الله هذا يوم اللحم فيه مكروه واني عجلت نسكي لاطعم اهلي واهل داري او جيراني . قال " فاعد ذبحا اخر " . فقال يا رسول الله عندي عناق لبن وهي خير من شاتى لحم افاذبحها قال " نعم وهي خير نسيكتيك ولا تجزي جذعة لاحد بعدك " . قال وفي الباب عن جابر وجندب وانس وعويمر بن اشقر وابن عمر وابي زيد الانصاري . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم ان لا يضحى بالمصر حتى يصلي الامام وقد رخص قوم من اهل العلم لاهل القرى في الذبح اذا طلع الفجر وهو قول ابن المبارك . قال ابو عيسى وقد اجمع اهل العلم ان لا يجزي الجذع من المعز وقالوا انما يجزي الجذع من الضان
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ کھائے“ ۱؎۔ اس باب میں عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ ممانعت پہلے تھی، اس کے بعد آپ نے اجازت دے دی۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا ياكل احدكم من لحم اضحيته فوق ثلاثة ايام " . قال وفي الباب عن عايشة وانس . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . - وانما كان النهى من النبي صلى الله عليه وسلم متقدما ثم رخص بعد ذلك
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم لوگوں کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیا تھا تاکہ مالدار لوگ ان لوگوں کے لیے کشادگی کر دیں جنہیں قربانی کی طاقت نہیں ہے، سو اب جتنا چاہو خود کھاؤ دوسروں کو کھلاؤ اور ( گوشت ) جمع کر کے رکھو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، ۳- اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، نبیشہ، ابوسعید، قتادہ بن نعمان، انس اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمود بن غيلان، والحسن بن علي الخلال، وغير، واحد، قالوا اخبرنا ابو عاصم النبيل، حدثنا سفيان الثوري، عن علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كنت نهيتكم عن لحوم الاضاحي فوق ثلاث ليتسع ذو الطول على من لا طول له فكلوا ما بدا لكم واطعموا وادخروا " . قال وفي الباب عن ابن مسعود وعايشة ونبيشة وابي سعيد وقتادة بن النعمان وانس وام سلمة . قال ابو عيسى حديث بريدة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرماتے تھے؟ وہ بولیں: نہیں، لیکن اس وقت بہت کم لوگ قربانی کرتے تھے، اس لیے آپ چاہتے تھے کہ جو لوگ قربانی نہیں کر سکے ہیں انہیں کھلایا جائے، ہم لوگ قربانی کے جانور کے پائے رکھ دیتے پھر ان کو دس دن بعد کھاتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، ام المؤمنین ( جن سے حدیث مذکور مروی ہے ) وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی الله عنہا ہیں، ان سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن عابس بن ربيعة، قال قلت لام المومنين اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن لحوم الاضاحي قالت لا ولكن قل من كان يضحي من الناس فاحب ان يطعم من لم يكن يضحي ولقد كنا نرفع الكراع فناكله بعد عشرة ايام . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وام المومنين هي عايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم وقد روي عنها هذا الحديث من غير وجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اسلام میں ) نہ «فرع» ہے نہ «عتيرة»، «فرع» جانور کا وہ پہلا بچہ ہے جو کافروں کے یہاں پیدا ہوتا تو وہ اسے ( بتوں کے نام پر ) ذبح کر دیتے تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں نبیشہ، مخنف بن سلیم اور ابوالعشراء سے بھی احادیث آئی ہیں، ابوالعشراء اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، ۳- «عتيرة» وہ ذبیحہ ہے جسے اہل مکہ رجب کے مہینہ میں اس ماہ کی تعظیم کے لیے ذبح کرتے تھے اس لیے کہ حرمت کے مہینوں میں رجب پہلا مہینہ ہے، اور حرمت کے مہینے رجب ذی قعدہ، ذی الحجہ، اور محرم ہیں، اور حج کے مہینے شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ کے ( ابتدائی ) دس دن ہیں۔ حج کے مہینوں کے سلسلہ میں بعض صحابہ اور دوسرے لوگوں سے اسی طرح مروی ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا فرع ولا عتيرة " . والفرع اول النتاج كان ينتج لهم فيذبحونه . قال وفي الباب عن نبيشة ومخنف بن سليم وابي العشراء عن ابيه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعتيرة ذبيحة كانوا يذبحونها في رجب يعظمون شهر رجب لانه اول شهر من اشهر الحرم واشهر الحرم رجب وذو القعدة وذو الحجة والمحرم واشهر الحج شوال وذو القعدة وعشر من ذي الحجة كذلك روي عن بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم في اشهر الحج