Loading...

Loading...
کتب
۳۷ احادیث
ابوشریح کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکہ کو اللہ نے حرمت والا ( محترم ) بنایا ہے، لوگوں نے اسے نہیں بنایا، پس جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اس میں خونریزی نہ کرے، نہ اس کا درخت کاٹے، ( اب ) اگر کوئی ( خونریزی کے لیے ) اس دلیل سے رخصت نکالے کہ مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال کیا گیا تھا ( تو اس کا یہ استدلال باطل ہے ) اس لیے کہ اللہ نے اسے میرے لیے حلال کیا تھا لوگوں کے لیے نہیں، اور میرے لیے بھی دن کے ایک خاص وقت میں حلال کیا گیا تھا، پھر وہ تاقیامت حرام ہے؟ اے خزاعہ والو! تم نے ہذیل کے اس آدمی کو قتل کیا ہے، میں اس کی دیت ادا کرنے والا ہوں، ( سن لو ) آج کے بعد جس کا بھی کوئی آدمی مارا جائے گا تو مقتول کے ورثاء کو دو چیزوں میں سے کسی ایک کا اختیار ہو گا: یا تو وہ ( اس کے بدلے ) اسے قتل کر دیں، یا اس سے دیت لے لیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث بھی حسن صحیح ہے، ۲- اسے شیبان نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی کے مثل روایت کیا ہے، ۳- اور یہ ( حدیث بنام ابوشریح کعبی کی جگہ بنام ) ابوشریح خزاعی بھی روایت کی گئی ہے۔ ( اور یہ دونوں ایک ہی ہیں ) اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”جس کا کوئی آدمی مارا جائے تو اسے اختیار ہے یا تو وہ اس کے بدلے اسے قتل کر دے، یا معاف کر دے، یا دیت وصول کرے“، ۴- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ابن ابي ذيب، حدثني سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي شريح الكعبي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله حرم مكة ولم يحرمها الناس من كان يومن بالله واليوم الاخر فلا يسفكن فيها دما ولا يعضدن فيها شجرا فان ترخص مترخص فقال احلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم . فان الله احلها لي ولم يحلها للناس وانما احلت لي ساعة من نهار ثم هي حرام الى يوم القيامة ثم انكم معشر خزاعة قتلتم هذا الرجل من هذيل واني عاقله فمن قتل له قتيل بعد اليوم فاهله بين خيرتين اما ان يقتلوا او ياخذوا العقل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وحديث ابي هريرة حديث حسن صحيح ورواه شيبان ايضا عن يحيى بن ابي كثير مثل هذا . - وروي عن ابي شريح الخزاعي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قتل له قتيل فله ان يقتل او يعفو او ياخذ الدية " . وذهب الى هذا بعض اهل العلم وهو قول احمد واسحاق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی قتل کر دیا گیا، تو قاتل مقتول کے ولی ( وارث ) کے سپرد کر دیا گیا، قاتل نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں نے اسے قصداً قتل نہیں کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! اگر وہ ( قاتل ) اپنے قول میں سچا ہے پھر بھی تم نے اسے قتل کر دیا تو تم جہنم میں جاؤ گے ۱؎“، چنانچہ مقتول کے ولی نے اسے چھوڑ دیا، وہ آدمی رسی سے بندھا ہوا تھا، تو وہ رسی گھسیٹتا ہوا باہر نکلا، اس لیے اس کا نام ذوالنسعہ ( رسی یا تسمے والا ) رکھ دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور «نسعہ» : رسی کو کہتے ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قتل رجل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فدفع القاتل الى وليه فقال القاتل يا رسول الله والله ما اردت قتله . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما انه ان كان صادقا فقتلته دخلت النار " . فخلى عنه الرجل . قال وكان مكتوفا بنسعة . قال فخرج يجر نسعته . قال فكان يسمى ذا النسعة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والنسعة حبل
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی لشکر پر امیر مقرر کر کے بھیجتے تو خاص طور سے اسے اپنے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی وصیت فرماتے، اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے انہیں بھلائی کی وصیت کرتے، چنانچہ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے نام سے اس کے راستے میں جہاد کرو، جو کفر کرے اس سے لڑو، جہاد کرو، مگر مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، بدعہدی نہ کرو، مثلہ ۱؎ نہ کرو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو“، حدیث میں کچھ تفصیل ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، شداد بن اوس، عمران بن حصین، انس، سمرہ، مغیرہ، یعلیٰ بن مرہ اور ابوایوب سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم نے مثلہ کو حرام کہا ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا بعث اميرا على جيش اوصاه في خاصة نفسه بتقوى الله ومن معه من المسلمين خيرا فقال " اغزوا بسم الله وفي سبيل الله قاتلوا من كفر بالله اغزوا ولا تغلوا ولا تغدروا ولا تمثلوا ولا تقتلوا وليدا " . وفي الحديث قصة . قال وفي الباب عن عبد الله بن مسعود وشداد بن اوس وعمران بن حصين وانس وسمرة والمغيرة ويعلى بن مرة وابي ايوب . قال ابو عيسى حديث بريدة حديث حسن صحيح . وكره اهل العلم المثلة
شداد بن اوس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے، لہٰذا جب تم قتل ۱؎ کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، تمہارے ہر آدمی کو چاہیئے کہ اپنی چھری تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، حدثنا خالد، عن ابي قلابة، عن ابي الاشعث الصنعاني، عن شداد بن اوس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله كتب الاحسان على كل شيء فاذا قتلتم فاحسنوا القتلة واذا ذبحتم فاحسنوا الذبحة وليحد احدكم شفرته وليرح ذبيحته " . قال هذا حديث حسن صحيح . ابو الاشعث الصنعاني اسمه شرحبيل بن ادة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جنين» ( حمل ) کی دیت میں «غرة» یعنی غلام یا لونڈی ( دینے ) کا فیصلہ کیا، جس کے خلاف فیصلہ کیا گیا تھا وہ کہنے لگا: کیا ایسے کی دیت دی جائے گی، جس نے نہ کچھ کھایا نہ پیا، نہ چیخا، نہ آواز نکالی، اس طرح کا خون تو ضائع اور باطل ہو جاتا ہے، ( یہ سن کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شاعروں والی بات کر رہا ہے ۱؎، «جنين» ( حمل گرا دینے ) کی دیت میں «غرة» یعنی غلام یا لونڈی دینا ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حمل بن مالک بن نابغہ اور مغیرہ بن شعبہ سے احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- غرہ کی تفسیر بعض اہل علم نے، غلام، لونڈی یا پانچ سو درہم سے کی ہے، ۵- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: «غرة» سے مراد گھوڑا یا خچر ہے۔
حدثنا علي بن سعيد الكندي الكوفي، حدثنا ابن ابي زايدة، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في الجنين بغرة عبد او امة . فقال الذي قضي عليه انعطي من لا شرب ولا اكل ولا صاح فاستهل فمثل ذلك يطل . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان هذا ليقول بقول شاعر بل فيه غرة عبد او امة " . وفي الباب عن حمل بن مالك بن النابغة والمغيرة بن شعبة . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم . وقال بعضهم الغرة عبد او امة او خمسماية درهم . وقال بعضهم او فرس او بغل
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دو عورتیں سوکن تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر یا خیمے کی میخ ( گھونٹی ) سے مارا، تو اس کا حمل ساقط ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حمل کی دیت میں «غرة» یعنی غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا اور دیت کی ادائیگی اس عورت کے عصبہ کے ذمہ ٹھہرائی ۱؎۔ حسن بصری کہتے ہیں: زید بن حباب نے سفیان ثوری سے روایت کی، اور سفیان ثوری نے منصور سے اس حدیث کو اسی طرح روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا شعبة، عن منصور، عن ابراهيم، عن عبيد بن نضلة، عن المغيرة بن شعبة، ان امراتين، كانتا ضرتين فرمت احداهما الاخرى بحجر او عمود فسطاط فالقت جنينها فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في الجنين غرة عبد او امة وجعله على عصبة المراة . قال الحسن واخبرنا زيد بن حباب، عن سفيان، عن منصور، بهذا الحديث نحوه . هذا حديث حسن صحيح
ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ سے پوچھا کیا ۱؎: امیر المؤمنین! کیا آپ کے پاس کاغذ میں لکھی ہوئی کوئی ایسی تحریر ہے جو قرآن میں نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا! میں سوائے اس فہم و بصیرت کے جسے اللہ تعالیٰ قرآن کے سلسلہ میں آدمی کو نوازتا ہے اور اس صحیفہ میں موجود چیز کے کچھ نہیں جانتا، میں نے پوچھا: صحیفہ میں کیا ہے؟ کہا: اس میں دیت، قید یوں کے آزاد کرنے کا ذکر اور آپ کا یہ فرمان ہے: ”مومن کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: مومن کافر کے بدلے نہیں قتل کیا جائے گا، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: ذمی کے بدلے بطور قصاص مسلمان کو قتل کیا جائے گا، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، انبانا مطرف، عن الشعبي، حدثنا ابو جحيفة، قال قلت لعلي يا امير المومنين هل عندكم سوداء في بيضاء ليس في كتاب الله قال لا والذي فلق الحبة وبرا النسمة ما علمته الا فهما يعطيه الله رجلا في القران وما في الصحيفة . قلت وما في الصحيفة قال فيها العقل وفكاك الاسير وان لا يقتل مومن بكافر . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى حديث علي حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم وهو قول سفيان الثوري ومالك بن انس والشافعي واحمد واسحاق قالوا لا يقتل مومن بكافر . وقال بعض اهل العلم يقتل المسلم بالمعاهد . والقول الاول اصح
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کافر کے بدلے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا“، اور اسی سند سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر کی دیت مومن کی دیت کا نصف ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- یہودی اور نصرانی کی دیت میں اہل علم کا اختلاف ہے، یہودی اور نصرانی کی دیت کی بابت بعض اہل علم کا مسلک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیث کے موافق ہے، ۳- عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں: یہودی اور نصرانی کی دیت مسلمان کی دیت کا نصف ہے، احمد بن حنبل اسی کے قائل ہیں۔
حدثنا عيسى بن احمد، حدثنا ابن وهب، عن اسامة بن زيد، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يقتل مسلم بكافر " . وبهذا الاسناد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " دية عقل الكافر نصف دية عقل المومن " . قال ابو عيسى حديث عبد الله بن عمرو في هذا الباب حديث حسن . واختلف اهل العلم في دية اليهودي والنصراني فذهب بعض اهل العلم في دية اليهودي والنصراني الى ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم . وقال عمر بن عبد العزيز دية اليهودي والنصراني نصف دية المسلم . وبهذا يقول احمد بن حنبل وروي عن عمر بن الخطاب انه قال دية اليهودي والنصراني اربعة الاف درهم ودية المجوسي ثمانماية درهم . وبهذا يقول مالك بن انس والشافعي واسحاق . وقال بعض اهل العلم دية اليهودي والنصراني مثل دية المسلم . وهو قول سفيان الثوري واهل الكوفة
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم بھی اسے قتل کر دیں گے اور جو اپنے غلام کا کان، ناک کاٹے گا ہم بھی اس کا کان، ناک کاٹیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- تابعین میں سے بعض اہل علم کا یہی مسلک ہے، ابراہیم نخعی اسی کے قائل ہیں، ۳- بعض اہل علم مثلاً حسن بصری اور عطا بن ابی رباح وغیرہ کہتے ہیں: آزاد اور غلام کے درمیان قصاص نہیں ہے، ( نہ قتل کرنے میں، نہ ہی قتل سے کم زخم پہنچانے ) میں، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: اگر کوئی اپنے غلام کو قتل کر دے تو اس کے بدلے اسے قتل نہیں کیا جائے گا، اور جب دوسرے کے غلام کو قتل کرے گا تو اسے اس کے بدلے میں قتل کیا جائے گا، سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قتل عبده قتلناه ومن جدع عبده جدعناه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وقد ذهب بعض اهل العلم من التابعين منهم ابراهيم النخعي الى هذا وقال بعض اهل العلم منهم الحسن البصري وعطاء بن ابي رباح ليس بين الحر والعبد قصاص في النفس ولا فيما دون النفس . وهو قول احمد واسحاق . وقال بعضهم اذا قتل عبده لا يقتل به واذا قتل عبد غيره قتل به . وهو قول سفيان الثوري واهل الكوفة
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر رضی الله عنہ کہتے تھے: دیت کی ادائیگی عاقلہ ۱؎ پر ہے، اور بیوی اپنے شوہر کی دیت سے میراث میں کچھ نہیں پائے گی، یہاں تک کہ ان کو ضحاک بن سفیان کلابی نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک فرمان لکھا تھا: ”اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت سے میراث دو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
حدثنا قتيبة، واحمد بن منيع، وابو عمار وغير واحد قالوا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، ان عمر، كان يقول الدية على العاقلة ولا ترث المراة من دية زوجها شييا . حتى اخبره الضحاك بن سفيان الكلابي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب اليه " ان ورث امراة اشيم الضبابي من دية زوجها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ کھایا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو دانت کاٹنے والے کے دونوں اگلے دانت ٹوٹ گئے، وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا معاملہ لے گئے تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اونٹ کے کاٹنے کی طرح کاٹ کھاتا ہے، تمہارے لیے کوئی دیت نہیں، پھر اللہ نے یہ آیت نازل کی: «والجروح قصاص» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲ – اس باب میں یعلیٰ بن امیہ اور سلمہ بن امیہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں اور یہ دونوں بھائی ہیں۔
حدثنا علي بن خشرم، انبانا عيسى بن يونس، عن شعبة، عن قتادة، قال سمعت زرارة بن اوفى، يحدث عن عمران بن حصين، ان رجلا، عض يد رجل فنزع يده فوقعت ثنيتاه فاختصموا الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " يعض احدكم اخاه كما يعض الفحل لا دية لك " . فانزل الله (والجروح قصاص ) . قال وفي الباب عن يعلى بن امية وسلمة بن امية وهما اخوان . قال ابو عيسى حديث عمران بن حصين حديث حسن صحيح
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تہمت ۱؎ کی بنا پر قید کیا، پھر ( الزام ثابت نہ ہونے پر ) اس کو رہا کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- بہز بن حکیم بن معاویہ بن حیدۃ قشیری کی حدیث جسے وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں، حسن ہے، ۳- اسماعیل بن ابراہیم ابن علیہ نے بہز بن حکیم سے یہ حدیث اس سے زیادہ مکمل اور مطول روایت کی ہے ۲؎۔
حدثنا علي بن سعيد الكندي، حدثنا ابن المبارك، عن معمر، عن بهز بن حكيم، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم حبس رجلا في تهمة ثم خلى عنه . قال وفي الباب عن ابي هريرة . قال ابو عيسى حديث بهز عن ابيه عن جده حديث حسن . وقد روى اسماعيل بن ابراهيم عن بهز بن حكيم هذا الحديث اتم من هذا واطول
سعید بن زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے ۱؎ اور جس نے ایک بالشت بھی زمین چرائی قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث میں حاتم بن سیاہ مروزی نے اضافہ کیا ہے، معمر کہتے ہیں: زہری سے مجھے حدیث پہنچی ہے، لیکن میں نے ان سے نہیں سنا کہ انہوں نے اس حدیث یعنی «من قتل دون ماله فهو شهيد» ”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے“ میں کچھ اضافہ کیا ہو، اسی طرح شعیب بن ابوحمزہ نے یہ حدیث بطریق: «الزهري عن طلحة بن عبد الله عن عبدالرحمٰن بن عمرو بن سهل عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، نیز سفیان بن عیینہ نے بطریق: «الزهري عن طلحة بن عبد الله عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، اس میں سفیان نے عبدالرحمٰن بن عمرو بن سہل کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا سلمة بن شبيب، وحاتم بن سياه المروزي، وغير، واحد، قالوا حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن طلحة بن عبد الله بن عوف، عن عبد الرحمن بن عمرو بن سهل، عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قتل دون ماله فهو شهيد ومن سرق من الارض شبرا طوقه يوم القيامة من سبع ارضين " . وزاد حاتم بن سياه المروزي في هذا الحديث قال معمر بلغني عن الزهري ولم اسمع منه زاد في هذا الحديث " من قتل دون ماله فهو شهيد " . وهكذا روى شعيب بن ابي حمزة هذا الحديث عن الزهري عن طلحة بن عبد الله عن عبد الرحمن بن عمرو بن سهل عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروى سفيان بن عيينة عن الزهري عن طلحة بن عبد الله عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم ولم يذكر فيه سفيان عن عبد الرحمن بن عمرو بن سهل . وهذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، یہ دوسری سندوں سے بھی ان سے مروی ہے ۲- بعض اہل علم نے آدمی کو اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے دفاع کی اجازت دی ہے، ۳- اس باب میں علی، سعید بن زید، ابوہریرہ، ابن عمر، ابن عباس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: آدمی اپنے مال کی حفاظت کے لیے دفاع کرے خواہ اس کا مال دو درہم ہی کیوں نہ ہو ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر العقدي، حدثنا عبد العزيز بن المطلب، عن عبد الله بن الحسن، عن ابراهيم بن محمد بن طلحة، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قتل دون ماله فهو شهيد " . قال وفي الباب عن علي وسعيد بن زيد وابي هريرة وابن عمر وابن عباس وجابر . قال ابو عيسى حديث عبد الله بن عمرو حديث حسن وقد روي عنه من غير وجه . وقد رخص بعض اهل العلم للرجل ان يقاتل عن نفسه وماله . وقال ابن المبارك يقاتل عن ماله ولو درهمين
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کا مال ناحق چھینا جائے اور وہ اس کی حفاظت کے لیے دفاع کرتا ہوا مارا جائے تو وہ شہید ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
سعید بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے، جو اپنے دین کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے، جو اپنی جان کی حفاظت کی خاطر مارا جائے وہ شہید ہے اور جو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابراہیم بن سعد سے کئی راویوں نے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، قال اخبرني يعقوب بن ابراهيم بن سعد، حدثنا ابي، عن ابيه، عن ابي عبيدة بن محمد بن عمار بن ياسر، عن طلحة بن عبد الله بن عوف، عن سعيد بن زيد، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من قتل دون ماله فهو شهيد ومن قتل دون دينه فهو شهيد ومن قتل دون دمه فهو شهيد ومن قتل دون اهله فهو شهيد " . قال هذا حديث حسن . وهكذا روى غير واحد عن ابراهيم بن سعد نحو هذا . ويعقوب هو ابن ابراهيم بن سعد بن ابراهيم بن عبد الرحمن بن عوف الزهري
سہل بن ابو حثمہ اور رافع بن خدیج رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود بن زید رضی الله عنہما کہیں جانے کے لیے گھر سے روانہ ہوئے، جب وہ خیبر پہنچے تو الگ الگ راستوں پر ہو گئے، پھر محیصہ نے عبداللہ بن سہل کو مقتول پایا، کسی نے ان کو قتل کر دیا تھا، آپ نے انہیں دفنا دیا، پھر وہ ( یعنی راوی حدیث ) حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمٰن بن سہل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبدالرحمٰن بن سہل ان میں سب سے چھوٹے تھے، وہ اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے ( اس معاملہ میں آپ سے ) گفتگو کرنا چاہتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”بڑے کا لحاظ کرو، لہٰذا وہ خاموش ہو گئے اور ان کے دونوں ساتھیوں نے گفتگو کی، پھر وہ بھی ان دونوں کے ساتھ شریک گفتگو ہو گئے، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن سہل کے قتل کا واقعہ بیان کیا، آپ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم لوگ پچاس قسمیں کھاؤ گے ( کہ فلاں نے اس کو قتل کیا ہے ) تاکہ تم اپنے ساتھی کے خون بہا کے مستحق ہو جاؤ ( یا کہا ) قاتل کے خون کے مستحق ہو جاؤ؟“ ان لوگوں نے عرض کیا: ہم قسم کیسے کھائیں جب کہ ہم حاضر نہیں تھے؟ آپ نے فرمایا: ”تو یہود پچاس قسمیں کھا کر تم سے بری ہو جائیں گے“، ان لوگوں نے کہا: ہم کافر قوم کی قسم کیسے قبول کر لیں؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ معاملہ دیکھا تو ان کی دیت ۱؎ خود ادا کر دی۔ اس سند سے بھی سہل بن ابو حثمہ اور رافع بن خدیج سے اسی طرح اسی معنی کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- قسامہ کے سلسلہ میں بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، ۳- مدینہ کے بعض فقہاء قسامہ ۲؎ کی بنا پر قصاص درست سمجھتے ہیں، ۴- کوفہ کے بعض اہل علم اور کچھ دوسرے لوگ کہتے ہیں: قسامہ کی بنا پر قصاص واجب نہیں، صرف دیت واجب ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد، عن بشير بن يسار، عن سهل بن ابي حثمة، قال يحيى وحسبت عن رافع بن خديج، انهما قالا خرج عبد الله بن سهل بن زيد ومحيصة بن مسعود بن زيد حتى اذا كانا بخيبر تفرقا في بعض ما هناك ثم ان محيصة وجد عبد الله بن سهل قتيلا قد قتل فدفنه ثم اقبل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم هو وحويصة بن مسعود وعبد الرحمن بن سهل وكان اصغر القوم ذهب عبد الرحمن ليتكلم قبل صاحبيه قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " كبر الكبر " . فصمت وتكلم صاحباه ثم تكلم معهما فذكروا لرسول الله صلى الله عليه وسلم مقتل عبد الله بن سهل فقال لهم " اتحلفون خمسين يمينا فتستحقون صاحبكم او قاتلكم " . قالوا وكيف نحلف ولم نشهد قال " فتبريكم يهود بخمسين يمينا " . قالوا وكيف نقبل ايمان قوم كفار فلما راى ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم اعطى عقله . حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا يحيى بن سعيد، عن بشير بن يسار، عن سهل بن ابي حثمة، ورافع بن خديج، نحو هذا الحديث بمعناه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا الحديث عند اهل العلم في القسامة وقد راى بعض فقهاء المدينة القود بالقسامة . وقال بعض اهل العلم من اهل الكوفة وغيرهم ان القسامة لا توجب القود وانما توجب الدية . اخر ابواب الديات والحمد لله